Saturday, January 28, 2017

شیعہ vs سُنی ، مگر سُنی کو کسی کی نہیں سُنی!

سنی. شیعہ کافر
شیعہ. کیوں؟؟؟؟؟
سنی. کیوں کہ شیعہ صحابہ کو نہیں مانتا...
شیعہ. لا الہ الا اللہ کس کی گواہی ہے
سنی. اللہ کی
شیعہ. محمد رسول اللہ کس کی گواہی ہے
سنی. اللہ کے رسول ص کی
شیعہ. جب کلمہ اللہ اور رسول ص کا ہے تو صحابہ کو نہ ماننے والا کافر کیوں؟؟؟؟؟؟؟؟ کیا صحابہ خدا ہیں؟؟؟ کیا صحابہ رسول ہیں؟؟؟؟ کیا صحابہ کی عظمت اللہ اور رسول ص سے زیادہ ہے (نعوز باللہ)؟؟؟؟؟
سنی. نہیں شیعہ صحابہ کو نہیں مانتا اس کیے کافر
شیعہ. صحابہ رسول ص پر جان قربان لیکن ہم منافقوں کو صحابہ میں شامل نہیں کرتے.
سنی. رسول ص کے سارے صحابہ سچے ہیں منافق کوئی نہیں
شیعہ. اگر سارے صحابہ سچے تھے منافق کوئی نہیں تو سورت منافقون میں اللہ نے کن منافقوں کا زکر کیا ہے؟؟؟؟؟
سنی. شیعہ کافر
شیعہ . میرے سوال کا جواب دو
سنی........ فرار

سنی اسی لیے فرار ہوجاتا ہے کہ اس کے پاس سورت منافقوں کی آیت کا جواب نہیں ہوتا. جبکہ سورت منافقوں میں اللہ پاک خود منافقین کی نشاندہی کر رہا ہے اور جو قران کی آیت کو جھٹلا رہے ہیں غور وفکر نہیں کر رہے ان کی جاہلیت پر چودہ توپوں کی سلامی اور توپوں کا منہ بھی ان کی طرف...... پر یاد رکھنا شیعہ حق وباطل میں تمیز رکھنے والا واحد مسلک ہے جس نے صرف اللہ, رسول ص, اور اہلیبیت اطہار علیہ السلام سے محبت رکھنے والوں کو صحابہ مانا ہے, جنہوں نے اچھے کردار مثبت سوچ سے محمد و آل محمد ص سے محبت رکھی ان کو صحابی مانا ہے , نہ کہ ان کو جن پر رسول ص کو ہزیان کہنے کا جرم ثابت ہے, نہ ان کو جنہوں نے رسول ص کی نبوت پر شک کیا, نہ ان کو جنہوں نے رسول ص کی بیٹی فاطمہ زہراء سلام اللہ کو ناراض کیا, نہ ان کو جو رسول ص کو جنگ میں چھوڑ کر فرار ہوگئے, کوئی ایک جرم ہوتا تب ناں جن کے بارے میں ان کی اپنی کتابیں ان کے کرتوت بتا رہی ہیں ان کو شیعہ صحابہ میں شامل کیوں کرے؟؟؟؟؟ منافقوں اور صحابہ میں فرق حق و باطل کا فرق ہے. ہم شیعہ کی بلال حبشی رض, سلمان فارسی رض اور ان جیسے کئی صحابہ کو مانتے ہیں جن کی گواہی پوری دنیا دیتی ہے.... جس کا جیسا کردار شیعہ ان کو ویسی عظمت دیتا ہے, صحابہ رض کو سلام, منافقین پر لعنت بے شماررررررررر...... اگر کوئی واقعی میری اس پوسٹ کے مخالف ہے تو سوال بس اتنا ہے سورت منافقون میں جن کا زکر ہوا ان کے نام لکھ دیں اگر ادھر ادھر کے کمنٹ آئے تو میں سمجھ جائوں گا شیعہ مقدمہ جیت گئے..

تحقیقی مواد

No comments:

Post a Comment