امام حسن مجتبی (ع) کی سوانح حیات
بردباری;
ایک شخص شام سے آیا ہوا تھا اور معاویہ کے اکسانے پر اس نے امام (ع) کو برا بھلا کہا امام (ع) نے سکوت اختیار کیا ، پھر آپ نے اس کو مسکرا کر نہایت شیرین انداز میں سلام کیا اور کہا:
'' اے ضعیف انسان میرا خیال ہے کہ تو مسافر ہے اور میں گمان کرتا ہوں کہ تو اشتباہ میں پڑگیا ہے اگر تم مجھ سے میری رضامندی کے طلبگار ہو یا کوئی چیز چاہیے تو میں تم کو دونگا اور ضرورت کے وقت تمہاری راہنمائی کروں گا _ اگر تمہارے اوپر قرض ہے تو میں اس قرض کو ادا کروں گا اگر تم بھوکے ہو تومیں تم کو سیر کردونگا ... اور اگر ، میرے پاس آؤگے تو زیادہ آرام محسوس کروگے
وہ شخص شرمسار ہوا اور رونے لگا اور اس نے عرض کی: '' میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ زمین پر خدا کے خلیفہ ہیں خدا بہتر جانتا ہے کہ و ہ اپنی رسالت کو کہاں قرار دے آپ اور آپ کے والد میرے نزدیک مبغوض ترین شخص تھے لیکن اب آپ میری نظر میں سب سے زیادہ محبوب ہیں''(1)
مروان بن حکم _ جو آپ کا سخت دشمن تھا_ آپ (ع) کی رحلت کے بعد اس نے آپ کی تشیع جنازہ میں شرکت کی امام حسین _نے پوچھا_ میرے بھائی کی حیات میں تم سے جو ہوسکتا تھا وہ تم نے کیا لیکن اب تم ان کی تشییع جنازہ میں شریک اور رورہے ہو؟ مروان نے جواب دیا'' میں نے جو کچھ کیا اس شخص کے ساتھ کیا جس کی بردباری پہاڑ ( کوہ مدینہ کی طرف اشارہ) سے زیادہ تھی (2)
خلافت
21/ رمضان المبارک 40 ھ ق کی شام کوحضرت علی (ع) کی شہادت ہوگئی _اس کے بعدلوگ شہر کی جامع مسجد میں جمع ہوئے حضرت امام حسن مجتبی (ع) منبر پر تشریف لے گئے اور اپنے پدربزرگوار کی شہادت کے اعلان اور ان کے تھوڑے سے فضائل بیان کرنے کے بعد اپنا تعارف کرایا_ پھر بیٹھ گئے اور عبداللہ بن عباس کھڑے ہوئے اور کہا لوگو یہ امام حسن (ع) تمہارے پیغمبر (ص) کے فرزند حضرت علی (ع) کے جانشین اور تمہارے امام (ع) ہیں ان کی بیعت کرو
لوگ چھوٹے چھوٹے دستوں میں آپ کے پاس آتے اور بیعت کرتے رہے (3) نہایت ہی غیر اطمینان نیز مضطرب و پیچیدہ صورت حال میں کہ جو آپ کو اپنے پدربزرگوار کی زندگی کے آخری مراحل میں در پیش تھے آپ نے حکومت کی ذمہ داری سنبھالی_ آپ نے حکومت کو ایسے لوگوں کے درمیان شروع کیا جو مبارزہ اور جہاد کی حکمت عملی اور اس کے اعلی مقاصد پر چنداں ایمان نہیں رکھتے تھے چونکہ ایک طرف آپ (ع) پیغمبر (ص) و علی (ع) کی طرف سے اس عہدہ کے لئے منصوب تھے اور دوسری طرف لوگوں کی بیعت اور ان کی آمادگی نے بظاہر ان پر حجت تمام کردی تھی اس لئے آپ نے زمام حکومت کو ہاتھوں میں لیا اور تمام گورنروں کو ضروری احکام صادر فرمائے اور معاویہ کے فتنہ کو سلادینے کی غرض سے لشکر ا ور سپاہ کو جمع کرنا شروع کیا، معاویہ کے جاسوسوں میں سے دو افراد کی شناخت اور گرفتاری کے بعد قتل کرادیا_ آپ(ع) نے ایک خط بھی معاویہ کو لکھا کہ تم جاسوس بھیجتے ہو؟ گویا تم جنگ کرنا چاہتے ہو جنگ بہت نزدیک ہے منتظر رہو انشاء اللہ (4)
1 بحار جلد 43 /344
2 تاریخ الخلفاء /191 ، شرح ابن ابی الحدید جلد 16 / 13 ، 51 واقعہ کے آخری حصہ میں تھوڑے فرق کے ساتھ
3 ارشاد مفید /188 شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید جلد 16/30 مقاتل الطالبین مطبوعہ بیروت 50 52
4 ارشاد مفید 189 ، بحارجلد 44/45 ، شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید جلد 16 / 31 مقاتل الطالبین مطبوعہ بیروت / 53 اما بعد فانک دسَّست الرجال للاحتی ال و الاغتیال و ارصدت العیون کانک تحت اللقاء و ما اشک فی ذالک فتوقعہ انشاء اللہ
No comments:
Post a Comment