Sunday, January 1, 2017

ﺍﻣﯽ ﻋﺎﺋﺸﮧ ﮐﺎ ﻣﺎﺗﻢ

ﺍﻣﯽ ﻋﺎﺋﺸﮧ ﻓﺮﻣﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ : ﺟﺐ ﺭﺳﻮﻝ ‏(ﺹ‏) ﮐﺎ ﻭﺻﺎﻝ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ
ﺭﺳﻮﻝ ‏( ﺹ ‏) ﮐﺎ ﺳﺮ ﺍﻣﯽ ﮐﯽ ﮔﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﺍ ﻣﯽ ﻋﺎﺋﺸﮧ ﻧﮯ ﺭﺳﻮﻝ
‏( ﺹ ‏) ﮐﮯ ﻭﺻﺎﻝ ﭘﺮ *ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻨﮧ ﭘﺮ ﺧﻮﺏ ﻃﻤﺎﻧﭽﮯ ﻣﺎﺭﮮ*

ﺣﺪﺛﻨﺎ : ﻳﻌﻘﻮﺏ ﻗﺎﻝ : ، ﺣﺪﺛﻨﺎ : ﺃﺑﻲ ، ﻋﻦ ﺇﺑﻦ ﺇﺳﺤﺎﻕ ﻗﺎﻝ :
، ﺣﺪﺛﻨﻲ : ﻳﺤﻴﻰ ﺑﻦ ﻋﺒﺎﺩ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﺍﻟﺰﺑﻴﺮ ،
ﻋﻦ ﺃﺑﻴﻪ ﻋﺒﺎﺩ ﻗﺎﻝ : ﺳﻤﻌﺖ ﻋﺎﺋﺸﺔ ﺗﻘﻮﻝ : ﻣﺎﺕ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﻪ
‏( ﺹ ‏) ﺑﻴﻦ ﺳﺤﺮﻱ ﻭﻧﺤﺮﻱ ، ﻭﻓﻲ ﺩﻭﻟﺘﻲ ﻟﻢ ﺃﻇﻠﻢ ﻓﻴﻪ ﺃﺣﺪﺍً
ﻓﻤﻦ ﺳﻔﻬﻲ ﻭﺣﺪﺍﺛﺔ ﺳﻨﻲ ﺃﻥ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﻪ ﻗﺒﺾ ﻭﻫﻮ ﻓﻲ
ﺣﺠﺮﻱ ، ﺛﻢ ﻭﺿﻌﺖ ﺭﺃﺳﻪ ﻋﻠﻰ ﻭﺳﺎﺩﺓ ﻭﻗﻤﺖ ﺃﻟﺘﺪﻡ ﻣﻊ ﺍﻟﻨﺴﺎﺀ
ﻭﺃﺿﺮﺏ ﻭﺟﻬﻲ
ﻣﺴﻨﺪ ﺃﺣﻤﺪ - ﺑﺎﻗﻲ ﻣﺴﻨﺪ ﺍﻷﻧﺼﺎﺭ - ﺑﺎﻗﻲ ﺍﻟﻤﺴﻨﺪ ﺍﻟﺴﺎﺑﻖ - ﺭﻗﻢ
ﺍﻟﺤﺪﻳﺚ : ۲۵۱۴۴
ﺗﺎﻭﯾﻞ
ﻗﻮﻝ ﺍﻟﺴﻴﺪﺓ ﻋﺎﺋﺸﺔ ‏( ﺃﻟﺘﺪﻡ ‏) ، ﻗﺎﻝ ﺍﻟﺴﻬﻴﻠﻲ ﻭﻏﻴﺮﻩ : ﺍﻹﻟﺘﺪﺍﻡ :
ﺿﺮﺏ ﺍﻟﺨﺪ ﺑﺎﻟﻴﺪ ، ﻭﺍﻟﻼﺩﻡ : ﺍﻟﻤﺮﺃﺓ ﺍﻟﺘﻲ ﺗﻠﺪﻡ ﻭﺍﻟﺠﻤﻊ : ﺍﻟﻠﺪﻡ
ﺑﺘﺤﺮﻳﻚ ﺍﻟﺪﺍﻝ ﻭﻗﺪ ﻟﺪﻣﺖ ﺍﻟﻤﺮﺃﺓ ﺗﻠﺪﻡ ﻟﺪﻣﺎً ﻭﻟﻢ ﻳﺪﺧﻞ ﻫﺬﺍ ﻓﻲ
ﺍﻟﺘﺤﺮﻳﻢ ، ﻷﻥ ﺍﻟﺘﺤﺮﻳﻢ ، ﺇﻧﻤﺎ ﻭﻗﻊ ﻋﻠﻰ ﺍﻟﺼﺮﺍﺥ ﻭﺍﻟﻨﻮﺡ ، ﻭﻟﻌﻨﺖ
ﺍﻟﺨﺎﺭﻗﺔ ﻭﺍﻟﺤﺎﻟﻘﺔ ﻭﺍﻟﺼﺎﻟﻘﺔ - ﻭﻫﻲ ﺍﻟﺮﺍﻓﻌﺔ ﻟﺼﻮﺗﻬﺎ - ﻭﻟﻢ ﻳﺬﻛﺮ
ﺍﻟﻠﺪﻡ ﻟﻜﻨﻪ ﻭﺇﻥ ﻟﻢ ﻳﺬﻛﺮ ﻓﺈﻧﻪ ﻣﻜﺮﻭﻩ ﻓﻲ ﺣﺎﻝ ﺍﻟﻤﺼﻴﺒﺔ ، ﻭﺗﺮﻛﻪ
ﺃﺣﻤﺪ ﺇﻻّ ﻋﻠﻰ ﺃﺣﻤﺪ ‏( ﺹ ‏) : ﻓﺎﻟﺼﺒﺮ ﻳﺤﻤﺪ ﻓﻲ ﺍﻟﻤﺼﺎﺋﺐ ﻛﻠﻬﺎ * ﺇﻻّ
ﻋﻠﻴﻚ ﻓﺈﻧﻪ ﻣﺬﻣﻮﻡ ﻭﻗﺪ ﻛﺎﻥ ﻳﺪﻋﻲ ﻻﺑﺲ ﺍﻟﺼﺒﺮ ﺣﺎﺯﻣﺎ * ﻓﺄﺻﺒﺢ
ﻳﺪﻋﻰ ﺣﺎﺯﻣﺎ ﺣﻴﻦ ﻳﺠﺰﻉ
ﺳﺒﻞ ﺍﻟﻬﺪﻯ ﻭﺍﻟﺮﺷﺎﺩ ﺝ۱۲ ﺹ۲۶۷
ﺳﻨﺪ
ﻭﻗﺪ ﺃﺧﺮﺝ ﻋﻤﺮ ﺃﺧﺖ ﺃﺑﻲ ﺑﻜﺮ ﺣﻴﻦ ﻧﺎﺣﺖ ﻭﺻﻠﻪ ﺑﻦ ﺳﻌﺪ ﻓﻲ ﺍﻟﻄﺒﻘﺎﺕ
ﺑﺈﺳﻨﺎﺩ ﺻﺤﻴﺢ ﻣﻦ ﻃﺮﻳﻘﺎﻟﺰﻫﺮﻱ ، ﻋﻦ ﺳﻌﻴﺪ ﺑﻦ ﺍﻟﻤﺴﻴﺐ ﻗﺎﻝ : ﻟﻤﺎ
ﺗﻮﻓﻲ ﺃﺑﻮ ﺑﻜﺮ ﺃﻗﺎﻣﺖ ﻋﺎﺋﺸﺔ ﻋﻠﻴﻪ ﺍﻟﻨﻮﺡ ﻓﺒﻠﻎ ﻋﻤﺮ ﻓﻨﻬﺎﻫﻦ ﻓﺄﺑﻴﻦ
ﻓﻘﺎﻝ ﻟﻬﺸﺎﻡ ﺑﻦ ﺍﻟﻮﻟﻴﺪ : ﺃﺧﺮﺝ ﺇﻟﻰ ﺑﻴﺖ ﺃﺑﻲ ﻗﺤﺎﻓﺔ ﻳﻌﻨﻲ ﺃﻡ ﻓﺮﻭﺓ
ﻓﻌﻼﻫﺎ ﺑﺎﻟﺪﺭﺓ ﺿﺮﺑﺎﺕ ﻓﺘﻔﺮﻗﺎﻟﻨﻮﺍﺋﺢ ﺣﻴﻦ ﺳﻤﻌﻦ ﺑﺬﻟﻚ ، ﻭﻭﺻﻠﻪ
ﺇﺳﺤﺎﻕ ﺑﻦ ﺭﺍﻫﻮﻳﻪ ﻓﻲ ﻣﺴﻨﺪﻩ ﻣﻦ ﻭﺟﻪ ﺁﺧﺮ ، ﻋﻦ ﺍﻟﺰﻫﺮﻱ ﻭﻓﻴﻪ
ﻓﺠﻌﻞ ﻳﺨﺮﺟﻬﻦ ﺇﻣﺮﺃﺓ ﺇﻣﺮﺃﺓ ﻭﻫﻮ ﻳﻀﺮﺑﻬﻦ ﺑﺎﻟﺪﺭﺓ
ﻓﺘﺢ ﺍﻟﺒﺎﺭﻱ ﺝ۵ ﺹ۷۴

تحقیقی مواد

‏Saira R بسم اللہ الرحمن الرحیم

سورة النسا ، آیت،148

ترجمہ۔اللہ پسند نہیں کرتا ماتم کو۔ ہاں مگر سوائے اس کے لیے جو مظلوم ہو۔

مختلف کتابوں سے تفسیر

امام حسین ؑ سے زیادہ کون مظلوم ہے اور قرآن کہتا ہے مظلوم کا ماتم جائز ہے

حوالہ۔ تفسیر ابن کثیر،جلد2،ص،20۔صحیح بخاری شریف ،جلد2،ص،820

ماتم و عزاداری کا ثبوت

بسم اللہ الرحمن الرحیم

سورة الذاریات، آیت،29

ترجمہ۔ابراہیم ؑ کی بیوی(سارہ) چلاتی ہوئی آئیں اور اپنا منہ پیٹ کر کہنے لگی کہ(ہائے ایک تو)بڑھیااور (دوسرا)بانجھ۔

اس سے ثابت ہوا کے نبی کی بیوی سارہ نے منہ کا ماتم کیااور روتی بھی رہی نبی ؑ کے غم میں۔
ماتم و عزاداری کا ثبوت

سم اللہ الرحمن الرحیم

سورة یوسف، آیت،31

ترجمہ۔جب مصر کی عورتوں نے یوسف ؑ کو دیکھا تومحبت میں آکر اپنے ہاتھ کاٹ لیے
اس سے ثابت ہوا کہ محبت میں کاٹنا گناہ نہیں ہے۔

ماتم و عزاداری کا ثبوت

حضرت آدم ؑ کاماتم

حضرت آدم ؑ نے اپنے تن پر اتنا ماتم کیا کہ انکی ہڈیاں نظر آنے لگیں۔

حوالہ۔کتاب اہلیسنت میراج النبوہ۔باب،1۔ص،248

ماتم و عزاداری کا ثبوت

حضرت یوسف ؑکاماتم

مصیبت میں اپنا سر پیٹنا حضرت یوسف ؑ کی سنت ہے۔

حوالہ۔تفسیر کبیر۔جلد،5۔ص،158

ماتم و عزاداری کا ثبوت

ام لمومنین حضرت بی بی عا ئشہؓ کاماتم

بی بی عائشہ کہتی ہیں کہ جب آپ کی وفات ہوئی تو ان کا سرمیری گود میں تھا پھر میں نے ان کا سر تکیہ پے رکھا اور عورتوں کے ہمراہ ماتم کرتی ہوئی کھڑی ہو گئی اور میں نے اپنا منہ پیٹ لیا۔

حوالہ۔کتاب اہلیسنت مسند احمد بن حنبل طبع مصر۔ج،6۔ص،274 ---

ماتم و عزاداری کا ثبوت

صحابی رسول اللہ حضرت اویس قرنیؓ کاماتم

جب جنگ احد میں رسول اللہ کے2دانت شہید ہوئے تو صحابی رسول اللہ حضرت اویس قرنی ؓ نے شدت غم میںاپنے سارے دانت توڑ دیئے ۔

حوالہ۔صحیح بخاری

ماتم و عزاداری کا ثبوت

رسول خداحضرت محمد کاماتم

رسول خداحضرت محمد نے سینہ کوبی کی جب آپکے چچا حضرت امیر حمزہ شہید ہونے کے بعد ہندہ(لعنت اللہ) نے ان کا کلیجا سینے سے نکال کر اپنے دانتوں سے چبایا۔

حوالہ۔صحیح بخاری۔والیم،2۔ص،50

ماتم و عزاداری کا ثبوت

رسولِ خدا حضرت محمد ﷺ کا شہید کے لیے رونا۔

1۔رسولِ خدا ﷺ نے اپنے چچا حضرت حمزہ کی شہادت پرلوگوں کو رونے اور غمزدہ ہونے کا حکم دیا۔
حوالہ۔ مسندابن حنبل،ج،2،ص،41

2۔رسولِ خدا ﷺ جنگ موتہ کے شہدا پر روئے۔

حوالہ۔ صحیح بخاری،ج

No comments:

Post a Comment