ولایتِ فقیہ نعمت ہے، اللہ کاقانون و نظام ہے، ایرانی نہیں ہے۔ ولایتِ فقیہ کا نام سنتے ہی ہمارے پاکستانی کا ذہن ایران چلا جاتا ہے۔ ولایت فقیہ تشیع کا اسلامی نظام ہے، تشیع میں جو تفسیرِ قرآن و اسلام ہے وہ ولایت کی بنیاد پر ہے۔ آپ بھی وارث ہیں یہ ایرانی نظام نہیں ہے ، یہ غلط فہمی ہے اپنے ذہن سے بھی نکالیں اور دوسروں کے ذہن سے بھی نکالیں ورنہ امام رضاؑ ایرانی ہو جائیں گے، امام علیؑ عراقی ہو جائیں گے۔ دوسروں کیلئے تو پاکستان میں کچھ بھی نہیں رہے گا، رسولﷺ حجازی سعودی عرب کے ہو جا ئیں گے، رسولﷺ کا نام نہیں لو، سعودی عرب کے ایجنٹ ہونے کا الزام لگ جائے گا اگر نعت پڑھی رسولﷺ کی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ سعودی عرب کے ایجنٹ ہو ، امام رضاؑ کا قصیدہ پڑھا تو ایرانی ہو جاؤگے، امام علیؑ کا قصیدہ پڑھا تو عراقی ہو جاؤ گے، یہ سب توہمات ہیں۔ ولایت اللہ کا نظام ہے ایرانی نظام نہیں ہے۔ اگر ایران میں قائم ہوا ہے تو ایرانی نہیں ہو گیا ہے پھر بھی اللہ کا نظام ہے۔ عصرِ غیبت میں یہ ولایت فقیہ اللہ کی نعمت ہے اصل ولایت امامؑ ہے ولایت رسولﷺ ہے لیکن زمانہ غیبتِ کبریٰ میں جانشینی و نیابت کے طور پر ولایت فقیہ ہے جو خود معصوم ؑ نے فرمایا کہ ہماری غیبت کبریٰ میں فقہاء ہمارے نائب ہیں اور امین ہیں۔ فقہاء کو ہٹا دو چونکہ غیرِ معصوم ہیں اور خطبا کو بٹھا دو کہ یہ سارے معصوم ہیں۔ کس نے پاکستانیوں کوفقہاء سے گمراہ کیا؟ خطباء اورذاکرین نے گمراہ کیا۔ کیا یہ گمراہ کرنے والے معصوم ہیں یہ معصوم ہیں جن کے کہنے پر فقہاء کے مخالف ہو جاتے ہیں۔ جہلا کے کہنے پر علما ء کے مخا لف ہو جاتے ہیں اگر دو غیرمعصوم میں چننا ہے تو جہلا کی نسبت فقہا ءکی بات ماننا بہتر ہے۔ ایک اہلسنت کے مولانا ملنے کیلئے آئےاور کہا کہ آپ یہ کرتے ہیں آپ وہ کرتے ہیں ان کی مراد یہ تھی کہ بعض اوقات عوام الناس جو کرتے ہیں وہ ان کی چند باتیں تھی کہ یہ یہ کرتے ہیں میں نے کہا کہ آپ اپنے مذہب کے عالم ہو اور عا لمانہ طریقہ یہ ہوتا ہے کہ علماء کی باتیں عوام کو بتائی جاتی ہیں، عوام کو علماء کا حوالہ دیا جاتا ہے کہ اے عوام آپ یوں کر رہے ہو اور آپ کے علماء یہ کہتے ہیں۔ آپ الٹ کام کر رہے ہو ، علماء کو آ کر عوام کا حوالہ دے رہے ہو کہ آپ کے عوام یوں کرتے ہیں پس آ پ ایسے ہو۔ یہ کب سے علمی معیار بن گیا ہے کہ آپ عوام کے حوالے عا لم کو دے رہے ہو۔ عوام کو جاکر علماء کی باتیں بتاؤ کہ آپ کے علماء یہ کہتے ہیں نہ کہ علماء کوآ کر کہو کہ عوام یہ کہتے ہیں۔ یہ ا لٹی چکی نہ چلاو۔ مان گئے کہ میں اب متوجہ ہو گیا ہوں۔مجھے یہ نہیں کرنا چاہئے تھا کہ میں کسی عالم پر ایسے عمل کی تہمت لگا رہا ہوں جو عوام نے کیا ہے
آغا سید جواد نقوی
No comments:
Post a Comment