Monday, January 2, 2017

شیعان علی ۶

کافر کافر شیعہ کافر کا نعرہ لگانے والوں آؤ آج آپ کو واضح کروا دوں کہ شیعہ کا کیا مقام ہے اور جناب رسول الله (ص) نے شیعان علئ کو کیا بشارتیں دئیں.

نبی (ص) نے فرمایا،
"میری امت کے تہتر 73 فرقے ہوں گے تمام دوذخ میں جائیں گے مگر ایک (فرقہ) جنت میں جاۓ گا."
(ابن ماجہ باب افتراق الامت)

اب سوال یہ ہے کہ وہ کون سا فرقہ ہے جو جنت میں جاۓ گا؟
اس کے جواب کے لئے بھی یقینن ہم نبی (ص) کی احادیث کی طرف رجوع کریں گے جوکہ اہلسنت کی معتبر کتابوں سے پیش کر رہی ہوں....

ارشاد نبوئ ہے،
"یا علئ انتا و شیعتك ھم الفائزون."
"اے علئ تواور تیرے شیعہ ہی نجات یافتہ ہیں."
(کتاب اہلسنت صواعق محرقہ ابن حجر مکی ص96، در منشور علامہ جلال الدین سیوطی)

"قال النبئ صلی الله علیه واله یا علئ انتا و شیعتك في الجنة."
"رسول اکرم (ص) نے فرمایا اے علئ تو اور تیرے شیعہ جنتی ہیں."
(کنزالحقائق)

اس سے بڑھ کہ کوئی دلیل نہیں دی جاسکتی کہ 73 فرقوں میں سے جس ایک فرقے کو خود زبان نبوه (ص) سے جنت کی بشارت ملی ہے وہ صرف شیعان علئ ہی ہیں.

ارے جنت میں تو جاہی وہ سکتا ہے جن کہ امام نہ صرف جنتی ہیں بلکہ جوانان جنت کے سردار ہیں.

نبئ نے فرمایا، "الحسن والحسين سيداشباب اھل الجنة وابوھما خيرمنھما."
"حسن اور حسين جوانان جنت کے سردار ہیں اور ان کے والد بزرگوار ان دونوں سے بہتر ہیں."
(ابن ماجہ)

ارشاد نبوئ ہے،
"میرے اہلبیتء کی مثال سفینہ نوح کی مانند ہے. جو اس میں سوار ہوا نجات پاگیا اور جو رہ گیا ہلاک ہو گیا." (بحوالہ صواعقہ محرقہ، مشکوة شريف)

اب بھی اگر کوئی دراہلبیتء کو چھوڑ کر کسی دوسری جگہ سے دین لے تو پھر وہ بروز قیامت شقوه نہ کرے کہ جنت مقدر کیوں نہ بنی کیونکہ جنت علئ والوں کی ہے.

دوزخ تو ہے من کنتو کہ منکر کا محلہ
جنت وہ جزیرہ ہے جہاں ذکر علئ ہے.

فرمان نبئ ہے کہ، "اے مسلمانوں میں تمہارے لیے دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں ایک قرآن، دوسرے اہلبیتء. اگر ان دونوں سے تمسک رکھوگے تو کامیاب ہو جاؤ گۓ.
پس کامیابی اسی کا مقدر جو بقول نبوی (ص) قرآن واہلبیت سے تمسک رہے.

No comments:

Post a Comment