میرے سوال کا جواب دلیل سے دیں
درود پاک اللہ نے محمد و آل محمد ص کو تحفہ دیا ہے اور اللہ پاک خود محمد و آل محمد ص پر درود پڑھتا ہے ان کی عظمت اور بڑھائی درود میں بیان کرتا ہے. لیکن کچھ حضرات محمد و آل محمد ص کے ساتھ صحابہ کرام ازواج یہاں تک کہ امت کو بھی شامل کر لیتے ہیں کیا یہ گستاخی محمد و آل محمد ص نہیں ہے ؟؟؟؟؟ نہیں تو مجھے قران میں کسی ایک جگہ درود دیکھا دو جس میں محمد و آل محمد ص کے علاوہ کسی پر درود بھیجا گیا, کوئی حوالہ دیکھا کوئی دلیل لادو؟؟؟؟؟ ورنہ جرائت نہ کرنا محمد و آل محمد ص کے ساتھ کسی کو ملانے کی کیوں کہ جس طرح اللہ پاک کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا جاسکتا بالکل اسی طرح محمد و آل محمد ص کی شان کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بنایا جاسکتا. اللہ محمد و آل محمد ص کی شان جانتا ہے اور محمد و آل محمد ص اللہ کی شان جانتےہیں, اور تمھیں بتانے سکھانے والے بھی محمد و آل محمد ص ہیں, اس لیے دگڑم بھاگ نہیں قران و حدیث مکمل دلیل کے ساتھ ثابت کرو کہیں محمد و آل محمدص کے علاوہ کسی صحابی یا امتی پر درود بھیجا گیا؟؟؟؟؟؟ ورنہ گستاخ محمد و آل محمد ص نہ بنو....
Saturday, January 28, 2017
دُرود
شیعہ vs سُنی ، مگر سُنی کو کسی کی نہیں سُنی!
سنی. شیعہ کافر
شیعہ. کیوں؟؟؟؟؟
سنی. کیوں کہ شیعہ صحابہ کو نہیں مانتا...
شیعہ. لا الہ الا اللہ کس کی گواہی ہے
سنی. اللہ کی
شیعہ. محمد رسول اللہ کس کی گواہی ہے
سنی. اللہ کے رسول ص کی
شیعہ. جب کلمہ اللہ اور رسول ص کا ہے تو صحابہ کو نہ ماننے والا کافر کیوں؟؟؟؟؟؟؟؟ کیا صحابہ خدا ہیں؟؟؟ کیا صحابہ رسول ہیں؟؟؟؟ کیا صحابہ کی عظمت اللہ اور رسول ص سے زیادہ ہے (نعوز باللہ)؟؟؟؟؟
سنی. نہیں شیعہ صحابہ کو نہیں مانتا اس کیے کافر
شیعہ. صحابہ رسول ص پر جان قربان لیکن ہم منافقوں کو صحابہ میں شامل نہیں کرتے.
سنی. رسول ص کے سارے صحابہ سچے ہیں منافق کوئی نہیں
شیعہ. اگر سارے صحابہ سچے تھے منافق کوئی نہیں تو سورت منافقون میں اللہ نے کن منافقوں کا زکر کیا ہے؟؟؟؟؟
سنی. شیعہ کافر
شیعہ . میرے سوال کا جواب دو
سنی........ فرار
سنی اسی لیے فرار ہوجاتا ہے کہ اس کے پاس سورت منافقوں کی آیت کا جواب نہیں ہوتا. جبکہ سورت منافقوں میں اللہ پاک خود منافقین کی نشاندہی کر رہا ہے اور جو قران کی آیت کو جھٹلا رہے ہیں غور وفکر نہیں کر رہے ان کی جاہلیت پر چودہ توپوں کی سلامی اور توپوں کا منہ بھی ان کی طرف...... پر یاد رکھنا شیعہ حق وباطل میں تمیز رکھنے والا واحد مسلک ہے جس نے صرف اللہ, رسول ص, اور اہلیبیت اطہار علیہ السلام سے محبت رکھنے والوں کو صحابہ مانا ہے, جنہوں نے اچھے کردار مثبت سوچ سے محمد و آل محمد ص سے محبت رکھی ان کو صحابی مانا ہے , نہ کہ ان کو جن پر رسول ص کو ہزیان کہنے کا جرم ثابت ہے, نہ ان کو جنہوں نے رسول ص کی نبوت پر شک کیا, نہ ان کو جنہوں نے رسول ص کی بیٹی فاطمہ زہراء سلام اللہ کو ناراض کیا, نہ ان کو جو رسول ص کو جنگ میں چھوڑ کر فرار ہوگئے, کوئی ایک جرم ہوتا تب ناں جن کے بارے میں ان کی اپنی کتابیں ان کے کرتوت بتا رہی ہیں ان کو شیعہ صحابہ میں شامل کیوں کرے؟؟؟؟؟ منافقوں اور صحابہ میں فرق حق و باطل کا فرق ہے. ہم شیعہ کی بلال حبشی رض, سلمان فارسی رض اور ان جیسے کئی صحابہ کو مانتے ہیں جن کی گواہی پوری دنیا دیتی ہے.... جس کا جیسا کردار شیعہ ان کو ویسی عظمت دیتا ہے, صحابہ رض کو سلام, منافقین پر لعنت بے شماررررررررر...... اگر کوئی واقعی میری اس پوسٹ کے مخالف ہے تو سوال بس اتنا ہے سورت منافقون میں جن کا زکر ہوا ان کے نام لکھ دیں اگر ادھر ادھر کے کمنٹ آئے تو میں سمجھ جائوں گا شیعہ مقدمہ جیت گئے..
تحقیقی مواد
Wednesday, January 18, 2017
مام حسن مجتبی (ع) کی سوانح حیات
امام حسن مجتبی (ع) کی سوانح حیات
بردباری;
ایک شخص شام سے آیا ہوا تھا اور معاویہ کے اکسانے پر اس نے امام (ع) کو برا بھلا کہا امام (ع) نے سکوت اختیار کیا ، پھر آپ نے اس کو مسکرا کر نہایت شیرین انداز میں سلام کیا اور کہا:
'' اے ضعیف انسان میرا خیال ہے کہ تو مسافر ہے اور میں گمان کرتا ہوں کہ تو اشتباہ میں پڑگیا ہے اگر تم مجھ سے میری رضامندی کے طلبگار ہو یا کوئی چیز چاہیے تو میں تم کو دونگا اور ضرورت کے وقت تمہاری راہنمائی کروں گا _ اگر تمہارے اوپر قرض ہے تو میں اس قرض کو ادا کروں گا اگر تم بھوکے ہو تومیں تم کو سیر کردونگا ... اور اگر ، میرے پاس آؤگے تو زیادہ آرام محسوس کروگے
وہ شخص شرمسار ہوا اور رونے لگا اور اس نے عرض کی: '' میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ زمین پر خدا کے خلیفہ ہیں خدا بہتر جانتا ہے کہ و ہ اپنی رسالت کو کہاں قرار دے آپ اور آپ کے والد میرے نزدیک مبغوض ترین شخص تھے لیکن اب آپ میری نظر میں سب سے زیادہ محبوب ہیں''(1)
مروان بن حکم _ جو آپ کا سخت دشمن تھا_ آپ (ع) کی رحلت کے بعد اس نے آپ کی تشیع جنازہ میں شرکت کی امام حسین _نے پوچھا_ میرے بھائی کی حیات میں تم سے جو ہوسکتا تھا وہ تم نے کیا لیکن اب تم ان کی تشییع جنازہ میں شریک اور رورہے ہو؟ مروان نے جواب دیا'' میں نے جو کچھ کیا اس شخص کے ساتھ کیا جس کی بردباری پہاڑ ( کوہ مدینہ کی طرف اشارہ) سے زیادہ تھی (2)
خلافت
21/ رمضان المبارک 40 ھ ق کی شام کوحضرت علی (ع) کی شہادت ہوگئی _اس کے بعدلوگ شہر کی جامع مسجد میں جمع ہوئے حضرت امام حسن مجتبی (ع) منبر پر تشریف لے گئے اور اپنے پدربزرگوار کی شہادت کے اعلان اور ان کے تھوڑے سے فضائل بیان کرنے کے بعد اپنا تعارف کرایا_ پھر بیٹھ گئے اور عبداللہ بن عباس کھڑے ہوئے اور کہا لوگو یہ امام حسن (ع) تمہارے پیغمبر (ص) کے فرزند حضرت علی (ع) کے جانشین اور تمہارے امام (ع) ہیں ان کی بیعت کرو
لوگ چھوٹے چھوٹے دستوں میں آپ کے پاس آتے اور بیعت کرتے رہے (3) نہایت ہی غیر اطمینان نیز مضطرب و پیچیدہ صورت حال میں کہ جو آپ کو اپنے پدربزرگوار کی زندگی کے آخری مراحل میں در پیش تھے آپ نے حکومت کی ذمہ داری سنبھالی_ آپ نے حکومت کو ایسے لوگوں کے درمیان شروع کیا جو مبارزہ اور جہاد کی حکمت عملی اور اس کے اعلی مقاصد پر چنداں ایمان نہیں رکھتے تھے چونکہ ایک طرف آپ (ع) پیغمبر (ص) و علی (ع) کی طرف سے اس عہدہ کے لئے منصوب تھے اور دوسری طرف لوگوں کی بیعت اور ان کی آمادگی نے بظاہر ان پر حجت تمام کردی تھی اس لئے آپ نے زمام حکومت کو ہاتھوں میں لیا اور تمام گورنروں کو ضروری احکام صادر فرمائے اور معاویہ کے فتنہ کو سلادینے کی غرض سے لشکر ا ور سپاہ کو جمع کرنا شروع کیا، معاویہ کے جاسوسوں میں سے دو افراد کی شناخت اور گرفتاری کے بعد قتل کرادیا_ آپ(ع) نے ایک خط بھی معاویہ کو لکھا کہ تم جاسوس بھیجتے ہو؟ گویا تم جنگ کرنا چاہتے ہو جنگ بہت نزدیک ہے منتظر رہو انشاء اللہ (4)
1 بحار جلد 43 /344
2 تاریخ الخلفاء /191 ، شرح ابن ابی الحدید جلد 16 / 13 ، 51 واقعہ کے آخری حصہ میں تھوڑے فرق کے ساتھ
3 ارشاد مفید /188 شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید جلد 16/30 مقاتل الطالبین مطبوعہ بیروت 50 52
4 ارشاد مفید 189 ، بحارجلد 44/45 ، شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید جلد 16 / 31 مقاتل الطالبین مطبوعہ بیروت / 53 اما بعد فانک دسَّست الرجال للاحتی ال و الاغتیال و ارصدت العیون کانک تحت اللقاء و ما اشک فی ذالک فتوقعہ انشاء اللہ
Tuesday, January 17, 2017
ولایتِ فقیہ
ولایتِ فقیہ نعمت ہے، اللہ کاقانون و نظام ہے، ایرانی نہیں ہے۔ ولایتِ فقیہ کا نام سنتے ہی ہمارے پاکستانی کا ذہن ایران چلا جاتا ہے۔ ولایت فقیہ تشیع کا اسلامی نظام ہے، تشیع میں جو تفسیرِ قرآن و اسلام ہے وہ ولایت کی بنیاد پر ہے۔ آپ بھی وارث ہیں یہ ایرانی نظام نہیں ہے ، یہ غلط فہمی ہے اپنے ذہن سے بھی نکالیں اور دوسروں کے ذہن سے بھی نکالیں ورنہ امام رضاؑ ایرانی ہو جائیں گے، امام علیؑ عراقی ہو جائیں گے۔ دوسروں کیلئے تو پاکستان میں کچھ بھی نہیں رہے گا، رسولﷺ حجازی سعودی عرب کے ہو جا ئیں گے، رسولﷺ کا نام نہیں لو، سعودی عرب کے ایجنٹ ہونے کا الزام لگ جائے گا اگر نعت پڑھی رسولﷺ کی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ سعودی عرب کے ایجنٹ ہو ، امام رضاؑ کا قصیدہ پڑھا تو ایرانی ہو جاؤگے، امام علیؑ کا قصیدہ پڑھا تو عراقی ہو جاؤ گے، یہ سب توہمات ہیں۔ ولایت اللہ کا نظام ہے ایرانی نظام نہیں ہے۔ اگر ایران میں قائم ہوا ہے تو ایرانی نہیں ہو گیا ہے پھر بھی اللہ کا نظام ہے۔ عصرِ غیبت میں یہ ولایت فقیہ اللہ کی نعمت ہے اصل ولایت امامؑ ہے ولایت رسولﷺ ہے لیکن زمانہ غیبتِ کبریٰ میں جانشینی و نیابت کے طور پر ولایت فقیہ ہے جو خود معصوم ؑ نے فرمایا کہ ہماری غیبت کبریٰ میں فقہاء ہمارے نائب ہیں اور امین ہیں۔ فقہاء کو ہٹا دو چونکہ غیرِ معصوم ہیں اور خطبا کو بٹھا دو کہ یہ سارے معصوم ہیں۔ کس نے پاکستانیوں کوفقہاء سے گمراہ کیا؟ خطباء اورذاکرین نے گمراہ کیا۔ کیا یہ گمراہ کرنے والے معصوم ہیں یہ معصوم ہیں جن کے کہنے پر فقہاء کے مخالف ہو جاتے ہیں۔ جہلا کے کہنے پر علما ء کے مخا لف ہو جاتے ہیں اگر دو غیرمعصوم میں چننا ہے تو جہلا کی نسبت فقہا ءکی بات ماننا بہتر ہے۔ ایک اہلسنت کے مولانا ملنے کیلئے آئےاور کہا کہ آپ یہ کرتے ہیں آپ وہ کرتے ہیں ان کی مراد یہ تھی کہ بعض اوقات عوام الناس جو کرتے ہیں وہ ان کی چند باتیں تھی کہ یہ یہ کرتے ہیں میں نے کہا کہ آپ اپنے مذہب کے عالم ہو اور عا لمانہ طریقہ یہ ہوتا ہے کہ علماء کی باتیں عوام کو بتائی جاتی ہیں، عوام کو علماء کا حوالہ دیا جاتا ہے کہ اے عوام آپ یوں کر رہے ہو اور آپ کے علماء یہ کہتے ہیں۔ آپ الٹ کام کر رہے ہو ، علماء کو آ کر عوام کا حوالہ دے رہے ہو کہ آپ کے عوام یوں کرتے ہیں پس آ پ ایسے ہو۔ یہ کب سے علمی معیار بن گیا ہے کہ آپ عوام کے حوالے عا لم کو دے رہے ہو۔ عوام کو جاکر علماء کی باتیں بتاؤ کہ آپ کے علماء یہ کہتے ہیں نہ کہ علماء کوآ کر کہو کہ عوام یہ کہتے ہیں۔ یہ ا لٹی چکی نہ چلاو۔ مان گئے کہ میں اب متوجہ ہو گیا ہوں۔مجھے یہ نہیں کرنا چاہئے تھا کہ میں کسی عالم پر ایسے عمل کی تہمت لگا رہا ہوں جو عوام نے کیا ہے
آغا سید جواد نقوی
Saturday, January 7, 2017
سوال؟
زرا سوچ کر جواب دینا....
جو رسول ص تمھیں سونے جاگنے کی دعا سکھا گئے, اٹھنے بیٹھنے کی دعا سیکھا گئے
کھانے پینے کی دعا سکھا گئے
سفر کرنے, سواری پر بیٹھنے کی دعا سکھا گئے
حتی کہ بیت الخلاء جانے کی بھی دعا سکھا گئے
تو کیا وہ تمھیں یہ نہیں بتا کر جائیں گے میرے بعد کس کا حکم ماننا؟؟؟؟؟ جو تم لوگوں کو اکھٹا کر کے 123 خلیفہ بن گئے ؟؟؟؟؟
قال رسول ص, من کنت مولا فھذا علی مولا.......
Thursday, January 5, 2017
صحابی یا منافق
احد سے بھاگ جانے والے کو صحابی نھیں لکھتے.
خندق میں عمروبن عبدود سے ڈر جانے والے کو صحابی نھیں لکھتے.
خیبر میں مرحب کو دیکھ کر بھاگ جانے والے کو صحابی نھیں لکھتے.
حضرت اسامه کے لشکر سے الگ ھو جانے والے کو صحابی نھیں لکھتے.
حضرت محمد صلی الله علیه وآله وسلم و پاک خدیجه سلام الله علیه کا نکاح پڑھانے والے شهنشاه ءسید حضرت ابوطالب علیه السلام کی شان میں گستاخی کرنے والے کو صحابی نھیں لکھتے.
الله کے پاک رسول کو اپنا یار بولنے والے بدؤ کو صحابی نھیں لکھتے.
مقام مولاعلی باب العلم کے مقام کو اپنے سے کم سمجھنے والے کو صحابی نھیں لکھتے.
الله کے آخری رسول پاک کا جنازه چھوڑ کر سقیفه کی طرف بھاگ جانے والے کو صحابی نھیں لکھتے.
سوره المائده کی 55آیت کےھوتے خود کو بعد نبی جانشین خلیفه بولنے والے
کو صحابی نھیں لکھتے.
الله کے محبوب اور سردار انبیاء کی اکلوتی بیٹی سیده فاطمه زھرا خاتون جنت سلام الله علیه سے اپنی من گھڑت باتیں سنا کر اور اپنے جیسے جھوٹے ناپاک کتے لا کر فدک پر ناجائز قبضه کرنے والے کو صحابی نھیں لکھتے.
عورتوں کا حق مھر ختم کرنے والے کتے اور گھوڑوں پر اپنی طرف سے ٹیکس لگانے والے منحوس انسان کو صحابی نھیں لکھتے.
صحابیءرسول پاک حضرت ابوذر غفاری کو مدینے سے باھر نکلوانے والے کو صحابی نھیں لکھتے.
گستاخ رسول یه حاکم بن مروان کو گورنر بنانے والے کو صحابی نھیں لکھتے.
الله کے شیر سے جمل صفین نھروان میں لڑنے والے کو صحابی نھیں لکھتے.
قاتل امیرحمزه اور ھنده کے بیٹے معاویه لعین اور نجس یزید کو صحابی نھیں لکھتے.
قتل حسین علیه السلام میں شریک صحابه کے بیٹوں کو صحابی نھیں لکھتے.
غم حسین پر پابندی لگوانے والے کو صحابی نھیں لکھتے.
تحقیقی مواد
خطیب احمد
ﺑﯿﺒﯽ ﺧﺪﯾﺠﮧ ( ﺱ ) ﻭ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﻃﺎﻟﺐ ( ﻉ ) ﮐﯽ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﻧﻤﺎﺯہ.
ﺑﯿﺒﯽ ﺧﺪﯾﺠﮧ ( ﺱ ) ﻭ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﻃﺎﻟﺐ ( ﻉ ) ﮐﯽ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﺲ ﻧﮯ ﭘﮍﮬﺎﺋﯽ؟.
ﮨﺎﮞ ﺗﻮ ﺑﮭﺌﯽ ﮐﺲ ﻧﮯ ﭘﮍﮬﺎﺋﯽ؟ ﺑﻮﻟﮯ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﭘﻮﭼﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ ﻇﺎﮨﺮ ﺳﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ ﺭﺳﻮﻝ ( ﺹ ) ﮐﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﺲ ﻧﮯ ﭘﮍﮬﺎﺋﯽ ﮨﻮﮔﯽ .
ﺍﯾﮏ ﺑﮍﯼ ﺩﺍﮌﮬﯽ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻋﻠﻢ ﮐﮯ ﺟﻮﮨﺮ ﺩﮐﮭﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ ﺣﻀﺮﺕ ﺑﯿﺒﯽ ﺧﺪﯾﺠﮧ ( ﺱ ) ﮐﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻣﺎﻧﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺭﺳﻮﻝ ( ﺹ ) ﻧﮯ ﭘﮍﮬﺎﺋﯽ ﮨﻮﮔﯽ ﻣﮕﺮ ﺍﺑﻮﻃﺎﻟﺐ ﺗﻮ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﯾﮩﺎﮞ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ .
ﻟﻮ ﺟﯽ ! ﺷﯿﻌﮧ ﻭﮨﺎﺑﯽ ﻣﻨﺎﻇﺮﮦ ﺷﺮﻭﻉ ...
ﺍﻥ ﮐﻮ ﻟﮍﻧﮯ ﺩﯾﮟ، ﺁﺋﯿﮯ ﮬﻢ ﮐﺘﺎﺑﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮐﯿﺎ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﯿﮟ :
ﺭﺳﻮﻝ ( ﺹ ) ﮐﮯ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﭘﮩﻨﭽﻨﮯ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﺎﮦ ﻗﺒﻞ ﺑـﺮﺍﺀﺑـﻦ ﻣـﻌﺮﻭﺭ ( ﺭﺽ ) ﻧﺎﻣﯽ ﺍﻧﺼﺎﺭﯼ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ ﻓﺮﻣﺎ ﮔﺌﮯ، ﯾﮧ ﺑﮍﮮ ﻣﻌﺰﺯ ﺻﺤﺎﺑﯽ ﺗﮭﮯ، ﺑﯿﻌﯿﺖ ﻋﻘﺒﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺍﮨﻢ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﺗﮭﺎ . ﺟﻮﮞ ﮨﯽ ﺭﺳﻮﻝ ( ﺹ ) ﻣﺪﯾﻨﮯ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﭘﺘﮧ ﭼﻼ ﮐﮧ ﺑﺮﺍﺀ ( ﺭﺽ ) ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺭﺳﻮﻝ ( ﺹ ) ﺍﻥ ﮐﯽ ﻗﺒﺮ ﭘﺮ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﻤﺎﺯ ﺍﺩﺍ ﮐﯽ ﯾﮧ * ﭘﮩﻠﯽ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﻧﻤﺎﺯ ﺗﮭﯽ * ﯾﻌﻨﯽ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻗﺒﻞ ﻧﻤﺎﺯ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﯾﺎ ﺗﮭﺎ . ﺷﺮﯾﻌﺖ ﻣﺤﻤﺪﯼ ﮐﺎ ﺣﺼﮧ ﮨﯽ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ .
* ﺗﻮ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺟﺐ ﻣﺪﯾﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﯽ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﯽ ﮔﺌﯽ، ﺍﺱ ﺳﮯ ﻗﺒﻞ ﻧﻤﺎﺯ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﮨﯽ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﻣﮑﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ ﭘﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺟﻨﺎﺏ ﺍﺑﻮﻃﺎﻟﺐ ( ﻉ ) ﺍﻭﺭ ﺑﯿﺒﯽ ﺧﺪﯾﺠﮧ ( ﺱ ) ﮐﯽ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﯿﺴﮯ ﮨﻮﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ *.
ﮨﺎﮞ ﺍﻟﺒﺘﮧ !
ﻣـﺠـﻠﺴـﻰ ﺭﺣـﻤﻪ ﺍﻟﻠﻪ ﺑﺤﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ : ﻧﺒﻮﺕ ﮐﮯ ﺩﺳﻮﯾﮟ ﺳﺎﻝ ﺣﻀﺮﺕ ﺧﺪﯾﺠﮧ ( ﺱ ) ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺣﺠﻮﻥ ﻣﯿﮟ ﺩﻓﻦ ﮨﻮﺋﯿﮟ . ﺭﺳـﻮﻝ ﺧـﺪﺍ ﺻـﻠﻰ ﺍﻟﻠﻪ ﻋـﻠﯿـﻪ ﻭ ﺁﻟﻪ ﻭ ﺳـﻠﻢ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻗﺒﺮ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧـﻞ ﮨﻮﺋﮯ ﻣﮕﺮ ﺍﻥ ﺩﻧﻮﮞ ﺍﺑﮭﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﺗﺸﺮﯾﻊ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ : ﻭﻟﻢ ﯾﻜﻦ ﯾﻮﻣﺌﺬ ﺳﻨﺔ ﺍﻟﺠﻨﺎﺯﺓ ﻭ ﺍﻟﺼـﻼﺓ ﻋـﻠﯿـﻬـﺎ ﻋﻠﻰ ﻫﺬﺍ ( ۱ ) ﺁﻧﺤﻀﺮﺕ ( ﺹ ) ﻧﮯ ﺟﻨﺎﺏ ﺍﺑﻮﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺍﻭﺭ ﺟﻨﺎﺏ ﯾﺎﺳﺮ ﻭ ﺟﻨﺎﺏ ﺳـﻤـﯿـﮧ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺷـﻬـﺪﺍﺀ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﯽ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﻧﻤﺎﺯ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍﮬﯽ ﺗﮭﯽ .
ﯾﻌﻘﻮﺑﻰ ﻟﮑﮭﺘﺎ ﮨﮯ : ﺟﺐ ﺟﻨﺎﺏ ﺍﺑﻮﻃﺎﻟﺐ ( ﻉ ) ﺩﻧﯿﺎ ﺳﮯ ﺭﺣﻠﺖ ﻓﺮﻣﺎ ﮔﺌﮯ ﺗﻮ ﺭﺳـﻮﻝ ﺍﻟﻠﻪ ( ﺹ ) ﺑﮩﺖ ﻏﻤﺰﺩﮦ ﮨﻮﺋﮯ، ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﮐﻮ ﭼﺎﺭ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺟﻨﺎﺏ ﺍﺑﻮﻃﺎﻟﺐ ( ﻉ ) ﮐﯽ ﭘﯿﺸﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﻃﺮﻑ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﻦ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺑﺎﺋﯿﮟ ﻃﺮﻑ ﮔﮭﻤﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﻣﯿﺮﮮ ﻋﺰﯾﺰ ﭼﺎﭼﺎ ﻣﺤﺘﺮﻡ ! ﺁﭖ ﻧﮯ ﺑﭽﭙﻦ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﯼ ﺗﺮﺑﯿﺖ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﯾﺘﯿﻤﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﯼ ﮐﻔﺎﻟﺖ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﺑﮍﺍ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﯾﺎ . ﺍﻟﻠﮧ ( ﺝ ) ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﺟﺮ ﺁﭖ ﮐﻮ ﻋﻄﺎ ﻓﺮﻣﺎﺋﮯ( ۲ )
۱ ) ﺑﺤﺎﺭﺍﻻﻧﻮﺍﺭ، ﺝ 19 ، ﺹ 21
۲ ) ﺗﺎﺭﯾﺦ ﯾﻌﻘﻮﺑﯽ ﺝ 2 ﺹ 21 ؛
* ﺍﺱ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ *
* ﻣﻨﺎﻗﺐ ﺍﺑﻦ ﺷﻬﺮ ﺁﺷﻮﺏ، ﺝ 1 ، ﺹ 150
* ﺷﺮﺡ ﻧﻬﺞ ﺍﻟﺒﻼﻏﮧ، ﺍﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﺍﻟﺤﺪﯾﺪ، ﺝ 14 ، ﺹ 76.
Tuesday, January 3, 2017
چار سوال....جواب درکار
درج ذیل کچھ سوالات ہیں جن کے جوابات اہل سنت سے مطلوب ہیں
1 ) کوئی آیت یا حدیث پیش کریں جس میں کہا گیا ہو کہ "لاَ اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲ " کلمہ اسلام ہے اور اس میں اضافہ کرنا کفر ہے۔ نوٹ: لاَ اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲ پر ہم مسلمان یقین رکھتا ہے اس لئے ان دو کلمات پر دلیل دینے کی ضرورت نہیں ہے بس سوال میں موجود مطلوبہ چیز پیش کی جائے
2 ) کیا معاویہ بن سفیان نے اپنی حکومت کے دوران کسی قاتل عثمان بن عفان پر مقدمہ چلا کر سزا دی؟ اگر جواب ہاں ہے تو صحیح سند روایت پیش کریں اور اگر جواب نہیں ہے تو یہ کیسے مکمن ہے کہ جو اپنی حکومت میں کسی قاتل عثمان پر مقدمہ چلا کر سزا نہیں دیتا اس کی جنگ صفین صرف قتل عثمان کا قصاص لینے کے لئے تھی؟
3 ) <=مقدمہ فدک=>
جرم=غضب فدک
قابض=ابوبکر
مجرم=ابوبکر
جج/منصف= ابوبکر
سرکاری وکیل=ابوبکر
خلیفہ وقت=ابوبکر
حیثیت=غیر شرعی خلیفہ
اعزازی حیثیت= والد امی عائشہ+بچپن سے جوانی تک کفر پر قائم رھے، کافروں کی گود میں پرورش پائی بڑھاپے میں مسلمان ھوگئے
مدعی= بی بی فاطمہ سلام اللہ علیہ
حیثیت= اکلوتی وارث نبی >ص>
اعزازی حیثیت= بچپن سے جوانی تک رسالت کی آغوش میں رھیں،
مباھلہ میں توحید خداوند کی گواہ بنیں...
سوال بس اتنا ھے... کیا ابوبکر کو مقدمہ کے فیصلہ کا حق تھا؟؟؟
وفات نبی<ص> کے بعد اتنا بڑا نازک مسئلہ آتا ھے اور فقط ایک شخص، مقدمہ اسی کے خلاف ھے عدالت بھی اسکی وکیل بھی وھی، مجرم بھی وھی منصف بھی ھے،،
کیا اسلامی عدالت ایسی ھوتی ھے؟؟
4 ) اگر حکومت کرنے کی ترتیب معیار تفضیل ہے تو کیا آپ لوگوں کے مطابق پانچویں نمبر پر افضل معاویہ بن سفیان اور چھٹے نمبر پر افضل یزید بن معاویہ ہے؟
Monday, January 2, 2017
شیعان علی ۶
کافر کافر شیعہ کافر کا نعرہ لگانے والوں آؤ آج آپ کو واضح کروا دوں کہ شیعہ کا کیا مقام ہے اور جناب رسول الله (ص) نے شیعان علئ کو کیا بشارتیں دئیں.
نبی (ص) نے فرمایا،
"میری امت کے تہتر 73 فرقے ہوں گے تمام دوذخ میں جائیں گے مگر ایک (فرقہ) جنت میں جاۓ گا."
(ابن ماجہ باب افتراق الامت)
اب سوال یہ ہے کہ وہ کون سا فرقہ ہے جو جنت میں جاۓ گا؟
اس کے جواب کے لئے بھی یقینن ہم نبی (ص) کی احادیث کی طرف رجوع کریں گے جوکہ اہلسنت کی معتبر کتابوں سے پیش کر رہی ہوں....
ارشاد نبوئ ہے،
"یا علئ انتا و شیعتك ھم الفائزون."
"اے علئ تواور تیرے شیعہ ہی نجات یافتہ ہیں."
(کتاب اہلسنت صواعق محرقہ ابن حجر مکی ص96، در منشور علامہ جلال الدین سیوطی)
"قال النبئ صلی الله علیه واله یا علئ انتا و شیعتك في الجنة."
"رسول اکرم (ص) نے فرمایا اے علئ تو اور تیرے شیعہ جنتی ہیں."
(کنزالحقائق)
اس سے بڑھ کہ کوئی دلیل نہیں دی جاسکتی کہ 73 فرقوں میں سے جس ایک فرقے کو خود زبان نبوه (ص) سے جنت کی بشارت ملی ہے وہ صرف شیعان علئ ہی ہیں.
ارے جنت میں تو جاہی وہ سکتا ہے جن کہ امام نہ صرف جنتی ہیں بلکہ جوانان جنت کے سردار ہیں.
نبئ نے فرمایا، "الحسن والحسين سيداشباب اھل الجنة وابوھما خيرمنھما."
"حسن اور حسين جوانان جنت کے سردار ہیں اور ان کے والد بزرگوار ان دونوں سے بہتر ہیں."
(ابن ماجہ)
ارشاد نبوئ ہے،
"میرے اہلبیتء کی مثال سفینہ نوح کی مانند ہے. جو اس میں سوار ہوا نجات پاگیا اور جو رہ گیا ہلاک ہو گیا." (بحوالہ صواعقہ محرقہ، مشکوة شريف)
اب بھی اگر کوئی دراہلبیتء کو چھوڑ کر کسی دوسری جگہ سے دین لے تو پھر وہ بروز قیامت شقوه نہ کرے کہ جنت مقدر کیوں نہ بنی کیونکہ جنت علئ والوں کی ہے.
دوزخ تو ہے من کنتو کہ منکر کا محلہ
جنت وہ جزیرہ ہے جہاں ذکر علئ ہے.
فرمان نبئ ہے کہ، "اے مسلمانوں میں تمہارے لیے دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں ایک قرآن، دوسرے اہلبیتء. اگر ان دونوں سے تمسک رکھوگے تو کامیاب ہو جاؤ گۓ.
پس کامیابی اسی کا مقدر جو بقول نبوی (ص) قرآن واہلبیت سے تمسک رہے.
Sunday, January 1, 2017
ﺍﻣﯽ ﻋﺎﺋﺸﮧ ﮐﺎ ﻣﺎﺗﻢ
ﺍﻣﯽ ﻋﺎﺋﺸﮧ ﻓﺮﻣﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ : ﺟﺐ ﺭﺳﻮﻝ (ﺹ) ﮐﺎ ﻭﺻﺎﻝ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ
ﺭﺳﻮﻝ ( ﺹ ) ﮐﺎ ﺳﺮ ﺍﻣﯽ ﮐﯽ ﮔﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﺍ ﻣﯽ ﻋﺎﺋﺸﮧ ﻧﮯ ﺭﺳﻮﻝ
( ﺹ ) ﮐﮯ ﻭﺻﺎﻝ ﭘﺮ *ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻨﮧ ﭘﺮ ﺧﻮﺏ ﻃﻤﺎﻧﭽﮯ ﻣﺎﺭﮮ*
ﺣﺪﺛﻨﺎ : ﻳﻌﻘﻮﺏ ﻗﺎﻝ : ، ﺣﺪﺛﻨﺎ : ﺃﺑﻲ ، ﻋﻦ ﺇﺑﻦ ﺇﺳﺤﺎﻕ ﻗﺎﻝ :
، ﺣﺪﺛﻨﻲ : ﻳﺤﻴﻰ ﺑﻦ ﻋﺒﺎﺩ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﺍﻟﺰﺑﻴﺮ ،
ﻋﻦ ﺃﺑﻴﻪ ﻋﺒﺎﺩ ﻗﺎﻝ : ﺳﻤﻌﺖ ﻋﺎﺋﺸﺔ ﺗﻘﻮﻝ : ﻣﺎﺕ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﻪ
( ﺹ ) ﺑﻴﻦ ﺳﺤﺮﻱ ﻭﻧﺤﺮﻱ ، ﻭﻓﻲ ﺩﻭﻟﺘﻲ ﻟﻢ ﺃﻇﻠﻢ ﻓﻴﻪ ﺃﺣﺪﺍً
ﻓﻤﻦ ﺳﻔﻬﻲ ﻭﺣﺪﺍﺛﺔ ﺳﻨﻲ ﺃﻥ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﻪ ﻗﺒﺾ ﻭﻫﻮ ﻓﻲ
ﺣﺠﺮﻱ ، ﺛﻢ ﻭﺿﻌﺖ ﺭﺃﺳﻪ ﻋﻠﻰ ﻭﺳﺎﺩﺓ ﻭﻗﻤﺖ ﺃﻟﺘﺪﻡ ﻣﻊ ﺍﻟﻨﺴﺎﺀ
ﻭﺃﺿﺮﺏ ﻭﺟﻬﻲ
ﻣﺴﻨﺪ ﺃﺣﻤﺪ - ﺑﺎﻗﻲ ﻣﺴﻨﺪ ﺍﻷﻧﺼﺎﺭ - ﺑﺎﻗﻲ ﺍﻟﻤﺴﻨﺪ ﺍﻟﺴﺎﺑﻖ - ﺭﻗﻢ
ﺍﻟﺤﺪﻳﺚ : ۲۵۱۴۴
ﺗﺎﻭﯾﻞ
ﻗﻮﻝ ﺍﻟﺴﻴﺪﺓ ﻋﺎﺋﺸﺔ ( ﺃﻟﺘﺪﻡ ) ، ﻗﺎﻝ ﺍﻟﺴﻬﻴﻠﻲ ﻭﻏﻴﺮﻩ : ﺍﻹﻟﺘﺪﺍﻡ :
ﺿﺮﺏ ﺍﻟﺨﺪ ﺑﺎﻟﻴﺪ ، ﻭﺍﻟﻼﺩﻡ : ﺍﻟﻤﺮﺃﺓ ﺍﻟﺘﻲ ﺗﻠﺪﻡ ﻭﺍﻟﺠﻤﻊ : ﺍﻟﻠﺪﻡ
ﺑﺘﺤﺮﻳﻚ ﺍﻟﺪﺍﻝ ﻭﻗﺪ ﻟﺪﻣﺖ ﺍﻟﻤﺮﺃﺓ ﺗﻠﺪﻡ ﻟﺪﻣﺎً ﻭﻟﻢ ﻳﺪﺧﻞ ﻫﺬﺍ ﻓﻲ
ﺍﻟﺘﺤﺮﻳﻢ ، ﻷﻥ ﺍﻟﺘﺤﺮﻳﻢ ، ﺇﻧﻤﺎ ﻭﻗﻊ ﻋﻠﻰ ﺍﻟﺼﺮﺍﺥ ﻭﺍﻟﻨﻮﺡ ، ﻭﻟﻌﻨﺖ
ﺍﻟﺨﺎﺭﻗﺔ ﻭﺍﻟﺤﺎﻟﻘﺔ ﻭﺍﻟﺼﺎﻟﻘﺔ - ﻭﻫﻲ ﺍﻟﺮﺍﻓﻌﺔ ﻟﺼﻮﺗﻬﺎ - ﻭﻟﻢ ﻳﺬﻛﺮ
ﺍﻟﻠﺪﻡ ﻟﻜﻨﻪ ﻭﺇﻥ ﻟﻢ ﻳﺬﻛﺮ ﻓﺈﻧﻪ ﻣﻜﺮﻭﻩ ﻓﻲ ﺣﺎﻝ ﺍﻟﻤﺼﻴﺒﺔ ، ﻭﺗﺮﻛﻪ
ﺃﺣﻤﺪ ﺇﻻّ ﻋﻠﻰ ﺃﺣﻤﺪ ( ﺹ ) : ﻓﺎﻟﺼﺒﺮ ﻳﺤﻤﺪ ﻓﻲ ﺍﻟﻤﺼﺎﺋﺐ ﻛﻠﻬﺎ * ﺇﻻّ
ﻋﻠﻴﻚ ﻓﺈﻧﻪ ﻣﺬﻣﻮﻡ ﻭﻗﺪ ﻛﺎﻥ ﻳﺪﻋﻲ ﻻﺑﺲ ﺍﻟﺼﺒﺮ ﺣﺎﺯﻣﺎ * ﻓﺄﺻﺒﺢ
ﻳﺪﻋﻰ ﺣﺎﺯﻣﺎ ﺣﻴﻦ ﻳﺠﺰﻉ
ﺳﺒﻞ ﺍﻟﻬﺪﻯ ﻭﺍﻟﺮﺷﺎﺩ ﺝ۱۲ ﺹ۲۶۷
ﺳﻨﺪ
ﻭﻗﺪ ﺃﺧﺮﺝ ﻋﻤﺮ ﺃﺧﺖ ﺃﺑﻲ ﺑﻜﺮ ﺣﻴﻦ ﻧﺎﺣﺖ ﻭﺻﻠﻪ ﺑﻦ ﺳﻌﺪ ﻓﻲ ﺍﻟﻄﺒﻘﺎﺕ
ﺑﺈﺳﻨﺎﺩ ﺻﺤﻴﺢ ﻣﻦ ﻃﺮﻳﻘﺎﻟﺰﻫﺮﻱ ، ﻋﻦ ﺳﻌﻴﺪ ﺑﻦ ﺍﻟﻤﺴﻴﺐ ﻗﺎﻝ : ﻟﻤﺎ
ﺗﻮﻓﻲ ﺃﺑﻮ ﺑﻜﺮ ﺃﻗﺎﻣﺖ ﻋﺎﺋﺸﺔ ﻋﻠﻴﻪ ﺍﻟﻨﻮﺡ ﻓﺒﻠﻎ ﻋﻤﺮ ﻓﻨﻬﺎﻫﻦ ﻓﺄﺑﻴﻦ
ﻓﻘﺎﻝ ﻟﻬﺸﺎﻡ ﺑﻦ ﺍﻟﻮﻟﻴﺪ : ﺃﺧﺮﺝ ﺇﻟﻰ ﺑﻴﺖ ﺃﺑﻲ ﻗﺤﺎﻓﺔ ﻳﻌﻨﻲ ﺃﻡ ﻓﺮﻭﺓ
ﻓﻌﻼﻫﺎ ﺑﺎﻟﺪﺭﺓ ﺿﺮﺑﺎﺕ ﻓﺘﻔﺮﻗﺎﻟﻨﻮﺍﺋﺢ ﺣﻴﻦ ﺳﻤﻌﻦ ﺑﺬﻟﻚ ، ﻭﻭﺻﻠﻪ
ﺇﺳﺤﺎﻕ ﺑﻦ ﺭﺍﻫﻮﻳﻪ ﻓﻲ ﻣﺴﻨﺪﻩ ﻣﻦ ﻭﺟﻪ ﺁﺧﺮ ، ﻋﻦ ﺍﻟﺰﻫﺮﻱ ﻭﻓﻴﻪ
ﻓﺠﻌﻞ ﻳﺨﺮﺟﻬﻦ ﺇﻣﺮﺃﺓ ﺇﻣﺮﺃﺓ ﻭﻫﻮ ﻳﻀﺮﺑﻬﻦ ﺑﺎﻟﺪﺭﺓ
ﻓﺘﺢ ﺍﻟﺒﺎﺭﻱ ﺝ۵ ﺹ۷۴
تحقیقی مواد
Saira R بسم اللہ الرحمن الرحیم
سورة النسا ، آیت،148
ترجمہ۔اللہ پسند نہیں کرتا ماتم کو۔ ہاں مگر سوائے اس کے لیے جو مظلوم ہو۔
مختلف کتابوں سے تفسیر
امام حسین ؑ سے زیادہ کون مظلوم ہے اور قرآن کہتا ہے مظلوم کا ماتم جائز ہے
حوالہ۔ تفسیر ابن کثیر،جلد2،ص،20۔صحیح بخاری شریف ،جلد2،ص،820
ماتم و عزاداری کا ثبوت
بسم اللہ الرحمن الرحیم
سورة الذاریات، آیت،29
ترجمہ۔ابراہیم ؑ کی بیوی(سارہ) چلاتی ہوئی آئیں اور اپنا منہ پیٹ کر کہنے لگی کہ(ہائے ایک تو)بڑھیااور (دوسرا)بانجھ۔
اس سے ثابت ہوا کے نبی کی بیوی سارہ نے منہ کا ماتم کیااور روتی بھی رہی نبی ؑ کے غم میں۔
ماتم و عزاداری کا ثبوت
سم اللہ الرحمن الرحیم
سورة یوسف، آیت،31
ترجمہ۔جب مصر کی عورتوں نے یوسف ؑ کو دیکھا تومحبت میں آکر اپنے ہاتھ کاٹ لیے
اس سے ثابت ہوا کہ محبت میں کاٹنا گناہ نہیں ہے۔
ماتم و عزاداری کا ثبوت
حضرت آدم ؑ کاماتم
حضرت آدم ؑ نے اپنے تن پر اتنا ماتم کیا کہ انکی ہڈیاں نظر آنے لگیں۔
حوالہ۔کتاب اہلیسنت میراج النبوہ۔باب،1۔ص،248
ماتم و عزاداری کا ثبوت
حضرت یوسف ؑکاماتم
مصیبت میں اپنا سر پیٹنا حضرت یوسف ؑ کی سنت ہے۔
حوالہ۔تفسیر کبیر۔جلد،5۔ص،158
ماتم و عزاداری کا ثبوت
ام لمومنین حضرت بی بی عا ئشہؓ کاماتم
بی بی عائشہ کہتی ہیں کہ جب آپ کی وفات ہوئی تو ان کا سرمیری گود میں تھا پھر میں نے ان کا سر تکیہ پے رکھا اور عورتوں کے ہمراہ ماتم کرتی ہوئی کھڑی ہو گئی اور میں نے اپنا منہ پیٹ لیا۔
حوالہ۔کتاب اہلیسنت مسند احمد بن حنبل طبع مصر۔ج،6۔ص،274 ---
ماتم و عزاداری کا ثبوت
صحابی رسول اللہ حضرت اویس قرنیؓ کاماتم
جب جنگ احد میں رسول اللہ کے2دانت شہید ہوئے تو صحابی رسول اللہ حضرت اویس قرنی ؓ نے شدت غم میںاپنے سارے دانت توڑ دیئے ۔
حوالہ۔صحیح بخاری
ماتم و عزاداری کا ثبوت
رسول خداحضرت محمد کاماتم
رسول خداحضرت محمد نے سینہ کوبی کی جب آپکے چچا حضرت امیر حمزہ شہید ہونے کے بعد ہندہ(لعنت اللہ) نے ان کا کلیجا سینے سے نکال کر اپنے دانتوں سے چبایا۔
حوالہ۔صحیح بخاری۔والیم،2۔ص،50
ماتم و عزاداری کا ثبوت
رسولِ خدا حضرت محمد ﷺ کا شہید کے لیے رونا۔
1۔رسولِ خدا ﷺ نے اپنے چچا حضرت حمزہ کی شہادت پرلوگوں کو رونے اور غمزدہ ہونے کا حکم دیا۔
حوالہ۔ مسندابن حنبل،ج،2،ص،41
2۔رسولِ خدا ﷺ جنگ موتہ کے شہدا پر روئے۔
حوالہ۔ صحیح بخاری،ج