Monday, December 25, 2017

Those people who had called Quaid e Azam to be Kaafir e Azam today are also celebrating Quaid e Azam's birthday today.

Thread: People who branded Jinnah as Kafir-e-Azam, British Agent and Pakistan as Cancer,Palidistan #KnowYourEnemies

Jamat-e-Islami: JI's founder Maududi believed that there's nobody in the ML with an 'Islamic Outlook' and Jinnah is in cahoots with the British, he strongly opposed the creation of Pakistan.

Majlis-e-Ahrar: Founded by Ataullah Bukhari and Mazhar Ali Azhar. Deoband faction which called Pakistan 'Palidistan' and Jinnah 'Kafir-e-Azam'; also proposed Madhe Sahaba movement to counter ML- to attack Jinnah's Shia Khoja background

Jamiat-e-Ulema-e-Hind: Founded by the Hussain Madni (Shaikul Hadith of the Deoband Seminary) and Maulana Azad. Strictly opposed the creation of a separate homeland for Muslims

Khaksar Tehreek: Founded by Inayatullah Mashriqi. Mashriqi blamed Jinnah for being a British agent, and an opponent of the Indian Muslim glory

Unionists: Most of the feudal families of Punjab (yes they're still there in our Parliament) opposed ML and Pakistan. The forerunner was Khizar Hayat Tiwana

Darul Uloom Deoband: The Seminary was actively involved in issuing decrees against Jinnah calling him 'Rafidhi' and 'Kafir'

Mullahs of every beard size were active against Jinnah, but the man didn't stop and surrender. Ae Quaid-e-Azam Tera Ehsan Hai Ehsan~

“Pakistan is a fool’s paradise and an infidel state of Muslims. The Muslim migrants are deserters and cowards, who fought a national battle, but when the time came to pay the price, they took the path of escape”- Maulana Maududi (Founder JI)

Saturday, December 23, 2017

سیاسی چیلنجز

مکرمی ! پاکستان جیسے ترقی پزیر ملک میں سیاسی استحکام ہمیشہ سے ہی ایک چیلنج رہا ہے، معیشت کی گروتھ کیلئے ملک میں سیاسی استحکام انتہائی ضروری ہے ،ملک سیاسی عدم استحکام کا متحمل نہیں ہو سکتا۔تمام سیاسی پارٹیوں کو عوام کے مفاد اور ملک کی بہتر ہوتی معیشت کو مد نظر رکھا کر اپنی سیاست کرنا ہو گی. پاکستان جیسے ترقی پزیر ملک میں سیاسی استحکام ہمیشہ سے ہی ایک چیلنج رہا ہے اور جب ملک سیاسی عدم استحکام کا شکار ہوا تو اس کو بہت سی مشکلات کا سامنا کر نا پڑا۔ سیاسی استحکام ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔،سیاسی عدم استحکام سے ملک کو زیادہ نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ جب بھی ملک میں سیاسی عدم استحکام دیکھا گیا تو اس کا سب سے پہلا اثر ملکی حالات پر ہوا ۔ ملک میں جب بھی سیاسی استحکام نظر آتا ہے تو ملک میں کاروبار  معیشت میں ترقی دیکھنے میں آتی ہے مگر جب سیاسی استحکام نہیں ہوتا تو ملک تباہ حالی کی طرف جاتا نظر آتا ہے۔ملک کے کرتا دھرتاٶں کو معاشی استحکام کو مضبوط کرنے کی طرف دھیان دینا چاہۓ۔

تحریر : خطیب احمد

Wednesday, December 6, 2017

قضّیہ ازواج عمر ابن خطاب

حضرت عمر  کے امّ کلثوم سے نکاح کا ماجرا ایک جھوٹی داستان ہے اس لئے کہ
یہ داستان تفصیل کیساتھ صحاح ستّہ میں سے کسی ایک میں بھی نقل نہیں ہوئی
بعض محققین کا تو کہنا ہے کہ حضرت علی  کی کسی بیٹی کا نام اُمّ کلثوم نہیں تھا. حیات فاطمہ الزہراء: ٢١٩،باقر شریف قرشی؛علل الشرائع ١: ١٨٦،باب ١٤٩ بلکہ یہ حضرت زینب کی کنیت تھی اور ان کی شادی عبداللہ بن جعفر سے ہوئی تھی .

نام میں مغالطہ ہوا ہے اس لئے کہ حضرت عمر  نے حضرت ابوبکر  کی بیٹی اُمّ کلثوم سے شادی کی خواستگاری کی تھی مگر حضرت عائشہ  کی مخالفت کی وجہ سے شادی واقع نہ ہو سکی . الأغانی ١٦: ١٠٣

حضرت عمر  کا اُمّ کلثوم نامی خاتون سے عقد تو ہوا لیکن اس کے باپ کا نام جرول تھا جو عبید اللہ بن عمر  کی ماں تھیں . سیر اعلام النبلاء ( تاریخ الخلفاء): ٨٧

تاریخی حقائق سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب ماجرا من گھڑت ہے اس لئے کہ کہتے ہیں امّ کلثوم کی شادی پہلے عمر سے ہوئی ان کی وفات کے بعد محمد بن جعفر سے ، ان کی وفات کے بعد ان کے بھائی عون بن جعفر سے ہوئی جبکہ ہماری تاریخی کتب اس بات پر شاہد ہیں کہ یہ دونوں بھائی حضرت عمر  کے دور خلافت میں جنگ تستر شہید ہوگئے تھے . استیعاب ٣: ٤٢٣اور ٣١٥؛ تاریخ طبری ٤: ٢١٣؛ الاکمل فی التاریخ ٢: ٥٤٦

    اور پھر ہماری کتب میںیہ بھی لکھا جاتاہے کہ ان دونوں بھائیوں کی وفات کے بعد ان کی شادی ان کے تیسرے بھائی عبداللہ بن جعفرسے ہوئی جبکہ ان کی شادی تو حضرت زینب سے ہوئی تھی اور وہ اس وقت تک اسی عبداللہ کے عقد میں ہی تھیں تو کیا اسلام میں ایک زمانہ میں دو بہنوں کے ساتھ شادی جائز ہے الطبقات الکبرٰی  ٤٦٢یا یہ کہ حقیقت میں ایسا عقد واقع ہی نہیں ہوا ۔

۔۔۔۔۔ حصہ دوم

بعض لوگوں کا گمان باطل ہے کہ عمر ابن خطاب کی شادی دختر امیرالمومنین مولا علیؑ ؑسے ہوئی تھی لیکن!!!

قرآن حکیم ۔لعنت اللہ علی الکاذبین (جھوٹوں پر اللہ کی لعنت)۔سورۃ آل عمران۔آیت۔61

علم الریاضیات اس بات کی نفی کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ یہ بات جھوٹ اورافتراء کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔

غور سے  پڑھیں۔۔۔

تو تاریخ کہتی ہے کہ جب عمر ابن خطاب اسلام لائے تو ان کی عمر چالیس(40)برس تھی.

اور تریسٹھ(63) برس کی عمر میں عمر ابن خطاب وفات پا گئے

امیر المومنین علی ؑ دعوت ذوالعشیرہ میں نو(9) برس کے تھے۔

امیر المومنین علی ؑ نے جب سیدۃالنساء العالمین ؑ سے شادی کی تو آپ ؑ  پچیس(25) برس کے تھے۔

یعنی دعوت ذوالعشیرہ کے سولہ(16)برس بعدامیر المومنین علی ؑ کی شادی ہوئی۔

اور عمر بن خطاب دعوت ذولعشیرہ  کے سات(7)برس بعد اسلام لاِئے

یعنی جب عمر ابن خطاب نے کلمہ پڑھا تو امیرالمومنین علی ؑسولہ(16)برس کے تھے۔

عمر ابن خطاب کے اسلام لانے کے نو(9) برس بعدامیر المومنین علیؑ کی شادی ہوئی،تب امیر المومنین علی علیہ السلام پچیس (25) برس کے تھے۔  (9+16) 25 = برس

جب  امیر المومنین علیؑ کی شادی ہوئی تب عمر ابن خطاب (49) برس کے تھے(49=40+9برس)۔

کیا ایسا نہیں ہے؟

اللہ تعالیٰ نے امیر المومنین علیؑ کو شادی کے ایک برس بعد امام حسنؑ عطا فرمائے۔

دو(2)  برس بعد امام حسینؑ عطا فرمائے

چار(4)برس بعدسیدۃ زینبؑ کی ولادت ہوئی۔

امیر المومنین علیؑ کی شادی کے چھ(6)  برس بعد سیدۃ اُم کلثوم ؑ اس دنیا میں تشریف لائیں،

پس سیدۃ اُم کلثومؑ کی دنیا میں آمدکے وقت عمر ابن خطاب پچپن(55) برس کے تھے۔
(55=49+6 برس)

عمر ابن خطاب تریسٹھ(63) برس کی  میں وفات پا گئے۔

سیدۃ ام کلثومؑ بنت امیرالمومنین علیؑ کی دنیا میں آمد کے بعد عمرابن خطاب آٹھ(8)برس زندہ رہے۔
(8=63-55برس)۔

اہلسنت علماء کے بقول عمر ابن خطاب کی وفات سے تین(3)برس پہلے شادی ہوئی اور ایک بیٹا پیداہوا جس کا نام زید ابن عمر تھا یوں شادی کے وقت سیدۃ ام کلثومؑ کی عمر پانچ(5)برس بنتی ہے۔
(5=8-3برس)۔

کیاعقل و منطق اس بات کو قبول کرتی ہے کہ پانچ (5) برس کی عمر میں کسی عورت کی شادی ہو جائے؟؟؟

اوراس سے ایک بچہ بھی پیدا ہو جائے جس بچے کا نام زید ابن عمر رکھا گیاتھا؟؟؟

Friday, December 1, 2017

دور بنو امیہ میں مولا علیء پر لعن طعن

گالیاں دینا معاویہ اور مغیرہ بن شعبہ کی سنت ہے،  علی والے ایسا نہیں کرتے۔۔۔ جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ فاسقین بنو امیہ کی پیری میں کرتے ہیں۔۔ چاہے شیعہ چاہے سنی۔۔

شیعوں میں ایک طبقہ اصحاب رسول میں سے کچھ کو فاسق و فاجر یا دشمن اہلبیت مان کر ان پر تبرا کرتا ہے، لیکن بنو امیہ کے دور میں یہ کام جمعہ اور عید کے خطبوں میں عبادت سمجھ کرکیا جاتا تھا۔۔۔
میں آپ سے پوچھتا ہوں۔۔ جب ایک شخص کو معلوم ہو کہ ایک نام نہاد صحابی کے حکم سے برسر ممبر علی ع پر لعن کروایا جاتا تھا اور یہ سنت بانوے سال تک جاری رہی۔۔عمر بن عبدالعزیز کے چار سال چھوڑ کر۔۔ تو کیا آپ کے دل میں ان دشمنان اہلبیت کی محبت ہوگی یا ان سے نفرت و بیزاری ہوگی۔۔۔؟؟؟ علی ع سے محبت تو ایمان کی علامت قرار دی گئی ہے اور یہ پیمانہ اور کسی کے بارے میں نبی ص نے متعین نہیں کیا ہے صرف علی ع کے بارے میں صراحت آئی ہے۔۔

قال علي ‏والذي فلق الحبة وبرأ النسمة إنه لعهد النبي الأمي ‏(ص) ‏‏إلي ‏ ‏أن لا يحبني الا مؤمن ، ولا يبغضني الا منافق.(مسلم)

Thursday, November 30, 2017

جنگ جمل سے قبل اسکی پیشن گوئی

صحیح بخاری کتاب فرض الخمس میں عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ خطبہ سنانے کو کھڑے ہوئے تو  عائشہ کے گھر کی جانب اشارہ کر کے فرمایا ادھر ہی سے فتنےدین کے فساد نکلیں گے ادھر ہی سے شیطان کا سر نمود ہوگا
ایک اور روایت جو دیگر اصحابِ سند کے ساتھ احمد بن حنبل نے میں نقل کی ہے کہ رسول اللہ فرمایا کہ میری اس بیوی کی کیا حالت ہوگی اس وقت جب حوب ایک مقام کے کتے بھی اس پر بھونکینگے  مزید لکھتے ہیں کہ جمل میں شمولیت کے لیئے راستے میں مقام حوب پر کتوں نے بھونکنا شروع 😅کیا تو  عائشہ نے پوچھا کہ یہ کونسی جگہ ہے؟ تو عبداللہ بن زبیر نے کہا کہ یہ مقام حوب ہے

Monday, November 13, 2017

مدفن سیدہ زینب ص)

(مدفن سیدہ زینب ص)

حضرت زینب سلام اللہ علیہا امام علی(ع) اور حضرت زہرا(س) کی بیٹی ہیں جو سنہ 5 یا 6 ہجری کو مدینہ میں پیدا ہوئیں۔ آپ امام حسین(ع) کے ساتھ کربلا میں موجود تھیں اور 10 محرم الحرام سنہ 61 ہجری کو جنگ کے خاتمے کے بعد اہل بیت(ع) کے ایک گروہ کے ساتھ لشکر یزید کے ہاتھوں اسیر ہوئیں اور کوفہ اور شام لے جائی گئیں۔ انھوں نے اسیری کے دوران، دیگر اسیروں کی حفاظت و حمایت کے ساتھ ساتھ، اپنے غضبناک خطبوں کے توسط سے بےخبر عوام کو حقائق سے آگاہ کیا۔ حضرت زینب(ع) نے اپنی فصاحت و بلاغت اور شجاعت سے تحریک عاشورا کی بقاء کے اسباب فراہم کئے۔ تاریخی روایات کے مطابق سیدہ زینب(ع) سنہ 63 ہجری کو دنیا سے رخصت ہوئیں۔
چونکہ ہمیشہ سے شیعہ علماء اور اہل بیت(ع) کے چاہنے والوں کے نزدیک یہ چیز مشہور رہی ہے کہ حضرت زینب (س) کی قبر شام میں واقع ہے اور سب آپ کی زیارت کے لیے اسی روضے پر جاتے رہے ہیں لہذا یہ خود اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کا روضہ شام میں ہی واقع ہے۔
جبکہ دوسرے اقوال بھی ہیں جیسا کہ بعض علما کا یہ کہنا ہے کہ آپ کی قبر مبارک مدینہ میں واقع ہے چونکہ آپ کا سفرِ کربلا سے واپس مدینہ جانا قطعی اور یقینی ہے لیکن مدینہ سے دوبارہ نکلنا یقینی نہیں ہے اس وجہ سے آپ نے مدینہ میں وفات پائی اور وہیں دفن ہیں۔
لیکن اس قول کو اس جواب کے ساتھ رد کیا جاتا ہے کہ اگر آپ کی قبر مدینے میں ہوتی تو یقینا اس کا کوئی نشان ہوتا اس لیے کہ آپ کی شخصیت کوئی معمولی شخصیت نہیں تھی کہ آپ کی قبر کی طرف کوئی توجہ نہ کرتا، کوئی زیارت کو نہ جاتا اور قبر مخفی رہ جاتی۔ اس وجہ سے اس قول کو رد کیا گیا ہے۔
ایک قول یہ ہے کہ آپ مصر کے علاقے «قناطر السباع‏» مدفون ہیں لیکن بعض تحقیقات یہ بتاتی ہیں کہ مصر میں موجود یہ قبر زینب بن یحیٰ المتوج بن الحسن بن زید بن حسن علی بن ابی طالب کی قبر ہے نہ حضرت زینب بنت امیر المومنین علی علیہ السلام کی۔

یحیی بن حسن حسینی عبیدلی اعرجی نے کتاب" اخبار زینبیات" میں اور بعض دوسرے سیرت نویسوں نے کہا ہے کہ: حضرت زینب (س) نے مصر میں وفات پائی ہے۔(عبیدلی نسابه ،اخبار الزینبات، ص 115- 122)
حسنین سابقی نے اپنی کتاب" مرقد عقیلہ زینب" میں اور بعض دوسروں نے لکھا ہے کہ حضرت زینب (س) کا مرقد شام اور دمشق میں واقع ہے۔(مرقد العقلیه زینب علیها السلام، شیخ محمد حسنین ، ص 45)
بعض دوسرے مصنفوں، جیسے: ڈاکٹر شہیدی اپنی کتاب " زندگانی فاطمہ زہراء (س)" میں ان کا مرقد شک و شبہہ کی صورت میں شام اور مصر بیان کیا ہے۔(شهیدی،سید جعفر، زندگانى فاطمه زهرا س ، ص 161 و 162)
جنھوں نے یہ کہا ہے کہ حضرت زینب(س) کا مقبرہ مصر میں واقع ہے، انھوں نے یہ روایت نقل کی ہے کہ واقعہ کربلا کے اسراء کا کاروان شام سے مدینہ آنے کے بعد، مدینہ کے حالات خراب ہوئے اور اہل مدینہ نے یزید کی بعیت توڑ دی۔
حاکم مدینہ نے یزید کو ایک خط لکھا اور اس خط میں مدینہ میں رونما ہوئے حالات اور لوگوں کی بیداری اور قیام کے سلسلہ میں حضرت زینب (س) کے رول کی وضاحت کی۔ یزید نے جواب میں لکھا کہ زینب (ع) کو مدینہ سے نکال دیں۔ حاکم مدینہ اصرار کرتا تھا کہ حضرت زینب (ع) مدینہ سے نکلیں ۔ بالآخر زینب (ع) نے مدینہ سے مصر ہجرت کی اور وہاں پر حاکم مصر اور مصر کے باشندوں کی ایک بڑی تعداد نے ان کا استقبال کیا۔ حضرت زینب (ع) نے تقریباً ایک سال گزرنے کے بعد 15 رجب سنہ 63ھ ق کو غروب کے وقت قاہرہ میں وفات پائی۔(عبیدلی نسابه ،اخبار الزینبات،ص 115- 122)
لیکن جنہوں نے یہ کہاہے کہ حضرت زینب (ع) کا مقبرہ شام میں ہے، انھوں نے حاکم مدینہ کی اس داستان کو نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ حضرت زینب (ع) شام چلی گئیں اس سلسلہ میں ایک اور روایت نقل کی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ: جب سنہ 62ہجری قمری میں یزدیوں کے توسط سے مدینہ میں واقعہ حرّہ اور غارت اور قتل عام پیش آیا تو، عبداللہ بن جعفر، نے اپنی شریک حیات حضرت زینب (ع) کے ہمراہ شام میں ایک مزرعہ (کھیت) کی طرف ہجرت کی تاکہ حضرت زینب (ع) کا غم تجدید نہ ہوجائے اور تھوڑا سا غم و اندوہ کم ہوجائے، اس کے علاوہ مدینہ میں طاعون کی بیماری پھیلی تھی اس لئے اس سے بچنے کے لئے عبداللہ بن جعفر حضرت زینب (ع) کے ہمراہ شام چلے گئے اور وہاں پر سکونت اختیار کی، حضرت زینب (ع) بیمار ہوئیں اور وہیں پر وفات پائی۔ زینب کبری (ع) کے بعد، ام کلثوم، حضرت علی (ع) کی دوسری بیٹی جو فاطمہ زہراء (ع) کے بطن سے نہیں تھیں اور ان کا نام زینب صغری تھا، زینب کبری کے نام سے مشہور ہوئیں اور وہ مصر چلی گئیں۔(شیخ جعفر نقدى ، زینب کبرا، نقل از ستارگان درخشان، ج 2، ص 183ـ 184)
اگرچہ یقین کے ساتھ یہ کہنا مشکل ہوگا کہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی قبر مطہر کہاں پر ہے، پھر بھی کہا جاسکتا ہے کہ: جو زیارت گاہیں اور اماکن اس مقدس خاتون سے منسوب ہیں۔في‏ بُيُوتٍ أَذِنَ اللَّهُ أَنْ تُرْفَعَ وَ يُذْكَرَ فيهَا اسْمُهُ.."(سورہ نور) وہ خدا کے ذکر و توجہ اور انسان ساز اور شہیدوں اور اہل بیت (ع) سے پیوند کی جگہیں ہیں۔ سب اس آیہ شریفہ:" یہ چراغ ان گھروں میں ہے جن کے بارے میں خدا کا حکم ہے کہ ان کی بلندی کا اعتراف کیا جائے اور ان میں اس کے نام کا ذکر کیا جائے۔" کے مصداق ہیں۔ یہ جگیں اگرچہ صرف ان سے منسوب ہی ہوں، خدا کے ذکر اور توجہ اور انسان سازی اور شہیدوں اور اہل بیت (ع) سے پیوند کی جگہیں ہیں۔ اہل بیت کی دفن کی جگہ جہاں پر بھی ہو، یہ مقامات ان کی یاد کو تازہ کرنے والے ہیں اور یہ یادیں عاشقان اہلبیت کے دلوں میں قرار پاتی ہیں۔

وصال رسول

نبی ص مرض الموت میں وصیت لکھوائیں تو۔۔۔۔۔ ''ہمیں کتاب اللہ کافی ہے''۔۔نبی کی بیٹی کتاب اللہ کو دلیل بنا کر وراثت میں حق مانگے تو۔۔۔۔۔''ہمیں حدیث کافی ہے''۔
سیاہ و سفید بیانیہ کے بیچ ''گرے زون'' میں سرگرداں اس امت کو سلیوٹ۔۔۔!
#طوسی

برادر جس ایمان کامل والے اصحاب کا ذکر کیا وہ اللہ کے رسول پر اعتراض نہیں باندھتے ۔ صحاب کو جو تنبیہ قرآن میں کی ہے پڑھ لیں۔ پہلی آیت کے آخری حصے پر غور کریں اور دوسری  آیت تو کھلے الفاظ بیان کر رہی ہے ۔
   صحابہ
Surah Al-Fath, Verse 29:
مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِم مِّنْ أَثَرِ السُّجُودِ ذَٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَىٰ عَلَىٰ سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُم مَّغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا

محمدﷺ خدا کے پیغمبر ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں کے حق میں سخت ہیں اور آپس میں رحم دل، (اے دیکھنے والے) تو ان کو دیکھتا ہے کہ (خدا کے آگے) جھکے ہوئے سر بسجود ہیں اور خدا کا فضل اور اس کی خوشنودی طلب کر رہے ہیں۔ (کثرت) سجود کے اثر سے ان کی پیشانیوں پر نشان پڑے ہوئے ہیں۔ ان کے یہی اوصاف تورات میں (مرقوم) ہیں۔ اور یہی اوصاف انجیل میں ہیں۔ (وہ) گویا ایک کھیتی ہیں جس نے (پہلے زمین سے) اپنی سوئی نکالی پھر اس کو مضبوط کیا پھر موٹی ہوئی اور پھر اپنی نال پر سیدھی کھڑی ہوگئی اور لگی کھیتی والوں کو خوش کرنے تاکہ کافروں کا جی جلائے۔ جو لوگ ان میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان سے خدا نے گناہوں کی بخشش اور اجر عظیم کا وعدہ کیا ہے

Surah At-Taubah, Verse 81:
فَرِحَ الْمُخَلَّفُونَ بِمَقْعَدِهِمْ خِلَافَ رَسُولِ اللَّهِ وَكَرِهُوا أَن يُجَاهِدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَقَالُوا لَا تَنفِرُوا فِي الْحَرِّ قُلْ نَارُ جَهَنَّمَ أَشَدُّ حَرًّا لَّوْ كَانُوا يَفْقَهُونَ

جو لوگ (غزوہٴ تبوک میں) پیچھے رہ گئے وہ پیغمبر خدا (کی مرضی) کے خلاف بیٹھے رہنے سے خوش ہوئے اور اس بات کو ناپسند کیا کہ خدا کی راہ میں اپنے مال اور جان سے جہاد کریں۔ اور (اوروں سے بھی) کہنے لگے کہ گرمی میں مت نکلنا۔ (ان سے) کہہ دو کہ دوزخ کی آگ اس سے کہیں زیادہ گرم ہے۔ کاش یہ (اس بات) کو سمجھتے

Wednesday, October 4, 2017

مشکوک جماعت

جو ہر دور کے یزید سے ٹکرا کر اپنے آپ کو منواۓ اسے حسینء کہتےہیں جو اس سےٹکراتا ہے پاش پاش ہوجاتا چاہے فضا میں کیوں نہ ہو۔ یزید نام بدلتا ہے کردار وہ ہی رہتا ہے ابلیس ایک تھا اس کا لشکر اب تک ہے، یزید ایک تھا مگر اسکی #سپاہ اب تک ہے خدا کرے آپ میری بات سمجھ پائیں، وہ بھی مرگیا تیرا بڑا بھی مرگیا حسینء سے ٹکرایا تھا اسکی قبر  کا کوئی  نشان نہیں کیونکہ حسینء کہتے اسے ہیں جو دشمن اپنے دشمن کا نام و نشان مٹا دے  ابو تُرابؑ کا بیٹا ہے تُراب اس کے باپ کی جاگیر آسمان اس کے نانا ؐ کی جاگیر ،اگر تُراب جگہ دے ابو تُراب کی گنہگار آسمان پناہ دےتو اسکے ناناؐ کا گنہگار حسین ء کے دشمن کو تو آگ بھی تلاش کر کے ہی اپنی بھوک مٹاتی ہے میں ان سے مخاطب ہو جو آج بھی یزید کی وکالت کر رہے ہیں جن کے لبوں پر سعود اور یہود کی منقبت ہے 


Saturday, September 16, 2017

فقہِ شعیہ حق

*فقہِ شعیہ حق*

اسلام و علیکم....

*میرا نظریہ...*

ہو سکتا ہے کہ غلط ہو... صحیح آپ بتادیں میں سننے کو تیار ہوں...c

میری لکھی ہر بات کو
کوئ سمجھ نہیں پاتا کیوں کہ
میں (احساس) لکھتا ہوں
لوگ الفاظ پڑھتے ہیں...!!!

ایامِ عزا دراصل درس گاہ حق کے ساتھ وفاداری اور باطل کے سامنے ڈٹکے مقابلہ کرنے کا سبق دیتا ہے...
ہم روایتی عزاداری میں مصروف ہیں... ہمیں اپنا قبلہ درست کرنا ہوگا...
امامؑ کے ساتھ مومن نہیں جائے گا بلکہ متقیٰ جائے گا...
جب جب مومن متقیٰ کے اسٹیپ سے ھٹ جاتا ہے وہ اپنے امام کا درجہ کسی اور کو تھما دیتا ہے...

فرائض...

١- تلاشِ حق
٢- اعلانِ حق
٣- وفاِ حق
٤- تکمیلِ حق
٥- شکرِ اللّه

ہمیں چائیے کہ ہم اپنی مصروف زندگی میں سے کچھ وقت نکالنے کی پریکٹس کریں... ورنہ جب امامِ وقت علیہ سلام کا ظہور ہوگا تو کہیں ہم اپنی مصروف زندگی میں ہی مصروف نہ رہے جائیں...

التماسِ دعا...
محسن نقوی

Sunday, September 10, 2017

علی ء

علیؑ  کو مجازِحق کی تصویر میں آکے دیکھ  لے
مشکل کشا  کو  مشکلوں میں آزما  کے  دیکھ  لے
ہیبت   علیؑ   کچھ   اس  قدر   ناقابل   بیاں   ہے
مشکل میں مشکل کی جبیں  پر  پسینہ  دیکھ لے

Wednesday, August 30, 2017

اپنا آپ


میں نے دیکھنے کی کوشش کی!  خُواب 😌
پاکستان کا تابناک مستقل 😃
مستقبل کا  لکھاری
اچانک  وہ  آگئی
دیکھ کچھ رہا ہو سوچ کچھ رہا ہوں
اُس نے بھی پہنا کالا رنگ! 😳
میں نے بھی پہنا کالا رنگ!
اُس نے میرے تِل کا رنگ
میں نے اُس کے دل کا رنگ! ۔۔۔ 😔
اور یوں تصویر کھچ گئی 😂

خطیب احمد

Monday, August 28, 2017

پانی کی تلاش


بیت جانے والا ہر پَل ہر لمحہ میرے زہن پر نقش ہوجاتا ہے پیر کا دن تھا بادل چھاۓ ہوۓ سورج کبھی بادلوں میں چھپ جاتا کبھی جلوہ افروز ہوجاتا بارش کی بوندیں زمین پر گرنے کی وجہ سے زمین سے اک مہک اٹھ رہی تھی جو دل و دماغ کو تسکین بخشتی ہے ایسا لگ رہا تھا جیسے زمین پر کسی نے زمرد بکھرے ہوۓ ہوں ہم تمام دوستوں نے سوچا کیوں نہ اس موسم کا لطف اٹھانے کیلے کچوریاں لے آتے ہیں اور سب ایک ساتھ نوش کریں گے تو مزہ دوبالا ہوجاۓ گا، میں اور میرا ایک دوست کچوریاں لینے بازار کی طرف نکل پڑے آہستہ آہستہ چہل قدمی کرتے ہوۓ ہم دکان پر پہنچے چاچا سے کہا کے ٢٨ کچوریاں دے دیں، چاچا کچوریاں بنانے میں لگے ہم انتظار کر رہے تھے تیل میں ڈوبی کچوریاں اور اس میں اٹھنے والی خوشبو سے جی للچانے لگا میرے ہاتھ میں پانی کی بوتل تھی سوچا کے بھر لو پیاس محسوس ہوگی تو پی لیں گے دکان کے بائیں جانب ایک چاۓ کا ہوٹل تھا تو میں وہاں موجود پانی کے جگ سے پانی بھرنے والا ہی تھا کہ خان صاحب نےآواز دی کے پانی نہ بھرو! میں نےکہا بس ایک بوتل ہی ہے تو انہوں نے جب بھی منع کر دیا میں نے برابر میں ہوٹل سے متصل ایک دکان سے انکل سےکہا پانی ہوگا پینے کا انہوں نے کہا آگے سے بھر لو میں آگے جاکے کُولر سے بھرنے لگا تو وہاں کام کرنے والے لڑکے نے کہا یہاں سے نہیں وہ نَل سے بھر لو میں نے وہاں سے بوتل میں پانی بھر لیا پانی تو بظاہر صاف شفاف لگ رہا تھا پھر میں کچوریاں لینے چاچا کے پاس پہنچا پیسے دئیے اور چل پڑے ہم میں اپنے دوست کو پانی دیا لو پی لو اس نے دیکھ کہا اس میں تو کچرا ہے پھر وہ پانی ہم نے گٹر میں پھینک دیا میں یہ سوچ رہا تھا مانو کہ میں پانی مانگا لیا یا جائیدادمانگ لی جو سب نے اس طرح بے حسی سے منع کر دیا اور بھرنے کو دیا تو وہ بھی صاف نہیں تھا ہم عجب طبیعت کے مالک ہیں ، خلوص ومحبت معاشرے میں ناپید ہوچکی ہے نہ جانے ہم کس راہ پر چل پڑے ہیں سیدھی بات کرو تو بدتمیز خوش اخلاقی سےپیش آؤ تو ڈپلومیٹ اور اگر کسی سے اختلاف کرو تو بے ادب اور اگر لحاظ کرو تو منافق کتنا بدل گیا ہے انسان۔ پانی کی بڑھتی ہوئی قلت کی وجہ سے ہ ایک دوسرے کو پانی دینے سے اجتناب کرنے لگے ہیں دراصل صفائی، غذا، کا سارا نظام پانی ہی سے وابستہ ہے روز مرہ کی زندگی میں سارے کام کا دارومدار پانی پر ہے۔ پانی کی اسی ناگزیر یت کے سبب ہر دور میں پانی کے لئے تنازعات ہوتے رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق پانی کے لئے تنازعات کی تاریخ پانچ ہزار سالہ پرانی ہے۔ اس وقت دنیا کے مختلف آبی ذرائع کے حوالے سے عالمی تنازعات کا سلسلہ ہے بلکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل کی بڑی جنگیں پانی کے لئے ہوں گی۔ایک طرف انسانی آبادی کے لئے پانی ناگزیر ہے تو دوسری جانب اس وقت عالمی سطح پر دنیا قلتِ آب کا شکار ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق اس وقت عالمی آبادی کا گیارہ فیصد یعنی 783 ملین افراد پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس وقت دنیا کے دو بلین افراد صاف پانی سے محروم ہے۔ قلتِ آب سے دوچار ممالک میں پاکستان بھی شامل ہے۔ پانی کی قلت سے ملک کے سارے طبقات پریشان ہیں۔ بلوچستان کے تقریباً اضلاع میں قلتِ آب کی صورتِ حال نیز سندھ کے بہت سے علاقوں سے لوگ احتیاطی طورپر نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں بالخصوص’’ تھر‘‘ جو ایک سحرائی علاقہ ۔ کراچی کے بہت سے علاقوں میں پانی کی شدید کمی ہے بڑے بڑے پوش علاقوں میں پانی ٹینکر کے ذریعہ سپلائی کی جارہی ہیں ۔ قلتِ آب کی اس سنگین صورتحال سے نکلنے کے لئے فوری طور پر اسکو حل کرنا ضروری ہے.اﷲ ہم سب پر اپنا خصوصی رحم فرمائے (آمین)

تحریر : خطیب احمد

Friday, August 11, 2017

کیا ہم آزاد ہیں

ہمارا ملک جو کہ 14 اگست 1947ء کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر ابھرا قائداعظم، علامہ اقبال، لیاقت علی خان چودھری رحمت علی، سرسید احمد خان جیسے بہت سے عظیم رہنمائوں اور ہمارے بزرگوں کی دی گئی قربانیوں اور انتھک کوششوں کا نتیجہ ہے، آزاد سے مراد ہے ہے کہ خودمختار، لیکن مجھے اس افسوس کہ ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم آج بھی ان جاگيرداروں ، وڈیروں ،ظالموں ،جابروں اور بےحس حُکمرانوں کے تابع ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان جو کہ 1947ء میں ہم لوگوں کے حوالے کیا گیا تھا۔ کیا آج یہ وہی پاکستان ہے؟ کیا اس آزاد مملکت میں عدل، انصاف، اُخوت،مساوات کے سُنہرے اصولوں پر عمل کیا جاتا ہے؟ جس ملک کے سیاستدانوں کی ترقی کا یہ عالم ے کہ جن کی دولت  دن دوگنی رات چوگنی ہوتی ہو ترقی کا دارومدار یہی رہا تو ہم کیسے کہہ سکتے کہ وہ ہی پاکستان ہے باالخصوص ہمارے نوجوانوں کے نزدیک آزادی  کا مقصد فقط بائکوں سے سیلنسرز نکال کر شور وغُل کرنے تک محدود ہے، جن ہری جھنڈیوں کی ہم بات کرتے اکثر یہی ہری جھنڈیاں ہمارے پیروں تلے روندی جارہی ہوتی ہیں اور کوئی اٹھانے والا نہیں  ہوتا تو کیا ہم کہہ سکتے ہیں کیا یہ وہ ہی پاکستان ہے؟ صرف گاڑیوں پر گاڑیوں ، موٹر سائیکلوں پر جھنڈے لگا لینا ہی محب وطن ہونے کا ثبوت نہیں بلکہ ہمیں وطن عزیز کے لئے کچھ کر کے دکھانا ہو گا۔ وطن ہمارا اور ہم نے اسے سنوارنا ہے ہم نے ہی اسے اندھیروں سے نکالنا ہے۔ ہم سب کو مل کر جدوجہد کرنی ہو گی اس کے لئے ہمیں پاکستان سے کرپشن جیسے ناسور کا خاتمہ کرنا ہو گا۔ ہمیں ایسا پاکستان بنانا ہو گا جس میں دہشت گردی ، ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری عورتوں اور اقلیتوں کے حقوق کی پامالی نہ ہو، جہاں غریب کو اس کا حق ملے جہاں مزدور کو اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اس کی اجرت ملے۔

تحریر : خطیب احمد

لنک:
http://basharat.news/2017/08/13/fetchNews.php?newsname=p4/P4_08.gif

http://www.roznamaurdu.com.pk/15-08-2017/68934