Friday, December 1, 2017

دور بنو امیہ میں مولا علیء پر لعن طعن

گالیاں دینا معاویہ اور مغیرہ بن شعبہ کی سنت ہے،  علی والے ایسا نہیں کرتے۔۔۔ جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ فاسقین بنو امیہ کی پیری میں کرتے ہیں۔۔ چاہے شیعہ چاہے سنی۔۔

شیعوں میں ایک طبقہ اصحاب رسول میں سے کچھ کو فاسق و فاجر یا دشمن اہلبیت مان کر ان پر تبرا کرتا ہے، لیکن بنو امیہ کے دور میں یہ کام جمعہ اور عید کے خطبوں میں عبادت سمجھ کرکیا جاتا تھا۔۔۔
میں آپ سے پوچھتا ہوں۔۔ جب ایک شخص کو معلوم ہو کہ ایک نام نہاد صحابی کے حکم سے برسر ممبر علی ع پر لعن کروایا جاتا تھا اور یہ سنت بانوے سال تک جاری رہی۔۔عمر بن عبدالعزیز کے چار سال چھوڑ کر۔۔ تو کیا آپ کے دل میں ان دشمنان اہلبیت کی محبت ہوگی یا ان سے نفرت و بیزاری ہوگی۔۔۔؟؟؟ علی ع سے محبت تو ایمان کی علامت قرار دی گئی ہے اور یہ پیمانہ اور کسی کے بارے میں نبی ص نے متعین نہیں کیا ہے صرف علی ع کے بارے میں صراحت آئی ہے۔۔

قال علي ‏والذي فلق الحبة وبرأ النسمة إنه لعهد النبي الأمي ‏(ص) ‏‏إلي ‏ ‏أن لا يحبني الا مؤمن ، ولا يبغضني الا منافق.(مسلم)

No comments:

Post a Comment