Wednesday, December 6, 2017

قضّیہ ازواج عمر ابن خطاب

حضرت عمر  کے امّ کلثوم سے نکاح کا ماجرا ایک جھوٹی داستان ہے اس لئے کہ
یہ داستان تفصیل کیساتھ صحاح ستّہ میں سے کسی ایک میں بھی نقل نہیں ہوئی
بعض محققین کا تو کہنا ہے کہ حضرت علی  کی کسی بیٹی کا نام اُمّ کلثوم نہیں تھا. حیات فاطمہ الزہراء: ٢١٩،باقر شریف قرشی؛علل الشرائع ١: ١٨٦،باب ١٤٩ بلکہ یہ حضرت زینب کی کنیت تھی اور ان کی شادی عبداللہ بن جعفر سے ہوئی تھی .

نام میں مغالطہ ہوا ہے اس لئے کہ حضرت عمر  نے حضرت ابوبکر  کی بیٹی اُمّ کلثوم سے شادی کی خواستگاری کی تھی مگر حضرت عائشہ  کی مخالفت کی وجہ سے شادی واقع نہ ہو سکی . الأغانی ١٦: ١٠٣

حضرت عمر  کا اُمّ کلثوم نامی خاتون سے عقد تو ہوا لیکن اس کے باپ کا نام جرول تھا جو عبید اللہ بن عمر  کی ماں تھیں . سیر اعلام النبلاء ( تاریخ الخلفاء): ٨٧

تاریخی حقائق سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب ماجرا من گھڑت ہے اس لئے کہ کہتے ہیں امّ کلثوم کی شادی پہلے عمر سے ہوئی ان کی وفات کے بعد محمد بن جعفر سے ، ان کی وفات کے بعد ان کے بھائی عون بن جعفر سے ہوئی جبکہ ہماری تاریخی کتب اس بات پر شاہد ہیں کہ یہ دونوں بھائی حضرت عمر  کے دور خلافت میں جنگ تستر شہید ہوگئے تھے . استیعاب ٣: ٤٢٣اور ٣١٥؛ تاریخ طبری ٤: ٢١٣؛ الاکمل فی التاریخ ٢: ٥٤٦

    اور پھر ہماری کتب میںیہ بھی لکھا جاتاہے کہ ان دونوں بھائیوں کی وفات کے بعد ان کی شادی ان کے تیسرے بھائی عبداللہ بن جعفرسے ہوئی جبکہ ان کی شادی تو حضرت زینب سے ہوئی تھی اور وہ اس وقت تک اسی عبداللہ کے عقد میں ہی تھیں تو کیا اسلام میں ایک زمانہ میں دو بہنوں کے ساتھ شادی جائز ہے الطبقات الکبرٰی  ٤٦٢یا یہ کہ حقیقت میں ایسا عقد واقع ہی نہیں ہوا ۔

۔۔۔۔۔ حصہ دوم

بعض لوگوں کا گمان باطل ہے کہ عمر ابن خطاب کی شادی دختر امیرالمومنین مولا علیؑ ؑسے ہوئی تھی لیکن!!!

قرآن حکیم ۔لعنت اللہ علی الکاذبین (جھوٹوں پر اللہ کی لعنت)۔سورۃ آل عمران۔آیت۔61

علم الریاضیات اس بات کی نفی کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ یہ بات جھوٹ اورافتراء کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔

غور سے  پڑھیں۔۔۔

تو تاریخ کہتی ہے کہ جب عمر ابن خطاب اسلام لائے تو ان کی عمر چالیس(40)برس تھی.

اور تریسٹھ(63) برس کی عمر میں عمر ابن خطاب وفات پا گئے

امیر المومنین علی ؑ دعوت ذوالعشیرہ میں نو(9) برس کے تھے۔

امیر المومنین علی ؑ نے جب سیدۃالنساء العالمین ؑ سے شادی کی تو آپ ؑ  پچیس(25) برس کے تھے۔

یعنی دعوت ذوالعشیرہ کے سولہ(16)برس بعدامیر المومنین علی ؑ کی شادی ہوئی۔

اور عمر بن خطاب دعوت ذولعشیرہ  کے سات(7)برس بعد اسلام لاِئے

یعنی جب عمر ابن خطاب نے کلمہ پڑھا تو امیرالمومنین علی ؑسولہ(16)برس کے تھے۔

عمر ابن خطاب کے اسلام لانے کے نو(9) برس بعدامیر المومنین علیؑ کی شادی ہوئی،تب امیر المومنین علی علیہ السلام پچیس (25) برس کے تھے۔  (9+16) 25 = برس

جب  امیر المومنین علیؑ کی شادی ہوئی تب عمر ابن خطاب (49) برس کے تھے(49=40+9برس)۔

کیا ایسا نہیں ہے؟

اللہ تعالیٰ نے امیر المومنین علیؑ کو شادی کے ایک برس بعد امام حسنؑ عطا فرمائے۔

دو(2)  برس بعد امام حسینؑ عطا فرمائے

چار(4)برس بعدسیدۃ زینبؑ کی ولادت ہوئی۔

امیر المومنین علیؑ کی شادی کے چھ(6)  برس بعد سیدۃ اُم کلثوم ؑ اس دنیا میں تشریف لائیں،

پس سیدۃ اُم کلثومؑ کی دنیا میں آمدکے وقت عمر ابن خطاب پچپن(55) برس کے تھے۔
(55=49+6 برس)

عمر ابن خطاب تریسٹھ(63) برس کی  میں وفات پا گئے۔

سیدۃ ام کلثومؑ بنت امیرالمومنین علیؑ کی دنیا میں آمد کے بعد عمرابن خطاب آٹھ(8)برس زندہ رہے۔
(8=63-55برس)۔

اہلسنت علماء کے بقول عمر ابن خطاب کی وفات سے تین(3)برس پہلے شادی ہوئی اور ایک بیٹا پیداہوا جس کا نام زید ابن عمر تھا یوں شادی کے وقت سیدۃ ام کلثومؑ کی عمر پانچ(5)برس بنتی ہے۔
(5=8-3برس)۔

کیاعقل و منطق اس بات کو قبول کرتی ہے کہ پانچ (5) برس کی عمر میں کسی عورت کی شادی ہو جائے؟؟؟

اوراس سے ایک بچہ بھی پیدا ہو جائے جس بچے کا نام زید ابن عمر رکھا گیاتھا؟؟؟

No comments:

Post a Comment