(مدفن سیدہ زینب ص)
حضرت زینب سلام اللہ علیہا امام علی(ع) اور حضرت زہرا(س) کی بیٹی ہیں جو سنہ 5 یا 6 ہجری کو مدینہ میں پیدا ہوئیں۔ آپ امام حسین(ع) کے ساتھ کربلا میں موجود تھیں اور 10 محرم الحرام سنہ 61 ہجری کو جنگ کے خاتمے کے بعد اہل بیت(ع) کے ایک گروہ کے ساتھ لشکر یزید کے ہاتھوں اسیر ہوئیں اور کوفہ اور شام لے جائی گئیں۔ انھوں نے اسیری کے دوران، دیگر اسیروں کی حفاظت و حمایت کے ساتھ ساتھ، اپنے غضبناک خطبوں کے توسط سے بےخبر عوام کو حقائق سے آگاہ کیا۔ حضرت زینب(ع) نے اپنی فصاحت و بلاغت اور شجاعت سے تحریک عاشورا کی بقاء کے اسباب فراہم کئے۔ تاریخی روایات کے مطابق سیدہ زینب(ع) سنہ 63 ہجری کو دنیا سے رخصت ہوئیں۔
چونکہ ہمیشہ سے شیعہ علماء اور اہل بیت(ع) کے چاہنے والوں کے نزدیک یہ چیز مشہور رہی ہے کہ حضرت زینب (س) کی قبر شام میں واقع ہے اور سب آپ کی زیارت کے لیے اسی روضے پر جاتے رہے ہیں لہذا یہ خود اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کا روضہ شام میں ہی واقع ہے۔
جبکہ دوسرے اقوال بھی ہیں جیسا کہ بعض علما کا یہ کہنا ہے کہ آپ کی قبر مبارک مدینہ میں واقع ہے چونکہ آپ کا سفرِ کربلا سے واپس مدینہ جانا قطعی اور یقینی ہے لیکن مدینہ سے دوبارہ نکلنا یقینی نہیں ہے اس وجہ سے آپ نے مدینہ میں وفات پائی اور وہیں دفن ہیں۔
لیکن اس قول کو اس جواب کے ساتھ رد کیا جاتا ہے کہ اگر آپ کی قبر مدینے میں ہوتی تو یقینا اس کا کوئی نشان ہوتا اس لیے کہ آپ کی شخصیت کوئی معمولی شخصیت نہیں تھی کہ آپ کی قبر کی طرف کوئی توجہ نہ کرتا، کوئی زیارت کو نہ جاتا اور قبر مخفی رہ جاتی۔ اس وجہ سے اس قول کو رد کیا گیا ہے۔
ایک قول یہ ہے کہ آپ مصر کے علاقے «قناطر السباع» مدفون ہیں لیکن بعض تحقیقات یہ بتاتی ہیں کہ مصر میں موجود یہ قبر زینب بن یحیٰ المتوج بن الحسن بن زید بن حسن علی بن ابی طالب کی قبر ہے نہ حضرت زینب بنت امیر المومنین علی علیہ السلام کی۔
یحیی بن حسن حسینی عبیدلی اعرجی نے کتاب" اخبار زینبیات" میں اور بعض دوسرے سیرت نویسوں نے کہا ہے کہ: حضرت زینب (س) نے مصر میں وفات پائی ہے۔(عبیدلی نسابه ،اخبار الزینبات، ص 115- 122)
حسنین سابقی نے اپنی کتاب" مرقد عقیلہ زینب" میں اور بعض دوسروں نے لکھا ہے کہ حضرت زینب (س) کا مرقد شام اور دمشق میں واقع ہے۔(مرقد العقلیه زینب علیها السلام، شیخ محمد حسنین ، ص 45)
بعض دوسرے مصنفوں، جیسے: ڈاکٹر شہیدی اپنی کتاب " زندگانی فاطمہ زہراء (س)" میں ان کا مرقد شک و شبہہ کی صورت میں شام اور مصر بیان کیا ہے۔(شهیدی،سید جعفر، زندگانى فاطمه زهرا س ، ص 161 و 162)
جنھوں نے یہ کہا ہے کہ حضرت زینب(س) کا مقبرہ مصر میں واقع ہے، انھوں نے یہ روایت نقل کی ہے کہ واقعہ کربلا کے اسراء کا کاروان شام سے مدینہ آنے کے بعد، مدینہ کے حالات خراب ہوئے اور اہل مدینہ نے یزید کی بعیت توڑ دی۔
حاکم مدینہ نے یزید کو ایک خط لکھا اور اس خط میں مدینہ میں رونما ہوئے حالات اور لوگوں کی بیداری اور قیام کے سلسلہ میں حضرت زینب (س) کے رول کی وضاحت کی۔ یزید نے جواب میں لکھا کہ زینب (ع) کو مدینہ سے نکال دیں۔ حاکم مدینہ اصرار کرتا تھا کہ حضرت زینب (ع) مدینہ سے نکلیں ۔ بالآخر زینب (ع) نے مدینہ سے مصر ہجرت کی اور وہاں پر حاکم مصر اور مصر کے باشندوں کی ایک بڑی تعداد نے ان کا استقبال کیا۔ حضرت زینب (ع) نے تقریباً ایک سال گزرنے کے بعد 15 رجب سنہ 63ھ ق کو غروب کے وقت قاہرہ میں وفات پائی۔(عبیدلی نسابه ،اخبار الزینبات،ص 115- 122)
لیکن جنہوں نے یہ کہاہے کہ حضرت زینب (ع) کا مقبرہ شام میں ہے، انھوں نے حاکم مدینہ کی اس داستان کو نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ حضرت زینب (ع) شام چلی گئیں اس سلسلہ میں ایک اور روایت نقل کی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ: جب سنہ 62ہجری قمری میں یزدیوں کے توسط سے مدینہ میں واقعہ حرّہ اور غارت اور قتل عام پیش آیا تو، عبداللہ بن جعفر، نے اپنی شریک حیات حضرت زینب (ع) کے ہمراہ شام میں ایک مزرعہ (کھیت) کی طرف ہجرت کی تاکہ حضرت زینب (ع) کا غم تجدید نہ ہوجائے اور تھوڑا سا غم و اندوہ کم ہوجائے، اس کے علاوہ مدینہ میں طاعون کی بیماری پھیلی تھی اس لئے اس سے بچنے کے لئے عبداللہ بن جعفر حضرت زینب (ع) کے ہمراہ شام چلے گئے اور وہاں پر سکونت اختیار کی، حضرت زینب (ع) بیمار ہوئیں اور وہیں پر وفات پائی۔ زینب کبری (ع) کے بعد، ام کلثوم، حضرت علی (ع) کی دوسری بیٹی جو فاطمہ زہراء (ع) کے بطن سے نہیں تھیں اور ان کا نام زینب صغری تھا، زینب کبری کے نام سے مشہور ہوئیں اور وہ مصر چلی گئیں۔(شیخ جعفر نقدى ، زینب کبرا، نقل از ستارگان درخشان، ج 2، ص 183ـ 184)
اگرچہ یقین کے ساتھ یہ کہنا مشکل ہوگا کہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی قبر مطہر کہاں پر ہے، پھر بھی کہا جاسکتا ہے کہ: جو زیارت گاہیں اور اماکن اس مقدس خاتون سے منسوب ہیں۔في بُيُوتٍ أَذِنَ اللَّهُ أَنْ تُرْفَعَ وَ يُذْكَرَ فيهَا اسْمُهُ.."(سورہ نور) وہ خدا کے ذکر و توجہ اور انسان ساز اور شہیدوں اور اہل بیت (ع) سے پیوند کی جگہیں ہیں۔ سب اس آیہ شریفہ:" یہ چراغ ان گھروں میں ہے جن کے بارے میں خدا کا حکم ہے کہ ان کی بلندی کا اعتراف کیا جائے اور ان میں اس کے نام کا ذکر کیا جائے۔" کے مصداق ہیں۔ یہ جگیں اگرچہ صرف ان سے منسوب ہی ہوں، خدا کے ذکر اور توجہ اور انسان سازی اور شہیدوں اور اہل بیت (ع) سے پیوند کی جگہیں ہیں۔ اہل بیت کی دفن کی جگہ جہاں پر بھی ہو، یہ مقامات ان کی یاد کو تازہ کرنے والے ہیں اور یہ یادیں عاشقان اہلبیت کے دلوں میں قرار پاتی ہیں۔
No comments:
Post a Comment