تاریخ معاہدہ ویسٹ فیلیا، سفر مادّی ترقی
اگر ہم جنون کی کشمکش سے نکل کر تاریخ کے بہتے دریا کی منجدھار میں ڈوب کر ماضی کے واقعات کا جائزہ لیں، تو ایک فیصلہ کن موڑ پر آن پہنچیں گے۔ کاش نوع بشر کی توجہ اس جانب بھی مبذول ہوجائے کہ یہ مادّی ترقی کے نظریات نے کئی دہائیوں قبل کس طرح وجود میں آئے تھے۔
اس کرہ ارض پر مسیحیت کے دوبڑے گروہ تھے، جن میں سے رومن کاتھولک اور پروٹسٹنٹ تھے۔ سولہویں صدی میں عیسائی راہب مارٹن لوتھر (1483ء-1546ء) کی قیادت میں اس فرقے نے جنم لیا تھا۔ یہ فرقہ بنیادی طور پر جدیدیت کا حامی تھا جبکہ رومن کاتھولک روائیتی مذہبی اقدار کے پیروکار تھے۔ پروٹسٹنٹ نے لوگوں کی اصلاح کے لیے تحریک چلائی تھی، جو ”پروٹسٹنٹ اصلاحِ کلیسیا“ کہلاتی ہے۔ اس تحریک کی ساخت تحریک تنقیدی عقلی دلائل پر انحصار کرتی تھی۔ اس فرقے کے جنم لینے کی اہم وجہ یہ تھی کہ تمام اختیارات پوپ کے پاس ہوتے تھے، سائنس کے تعامل میں مذہب کی وضاحت کرنے پر سخت سزائیں دی جاتی تھیں۔ چنانچہ31 اکتوبر 1517 مارٹن لوتھر ہی نہیں بلکہ مسیحیت کی تاریخ کا اہم دن تھا۔ اس دن مارٹن لوتھر نے باقاعدہ طور پر پوپ کے خلاف بغاوت کا اعلان کر دیا تھا۔ مزید یہ کہ 1546 میں لوتھر کا انتقال ہو گیا۔ لیکن ان کی تحریک کے مقاصد لوگوں کے سینے میں راسخ ہوگئے تھے لہذا ان کے حامیوں نے اس تحریک کومزید آگے بڑھایا تھا۔
مارٹن لوتھر کی اس اصلاحی تحریک کے نتیجے میں لوگ بد عنوان مسیحی علما کے خلاف متحد ہوگئے تھے۔ ان وجوہات کی وجہ سے لوگ کلیسا سے دور ہوتے جارہے تھے؛ اور ان کے احکامات ماننے سے انکار کر رہے تھے۔ چونکہ یورپ کی تمام طاقتیں مذہب اور سیاست کی بنیاد پر 17 ویں صدی میں ایک دوسرے کے خلاف نبردآزما تھیں۔ مغرب میں ہالینڈ کے علاقے، جو اس وقت اسپین کی حکومت کے ماتحت تھے اپنی آزادی کے لیے 80 سالہ جنگ لڑ رہے تھے۔ یہ جنگ (1568ء-1648ء) پر محیط تھی جس کو Dutch Revolt بھی کہا جاتا ہے۔
چنانچہ بعض کاتھولک حامیوں نے چرچ کی اصلاح کرنے کی غرض سے آسٹریا کے مقام ٹرنٹ پر 1545 اور 1552 میں کونسلز کا انعقاد کیا گیا۔ جس کا ایجنڈا یہ تھا کہ تھا کہ عوام کو کلیسا کے نزدیک لایا جائے۔ مگر اس کونسل میں پوپ کے اختیارات کو باقی رکھا گیا تھا۔ پادریوں کی اخلاقی تربیت کے قوانین بھی مرتب کیے گئے تھے۔ مگر معاملات کی تفتیش کے لیے جس کو مقرر کیا جاتا تھا، تو وہ پروٹسٹنٹ مسلک کا اقرار کرتا تو اسے سخت سزا دی جاتی تھی۔ یہ مذہبی معتصبانہ برتاؤ کی وجہ سے یورپ میں جنگ شروع ہوگئی تھی۔ رومی سلطنت کے شہنشاه کی خواہش تھی کہ کتھولک غالب رہیں۔ جبکہ جو دیگر ریاستیں اس سلطنت کی تھیں، وہ پروٹسٹنٹ تھے، جو اس کے حق میں نہیں تھے۔ کتھولک اور پروٹسٹنٹ کی یہ نظریاتی جنگ جاری رہی جو کہ 30 سالہ جنگ (1618ء-1648ء) کے نام سے موسوم ہے۔ جس میں تقریباً 8 ملین افراد کی ہلاکتیں ہوئی تھیں۔ مگر بات اس حد تک چلی گئی تھی کہ یورپ پر حکمرانی کون کرے گا۔
لہذا چند اکابرین نے یہ سوچا کہ ایک کانفرنس منعقد کی جائے، جس میں اس مذہبی سیاسی جنگ سے باہر نکلنے کا حل تلاش کیا جائے۔ صدیوں پر محیط جنگ سے کئی علاقوں پر بدترین اثرات مرتب کیے ہیں، ساتھ ہی ساتھ بھوک افلاس کی وجہ کئی افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ دونوں گرہوں میں شدید اختلافات کی بنیاد پر ایک دوسرے سے ملنا بھی نہیں چاہتے تھے، جس وجہ سے کتھولک گروہ کے نمائندے میونسٹر شہر، یہاں کیتھولک کے پیروکار کثیر تعداد میں تھے۔ جبکہ پروٹسٹنٹ گروہ کے نمائندے شمال میں80 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع اوسنابروک شہر میں متجمع ہونگے۔ چنانچہ اس کانفرنس کو جنگ میں جاری رکھا گیا تھا۔ ء1643 اور ء1649 کے عرص پر محیط اس کانفرنس میں 16 یورپی ممالک، 140 آزاد ریاستوں نے حصہ لیا۔ یوں شورش کا سدباب کرکے تاریخ کے اوراق پر معاہدہ ویسٹ فیلیا کے نام سے نقش ہوگیا۔
چنانچہ اس کے بعد یورپ کی اقوام مذہبی اور سیاسی نظریات کی قید سے آزاد ہوکر خودساختہ تہذیب کے ساتھ سترہویں صدی تک اپنی ذندگی کو بسر کرنے پر آمادہ ہوچکی تھیں۔ لباس سے جسم کو ڈھانپنا تو ضروری ہے مگر ہوا،خوراک،پانی تو قدرت کی عطا ہے لیکن تن پر کپڑا انسان کی ایجاد ہے۔ جب انسان عقلیت کی بنیاد نئی نئی ایجادات کرنے لگا، تو اس کو مادیت کا نام دیا گیا تھا۔ مذکورہ بالا اقتباس میں ذکر کر چکا ہوں کہ مارٹن لوتھر نے کس طرحمذہب اور سائنس کے درمیان جو شعور بیدار کیا تھا، یہ اس کا نتیجہ تھا۔ جس وجہ سے Will of God اور Will of Human یہ دو نظريات سامنے آئے تھے۔
دراصل Will of God کے مطابق انسان خدا کی مرضی کے بغیر کوئی بھی عمل انجام نہیں دے سکتا، جس میں خدا کی بنائے گئے قوانین پر عمل کرنا لازمی ہوتا ہے۔ اس کے تحت اپنی سوچ کو وہ خدا ک نظریات متضاد نہیں لاسکتا خواہ وہانسان خدا کا جو بھی تصور رکھتا ہو۔ جبکہ Will of Human نے اس وقت جنم لیا تھا جب مارٹن لوتھر نے کاتھولک کی اصلاح کے لیے ”پروٹسٹنٹ اصلاحِ کلیسیا“ چلائی تھی۔ اس نظریہ کے تحت انسان خدا کی مرضی کے بغیر اپنی مرضی کے مطابق ذندگی گذارنے کا حق رکھتا ہے۔ گویا کہ وہ خدا کے فیصلوں کو بھی چیلنج کر سکتا ہے۔
چنانچہ انسان خودساختہ خیالات کو تشکیل دے رہا ہے اور اس بنیاد پر وہ مادیت کی جانب متوجہ ہورہا۔ اسی دوارن جب صنعتی انقلاب نے ذور پکڑ لیا تھا، جس وجہ سے مادی ترقی میں مزید تیزی آگئی تھی۔ غرض کے دنیا تیزی سے مادی ترقی کی جانب بڑی رہی ہے، مختلف نظریات سامنے آرہے ہیں۔ ان نظریات پر سرمایہ لگا کر کائنات میں موجود اشیاء کی ساخت تک پہنچنے کی سعی کی جارہی تھی۔ ان نظریات کا مقصد کسی مذہب کی تضحیک کرنا نہیں ہے، بلکہ مذہب کے اختیارات کو ایک حدود تک محدود کر دینا ہے۔ کیونکہ ہر انسان کو آزادی حاصل ہے تاکہ وہ ان نظریات کے تحت عقلیت کی بنیاد پر اپنی خواہش کے مطابق خود فیصلہ کرنے خود مختار ہو۔
چنانچہ ان نظریات کے تحت مذہب ریاستی نظم و ضبط یا ریاستی قانون کا حصہ نہیں بن سکے گا۔ کیونکہ مغرب جن نظریات کی بنیاد پر ترقی کی ہے، تو اس کی پاداش میں ہمیں اس جانب غور کرنا چاہیے کہ اس جدیدیت کے دور میں کس طرح ٹیکنالوجی مثبت طریقے استعمال کرنا چاہیے۔
خطیب احمد
No comments:
Post a Comment