Tuesday, May 19, 2020

Aysha ka Qatal

اماں حضرت عائشہ رضہ

امان عائشہ رضہ ۱۰ شوال سنہ ۵۸ ہجری قمری یا (۵۷ھ) کو 66 سال کی عمر میں مدینہ میں وفات پائی اور ابوہریرہ نے نماز جنازہ پڑھائی اور جنت البقیع میں دفن ہوئیں۔(1) بعض نے تاریخ وفات کو رمضان کی 17 تاریخ قرار دیا ہے۔(2)
امان عائشہ رضہ کی وفات کی علت کے بارے میں اختلاف ہے۔ اہل سنت کے برخلاف بعض کا کہنا ہے کہ امان عائشہ رضہ کو معاویہ نے قتل کروایا ہے اور اپنی مکر اور چالاکی سے ایک گڑا کھودا اور امان عائشہ رضہ کو اس میں پھینک دیا۔ جبکہ اہل سنت کا کہنا ہے کہ امان عائشہ رضہ کا طبیعی موت ہوا ہے۔(3)اور قتل کی علت کو معاویہ کی طرف سے یزید کے لیے بیعت مانگنے پر امان عائشہ رضہ کی طرف سے اعتراض کرنے کو قرار دیا ہے۔(4)جو لوگ کہتے ہیں کہ امان عائشہ رضہ قتل ہوئی ہے ان کے نزدیک یہ قتل ذی‌الحجہ کی آخری تاریخ قرار دی گئی ہے (5)۔
امام علیؑ کا دور
امان عائشہ رضہ امام علیؑ کے مخالفوں میں سے تھی۔ بعض مصنفوں نے اس اختلاف کی ابتداء کو پیغمبر اکرمؐ کی زندگی دوران تک لے گئے ہیں۔(6)اگرچہ مختلف گروہوں کو امام علیؑ کی خلافت کے خلاف جمع کرنے اور انہیں نظم دے کر ایک لشکر تیار کرنے سے جنگ جمل وجود میں آئی اور یہی علیؑ سے دشمنی کی واضح دلیل ہے، اگرچہ بعض اہل سنت مصنفوں نے اس کی وجہ مخالفوں کے بہکاو‎ے سے متاثر ہونا قرار دیا ہے، یا بصرہ پر فوجی چڑھا‎ئی کو عثمان کے قاتلوں سے قصاص لینا قرار دیا ہے نہ علی کی مخالفت، اور امان عائشہ رضہ کے اس فعل کو اجتہاد میں خطا قرار دیا ہے جس پر خود امان عائشہ رضہ بھی پشیمان تھی ۔(7) جبکہ شیعہ علما نے عثمان کا قصاص یا امان عائشہ رضہ کی پشیمانی کو نقد کرتے ہوئے اسے قبول نہیں کیا ہے(8)۔
معاویہ کا دور
اگرچہ بعض نے بنی امیہ کے دور کو امان عائشہ رضہ کا خاموش دور قرار دیا ہے لیکن بعض نے امان عائشہ رضہ کی ان کے ساتھ ہمکاری کو فاش کیا ہے۔(9) اگرچہ ان کا بھائی محمد بن ابی بکر کو معاویہ نے بہت بری حالت میں قتل کرایا اور حجر ابن عدی اور ان کے ساتھیوں کو عثمان نے قتل کرایا تھا اس وجہ سے ان سے راضی نہیں تھی اور ان کی مذمت بھی کرتی تھی لیکن امام علیؑ کی شہادتکے بعد ان سے جا ملی(10)
معاویہ نے بھی اپنے کو امان عائشہ رضہ کے بہت قریب کردیا اور امان عائشہ رضہ کو مالی تحفے تحائف بھی بھیجنے لگا (11) کہا جاتا ہے کہ ایک دفعہ ایک لاکھ دینار بھیجا اور اٹھارہ ہزار کا قرضہ بھی ادا کیا (12)

امام حسنؑ کی تدفین
امان عائشہ رضہ کی زندگی میں انجام دینے والی اقدامات میں سے ایک امام حسن علیہ السلام کے جنازے کو پیغمبر اکرم کی قبر مطہر کے جوار میں دفن سے روکنا ہے(13)۔
پیغمبر اکرم کے دفن کی جگہ امان عائشہ رضہ کا گھر ہے اور اس سے پہلے خلیفہ اول اور دوم بھی اسی مکان میں دفن ہوچکے تھے امام حسن علیہ السلام کی شہادت کے بعد امام حسینؑ کو امامت ملی اور اپنے بھائی کی وصییت کے مطابق آپکے جسد اطہر کو پیغمبر اکرم کی قبر کےقریب دفن کرنا چاہا لیکن امان عائشہ رضہ نے مدینے کے گورنر مروان بن حکم کی مدد سے دفن کرنے سے منع کیا اور امام حسین علیہ السلام لڑائی جھگڑے سے بچنے کے لیے اس اقدام سے منصرف ہوگئے (14) اور امام کے جنازے کو بقیع میں دفنایا گیا (15)۔ بعض کا کہنا ہے کہ جب امان عائشہ رضہ نے دیکھا کہ مروان بن حکم اور اس کے ساتھی اسلحہ کے ساتھ تشییع کرنے آئے تھے اور یہ بڑا خطرناک مرحلہ تھا اس لیے وہاں پر دفن سے منع کیا۔ (16)
حوالہ جات:
1۔ ذہبی، تاریخ اسلام، ۱۴۱۳ق، ج۴، ص۱۶۴؛ ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ۱۴۱۷ق، ج۳، ص۵۲۰
2۔ مقریزی، امتاع الاسماع، ۱۴۲۰ق، ج۶، ص۴۲
3، بیاضی، الصراط المستقیم، ۱۳۸۴ق، ج۳، ص۴۸
4۔ حر عاملی، اثبات الہداۃ، ۱۴۲۵ق، ج۳، ص۴۰۲
5۔ سید بن طاووس، الطرائف، ۱۴۰۰ق، ج۲، ص۵۰۳
6۔ واردی، نقش ہمسران رسول خدا در حکومت امیر مومنان، ص۱۰۳؛ مفید، الجمل، ۱۴۱۳ق، ص۴۲۶
7۔ ندوی، سیرہ السیدہ عائشہ‌ام المومنین،‌ ص۱۸۹-۱۹۲
8۔ سید مرتضی، الذخیرہ، ۱۴۱۱ق، ص۴۹۶؛ مفید، الفصول المختارۃ، ۱۴۱۳ق، ص۱۴۱
9۔ تقی‌زادہ داوری، تصویر خانوادہ پیامبر در دائرۃالمعارف اسلام، ۱۳۸۷ش، ص۱۲۶
10۔ ابن قتیبہ، الامامہ و السیاسہ، ۱۴۱۰ق، ج۱، ص۲۰۵؛ طبری، تاریخ الطبری، ج۵، ص۲۵۷
11۔ ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ۱۴۱۷ق، ج۷، ص۱۳۶و۱۳۷
12۔ ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ۱۴۱۷ق، ج۸، ص۱۳۶
13۔ ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، ص۸۲
14۔ یعقوبی، تاریخ الیعقوبی، ج۲، ص۲۲۵؛ مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۴۴، ص۱۴۱
15۔ بلاذری، انساب الاشراف، ۱۳۹۷ق، ج۳، ص۶۶
16۔ بلاذری، انساب الاشراف، ۱۳۹۷ق، ج۳، ص۶۱

No comments:

Post a Comment