کورونا کورونا، آلودگی کے بغیر جینا
خطیب احمد
کورونا کورونا ! یہ سن کر تو ہماری سماعتیں اضطراب کا شکار ہونے لگی ہیں۔ دل بے سکون، دماغ بد ظن اور ذہنی دباؤ میں مبتلا ہوچکے ہیں۔ تاریخ انسانی میں اس سے قبل ایسی مثال نہیں ملتی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ نفسیاتی محاذ پر کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ جبکہ ان مسائل کا مقابلہ کرنے کے لیے اعصاب کا مضبوط ہونا بے حد ضروری ہے۔ جبکہ ذہنی صحت کی بحالی کے لیے مٶثر اقدامات کی اشد ضرورت ہے، نہیں تو کافی لوگ ذہنی دباٶ کا شکار ہوجائیں گے۔
چلیئے، یہ سب چھوڑیں یہ تمام باتیں ایک طرف ہیں، لیکن دوسری جانب اکثر طبی ماہرین یہ مشورہ دیتے ہیں کہ اگر آپ ذہنی تناٶ کا شکار ہوجائیں، تو اس سے بچ نکلنے کا ایک آزمودہ نسخہ یہ ہے کھلی فضا میں چہل قدمی کیجیے۔ چونکہ یہ سبزہ دل و دماغ کو تسکین بخشتا ہے۔ لیکن پہلے تو کھلی فضا میں بھی آلودہ ہوا ہوتی تھی، جس وجہ سے شفاف ہوا بھی میسر نہیں ہوتی تھی۔ مگر جب سے عالمی سطح پر لاک ڈاٶن ہوا ہے، تو آلودگی میں کافی کمی ہوئی ہے۔ جبکہ آلودگی میں کمی کی وجہ سے کراچی میں سورج کے گرد روشنی کا ہالہ بننے لگا ہے۔ یہ جب ہی بنتا ہے، جب آلودگی میں کمی واقع ہوتی ہے، جس کو سائنسی اصطلاح میں Sun Halo کہتے ہیں۔ یہ تو شکر ہے کہ آلودگی میں کمی ہوئی، نہیں تو اس نے تو انسانوں سمیت چرند پرند سے بھی جینے کا حق چھین لیا تھا۔
البتہ حال ہی میں پرنسٹن یونیورسٹی میں جیو سائنسز اور عالمی امور کے پروفیسر مائیکل اوپن ہیمر نے بتایا تھا کہ جب تک ڈونلڈ ٹرمپ کے مزید چار سال وائٹ میں ہونے کا مطلب ہوگا کہ دنیا کا اہم ملک عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی کے مسلے سے نمٹنے سے دور رہے گے۔ جبکہ ماہرین خبردار بھی کردیا ہے کہ عالمی تباہ کن درجہ حرارت سے نمٹنے کے لیے 2020 ممکنہ طور پر بےحد اہم سال ہے، جس میں انسانوں کو اس بارے میں منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ چونکہ ماحولیاتی تحفظ کی طرف جانے میں کئی روکاوٹیں ہیں، جس میں امریکی انتخابات سے لےکر بریگزٹ تک شامل ہیں۔ جبکہ 2017 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا کو دھچکا دیا تھا کہ امریکا تاریخ میں سب سے زیادہ کاربن خارج کرنے والا ملک ہے۔
خیر یہ بات تو عالمی سطح کی تھی کہ کاربن کی مقدار فضا میں مزید پھیلتی جارہی ہے۔ مگر اہم بات یہ ہے کہ ہم اپنے ملک کی صورتحال دیکھیں، تو معلوم ہوگا کہ ہم نے زمین کے ساتھ نہروں ،دریاٶں اور سمندر کو بھی آلوده کر دیا ہے۔ ساحل سمندر پر بھی اس قدر گندگی ہے، انسان کا جی ہی اکتا جائے۔ لیکن ہمارا بس چلے تو ہم ساحلی جنگلات کو بھی کاٹ دیں، مگر ساحلی جنگلات Mangroves کو کسی انسان کی دیکھ بھال کی ضروت نہیں ہے، یہ سمندر کے نمکین پانی کو 99 فیصد اپنے لیے کارآمد بنا لیتا ہے، شاید جب ہی قائم ہے۔
لیکن ہم ایک ایسی ملک میں رہتے ہیں، جہاں یہ سمجھ نہیں آتا کے روئیں یا ہنسیں! جدید تحقیق سے کے مطابق اِس شاپنگ سینٹرز کے پاس زیادہ خریداری ہوتی ہے، جن کے آس پاس زیادہ سبزہ ہوتا ہے۔ دوسری جانب سرمایہ دار بھی بنجر زمینوں پر درخت لگا رہے ہیں، اور سبزہ بڑھا کر ہاٶسنگ اسکیمز اور پلاٹ کو منہ مانگی قیمتوں پر فروخت کر رہے ہیں۔
ہمارے ملک میں خصوصتاً صوبہ سندھ میں سبزہ نہ ہونے کے برابر ہے، سونے پر سوہاگہ کے کورونا وائرس کی وجہ سے ذہنی دباٶ کم کرنے کے لیے گرد آلود ماحول میں چہل قدمی بیماریوں کو دعوت دے گی۔ لیکن اس کا نوکھا حل جاچان کے پاس ہے، وہ ”شن رِن“ نامی عمل سے ذہنی تسکین حاصل کرتے ہیں۔ اس عمل کو Forest Bathing یا ”جنگل میں غسل“ کہتے ہیں۔ جبکہ باقاعدہ طور پر اس سے طبی طور پر فیض حاصل کرتے ہیں۔ اس میں لوگ جنگل کی تہائی میں جاکر درختوں کے بیچ خاموشی سے مراقبے کی صورت میں بیٹھ جاتے ہیں۔ اس عمل سے بلڈ پریشر، کولیسٹرول، ڈپریشن، السر اور ذہنی دباؤ میں کمی آتی ہے۔ چونکہ درختوں سے جو کیمیائی مادے کا اخراج ہوتا ہے، جس کو فائٹون سائڈ کہا جاتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے جاپانی حکومت نے تحقیق کے بعد اس عمل کو ملکی پالیسی برائے صحت کا حصہ بنالیا ہے۔ آخر کار ہم ابھی بھی کسی ایک جگہ کے منتظر ہیں کہ کہیں، تو سبزہ ہو۔
No comments:
Post a Comment