Thursday, May 28, 2020

تاریخ معاہدہ ویسٹ فیلیا، سفر مادّی ترقی

تاریخ معاہدہ ویسٹ فیلیا، سفر مادّی ترقی

اگر ہم جنون کی کشمکش سے نکل کر تاریخ کے بہتے دریا کی منجدھار میں ڈوب کر ماضی کے واقعات کا جائزہ لیں، تو ایک فیصلہ کن موڑ پر آن پہنچیں گے۔ کاش نوع بشر کی توجہ اس جانب بھی مبذول ہوجائے کہ یہ مادّی ترقی کے نظریات نے کئی دہائیوں قبل کس طرح وجود میں آئے تھے۔

اس کرہ ارض پر مسیحیت کے دوبڑے گروہ تھے، جن میں سے رومن کاتھولک اور پروٹسٹنٹ تھے۔ سولہویں صدی میں عیسائی راہب مارٹن لوتھر (1483ء-1546ء) کی قیادت میں اس فرقے نے جنم لیا تھا۔ یہ فرقہ بنیادی طور پر جدیدیت کا حامی تھا جبکہ رومن کاتھولک روائیتی مذہبی اقدار کے پیروکار تھے۔ پروٹسٹنٹ نے لوگوں کی اصلاح کے لیے تحریک چلائی تھی، جو ”پروٹسٹنٹ اصلاحِ کلیسیا“ کہلاتی ہے۔ اس تحریک کی ساخت تحریک تنقیدی عقلی دلائل پر انحصار کرتی تھی۔ اس فرقے کے جنم لینے کی اہم وجہ یہ تھی کہ تمام اختیارات پوپ کے پاس ہوتے تھے، سائنس کے تعامل میں مذہب کی وضاحت کرنے پر سخت سزائیں دی جاتی تھیں۔ چنانچہ31 اکتوبر 1517 مارٹن لوتھر ہی نہیں بلکہ مسیحیت کی تاریخ کا اہم دن تھا۔ اس دن مارٹن لوتھر نے باقاعدہ طور پر پوپ کے خلاف بغاوت کا اعلان کر دیا تھا۔  مزید یہ کہ 1546 میں لوتھر کا انتقال ہو گیا۔ لیکن ان کی تحریک کے مقاصد لوگوں کے سینے میں راسخ ہوگئے تھے لہذا ان کے حامیوں نے اس تحریک کومزید آگے بڑھایا تھا۔

مارٹن لوتھر کی اس اصلاحی تحریک کے نتیجے میں لوگ بد عنوان مسیحی علما کے خلاف متحد ہوگئے تھے۔ ان وجوہات کی وجہ سے لوگ کلیسا سے دور ہوتے جارہے تھے؛ اور ان کے احکامات ماننے سے انکار کر رہے تھے۔ چونکہ یورپ کی تمام طاقتیں مذہب اور سیاست کی بنیاد پر 17 ویں صدی میں ایک دوسرے کے خلاف نبردآزما تھیں۔ مغرب میں ہالینڈ کے علاقے، جو اس وقت اسپین کی حکومت کے ماتحت تھے اپنی آزادی کے لیے 80 سالہ جنگ لڑ رہے تھے۔ یہ جنگ (1568ء-1648ء) پر محیط تھی جس کو Dutch Revolt بھی کہا جاتا ہے۔

چنانچہ بعض کاتھولک حامیوں نے چرچ کی اصلاح کرنے کی غرض سے آسٹریا کے مقام ٹرنٹ پر 1545 اور 1552 میں کونسلز کا انعقاد کیا گیا۔ جس کا ایجنڈا یہ تھا کہ تھا کہ عوام کو کلیسا کے نزدیک لایا جائے۔ مگر اس کونسل میں پوپ کے اختیارات کو باقی رکھا گیا تھا۔ پادریوں کی اخلاقی تربیت کے قوانین بھی مرتب کیے گئے تھے۔ مگر معاملات کی تفتیش کے لیے جس کو مقرر کیا جاتا تھا، تو وہ پروٹسٹنٹ مسلک کا اقرار کرتا تو اسے سخت سزا دی جاتی تھی۔ یہ مذہبی معتصبانہ برتاؤ کی وجہ سے یورپ میں جنگ شروع ہوگئی تھی۔ رومی سلطنت کے شہنشاه کی خواہش تھی کہ کتھولک غالب رہیں۔ جبکہ جو دیگر ریاستیں اس سلطنت کی تھیں، وہ پروٹسٹنٹ تھے، جو اس کے حق میں نہیں تھے۔ کتھولک اور پروٹسٹنٹ کی یہ نظریاتی جنگ جاری رہی جو کہ 30 سالہ جنگ (1618ء-1648ء) کے نام سے موسوم ہے۔ جس میں تقریباً 8 ملین افراد کی ہلاکتیں ہوئی تھیں۔ مگر بات اس حد تک چلی گئی تھی کہ یورپ پر حکمرانی کون کرے گا۔

لہذا چند اکابرین نے یہ سوچا کہ ایک کانفرنس منعقد کی جائے، جس میں  اس مذہبی سیاسی جنگ سے باہر نکلنے کا حل تلاش کیا جائے۔ صدیوں پر محیط جنگ سے کئی علاقوں پر بدترین اثرات مرتب کیے ہیں، ساتھ ہی ساتھ بھوک افلاس کی وجہ کئی افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ دونوں گرہوں میں شدید اختلافات کی بنیاد پر ایک دوسرے سے ملنا بھی نہیں چاہتے تھے، جس وجہ سے کتھولک گروہ کے نمائندے میونسٹر شہر، یہاں کیتھولک کے پیروکار کثیر تعداد میں تھے۔ جبکہ پروٹسٹنٹ گروہ کے نمائندے  شمال میں80 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع اوسنابروک شہر میں متجمع ہونگے۔ چنانچہ اس کانفرنس کو جنگ میں جاری رکھا گیا تھا۔ ء1643 اور ء1649 کے عرص پر محیط اس کانفرنس میں 16 یورپی ممالک، 140 آزاد ریاستوں نے حصہ لیا۔ یوں شورش کا سدباب کرکے تاریخ کے اوراق پر معاہدہ ویسٹ فیلیا کے نام سے نقش ہوگیا۔

چنانچہ اس کے بعد یورپ کی اقوام مذہبی اور سیاسی نظریات کی قید سے آزاد ہوکر خودساختہ تہذیب کے ساتھ سترہویں صدی تک اپنی ذندگی کو بسر کرنے پر آمادہ ہوچکی تھیں۔ لباس سے جسم کو ڈھانپنا تو ضروری ہے مگر ہوا،خوراک،پانی تو قدرت کی عطا ہے لیکن تن پر کپڑا انسان کی ایجاد ہے۔ جب انسان عقلیت کی بنیاد  نئی نئی ایجادات کرنے لگا، تو اس کو مادیت کا نام دیا گیا تھا۔ مذکورہ بالا اقتباس میں ذکر کر چکا ہوں کہ مارٹن لوتھر نے کس طرحمذہب اور سائنس کے درمیان جو شعور بیدار کیا تھا، یہ اس کا نتیجہ تھا۔ جس وجہ سے Will of God اور Will of Human یہ دو نظريات سامنے آئے تھے۔

دراصل Will of God  کے مطابق انسان خدا کی مرضی کے بغیر کوئی بھی عمل انجام نہیں دے سکتا، جس میں خدا کی بنائے گئے قوانین پر عمل کرنا لازمی ہوتا ہے۔ اس کے تحت اپنی سوچ کو وہ خدا ک نظریات متضاد نہیں لاسکتا خواہ وہانسان خدا کا جو بھی تصور رکھتا ہو۔ جبکہ Will of Human نے اس وقت جنم لیا تھا جب مارٹن لوتھر نے کاتھولک کی اصلاح کے لیے ”پروٹسٹنٹ اصلاحِ کلیسیا“ چلائی تھی۔  اس نظریہ کے تحت انسان خدا کی مرضی کے بغیر اپنی مرضی کے مطابق ذندگی گذارنے کا حق رکھتا ہے۔ گویا کہ وہ خدا کے فیصلوں کو بھی چیلنج  کر سکتا ہے۔

چنانچہ انسان خودساختہ خیالات کو تشکیل دے رہا ہے اور اس بنیاد پر وہ مادیت کی جانب متوجہ ہورہا۔ اسی دوارن جب صنعتی انقلاب نے ذور پکڑ لیا تھا، جس وجہ سے مادی ترقی میں مزید تیزی آگئی تھی۔ غرض کے دنیا تیزی سے مادی ترقی کی جانب بڑی رہی ہے، مختلف نظریات سامنے آرہے ہیں۔ ان نظریات پر سرمایہ لگا کر کائنات میں موجود اشیاء کی ساخت تک پہنچنے کی سعی کی جارہی تھی۔ ان نظریات کا مقصد کسی مذہب کی تضحیک کرنا نہیں ہے، بلکہ مذہب کے اختیارات کو ایک حدود تک محدود کر دینا ہے۔ کیونکہ ہر انسان کو آزادی حاصل ہے تاکہ وہ ان نظریات کے تحت عقلیت کی بنیاد پر اپنی خواہش کے مطابق خود فیصلہ کرنے خود مختار ہو۔

چنانچہ ان نظریات کے تحت مذہب ریاستی نظم و ضبط یا ریاستی قانون کا حصہ نہیں بن سکے گا۔ کیونکہ مغرب جن نظریات کی بنیاد پر ترقی کی ہے، تو اس کی پاداش میں ہمیں اس جانب غور کرنا چاہیے کہ اس جدیدیت کے دور میں کس طرح ٹیکنالوجی مثبت طریقے استعمال کرنا چاہیے۔

خطیب احمد

Tuesday, May 19, 2020

Aysha ka Qatal

اماں حضرت عائشہ رضہ

امان عائشہ رضہ ۱۰ شوال سنہ ۵۸ ہجری قمری یا (۵۷ھ) کو 66 سال کی عمر میں مدینہ میں وفات پائی اور ابوہریرہ نے نماز جنازہ پڑھائی اور جنت البقیع میں دفن ہوئیں۔(1) بعض نے تاریخ وفات کو رمضان کی 17 تاریخ قرار دیا ہے۔(2)
امان عائشہ رضہ کی وفات کی علت کے بارے میں اختلاف ہے۔ اہل سنت کے برخلاف بعض کا کہنا ہے کہ امان عائشہ رضہ کو معاویہ نے قتل کروایا ہے اور اپنی مکر اور چالاکی سے ایک گڑا کھودا اور امان عائشہ رضہ کو اس میں پھینک دیا۔ جبکہ اہل سنت کا کہنا ہے کہ امان عائشہ رضہ کا طبیعی موت ہوا ہے۔(3)اور قتل کی علت کو معاویہ کی طرف سے یزید کے لیے بیعت مانگنے پر امان عائشہ رضہ کی طرف سے اعتراض کرنے کو قرار دیا ہے۔(4)جو لوگ کہتے ہیں کہ امان عائشہ رضہ قتل ہوئی ہے ان کے نزدیک یہ قتل ذی‌الحجہ کی آخری تاریخ قرار دی گئی ہے (5)۔
امام علیؑ کا دور
امان عائشہ رضہ امام علیؑ کے مخالفوں میں سے تھی۔ بعض مصنفوں نے اس اختلاف کی ابتداء کو پیغمبر اکرمؐ کی زندگی دوران تک لے گئے ہیں۔(6)اگرچہ مختلف گروہوں کو امام علیؑ کی خلافت کے خلاف جمع کرنے اور انہیں نظم دے کر ایک لشکر تیار کرنے سے جنگ جمل وجود میں آئی اور یہی علیؑ سے دشمنی کی واضح دلیل ہے، اگرچہ بعض اہل سنت مصنفوں نے اس کی وجہ مخالفوں کے بہکاو‎ے سے متاثر ہونا قرار دیا ہے، یا بصرہ پر فوجی چڑھا‎ئی کو عثمان کے قاتلوں سے قصاص لینا قرار دیا ہے نہ علی کی مخالفت، اور امان عائشہ رضہ کے اس فعل کو اجتہاد میں خطا قرار دیا ہے جس پر خود امان عائشہ رضہ بھی پشیمان تھی ۔(7) جبکہ شیعہ علما نے عثمان کا قصاص یا امان عائشہ رضہ کی پشیمانی کو نقد کرتے ہوئے اسے قبول نہیں کیا ہے(8)۔
معاویہ کا دور
اگرچہ بعض نے بنی امیہ کے دور کو امان عائشہ رضہ کا خاموش دور قرار دیا ہے لیکن بعض نے امان عائشہ رضہ کی ان کے ساتھ ہمکاری کو فاش کیا ہے۔(9) اگرچہ ان کا بھائی محمد بن ابی بکر کو معاویہ نے بہت بری حالت میں قتل کرایا اور حجر ابن عدی اور ان کے ساتھیوں کو عثمان نے قتل کرایا تھا اس وجہ سے ان سے راضی نہیں تھی اور ان کی مذمت بھی کرتی تھی لیکن امام علیؑ کی شہادتکے بعد ان سے جا ملی(10)
معاویہ نے بھی اپنے کو امان عائشہ رضہ کے بہت قریب کردیا اور امان عائشہ رضہ کو مالی تحفے تحائف بھی بھیجنے لگا (11) کہا جاتا ہے کہ ایک دفعہ ایک لاکھ دینار بھیجا اور اٹھارہ ہزار کا قرضہ بھی ادا کیا (12)

امام حسنؑ کی تدفین
امان عائشہ رضہ کی زندگی میں انجام دینے والی اقدامات میں سے ایک امام حسن علیہ السلام کے جنازے کو پیغمبر اکرم کی قبر مطہر کے جوار میں دفن سے روکنا ہے(13)۔
پیغمبر اکرم کے دفن کی جگہ امان عائشہ رضہ کا گھر ہے اور اس سے پہلے خلیفہ اول اور دوم بھی اسی مکان میں دفن ہوچکے تھے امام حسن علیہ السلام کی شہادت کے بعد امام حسینؑ کو امامت ملی اور اپنے بھائی کی وصییت کے مطابق آپکے جسد اطہر کو پیغمبر اکرم کی قبر کےقریب دفن کرنا چاہا لیکن امان عائشہ رضہ نے مدینے کے گورنر مروان بن حکم کی مدد سے دفن کرنے سے منع کیا اور امام حسین علیہ السلام لڑائی جھگڑے سے بچنے کے لیے اس اقدام سے منصرف ہوگئے (14) اور امام کے جنازے کو بقیع میں دفنایا گیا (15)۔ بعض کا کہنا ہے کہ جب امان عائشہ رضہ نے دیکھا کہ مروان بن حکم اور اس کے ساتھی اسلحہ کے ساتھ تشییع کرنے آئے تھے اور یہ بڑا خطرناک مرحلہ تھا اس لیے وہاں پر دفن سے منع کیا۔ (16)
حوالہ جات:
1۔ ذہبی، تاریخ اسلام، ۱۴۱۳ق، ج۴، ص۱۶۴؛ ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ۱۴۱۷ق، ج۳، ص۵۲۰
2۔ مقریزی، امتاع الاسماع، ۱۴۲۰ق، ج۶، ص۴۲
3، بیاضی، الصراط المستقیم، ۱۳۸۴ق، ج۳، ص۴۸
4۔ حر عاملی، اثبات الہداۃ، ۱۴۲۵ق، ج۳، ص۴۰۲
5۔ سید بن طاووس، الطرائف، ۱۴۰۰ق، ج۲، ص۵۰۳
6۔ واردی، نقش ہمسران رسول خدا در حکومت امیر مومنان، ص۱۰۳؛ مفید، الجمل، ۱۴۱۳ق، ص۴۲۶
7۔ ندوی، سیرہ السیدہ عائشہ‌ام المومنین،‌ ص۱۸۹-۱۹۲
8۔ سید مرتضی، الذخیرہ، ۱۴۱۱ق، ص۴۹۶؛ مفید، الفصول المختارۃ، ۱۴۱۳ق، ص۱۴۱
9۔ تقی‌زادہ داوری، تصویر خانوادہ پیامبر در دائرۃالمعارف اسلام، ۱۳۸۷ش، ص۱۲۶
10۔ ابن قتیبہ، الامامہ و السیاسہ، ۱۴۱۰ق، ج۱، ص۲۰۵؛ طبری، تاریخ الطبری، ج۵، ص۲۵۷
11۔ ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ۱۴۱۷ق، ج۷، ص۱۳۶و۱۳۷
12۔ ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ۱۴۱۷ق، ج۸، ص۱۳۶
13۔ ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، ص۸۲
14۔ یعقوبی، تاریخ الیعقوبی، ج۲، ص۲۲۵؛ مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۴۴، ص۱۴۱
15۔ بلاذری، انساب الاشراف، ۱۳۹۷ق، ج۳، ص۶۶
16۔ بلاذری، انساب الاشراف، ۱۳۹۷ق، ج۳، ص۶۱

Sunday, May 10, 2020

Artificial Intelligence; A curse or blessing.

Artificial Intelligence; A curse or blessing.    
Outline
I.    Introduction
II.    The emergence of Artificial Intelligence and famous people's views about it.
III.    The blessings of Artificial Intelligence
1.    Reduction of human errors
2.    Doing of dangerous tasks in place of humans
3.    Daily applications
4.    Available 24hrs to support humans
5.    Precision and accuracy in tasks
6.    Fast decisions
7.    Medical advancement
8.    Agricultural productions
9.    Augmenting economy
10.    Gaming and entertainment
11.    Autonomous chatbox and robots
12.     It can save our precious time
IV.    The dark side of Artificial Intelligence
1.    Artificial Intelligence can supersede human beings
2.    Unemployment
3.    AI have no feelings and sympathy
4.    No original creativity
5.    Human’s laziness
6.    Falling into terrorist’s hand
7.    The existential threat of a life

Essay
Human beings have created lots of small and big things which in return have provided comfort and ease in their life. Artificial Intelligence is one of them, which changed the lifestyle of a man. The termed Artificial Intelligence was coined by John McCarthy in 1956. It is a branch of Computer Science, in which the intelligence of a machine is studied. According to experts, all those things can be into the circle of Artificial Intelligence, which can think, grow and take rational decisions alike of human beings. Artificial Intelligence has contributed a lot in human life so far where the reduction in human errors, taking responsibility for doing tedious, complex and dangerous jobs are worth noting. However, there are also some dark sides and fears related to Artificial Intelligence in which the dilemma of future unemployment for human beings and superseding human’s place are always highlighted. Some experts like Mark Zuckerberg is supporting such innovations while Elon Musk is against of Artificial Intelligence. Thus, Artificial Intelligence, if aligned with human will and protect from the evil’s hand, will always be fruitful for humans. A robot Sophie made an adventure of Hong Kong, which recently was given citizenship by Saudi Arabia told that if you are good to me, I shall be good for you. Therefore, it entirely depends on human beings that how they make use of them.
As there are many bright sides of Artificial Intelligence. The reduction of errors and mistakes of human beings is one of them. Human beings are frail creatures which are confronted with lots of errors everywhere. Artificial Intelligence, on the other hand, can be sufficient to overcome all these errors and weakness of humans. Artificial Intelligence works on the advanced and proper installed programs; therefore, the chances of errors are negligible by Artificial Intelligence. For instance, the thinking process of human minds can never be stopped, thus doing their duty, they can be distracted easily and a mistake can be done, however, Artificial Intelligence is away from such occurrence. Therefore, Artificial Intelligence is fruitful to overcome and decrease the errors of humans.
Similarly, there are many dangers ahead of humans in day to day life. Humans are faced with many challenges in daily life routines where some of them can even take the life of humans. Artificial Intelligence can perform all those jobs instead of humans which are beyond the human’s approach that might be defusing a bomb, uplifting a hefty steal rod or performing duties during the earthquake and fire emergency of burning buildings. Thus, Artificial Intelligence can put into risk instead of humans into the service of humanity and it is predicted that Artificial Intelligence can perform tasks if they are programmed well even better than that of the humans.

Furthermore, there are numerous daily life applications where the use of Artificial Intelligence is prominent. It has enhanced the life routines of the people. Nowadays, humans without mobile phones and mobiles without Artificial Intelligence are just futile. Such as, in Apple’s mobile the role of Siri, in Microsoft windows the use of Cortona and in Android mobile they magic of Google cannot be denied. People are so habitual with the use of Artificial Intelligence in daily life application where the unavailability of such applications creates depressions in them. So, Artificial Intelligence has contributed up to a great extent into daily life applications for the services of human beings.

Moreover, the blessing of Artificial Intelligence can be available any hour of the day. Artificial Intelligence never gets tired, feel thirsty or need foods. Humans where can do their duties only 8hours out of 24hours excluding break time, on the flip side, Artificial Intelligence can be available at the doorsteps all the 24hours of the day. Therefore, such prolonged duty is very important in the departments of security and intelligence of a country which are always active during the entire day and night. So, Artificial Intelligence can perform such tasks into the security services of a country.

Besides the availability of 24hours, Artificial Intelligence can perform all such tasks with absolute precision and accuracy which is very essential for the maintenance of the development and that of security purposes. Artificial Intelligence is error free if the prerequisite is performed according to the tasks given where 1% chance of error can destruct 99% of the entire structure and composition of the task. The nuclear collapse of Ukraine is an example of such destruction. Therefore, it is high time to keep 100 percent accuracy in such sensitive places which can be gained through Artificial Intelligence only.
In the same manner, there are many places where fast decisions are required in order to enhance the situation, avoid major destruction and protect the future consequences. However, Artificial Intelligence can play a pivotal role in such places, As mentioned earlier in the case of Ukraine Nuclear Plant collapse if proper and prior actions were taken on time. The destruction of the entire plant might be saved. Thus, Artificial Intelligence is very good for taking fast and prompt decision on such sensitive issues.

Same likely, the contributions of Artificial Intelligence in the fields of medicine are even more. Many diseases can be figured out before it gets extended and becomes inevitable. Artificial Intelligence can predict the breast cancer in advance because of which many women are dying every day worldwide. Similarly, the most dangerous disease that is a heart attack can be figured out and cure utilizing modern technologies while using the support of Artificial Intelligence. In the 21st century, a robot by using Artificial Intelligence has successfully operated human operations of major organs. Thus, Artificial Intelligence also provided its services in the field of medical science.
Aside from the medical field, the role of Artificial Intelligence in agricultural is even more. Today, Artificial Intelligence can be used to figure out which land is better for production and cultivation and it is used to find the salinity of the soil into the fields. A huge place of crops can be cut and collected in a matter of hours by using of heavy machinery with the help of Artificial Intelligence. It can be used to figure out various viruses, bacteria and germs etc. Similarly, various seeds are sown while using Artificial Intelligence for the better production of the outcome. In short, Biotechnology while using Artificial Intelligence has contributed a lot into the services of mankind, therefore, its role in agriculture is equally important for better production and the result of the crops.
On the other hand, the role of Artificial Intelligence in computer intelligence is far beyond human complexities. It can be found in various games on the computer where defeating an automatic player becomes a great challenge for its own master. Therefore, it was found in the 90s that a well famous chess master was defeated by an automated computer player in the game. However, In more advanced games like IGI, Medal of Honour and Call of duty all mechanisms of the games are being controlled by means of the Artificial Intelligence where it becomes very hard for human beings to confront and play smart in order to defeat enemies side which are run by Artificial Intelligence. Moreover, it has also contributed to the industry of entertainment in to order facilitate the humans with its blessings.

In addition to it, there are many websites where chat boxes are based on Artificial Intelligence. These automated chat boxes are fulfilled the queries of the people in a matter of seconds. Their response in such a quick and accurate manner that they cannot even be recognised by people. Similarly, all over the world, many banks, toy shops and restaurants are using automatic robots in order to facilitate human beings with the latest modern technologies of the century. Therefore, autonomous chat boxes and robots are the other important inventory of AI.

Last but not least, time is considered to be the most precious resort that human beings can have. It is said that time is money and this money can be saved and used very well into other creative activities with the help of Artificial Intelligence. In the contemporary world, Artificial Intelligence supplies enormous services for human beings through they can save this very important treasury of the world. Artificial Intelligence assists man in each and every field of his life. For instance, today he can search the unknown places in the entire world in a few seconds, call anyone worldwide in no time, set alarm for his future important meeting etc and can program many online activities through his virtual assistance. Therefore, the role of Artificial Intelligence while saving the treasury of time for man is really important.

As each picture has two sides, therefore, Artificial Intelligence has also some dark sides. The Facebook Chief Executive Mark Zuckerberg said that it is just an imaginary fear, however, many people are afraid that Artificial Intelligence in future may supersede human beings and their capabilities. According to Elon Musk, Artificial Intelligence can be an Immortal Dictatorship which will erode all the conveniences of human beings and will destroy them in no time. Artificial Intelligence if gets out of control of human beings, it might enslave its own master and will sooner kill him. Therefore, many scientists like Stephan Hawking was also against it who was also using its services to deliver his message. According to him such things are irreversible and can have the capability to rule the world if once get beyond the control of its own masters i.e. Human beings.

On the other hand, many people believe that Artificial Intelligence will take the human seats in the future and the world will observe a huge deficiency in the market of employment. As Artificial Intelligence can do works promptly, accurately and conveniently, therefore, the job holders will feel no need of humans for their job vacancies thus the world will be confronted with collapsed of unemployment. Therefore, people are very concern about their future jobs paralleled with the emergence of Artificial Intelligence.

Furthermore, human beings are enshrined with feelings of good and bad. However, Artificial Intelligence cannot recognise such feelings which very against the will of human beings. The place of Artificial Intelligence in the places of society is rarely encouraged. Thus, owing to the unfeeling nature of Artificial Intelligence people do want to interact with it with the core of their hearts. Similarly, in the contemporary run, Artificial Intelligence is capable to do lots of works and duties, however, on the flip side, all these duties are actually assigned to it. In short, Artificial Intelligence has no original creativity. It does what is given to them. Artificial Intelligence is working just in a circle of repetitive jobs where it provides what is given to them, it cannot produce original and unique ideas, in case if ever it becomes capable of producing such new and original ideas as well as things then it will surely supersede humans and all those living organisms on the earth. Therefore, it is also considered an existing thread to human beings.

On the same account, human beings are very addicted to modern technologies. They are doing each and every activity very easily with the use of Artificial Intelligence by modern means which, in return, have made them very lazy and futile. Man, as not doing the work and duties regularly and properly, therefore, he has confronted with many unseen diseases too. The curse of Artificial Intelligence has made man good for nothing, he doesn’t want to go for daily exercises due to lots of easiness in his life and consequently, owing to the dependency of Artificial Intelligence today man is weaker and more fragile than ever.

Last but not least, the greatest thread to Artificial intelligence is that it can be fallen into the terrorists and enemies’ hands. Artificial intelligence is like fire, it can be used to heat your room, cook your foods, but it has also the capability to burn your home. Therefore, Artificial intelligence, if fallen into the hands of your enemy, can easily destroy you. Similarly, the wrong use of such intelligence is also very destructive. It has lots of benefits, but if used wrongly all these merits will account and accumulate into destructions. Therefore, the security and protection of such technologies are the major concern of the world today.
To sum up, Artificial intelligence is the greatest blessing in the contemporary world. However, if it is not used the way it ought to be, it might be the worst destruction ever. Therefore, it is high time to recognise the blessing and curse of this very adventure of the world. It is like a double edged knife which can cut fruit for you, but if it used wrongly it can cut you apart too. Therefore, awareness about this high and sensitive technology becomes an obligation for the people of the time. It has lots of benefits if it is used properly and consciously. So, it can do good but it is up to us.

Advertisement caption

Are you spending the day trying to solve your team’s issues?Wouldn’t it be great if they could  solve their own issues in under 15 minutes?

As leaders, we love helping our teams. The thing is that we often spend so much of our day trying to solve our teams’ problems as well as keep projects on track, that we can never focus on our other tasks for the day.

Thankfully there is a way to get your team to self-organize so you can spend the day focussed only on the top priorities. As well as that, this simple method allows you to:

- ​​instantly boost your team's productivity and drive them to maximum efficiency

- allow your team to deliver projects on time, on budget and keep your stakeholders happy every time

- create a daily plan effortlessly to keep your entire team on track and moving forward

- you'll finally have a step by step process to easily co-ordinate and communicate with your team every single day

My quick daily format with a few simple rules lasting no more than 15 minutes will help your team to tackle any issues and leave them organized for the day.

This week we’re giving away our FREE checklist to get your team to self-organize, tackle their own issues and be super-productive too. Click here to download your Daily Team Checklist now:  http://bit.ly/daily-team-checklist

Saturday, May 9, 2020

Project: E-Book

ای بُک: عالمی سطح پر ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی ذمہ داری کو ترجیح دینا۔

کسی بھی کاروبار میں سفر ایک لازمی حصہ ہے۔ لیکن سفر کا مطلب ہے یہ ہے کہ خطرے میں اضافہ ہونا مگر زیادہ تر سفر طے شدہ منصبوبے کے مطابق ہوتا ہے۔ جس میں زیادہ تر سفر میں ایک یا دو مرتبہ فلائٹ منسوخ ہوتی ہے۔ لیکن جب کوئی ملازم گھر چھوڑ کر چلا جاتا ہے، تو اس سے متعلق علاج معالجے سے لے کر عالمی سطح پر ہنگامی بنیاد پر ہر چیز کی صلاحیت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ لہذا ان صورتحال سے بچنے کے لیے ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے مناسب انتظامات کرنا ضروری ہے۔

کسی ایسے منظر کا تصور کریں کہ تمام ملازمین بیرون ممالک میں ہوں جہاں ہیلتھ ایمرجنسی نافذ ہو۔ جیسا کہ ہم نے حال ہی میں دیکھا ہے کہ وائرس کی اطلاع ملتے ہی تمام شہروں میں مکمل لاک ڈاٶن کرنے کی تیزی کے ساتھ تیاری کی گئی۔ جس کی وجہ سے بے چینی پھیل گئی تھی کہ کہیں یہ وبا پھیل نہ جائے۔ ترسیل کم ہوگئی، بین الاقوامی پروازیں منسوخ ہوگئیں۔  جس وجہ سے ہنگامی بنیاد پر اقدامات کیے گئے اور متاثرہ علاقوں سے لوگوں کو باہر جانے سے روک دیا گیا تھا۔ مزید یہ کہ مواصلات کے نظام پر دباؤ پڑ گیا تھا۔ یہ بدقسمی تھی کہ حکام کے جانب سے متاثرہ علاقوں کو قرنطینہ تبدیل کرکے ہفتوں یا مہینوں تک قید کیا جاسکتا تھا۔

* پچیدہ عالمی چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے مکمل منصوبہ بندی کا مطالبہ کرتے ہیں:

اب تک ہماری ایک دوسرے سے جڑی ہوئی عالمی معیشت میں اس وبائی بیماری کے پھیلاؤ کو روکنا خاص طور پر مشکل کام ہے۔ اس کے نتیجے میں حکام بالا  انتہائی سخت اقدامات کرسکتے ہیں۔ اگر آپ کے ملازمین جو سفر میں ہوں، ان کو اس وبا نے کچھ متاثر ہو، تو کیا آپ ان کو جلد تلاش کرسکیں گے؟ کیا آپ کے پاس منصوبہ بندی ہے کہ اپنے عملے کو جلد از جلد اور محفوظ طریقے سے گھر تک کیسے پہنچایا جائے؟ کیا آپ کے ملازمین کو معلوم ہے کہ اگر جہاں کہیں بھی وہ پھنسے ہوئے ہیں اور ہیڈ کوارٹر سے رابطہ کرنے سے قاصر ہیں تو انہیں کیا کرنا ہے؟

یہ سوالات عالمی سطح پر کسی بھی ہنگامی صورتحال پر اس کا اطلاق ہوسکتا ہے۔ چاہے شہری بد امنی یا موسمی واقعات ہوں۔ یہاں تک کہ عالمی سطح پر نسبتاً چھوٹا طوفان اس کے نتیجے میں ملازمین کو ڈھونڈ سکتے ہیں اور خود اس پُر خطر راستے سے نکال سکیں۔ لہذا منصوبہ بندی کلیدی ہے۔

* دیکھ بھال کی ذمداری کے لیے مستقل نقطہ نظر

خطرے کی سطح جغرافیائی سیاسی صورتحال پر منحصر ہوتی ہے، جس کی سطح میں اتار چڑھاٶ آتا رہتا ہے۔ جب کہ سفری پالیسیوں کو دھیان میں رکھیں تاکہ وہ خطرے سے آگاہ کریں۔ چنانچہ آرگنائزیشن کو چاہیے کہ وہ خطروں کا جواب دینے اور ملازمین کی حفاظت کو یقینی بنائے۔ چاہے وہ میونخ میں ہیڈ کواٹر کے دورے پر ہوں یا کسی بھی شہر میں ویتنام کے شراکت دار دفتر میں ہوں۔

* (سبق نمبر ١) دیکھ بھال کی ذمہ داری کیوں اہمیت رکھتی ہے؟

سفر ایک جذباتی تجربہ ہوتا ہے، حتٰی کہ بہت سارے تجربہ کار مسافر بھی یہ دباؤ محسوس کرتے ہیں اور یہ دباؤ اور بھی ہوسکتا ہے۔ غور کرنے کے بہت سے عوامل نا معلوم ہیں، جن کو ذہن میں رکھا جائے۔ وسیع تر ثقافت سے لباس اور طرز عمل کے متعلق غور و فکر یوں کہہ لیجیے کہ آپ پاور اڈیپٹر کی طرح منجمد ہوجاتے ہیں۔ جرائم، وبائی امراض، شہری بد امنی اور سخت موسم کے خدشات میں پڑے بغیر سفر کرتے ہیں۔

دیکھ بھال کی ذمہ داری سب سے اہم ہے کیونکہ یہ کمپنی کے قانون اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ جبکہ ملازمین کے کام انجام دیتے وقت اپنی حفاظت کو بھی یقینی بنائیں۔

* ملازمین کو خود پر بھروسہ ہونا چاہئے۔

عالمی سطح پر ہنگامی صورتحال پیدا ہونے سے پہلے کسی بھی کمپنی کے لیے اعلی معیار کا ہونا ضروری ہے۔ مزید یہ کہ دیکھ بھال کی ذمہ داری کے ذریعے مضبوط ثقافت کو فروغ دینا ایک اہم قدم ہے۔ ٹریولنگ ملازمین کو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ انہیں کمپنی کی مکمل حمایت حاصل ہے تاکہ وہ اپنے کام اچھی طرح سے انجام دینے پر توجہ مرکوز کرسکیں۔ چاہے وہ پورے شہر میں ہو یا 15 گھنٹے کی دوری پر موجود ہوں۔ اس کے نتیجے میں وہ کمپنی میں اپنی پوری زندگی میں اعتماد کے احساس کے ساتھ ترجمانی کریں گے۔

بہت ساری مختلف جگہوں میں فیلڈ میں ملازمین کی مناسب سطح کی دیکھ بھال فراہم کرنے کے آس پاس قانونی تقاضے ہیں۔ لیکن اس کی اہمیت قانونی ذمہ داریوں سے کہیں زیادہ گہری ہیں۔ جبکہ بہت سے معاملات میں آپ کے اپنے معیار سے تجاوز کرکے اعلی معیار فراہم کرنا چاہئے۔

* دونوں سمتوں سے اعتماد کی سطح قائم کرنا

یہ ملازمین کی دیکھ بھال کرنے اور اعتماد کی سطح قائم کرنے کے بارے میں ہے، جو دونوں طرح سے چلتا ہے۔ یہ سمجھنے کی بات بھی ہے کہ آپ کی کمپنی کی کامیابی کے لئے ملازمین کی جسمانی اور ذہنی تندرستی ضروری ہے۔ چنانچہ آخر میں یہ انسانی سرمائے میں ایک ایسی سرمایہ کاری ہے، جو کمپنی کی ثقافت اور نچلی سطح دونوں کی مدد کرتی ہے۔ اگر سفر کو کسی خدشات کی وجہ سے کاروبار کو روک لیا جاتا ہے، اور ملازمین کو یہ محسوس نہیں ہوتا ہے کہ وہ کام کی طرف پوری توجہ دے سکتے ہیں، تو کچھ غلط ہو گیا ہے۔

229 ٹریول مینیجرز ، ٹریول خریداروں اور کارپوریٹ سیفٹی اور سیکیورٹی مینیجرز کے 2017 کے مطالعے کے بعد انھوں نے بتایا ہے کہ ہنگامی صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے ان کے پاس صرف 27 فیصد قابلیت ہے۔ جبکہ ان کے پاس دستاویزی طور پر رسپانس عمل موجود تھا، جو مستقل طور پر لاگو ہوتا ہے، جس کو بتایا جاتا تھا۔ صرف 4٪ تربیت شامل کرنے کے بعد بر وقت ردِ عمل کی رفتار اور صلاحیت کو بہتر بنانے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔  اکثریت کو کسی فیصد کے بغیر کسی منصوبے کے چھوڑنا ، مسافروں کی حفاظت ، خوشحالی اور حوصلے کو نظرانداز کرنا۔

چونکہ دیکھ بھال کا فریضہ عالمی سطح پر ہنگامی صورتحال کی شروعات میں ایک نمایاں مرحلہ اختیار کرتا ہے؛ اور ٹیکنالوجی نے ٹریول مینجمنٹ کی جگہ کو آگے بڑھانے کے لیے جاری رکھا ہوا ہے۔  جب کمپنیاں ٹی ایم سی کی پیش کش پر غور کررہی ہیں، تو جب مسافروں پر مرئیت Visibility  کی بات ہو۔  ان کو اگلے حصوں میں ہم تفصیل سے  بیان کریں گے۔ کمپنیاں مسافروں کے لئے دیکھ بھال کے فرائض کی تیاری، بات چیت اور ان کو لاگو کرنے کے لئے کیا کر سکتی ہیں۔

(سبق نمبر ٢) دیکھ بھال کے فرائض کے لئے عمدہ عمل۔

اس بات کو یقینی بنانا کہ بحیثیت کمپنی کے مناسب اہم اقدامات کریں گے، یہ کہ ٹریول مینیجرز اور ملازمین اپنے کام کو بخوبی جانتے ہوں۔ دیکھ بھال کے فرائض کے لئے اعلٰی معیار کو برقرار رکھنے کی جانب ایک طویل سفر طے کریں گے۔  یہ اچھی طرح سے قابل ہے کہ وقت اور کوشش سے تمام واقعات کی تیاری کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ملازمین نے پروٹوکول بالکل واضح اور سمجھا ہوا ہو۔ ان کے بارے میں باقاعدگی سے اور واضح طور پر بات چیت کریں تاکہ حقیقی دنیا میں ان اقدامات کے اطلاق میں آسانی پیدا کریں۔

تیاری - فیلڈ میں ملازمین کے لیے پیدا ہونے والے ممکنہ امور کی کسی حد تک اور ان کے جوابات کے بارے میں سوچنا ایک اہم پہلا مرحلہ ہے۔ جب پروٹوکول اچھی طرح سے قائم ہو، تو ہر کوئی ان کے کردار کو جانتا ہو۔ انتہائی سخت حالات میں بھی چیزیں آسانی سے چل سکتی ہیں۔

* تنظیموں کو ان اہم سوالات کے جوابات کا تعین کرکے شروع کرنا چاہئے

کون یہ فیصلہ کرے ہے کہ جب ترقی کی پر گامزن ہوں، اس صورتحال کو کمپنی کی مداخلت کی ضرورت ہوتی ہے۔  مزید یہ کہ  ملازمین جن مقامات پر سفر کر رہے ہیں یا کسی بھی دیئے گئے وقت کی وجہ سے سفر کر رہے ہیں ، ان کے مقامات سے اپ ڈیٹ رہنے کا انچارج کون ہے؟

ملازمین کی حفاظت کے لیے  یا کسی بھی ایسی صورتحال میں، جو دنیا کے مختلف حصوں سے پیدا ہوسکتی ہے، ان میں خالی کرنے کے لئے کون سا معیاری پروٹوکول ہے؟

* کسی بھی مقام پر انخلاء اور طبی معاونت کے لیے کیا وسائل موجود ہیں؟

اگر مواصلات کا نظام ناکام ہوجاتا ہے،  تو کیا آپ کے پاس بیک اپ ہے؟ اس میں مقامی پارٹنر آفس پر فون کرنے سے لے کر اپنی لینڈ لائن کے استعمال کے لئے ملازمین کو سیٹلائٹ فونز اور ہنگامی لوکیٹر بیکنز فراہم کرنے لیے جگہ کے لحاظ سے ہوسکتا ہے۔

* کیا آپ کے پاس ملازمین کی تمام نقل و حرکت پر فوری نظر رکھنے کے لیے انٹرفیس  موجود ہے، جس کا حوالے دے سکیں؟

اگر سفر کو دوبارہ ترتیب دینے کی ضرورت ہے، تو کیا ملازمین ٹریول مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے آسانی سے یہ کام کر سکتے ہیں؟ کیا آپ کے ٹریول مینجمنٹ سسٹم میں 24 گھنٹے تعاون کر سکتا ہے؟ اور کیا ملازمین اس تک رسائی حاصل کرنا جانتے ہیں؟

کسی خاص طور پر مشکل یا خطرے سے دوچار مقامات کے لئے جہاں آپ کے ملازمین سفر کرتے ہیں، کیا کسی خصوصی احتیاطی تدابیر کی ضرورت ہے یا تربیت دی جائے؟ پیشگی تحقیق کرنا ضروری ہے۔

* کیا آپ کا منصوبہ لچکدار ہے ، اور کیا یہ کمپنی اور اس کے ملازمین کی گنجائش اور ضروریات کے ساتھ ترقی یافتہ ہوسکتی ہے؟

نظرثانی- ایک بار جب آپ کی تنظیم اس کی تیاری کی سطح پر اس سے، جو کچھ بھی ہوسکتا ہے، اس کے لئے خود کو محفوظ محسوس سمجھتی ہے۔ تو اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ آپ کو اس فیلڈ میں ملازمین کے کام اس کے عمل برقرار رکھیں۔

ٹریول مینیجر ایک نظر اس بات سے آگاہ ہونا چاہیے کہ کمپنی کے ملازمین میں سے کون سفر کر رہا ہے اور وہ کہاں ہیں، کہاں جارہے ہیں، کہاں ٹھہرے ہوئے ہیں۔ اہم یہ کہ کب تک مقررہ وقت پر پہنچ جائیں گے۔

مزید براں ٹریول مینیجر  کو خطرات کی چانچ پڑتال اور ان کا تعین کرنے میں سر گرم ہونا چاہیے۔  ترقی پذیر کی حالات اس میں شامل ہوسکتے ہیں:

ملازمین کے سفر نگرانی کے ساتھ ہی ساتھ ممکنہ امور جو متوقع ہوں کو بھی دیکھنا۔ موسم سے لے کر سب کچھ یوں کہ جیسے سب حرکتیں جاری اور بڑھ رہی ہیں۔

پبلک ہیلتھ اتھارٹییز اور سرکاری ایجنسیوں کے مواصلات کی پوری نگرانی کرنا۔  مثال کے طور پر دفتر خارجہ سے مشورے کہ ترقی پذیر جگہوں ملازمین وہاں ہوتے ہیں یا جلد وہاں ہونگے۔

یہ معلوم ہونا کہ کسی بھی وقت تمام ملازمین سے کیسے رابطہ کیا جائے (بشمول بیک اپ کے اختیارات، جب وہ سفر کرتے ہوئے، مثال کے طور پر ہوٹل کے فرنٹ ڈیسک اور مقامی دفتر کا نمبر موجود ہونا چاہیے)

مواصلات: یہ ضروری ہے کہ جیسے ہی پالیسیاں اور دستاویزات مرتب کیے جاتے ہیں، وہ واضح ہوتے ہیں کہ ملازمین سے کس طرح بات کی جائے۔ تمام مسافروں کو یہ واضح ہونا چاہیے کس حد تک مدد مل رہی ہے اور اسے کیسے حاصل کیا جائے۔

یہ قابل رسائی اورجامع معلومات کے مجموعہ کے امتزاج کے ذریعے حاصل کیا جاسکتا ہے، جو آپ کے لیے بہترین مواصلات کا ذریعہ ہے۔ یہاں تک کہ پرنٹ کی شکل میں آن لائن دستیاب ہوسکتا ہے۔ یہ پروٹوکول پر جانے کے لیے تاریخوں، میٹنگز تازہ معلومات ہوتی ہیں۔

* ملازمین کو درج ذیل کام کرنے کی ترغیب دی جاسکتی ہے۔

وقتًا فوقتًا ریفریشروں/ یا مشقوں میں حصہ لیں تاکہ یہ یقینی بنائیں جاسکے کہ وہ پروٹوکول سے واقف ہیں۔ جب کسی سڑک پر کوئی صورتحال پیش آجائے، تو انہیں اپنے ٹریول مینیجر سے مدد یا مشورہ لینے کی ضرورت ہو، تو وہ حاصل کر پائیں۔

* باقاعدہ طور پر وقفوں سے بنیادی ہنگامی صورتحال اور صدمے کے ردعمل کی تربیت چلائیں۔

اگر کوئی ایمرجینسی ہو، تو پولیس ، مقامی سفارت خانے سے ہنگامی طور پر رابطے کی معلومات رکھیں۔

اس منصوبے کو جانیں، جب انہیں فون کرنے یا ای میل کرنے کی قابلیت ختم ہوجائے۔ وہ دوبارہ رابطہ کرنے کے لئے کہاں جائیں گے اور ان سے رابطہ کیسے ہوگا؟

یہ جاننا اہم ہے کہ ہنگامی فنڈز کی کہاں اور کہاں تک رسائی حاصل کی جانی چاہئے۔  بشمول اگر مقامی کاروبار ، بشمول بینکوں اور نقد مقامات کو بند کردیا گیا ہو۔

ملازمین کو سفر پر نکلنے سے پہلے، ان سب پر تیز رفتار ہونا چاہئے - یہاں تک وہاں جائیں جہاں نسبتًا کم خطرہ والی منزل ہو۔

وہ لوگ اکثر میدان میں رہتے ہوئے کام کر رہے ہوتے ہیں، وہ ان مقامات پر حقیقی دنیا کے تجربے کی بنیاد پر پالیسیوں کو بہتر بنانے میں مدد کرسکتے ہیں، جن پر انہوں نے سفر کیا ہے۔ کمپنی کے مابین اِن امور کے بارے میں مستقل بات چیت ہونی چاہئے، جو دور رہتے ہوئے بھی جان سکیں کہ کیا موجودہ پروٹوکول صحیح طریقے سے کام کر رہے ہیں۔

ٹریول مینیجرز کو چاہیے کہ بکنگ کے عمل ، ترمیم کی پالیسیاں اور ٹریول مینجمنٹ ٹول کی پیش کش کا مستقل جائزہ لیں۔ تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ ہر چیز ترتیب سے کام کر رہی ہے۔ اس چیز کو یقینی بنائیں، جو بھی کام کیا جاسکتا ہے اس میں ہر ممکن حد تک آسانی پیدا کریں تاکہ اگر کسی ہنگامی صورتحال میں ہوں، تو کام کے بوجھ کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

سہولت - وبائی مرض کی صورت میں فوری رد عمل کی سہولت کے لئے صحیح آلات ، افراد اور پالیسیوں کا ہونا آخری اقدام ہے۔ مزید یہ کہ اہم بات یہ بھی ہے کہ تمام منصوبہ بندی اور مواصلات ان اشیاء کے گرد بالکل درست ہوں تاکہ ہنگامی صورتحال میں فوری عمل کیا جاسکے

آپ کے کاروبار کے ”ٹریول پروگرام“ کو زیادہ سے زیادہ بلند سطح پر چلانے کے لئے سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ہی ساتھ ان کو اہل بنانا ضروری ہے۔ اس بات کا یقین کرنے کی ضرورت ہے کہ آپ کے پاس ایسا کرنے کے لئے صحیح ٹولز موجود ہوں۔ ایک جدید اور ذمہ دار ٹریول مینجمنٹ کمپنی (ٹی ایم سی) اس میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے تاکہ دنیا کے اعلٰی ٹی ایم سی کے فوائد جو جدید دنیا کے لئے تیار کیے گئے ہیں، ان میں سے یہ کلیدی خصوصیات شامل ہیں:

مرکزی سفر کی بکنگ کا پلیٹ فارم، تمام سفری بکنگ ، رپورٹنگ اور مواصلات کے لیے مرکزی مقام کا تعارف عالمی سطح پر نمایاں اور یقینی بناتا ہے۔ لازمی ایک چینل بنانا، اس کا مطلب ہے کہ آپ کے پاس ہمیشہ قابل رسائی، براہ راست ریکارڈ موجود ہوگا کہ ملازمین کہاں سفر کر رہے ہیں، کتنے دن اور ان کے قیام کی تفصیلات ایمرجنسی پیش آنے پر حاصل کر لیں۔۔ نگرانی نہ ہونے کی وجہ سے غیر منظم سفر کے عمل یا منفرد نظام سے کمپنیوں کو اعلی سطحی دیکھ بھال حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے۔

ملازمین کے سفر پر مکمل نمایاں ہو۔ اگر تمام ملازمین تنظیم کے منتخب کردہ ٹی ایم سی کے ذریعے بکنگ کر رہے ہیں، تو ملازمین کے سفر کو ظاہر کرنے کے لئے ڈیش بورڈز اور رپورٹس دستیاب ہوں۔ ایسا عمل تشکیل دینا، جو قابل عمل ، قابل رسائی معلومات میں اعداد و شمار کو ختم کردے تاکہ اس کا اطلاع اور اس پر عمل درآمد آسان ہوجائے۔  سفر کے نقشے سے لے کر سفر کی خبروں تک ، ٹریول مینیجر آسانی سے اپنے ملازمین سے رابطہ کرے اور جو بھی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے، اس کے متعلق متعلقہ اور ہمدردانہ ردعمل پیدا کرکے ، فوری فیصلے کرنے اور منصوبہ بندی کرنے میں سرگرم عمل ہوسکتا ہے۔

روابط کے فوری طریقوں تک آسان رسائی، بشمول دنیا میں جہاں بھی مسافر ہوں 24/7 کی سہولت ملازمین کے لئے ایک آسان ہو۔ ہمیشہ ویب پر مبنی رابطے کے طریقہ کار کی قدر کو بڑھاوا نہیں دیا جاسکتا۔ ٹائم زونز اور فرسودہ نظاموں کا مقابلہ کرنا، جو عالمی کاروبار کے لئے تیار نہیں کیا گیا ہے۔ جبکہ ملازمین کے لئے فیلڈ میں ہوتے وقت سب سے بری چیز ہے۔ عام سفر کے حالات کے دوران بھی یہ بات درست ہے، جب وہ اپنے سفر کو rebook کرنے کے لئے جدوجہد کرنے کے بجائے ہاتھ سے کام پر توجہ دینا چاہتے ہیں۔

(سبق نمبر ٣) جہاں چیزیں غلط ہوسکتی ہیں۔

یہاں بہت سارے معاملات ہیں، جو سڑک پر موجود ملازمین کی دیکھ بھال کے منصوبوں کو پٹری سے اتار سکتے ہیں۔ لیکن درج ذیل تین سب سے زیادہ عام اور موثر ہیں۔ تنظیمیں ان امکانی مشکلات کو مناسب طریقے سے حل کرنے کو یقینی بنانے کے لیے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کریں گی تاکہ جو بھی منصوبہ تیار کیا جائے، وہ ان کی پوری صلاحیتوں کے مطابق کام کر سکے۔

ناقص ڈیزائن ٹریول پروگرام اور بکنگ پلیٹ فارم، کارپوریٹ ٹریول پالیسیاں اور سسٹم، جو موثر سفر کی منصوبہ بندی میں آسانی پیدا کرنے کی بجائے رکاوٹ بنتی ہیں۔ ان سب کا ایک ہی اثر ہوتا ہے: وہ ملازمین کو مرکزی بکنگ سسٹم سے دور کردیتی ہیں۔ مزید یہ کہ  انہیں اس سے باہر بکنگ کی ترغیب دیتی ہیں۔ اس میں ٹریول مینجمنٹ کے قدیم حلوں کا استعمال بھی شامل ہے، جو ٹیکنالوجی اور ڈیٹا مینجمنٹ میں جدید ترین پیشرفتوں کا استعمال نہیں کرتے ہیں۔ اس حق کو حاصل کرنا ملازمین کی سفری نظر میں اضافہ کرنے کے قابل ہونے کا پہلا قدم ہے؛ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کسی بھی تبدیلی یا پریشانی کا فوری جواب دینے کے قابل ہوجائیں۔

پالیسی، پروٹوکول اور ہنگامی صورتحال کی صورت میں کیا ہوتا ہے، جس کے بارے میں شعور کا فقدان ہے۔ جب آپ کی دیکھ بھال کی ذمہ داری آتی ہے، تو آپ کی تنظیم کی قابل تعریف پالیسی ہوسکتی ہے لیکن اگر ملازمین کو مناسب طور پر بتایا نہیں جاتا ہے، تو یہ بہت کم کارگر ہوگی۔  کسی بھی خلل میں الجھتے ہوئے، ان کا جواب دینے کے بارے میں الجھنیں چاہے یہ ہوں کہ فلائٹ کنکشن سے چھوٹ گیا ہو یا شہری قرنطینہ میں پھنس گیا ہو۔ اس فیلڈ میں غلطیاں اور کمی محسوس کرسکتی ہے۔ یہ عام طور پر ٹھیک اسی وقت ہوتا ہے، جب فیصلے فوری طور پر کرنے پڑیں۔ مناسب تعلیم اور ملازمین کے لئے موثر مواصلات کا مطلب قابو سے ہٹ جانے والی صورتحال اور ملازم کو حفاظت تک پہنچانے کے درمیان فرق کا مطلب ہوسکتا ہے۔

ملازمین سچے احساسات سے اس شعبے میں معاونت نہیں کر رہے ہیں۔ جگہ پر دیکھ بھال کے اقدامات کے فرائض کے بغیر ، ملازمین روڈ پر غیر محفوظ اور غیر مددگار محسوس کرنے کا خطرہ مول لیتے ہیں۔ جس سے کاروبار کے تمام پہلوؤں پر نقصان دہ اثر پڑ سکتا ہے۔ حقیقی دنیا کی ایپلی کیشنز کے لئے پالیسی پر احتیاط سے غور کرنے کی ضرورت ہے؛ اور ملازمین کو جہاں کہیں بھی محفوظ و صحت مند رکھنے کے لئے حقیقی طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے۔  ہنگامی صورتحال کے لیے زیادہ مواصلاتی تیاری ، مفید ہنگامی رابطہ نمبروں کی یاددہانیوں کا اشتراک کریں۔  ملازم کے ٹریول انشورنس کا جائزہ لیں، جہاں ضروری حالات صحت سے متعلق مشورے جاری کریں۔ وہ ذیادہ خطرہ والے مقامات پر منظوری لینے کی ضرورت پر بھی آسکتا ہے۔ جس کا ملازم فرق بتاسکیں گے۔

حتمی سوچ۔

کاروباری سفر اسی طرح سے تھکاوٹ اور مشکلات کا باعث بن سکتی ہے، جس سے یہ جوش و خروش اور خوشگوار تجربات لا سکتا ہے۔ کمپنیوں کو یہ خیال ختم کرنے کی ضرورت ہے، بہت سے لوگوں کا یہ خیال ہے کہ کسی بھی کاروبار کا سفر مکمل طور پر ایک فائدہ مند ہے۔ حقیقت زیادہ تر معاملات میں دیکھا گیا ہے کہ اس کا مطلب ہے، زیادہ وقت، زیادہ علمی بوجھ ، اضافی تناؤ اور غیر یقینی صورتحال وجہ سے فیملی سے دور ہوتا ہے۔

کاروباری سفر کے ارد گرد وسیع خیالات اور توقعات حالیہ برسوں میں کافی حد تک تیار ہوئیں۔ اسی طرح ملازمین کی طرف سے بھی توقعات ہیں، جو توقع کرتے ہیں کہ حفاظت اور بہبود ان کی ملازمت کی زندگی کا ایک بنیادی حصہ ہوگی۔ خاص کر جب کمپنی کے لئے سفر کرتے ہوں، آپ کی تنظیم اعلی لوگوں کو راغب کرنا چاہتی ہے؛ اور وہ اعلی افراد کاروباری سفر کے لئے ایک نئے انداز کی توقع کرتے ہیں

اس کا مطلب ہے ٹریول مینجمنٹ کے لئے مستقل نقطہ نظر اپنانا ، یہ سمجھنا کہ زیادہ دیکھ بھال کی ذمہ داری کے پیچھے چلنے والی طاقت سفر کے دوران نمایاں اور یقینی بنانا ہے۔ یہ پروگرام ملازمین کی حفاظت کو ترجیح دیتا ہے اور مسافر کی بھلائی کو یقین دلا دیتا ہے کہ تیاری، مواصلات اور سہولت کے بنیادی ڈھانچے پر انحصار کرتا ہے۔

جدید ٹی ایم سی کمپنیاں ٹریول بکنگ، مینجمنٹ اور مواصلات  کے لئے مرکزی جگہ فراہم کرکے عالمی ہنگامی صورتحال کا جواب دینے میں مدد کرسکتی ہیں۔ یہ فعالیت ٹیموں کو قابل عمل انہضام کی شکل میں مسافروں اور سفر کے بارے میں مضبوط بصیرت کے ساتھ بحرانوں کی کوششوں کو بہتر بنانے ، تیز ردعمل کے اوقات اور مؤثر افعال کی سہولت فراہم کرتی ہے۔  جو آپ کے ملازمین کو ضرورت کے لمحات میں مدد کرسکتی ہے۔ دستاویزات کی منصوبہ بندی، تخلیق ایسی پالیسیاں لگاتی ہے، جو آرام دہ ، محفوظ اور محفوظ کاروباری تجربہ بناتی ہیں۔