Friday, November 27, 2020

پاکستانی اسماعیلی اور اسلام کو منسوخ کرنے کے تازہ اقدامات

پاکستانی اسماعیلی اور اسلام کو منسوخ کرنے کے تازہ اقدامات

امامت کا الوہی تصور توحید اور ختم نبوت دونوں کے بنیاد پر سب سے بڑی حملہ ھے. ایرانی شیعہ عالم رضا المظفر نے امامت کو نبوت کی برابر اور کئ امور میں نبوت سے برتر لکھا ھے. شاید اسلئے امامی مذاھب والے مشہور حدیث "کنت نبیا و آدم بین الماء والطین، میں نبی تھا آدم علیہ السلام پانی اور مٹی کے درمیان تھے" کے مقابلے میں علی کو ایک قول منسوب کیاھے کہ "کنت ولیا و آدم بین الماء و الطین، میں ولی تھا جب آدم علیہ السلام پانی و مٹی کے درمیان تھے". علی ابن ابی طالب تمام شیعہ فرقوں کے اولین امام ھیں اور ان کی یہ امامت منصوص من اللہ ھے.
اسماعیلی شیعہ فرقوں میں بارہ امامی یا اثنا عشری شیعوں کے بعد دوسری بڑی نمبر پر ہیں(شیعیت کا اولین امام علی ابن طالب ھے. امام جعفر صادق کے وفات پر شیعہ کئ فرقوں میں تقسیم ھوئے. اکثریت جعفر صادق کے بیٹ موسی کاظم کو امام مان کر امام حسن عسکری کے بیٹے اور بارہویں امام، امام مہدی پر امامت کے سلسلہ کو منقطع کرتے ہیں. جبکہ اسماعیلی امام جعفر صادق کے بڑے بیٹے امام اسماعیل سے ھوکے مزید کئی ایک فرقوں میں بٹ گئے جن میں آج سلیمانی بوہرے، داؤدی بوہرے اور نزاری یا آغاخانی اسماعیلی قابل ذکر ہیں. آغاخانی اسماعیلیوں کا انچاسویں امام پرنس کریم آغاخان ہیں) انتہاپسندی اور غلو میں رومن کیتھولک کے علاوہ شاید ہی دنیا میں کوئی مذہب اسماعیلیت کی نظیر ھوسکتی ھو. اسماعیلیت کی بنیاد رکھی گئی ایسے تصورات پر ہے جو اسلام کو منسوخ کرنے کے جارحانہ سعی ہے. ابتدائی اسماعیلی عقائد کے مطابق پیغمبر اور امام ایک ھی ھوتا تھا. تاھم امام کے دو قسمیں ھوتے تھے امام ناطق اور امام صامت، بولنے والا امام اور خاموش امام. آدم علیہ السلام امام ناطق تھے اسکے ساتھ شیث علیہ السلام امام صامت، موسی علیہ السلام امام ناطق تھے اور ھارون علیہ السلام امام صامت، عیسی علیہ السلام ناطق امام تھے اور یحییٰ علیہ السلام خاموش امام،حضرت محمد صلعم امام ناطق تھے اور حضرت علی امام صامت. تعجب خیز امر یہ ہے کہ اسماعیلی علم کلام میں بعض اشارے ایسے ہیں کہ امام صامت کا درجہ امام ناطق سے بلند ھوتا ھے. نزاری آغاخانی اسماعیلی عقائد میں امام خداوندی صفات سے بھی متصف ھوتا ھے بلکہ بعض اوقات میں خدا امام کے شکل میں بروز کرتا ھے. اوائل کے اسماعیلی ابوالخطاب الاسدی اور آبی سعید العجلی سے اسی طرح کے عقائد منسوب ہیں. پر اسرار اسماعیلی کتاب، "ام الکتاب" میں خدا امام باقر کے شکل میں جلوہ گر ھے. اسی دور کے عقائد اسلام کی تنسیخ کی اولین کوشش تھی.
اسلام کی تنسیخ کی دوسری کوشش اسماعیلی فرقہ قرامطہ کی تھی. بانی قرامطہ، حمدان قرمط کے بعد ابوسعید الجنابی نے موجودہ حفوف کے ساتھ الحساء میں قرمط ریاست کی بنیاد رکھی. اسے کے دوسرے بیٹے ابوطاھر الجنابی نے 929 میں خانہ کعبہ پر حملہ کیا. تمام حاجیوں کو تہہ تیغ کیا. حجر اسود کو اکھاڑ کر ریزہ ریزہ کیا اور عباسی خلیفہ مکتفی سے پیسے لیکر ایک پتھر 950 میں جامع مسجد کوفہ میں بوری میں بند کرکے چھوڑا کہ یہ حجر اسود ھے. مابعد کے اسماعیلی اس واقعہ سے اسماعیلی ائمہ کی برائت کے قائل ہیں. مگر مستشرقین کہتے ہیں کہ ابوطاھر قرمطی نے یہ سب کچھ اسماعیلی امام کی حکم پر کیا. اسلامی دنیا کے اولین جغرافیہ دان ابن حوقل نے لکھا ھے کہ اس نے حمدان قرمط کو بعد میں فاطمی خلیفہ کے دربار میں دیکھا. فاطمی خلفاء بیک وقت اسماعیلی امام بھی تھے. اسلام کو منسوخ کرنے کی سب سے بڑی اعلان موجودہ نزاری آغاخانی اسماعیلی سلسلے کے امام حسن علی ذکرہ السلام نے 17،رمضان، 559ھ/8 اگست 1164 کو کیا. حسن صباح کے وفات(1124) کے بعد کیابزرگ امید قلعہ الموط کے والی بنے. حسن بن صباح نے جانشین نہیں چھوڑے. تاھم کیا بزرگ امید نے اپنے بیٹے محمد بن بزرگ امید کو جانشین اور والی قلعہ الموط اور اسماعیلیوں کا داعی مقرر کیا. محمد بن بزرگ امید نے اپنے وفات(1162) پر اپنے بیٹے حسن کو اپنا جانشین اور نائب امام مقرر کیا. حسن کے وفات پر اس کے بیٹے نے دعوی کیا کہ ان کے والد حسن علی ذکرہ السلام، الموط کے چوتھے والی، محمد بن بزرگ امید کے فرزند اور نائب امام نہیں بلکہ خود اولاد فاطمہ سے تھے اور امام تھے.(موجودہ انچاسویں اسماعیلی امام کریم اغاخان چہارم اسی حسن کے اولاد ھونے کی دعوی گیر بھی ھے اور سید ھونے کے بھی. تاھم یہ موضوع پھر کبھی. مابعد کے اسماعیلیوں میں وہ امام حسن علی ذکرہ السلام کے نام سے شھرت پائے)
جانشینی کے وقت اس کی عمر 35 سال تھی. جانشینی کے ڈھائی سال بعد اس نے قلعہ الموط، قزوین میں ھر علاقے سے اسماعیلی داعی جمع کئے. 17 رمضان 559 ھجری مطابق 8 اگست 1164 اس نے قلعہ الموط کے سامنے میدان میں مغرب کے جانب ایک بڑی منبر نصب کی تھی جس کے چاروں طرف، چار رنگ کے سفید، سرخ، زرد اور سبز رنگ کے علم لگائے تھے. منبر کے سامنے رودبار اور دیلم، دائیں جانب خراسان اور قہستانی کے نزاری اسماعیلی ، اور بائیں جانب وسطی اور مرکزی ایران کے 'رفقاء' کے بیٹھنے کا انتظام کیا گیا تھا.
ظھر کے وقت، سفید لباس میں ملبوس، سفید پگڑی پہنے ھوئے امام حسن علی ذکرہ السلام قلعہ الموط سے نیچے اتر آئے اور منبر پر چڑھے. سامعین کو خوش آمدید و سلام کہا. پھر تھورے وقفے کیلئے منبر پر بیٹھ گئے. پھر کھڑے ھوئے اور اپنے تلوار ھاتھ میں لئے باواز بلند عربی میں خطبہ شروع کیا، جسے بقول رشید الدین فضل اللہ کے 'جامع التواریخ' کے فقیہہ محمد البستی بیک وقت فارسی گو سامعین کیلئے فارسی میں ترجمہ کرتے رھے. امام حسن نے کہا کہ ان کے الفاظ امام ھی کے الفاظ ہیں. امام نے اسکو اپنا داعئ اور حجت ھونے کیساتھ دینی، روحانی اور شرعی و دنیاوی امور میں اپنا مکمل باختیار خلیفہ بھی مقرر کیا ھے. اسلام اور اسلامی شریعت وقتی اور دورہ ستر کے تقاضے تھے. اب مزید ان کی ضرورت نہیں. جس طرح اسلام منسوخ ھوا اسطرح اسلامی احکامات بھی منسوخ ھیں. اب رمضان ھمیشہ کیلئے ختم. آج عید القیامہ منائی جائی گی. پھر منبر سے نیچے اترے. موجودہ اغاخان کے رشتہ دار، انسٹیٹیوٹ آف اسماعیلی سٹڈیز لندن کے اکیڈمک ڈائریکٹر اور اغاخان فیملی کے آفیشل منشی ڈاکٹر فرہاد دفتری کے مطابق
Then he invited the people to join him at a table which had been prepared for the breaking of their fast. Hasan declared the 'festival of the resurrection'(I'd-i qiyamat), and the people feasted and made merry.
امام حسن نے حاضرین کو انکے ساتھ کھانے کے لگائے گئے میز پر کھانے کی دعوت دی جو روزہ تھوڑے کی غرض سے تیار کی گئی تھی. حسن نے عید قیامت کا اعلان کیا. اسماعیلیوں نے عیش شروع کی.
دو مہینے بعد حج سے تھوری عرصہ پہلے مومن آباد، قہستان میں بھی یہی رسم ادا کی گئی. قہستانی نزاری اسماعیلیوں کے امیر رئیس مظفر کے توسط سے حسن علی ذکرہ السلام کی بھیجا گیا خطبہ پڑھایا گیا . جس میں حسن نے باقاعدہ اپنے آپ کو فرستاہ خدا اور نائب الہی کہا. یہی رسم شام کی اسماعیلیوں میں بھی دھرائی گئی. بقول ڈاکٹر دفتری یہ اسماعیلی تاریخ کی سب بڑھی مذھبی انقلاب تھی. The Concise Encyclopedia of Islam نے اسماعیلیوں پر اپنے آرٹیکل میں عید القیامہ کے حوالے سے لکھا ھے
In 559/1164, Hasan ala Zikrihi s Salam, by ritual repudiation of Islamic law which ceremonially put and end to the fast of Ramzan, proclaimed the Id Al Qiyamah, ushering in a new age in which there was no longer any need to cover the Assassin religion with the appearance of is and its religious law....
1164 میں حسن علی ذکرہ السلام نے رسما اسلامی شریعت کو رمضان کے ظاھری تنسیخ سے ختم کیا.
اسلام کی جدید تنسیخی تحریک کا آغاز، انگریزوں کے خفیہ حکم پر مسلم لیگ کی بنیاد رکھنے والے آغاخان سوم سلطان محمد شاہ نے کی جو انڈیا میں اپنے ھندوستانی پیروکاروں یعنی خوجوں کیلئے اسلام کوھندو قالب میں ڈالنا کا خواہاں تھا. سلطان محمد شاہ کی ان اقدامات کی تکمیل آج کل کراچی میں مقیم اسماعیلی طریقہ اینڈ ریلجیس ایجوکیشن بورڈ ITREB کے چیئرمین نزار میوہ والا اور واعظ رائے کمال الدین کر رہے ہیں. سلطان محمد شاہ نے پیش امام اور خطیب وغیرہ کے اصطلاحات ختم کرکے "جماعت خانہ"، "مکھی" اور "کامڑیا" کے اصطلاحات رائج کیے. پیغمبر اسلام کی مسنون سلام جس کا ذکر قران مجید میں ہیں کہ "لا تقل لمن القی الیک السلم لست مومنا" کے بجائے "یاعلی مدد" اور جوابا "مولی علی مدد" رائج کیا.(موجودہ اسماعیلی YAM اور جواب میں MAM لکھتے ہیں) امام کو ھر حال میں خدا بنانے کی ایک کوشش آغاخان سوم کے بھائی پیر شہاب الدین شاہ نے کی جس نے اپنے "رسالہ در حقیقت دین" میں امام کو خدا کا بروز لکھا. تقریباً عشرہ پہلے افریقہ کے ایک عدالت میں ایک اسماعیلی نے مقدمہ دائر کیا کہ
Imam is the manifestation of God on earth.
جیسا کہ اوپر ذکر ھوا امام کو خدا بنانے کی سب سے بڑی کوشش آجکل کراچی سے اسماعیلی طریقہ بورڈ سے کی جارہی ھے. طریقہ بورڈ کے سب سے وابستہ سب بڑے مبلغ رائے الواعظ رائے کمال الدین نے چار کتابیں لکھے ہیں: مناسک و مجالس، ھمارا اسماعیلی طریقہ، حاضر امام سے مدد مانگنا، اور کمال الدین اور زرینہ کمال کی آپ بیتی. مؤخر الذکر میں ایک جگیہ لکھتا ھے کہ میں اغاخان کے بچوں کو قرآن سکھا رہا تھا کہ اسکی بیٹی نے امام کے بارے میں پوچھا تو آغاخان کے بڑے بیٹے رحیم آغا خان نے جواب دیا کہ امام خدا کی طرف سے ھوتا ھے اور میں نے رحیم کی اس جوب پر تحسین کی. امام گناہ بخشتا ھے، حاضر وناظر ھے وغیرہ. کمال الدین صاب ساٹھ سال میں ریٹامنٹ کے بعد بھی پچاسی، نوے سال کی عمر میں طریقہ بورڈ سے وابستہ ہے. ظاھری طور پر اس کے عقائد کو شخصی بتانے والے بورڈ کے اتھارٹیز کے دروغ بیانی کے برعکس اس کے سی ڈیز جماعت خانوں میں دکھائے جاتے ہیں اور خود لاکھوں تنخواہ کیساتھ ایک ایک دورے پر لاکھوں خرچ کرتا ھے. طریقہ بورڈ کے نصابی کتابوں میں امام کو اوتار لکھا گیا ھے. قرآن کو باقاعدہ اسماعیلی عقائد سے ھٹانے کی سعی میں اسماعیلی طریقہ بورڈ کراچی نے کچھ عرصہ قبل ایک کتاب "نور مبین" شائع کیا تھا جسے اب دبایا گیا ھے جبکہ ایک دوسری اور اھم ترین کتاب جو موجودہ اسماعیلی فقہ کی بنیاد ھے "ھمارے رسومات" ھے جسے اسماعیلی کمیونٹی میں "گرین بک" کہا جاتا ھے. قرآن کی متبادل یہ کتاب حال میں رائج کتاب اسلام کو مکمل طور پر ھندو مذہبی سانچے میں ڈالنے کی کامل اور اختتامی اقدام ہے. خوجہ اسماعیلیوں کے برعکس شمالی علاقہ جات اور چترال کے اسماعیلی نوجوانوں میں ان اقدامات کے خلاف سخت بے چینی پائی جاتی ھے جو عنقریب ایک انقلاب کی شکل لانے والی ھے.
انہی باغی اسماعیلی نوجوانوں نے رائے کمال الدین کے گمراہ کن کتابوں کے علاوہ غیر اسماعیلی دنیا میں مکمل ممنوع "نور مبین" اور "گرین بک" راقم تک پہنچائے ہیں جن کو "ام الکتاب" کیساتھ راقم کے قلم سے مکمل شرح، مختصر اسماعیلی تاریخ اور عقائد کی تعارف کیساتھ چند ھفتوں میں لاھور سے شائع کیا جارہا ھے.
حوالہ جات: تاریخ جھانگشائے از عطا ملک جوینی
جامع التواریخ از رشید الدین فضل اللہ
The Ismailis, Their History and Doctrine by Farhad Daftari
Historical Dictionary of the Ismailis by Farhad Daftari
History of Ismailis by Mumataz Taj Din Sadik Ali
Encyclopedia of Islam by Brill(Edited by HAR Gibb)
The Concise Encyclopedia of Islam by Cyril Glasse

Sunday, November 22, 2020

Topics...

Jeeen kal par mat choro

https://www.express.pk/story/2104465/268/

America are on the destroy point.

https://www.express.pk/story/2104473/268/

70 years old conflict story of India and China

https://www.independenturdu.com/node/37401/میگزین/تاریخ/ہند-چین-تنازعے-کی-70-سالہ-کہانی

Loan and country's economy

https://dunya.com.pk/index.php/author/mian-imran-ahmad/2020-11-08/33034/28608310

New elected cabinet of US

https://dunya.com.pk/index.php/author/javed-hafiz/2020-11-23/33208/28857484

Sunday, November 8, 2020

پاکستان کےسینیئر صحافیوں کے رابطہ

پاکستان کےسینیئر صحافیوں کے رابطہ نمبر:
حامد میر
03018540449
طلعت حسین
03008509880
جاوید چوہدری
03008543103
مبشر لقمان
03008462364
ارشاد احمد عارف
03008457755
ضیا شاہد
03008455285
محمد عباس ساجد
03007617338
ندیم ابراہیم
03009282966
مبشر زیدی
03459749982
آفتاب اقبال
03008401075
صابر شاکر
03215560944
نصر اللہ ملک
03008408963
عبد اللہ طارق سہیل
03018414882
جنید سلیم
03008464067
مجیب الرحمن شامی
03008480636
عباس جعفر 
03005118698
خانزادہ تقی خان
03466667665
خالد جمیل
03008548884
حنیف خالد
03008550111
رانا قیصر
03008568341
ظفر عباس
03335159999
فہد حسین
03009866069
سیف اللہ خالد
03214425666
طاہر خان
03005276676
محسن رضا
03219000000
جاوید اقبال عنبر 
03017738616
سرور منیر راو
03008544447
کامران رحمت
03045125896
جاوید صادق
03008567611
سلمان مسعود
03008565962
نجم الحسن
03214883009
جمشید بٹ
03004339421
حافظ شفیق
03334297166              احمدیار جنجوعہ.             03008484288
فہد حسین
042358787007
محمد الیاس
03008429073

جاویدفخری
مرکزی صدر پی آئی ایم سی
03429200077
03139200077

03076008446
سجاد ضیا
03008459567
شاہد بشیر
03008656333
عابدحمید قریشی سرپرست چولستان پریس کلب رجسٹرڈ
03004311155by
عارف محمود قریشی 
03215429886
مہربان حسین چوہدری
03009523276
محمد امجد بٹ
03215442729

Tuesday, November 3, 2020

ہالویں...

یوروپ اور امریکہ سمیت دنیا کے مختلف ملکوں میں 31 اکتوبر کو زمین پر روحوں کی آمد کا دن کہا جاتا ہے۔ مغربی دنیا میں اس قدیم ثقافتی تہوار کو 'ہا لووین فیسٹیول' کے نام سے مناتے ہیں۔

تاریخ دانوں کا کہنا ہے ہالووین کا سراغ قبل از مسیح دور میں برطانیہ کے علاقے آئرلینڈ اور شمالی فرانس میں ملتا ہے جہاں سیلٹک قبائل ہر سال 31 اکتوبر کو یہ تہوار مناتے تھے۔ اس شب لوگ روحوں کو خوش کرنے کے لیےخود بھی ڈراونا بہروپ دھار لیتے ہیں۔

پاکستان میں بھی پچھلے کئی دہائیوں سے ہالوین کا تہوار پاکستانی سڑکوں پر منایا جا رہا ہے ۔ سب سے حاص بات یہ که ڈراونا بہروپ دھارنے کے لیے ان بد روحوں کو کسی میک اپ کی بھی ضرورت نہیں۔ انکا کوئی خاص دن بھی نہیں ہوتا جب مرضی ہو سڑکوں پر نکل اتے ہیں ۔ یہ لوگ ملک کے اندر اور باہر کرائے پر بھی دستیاب ہوتے ہیں۔

یہ لوگ اپنے ملک کے بجائے پیسے لیکر مسلم امہ کا ورد  کرتے اپنے مسلمان بھائیوں کو ہی کافر اور مرتد قرار دیتے ہیں غیر ملکی ایجنڈے پر چلتے ہوئے ملک میں فساد کرتے ہیں اور مذہب کی تشریخ اپنے طور سے کرتے ہیں۔ یہ میک اپ کے بغیر انتہائی خوفناک شکلوں کے مالک ہیں ۔ مذھب کے نام پر قتل اور تھوڑ پھوڑ انکے لئے عام  سی بات ہے ۔یہ بد روحیں کئی دہائیوں سے پاکستانی معاشرے کو یرغمال بنائے ہوئے ہیں۔

خاکے..

یاد رہے کہ طالبان کا رہنما بیت اللہ محسود   اپنے مخالفین کو قتل کرنے سے پہلے قرآنی آیات پڑھتا تھا، پھر احادیث پڑھتا تھا اور پھر ان کو لائن میں کھڑا کرکے گولی مارتا تھا۔

وہ بتاتا تھا کہ جو بھی اسلامی ریاست کو تسلیم نہیں کرتا قرآن و حدیث میں  اس کی سزا موت ہے۔

ابھی چند سال پہلے کی بات ہے سوات میں جو اسلامی حکومت کا مخالف  ہوتا تھا اس کی سر کٹی لاش چوک میں کئی دن تک لٹکائی جاتی تھی۔

سوشل میڈیا میں سب لوگ وہ ویڈیو دیکھ رہے ہیں جس میں جامعہ حفصہ کی طالبات کافر کا سر قلم کرنے کی پریکٹس کررہی ہیں۔
اب اگر فرانس والے خاکے بناتے ہیں تو ہم  ناراض کیوں ہوتے ہیں؟

Monday, November 2, 2020

TVرپورٹر فارمولا رپورٹ کیسے بناتے ہیں؟

ٹیلی وژن رپورٹر فارمولا رپورٹ کیسے بناتے ہیں؟
۔
اینکر کے پڑھنے کے لیے دو تعارفی جملے اور پھر خبر کے چار چھ جملے لکھے، دو تین لوگوں سے بات کی، کیمرے پر آکر دو جملے بولے، اپنا نام لیا، رپورٹ تیار۔

میں ایک ڈمی پیکج کا اسکرپٹ پیش کرتا ہوں۔
۔

تعارفی جملے (انٹرو یا او سی):

کراچی کی جاوید نہاری ملک بھر میں مشہور ہے۔ لوگ نہاری کھانے کے لیے شہر بھر سے یہاں آتے ہیں۔ عبدالشکور کی رپورٹ

رپورٹر کی آواز اور ریسٹورنٹ کی ویڈیو: یہ بِل جمع کرنے والوں کی قطار نہیں بلکہ لوگ نہاری کھانے کے لیے انتظار میں لگے ہوئے ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ جاوید کی نہاری نہیں کھائی تو کچھ نہ کھایا۔

ایک دو شہریوں کی گفتگو (ساٹ):

بہت مزے کی ہے۔
ہم ہر ہفتے یہاں آتے ہیں۔
مجھے نلی نہاری پسند ہے۔

رپورٹر کی آواز اور ریسٹورنٹ کے کچن کی ویڈیو:

جاوید نہاری کے مالک جاوید کا کہنا ہے کہ وہ نہاری بنانے کے لیے خالص مسالے استعمال کرتے ہیں اور نہاری بنانے کی خاص ترکیب استعمال کرتے ہیں۔

مالک کی گفتگو (ساٹ):

ہم حفظان صحت کا خیال رکھتے ہیں کیونکہ شہریوں کی صحت ہمیں پیاری ہے۔

رپورٹر کی آواز اور ریسٹورنٹ کی ویڈیو:

روزانہ سیکڑوں لوگ خاندان سمیت نہاری کھانے آتے ہیں۔

رپورٹر کیمرے کے سامنے (پی ٹی سی):

جاوید نہاری کراچی کی پہچان بن چکی ہے اور دوسرے شہروں سے آنے والے بھی یہاں کھانا پسند کرتے ہیں۔

کیمرامین عبدالغفور کے ساتھ عبدالشکور، پکوان نیوز، کراچی
۔

اسمارٹ فون کے دور میں مہنگے کیمرے لازم نہیں اور سٹیزن جرنلسٹ کے لیے لوگو والے مائیک کی ضرورت نہیں۔

اگر آپ کسی مسئلے یا واقعے یا دلچسپ موضوع پر ویڈیو رپورٹ بناکر بھیج سکتے ہیں، تو میں خوشی سے بے لاگ کی ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پر شئیر کروں گا۔

لوگوں سے بات کرنے کی ضرورت نہیں۔ ویڈیو ایڈٹ کرنے کی ضرورت نہیں۔ اپنے فون کیمرے سے تھوڑی سی ویڈیو بنالیں۔ دو منٹ کیمرے کے سامنے آکر تفصیل بتادیں۔

اس طرح یہ شکایت ختم ہوجائے گی کہ میڈیا ہر وقت سیاست اور سیاست دانوں کی کوریج کرتا ہے اور عوامی مسائل و معاملات پر کم توجہ دیتا ہے۔
میں اور آپ اربوں روپے سے قائم کیے گئے ٹی وی چینلوں سے بہتر کام کرسکتے ہیں۔

۔
مجھے 63 ہزار افراد فیس بک پر فالو کرتے ہیں اور سو لفظوں کی کہانی کے صفحے پر سوا تین لاکھ سے زیادہ فالوورز ہیں۔ پانچ دس بھی اچھے سٹیزن جرنلسٹس مل جائیں تو میڈیا کا رخ بدل سکتا ہے۔

Tuesday, October 27, 2020

Population Report From.Dunya News.

10گنجان ترین ممالک میں سے 4سب صحرائی خطے میں واقع ہوں گے ،امریکہ سے 11گنا کم رقبے کے حامل نائیجیریا کی آبادی امریکہ سے دگنی ہو سکتی ہے

دنیا کی آبادی 2100ء میں کم ہو کر 8.8ارب رہ جائے گی : عالمی سروے

50کروڑ نفوس کی کمی کے بعد چین کی آبادی ’محض‘ 78کروڑ رہ جائے گی

 2100ء میں اگرچہ ہم نہ ہوں گے ،لیکن دنیا میں ہونے والوں کی تعداد (اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق)11 ارب ہو جائے گی۔ 7.6ارب کی موجودہ آبادی میں تقریباََ3.40ارب نفوس کا اضافہ غیر متوقع طورپر ان خطوں میں ہونے والا ہے جو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں،عالمی رپورٹوں کی روشنی میں رواں صدی میں آبادی میں اضافے میں تبدیلیوں کا نیا رائونڈ شروع ہونے والا ہے۔اگلی صدی کے آغاز میں چین دنیا کا سب سے بڑا ملک نہیں رہے گا ،50کروڑ نفوس کی کمی کے بعد چین کی آبادی ’محض‘ 78کروڑ اور 21کروڑ نفوس کی کمی کے بعد انڈیا کی آبادی 1.09 ارب نفوس رہ جائے گی۔ چین سمیت کئی دوسرے ممالک کی آبادی میں کمی یا اضافے پر قابو پانے کے باعث انڈیا ہی آبادی کا بڑا مرکز قرار پائے گا۔ ایک رپورٹ کے مطابق انڈیا پہلے نمبر پر آجائے گاجبکہ ایک اور رپورٹ کے مطابق یہ دوسرے نمبر پر ہوگا ۔یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ انڈیا 2100ء تک کا انتظار نہیں کرے گا اور وہ 2027ء میں چین کو پیچھے چھوڑکر دنیا کا سب سے گنجان آباد ملک بن جائے گا۔نائیجیریا دوسرے اور چین 73.2 کرور نفوس کے ساتھ تیسرے نمبر پر آجائے گا۔ امریکہ چوتھے اور ہم یعنی پاکستان پانچویں نمبر پر ہوں گے۔ امریکہ کی آبادی میں 10.3کروڑ اور پاکستان کی آبادی میں 18.2کروڑ نفوس کا اضافہ ہو سکتا ہے۔

جہاں د یگر ممالک میں طاقت ور فیملی پلاننگ کے ذریعے آبادی میں اضافے پر کنٹرول کر لیا جائے گا وہیں افریقی ممالک میں آبادی کا جن ہر سماجی اور سیاسی اور معاشی ترقی کو گھن کی طرح چاٹ جائے گا۔امریکہ میں آبادی قدرے کنٹرول میں رہے گی، کینیڈااور آسٹریلیا میں آبادی معقول سطح پر برقرار رہنے کا امکان ہے، انڈونیشیاء اور پاکستان کی آبادی میں اضافے کی رفتار بھی غلط لگائی گئی تھی اضافہ توقع سے کم ہو رہا ہے، لہٰذا ڈیمو کریٹک ری پبلک آف کانگو اور ایتھوپیا ہمیں بھی پیچھے چھوڑ جائیں گے ۔
10گنجان ترین ممالک میں سے 4سب صحرائی خطے میں واقع ہوں گے ۔امریکہ سے 11گنا کم رقبے کے حامل نائیجیریا کی آبادی امریکہ سے دگنی ہو سکتی ہے۔ان رپورٹوں کا حیران کر دینے والا پہلو یہ ہے کہ کئی ممالک کی آبادی میں نہ صرف یہ کہ اضافہ نہیں گا، بلکہ چین اور بھارت سمیت کئی ممالک کی آبادی میں حیران کن طو ر پرکروڑوں افراد کی کمی ہوگی ، ایساکیسے ہو گا، ان رپورٹوں میں ذکر نہیں۔

اس وقت 7.6ارب افراد کی دنیا میں بلحاظ آبادی عالمی لیڈر چین ہے۔ انڈیا اورامریکہ اس کے پیچھے ہیں۔ہم بہت نیچے ہیں، لیکن 2100ء تک گنجان آباد ممالک بدل جائیں گے ،کہاجا رہا ہے کہ ایک تو کچھ ممالک میں آبادی میں اضافے کا تناسب درست نہیں لگایا گیا تھا ،اس لئے جن ممالک کی آبادی میں زیادہ اضافہ تجویز کیا گیا تھاہوسکتا ہے کہ ا ن ممالک میں اتنا اضافہ نہ ہو ، جبکہ جن ممالک کی آبادی میں کم اضافہ تجویز کیا گیا تھا اب ان ممالک کی آبادی میں زیادہ اضافے کی امید ظاہر کی گئی ہے۔

شرح پیدائش میں مسلسل کمی کے باوجود آبادی کی شرح نمو اس وقت بھی 1.9فیصد ہے۔جبکہ مجموعی طور پر ایک عورت 2.5بچوں کو جنم دیتی ہے۔یعنی خاندان کا مجموعی سائزایک شوہر، ایک ماں اور 2.5بچوں کے ساتھ 4.5نفوس ہوا ۔پاکستان میں یہ سائز 6 سے زیادہ ہے۔اقوام متحدہ کے مطابق 2100ء تک فی عورت1.9 بچوں کے باعث آبادی میں اضافے کی رفتارمیں کمی ہوگی ۔لانسٹ کے مطابق 183 ممالک میں فرٹیلیٹی ریٹ 2.1سے کم ہوگا، 65برس سے بڑی عمر کے افراد کی تعداد 2.37ارب اور 20سال سے کم عمر لڑکوں کی تعداد 1.7 ہوجائے گی۔

دنیا کے چار گنجان آبا دترین ملک 2100ء میں گنجان ترین ملک نہیں رہیں گے۔اس وقت برازیل، بنگلہ دیش ، روس اور میکسیکو دنیا کے 10گنجان ترین ممالک میں شمار ہوتے ہیں۔ 2100ء تک کانگو، ایتھوپیا، مصر اور تنزانیہ انہیں پیچھے چھوڑ دیں گے۔2100ء تک میکسیکو کی آبادی میں 10فیصد اضافے کا امکان ہے جبکہ برازیل کی آبادی میں15فیصد ،روس کی آبادی میں 14فیصد اور بنگلہ دیش کی آبادی میں 8فیصد کمی کا امکان ہے۔اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اسی عرصے میں کانگو میں آبادی میں اضافے کا تناسب تنزانیہ میں 378فیصد ،کانگو میں 304فیصد،ایتھوپیا میں156فیصداور مصر میں 120 فیصد رہنے کا امکان ہے۔عالمی آبادی میں نصف سے زیادہ اضافہ ان چھ افریقی ممالک (کانگو، مصر انگولہ، سوڈان،چاڈ اور نائیجریا)میں ہو گا۔ نائیجیریا میں 52.7 کروڑنفوس بڑھ جائیں گے۔لانسٹ کے مطابق نائیجیریا کی آبادی میں اضافہ اس سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے۔حالانکہ ترقی کے اشاریوں کے حوالے سے نائیجیریا 157 ممالک کی فہرست میں 152ویں نمبر پرہے۔

اس طرح افریقہ کی آبادی1.1ارب ہے، 2050ء تک دگنی ہو جائے گی۔80فیصد اضافہ شہروں میں ہو گا۔ McKinsey کی تحقیق کے مطابق 2025ء تک 100 افریقی شہروں کی آبادی 10لاکھ سے زیادہ ہو گی۔لاطینی امریکہ کے مقابلے میں یہ تعداد دگنی ہے۔

ایک اور اندازے کے مطابق نائیجر کی آبادی میں اضافے کا تناسب 581فیصد،انگولہ کی آبادی میں اضافے کا تناسب473 فیصد،تنزانیہ کی آبادی میں اضافے کا تناسب 378فیصد ہو سکتا ہے۔7افریقی ممالک (سائو تھ افریقہ، لیبیاء، تیونس ، الجیریا، بوٹسوانہ،مراکش اور کیپ وردے ) میں بچوں کی پیدائش فی عورت 2.37 ہو گی، یہ عالمی مجموعی تعداد کے برابر ہے۔ایسٹرن یورپی ممالک بھی آبادی میں کمی کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ البانیہ میں 62فیصد، سربیا میں52فیصد اور مولڈوویا اور بوسنیا ہرزی گوینا میں مجموعی طور پر 50 فیصد کمی ہو گی۔تھائی لینڈ، جاپان اور سپین سمیت 20یورپی ممالک کی آبادی نصف تک کم ہو سکتی ہے۔1950میں 4یورپی ممالک کی آبادی دنیامیں سب سے زیادہ تھی،2020ء میں ایک رہ جائے گی،جبکہ 2100ء میں ایک بھی یورپی ملک زیادہ آبادی والے ممالک میں شامل نہیں ہوگا۔

ایک اور عالمی سروے کے مطابق دنیا کی آبادی 2064ء میں 9.7 نفوس کے ساتھ انتہا پر ہوگی ،2100ء میں کمی کے ساتھ 8.8ارب رہ جائے گی۔کہا جا رہا ہے کہ قبل ازیں دنیا کی ممکنہ آبادی کے تخمینے درست نہ تھے اور متوقع آبادی 2ارب زیادہ بتائی گئی تھی۔ امریکی یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق ’’10گنجان ترین ممالک میں سے 5ممالک افریقہ میں ہو سکتے ہیں، جن میں نائیجریا،ایتھوپیا، تنزانیہ مصر اور کانگو شامل ہیں۔ 2094ء میں نائیجیریا دنیاکا دوسرا گنجان ترین ملک بن جائے گا ۔

کچھ ممالک اپنی آبادی پر قابو پا لیں گے،کچھ کی آبادی کم ہو جائے گی،کچھ ممالک دنیا کے گنجان ترین ممالک میں شمار ہونے لگیں گے ،بھوک و ننگ کا شکار ممالک کی آبادی تین چارگنا بڑھنے سے معیشت کو کسی ڈگر پر لانے کی تمام کوششیں ناکام ہو جائیں گی۔ان ڈیموگرافک تبدیلیوں کے خطے کی ترقی پرمنفی اور ناقابل اصلاح اثر ات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ذرا دیکھیے ،بعض افریقی ممالک کی آبادی میں تین گنا اضافے کے بعد وہاں غربت اور بے روزگاری کی کیفیت کیا ہو گی،،پہلے ہی افریقی ممالک مختلف طرح کے تنازعات اور مشکلات کاشکار ہیں ،آبادی میں بے ہنگم اضافہ خوفناک کشیدگی اور تصادم کا پیغام ہے ۔ 

واشنگٹن یونیورسٹی نے اپنی تحقیق میں اقوام متحدہ کی رپورٹ کو غلط قرار دیا ہے۔برطانوی جریدے ’’لانسٹ ‘‘ میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق ’’ہم نے ماضی میں کئی غلط تخمینے لگائے، عین ممکن ہے کہ انڈیا اور چین کی آبادی پہلے سے بتائے گئے اندازوں کے مطابق نہ ہو۔ رپورٹ کے مطابق آبادی میں اضافے کی ’Peak‘ اسی صدی کے وسط سے 2064ء تک میں آ سکتی ہے۔

1950ء میں گنجان ترین ممالک 

چین(آبادی 55.4کروڑ )، انڈیا(آبادی 37.6کروڑ )، امریکہ(آبادی15.9کروڑ )، روس(آبادی10.3 کروڑ)، جاپا ن (آبادی 8.3کروڑ ) ، جرمنی (آبادی 7کروڑ )، انڈو نیشیاء (آبادی 7کروڑ )، برازیل (آبادی 5.4کروڑ ) برطانیہ(آبادی 5.1کروڑ ) اور اٹلی (آبادی4.7کروڑ)

2100ء میں گنجان ترین ممالک

انڈیا(آبادی 1.45کروڑ )، چین(آبادی 1.065کروڑ ) ، نائجیریا(آبادی 73.3کروڑ )، امریکہ(آبادی 43.4 کروڑ )، 

پاکستان(آبادی 40.3کروڑ )، کانگو(آبادی 36.2 کروڑ )، انڈونیشیاء(آبادی 32.1کروڑ )، ایتھوپیا (آبادی 29.4 کروڑ ) ، تنزانیہ(آبادی 28.6کروڑ ) اور مصر (آبادی 22.5 کروڑ )(بحوالہ Statista)۔

بوڑھوں کی دنیا 

نئے اعداد و شمار میں کہا گیا ہے کہ دنیا بوڑھی ہونے والی ہے ،وہ وقت آنے والا ہے جب کئی ممالک میں بوڑھوں کی صحت پر اٹھنے والے اخراجات میں کئی گنا اضافے کا امکان ہے۔2100ء تک2.37ا رب باشندوں کی عمریں65 برس سے اوپرہوں گی۔70فیصد افریقیوں کی عمریں 30برس سے کم ہے۔ینگسٹرز کل آبادی کا 20فیصد ہیں۔یہ ورک فورس کا40 فیصد ہیں جبکہ بے روزگاروں میں ان کا تناسب 60 فیصد ہے۔60فیصد شہری آبادی بھی شہری سہولتوں سے محروم ہے۔2009سے 2015ء انفرا سٹرکچر پر اخراجات کا تناسب جی ڈی پی کے 2 فیصد رہا۔انڈیامیں5.2فیصد اور چین میں جی ڈی پی 8.8فیصد ہیں۔25سے 45 فیصد تک ورک فورس کوٹرانسپورٹ کی سہولت دستیاب نہیں۔ 

یونیورسٹی آ ف واشنگٹن کی تحقیق کے مطابق جوان آبادی والے ممالک میں فی کس آمدنی اور ترقی کی شرح نمو بوڑھے ممالک کی بہ نسبت اچھی ہے۔ ورکنگ کلاس جتنی زیادہ ہوگی ملک اتنا ہی ترقی کرے گا۔لیکن یہ کلیہ معلوم نہیں کیوں ہمارے اوپر فٹ نہیں بیٹھتا۔کیونکہ یہاں نوجوان آبادی کے تناسب سے فی کس آمدنی میں اضافہ دیکھنے میں نہیں آ رہا۔عالمی رپورٹ نے میرے دل کی بات کہہ دی۔ کسی بھی ملک میں نکمے لوگوں کے تناسب سے ترقی کی رفتار متاثر ہو گی، کام نہ کرنے والے نوجوان جتنے زیادہ ہوں گے ترقی کی رفتار اتنا ہی کم رہنے کا اندیشہ ہے۔
صحت عامہ کی بہترین سہولتوں کی فراہمی سے کئی ممالک اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ زندگی کی حفاظت کرنے میں کافی حد تک کامیاب ہوجائیں گے جس سے آلودگی اور انسان ہی کی پیدا کردہ بیماریوں اور پھیلائے گے وائرسوں سے مرنے والوں کی تعداد میں کمی ہو سکتی ہے۔

سنگاپور میں بوڑھوں کی آبادی اضافے کی رفتار دیگر ممالک سے کہیں زیادہ تیز ہے، جبکہ جاپان تو پہلے ہی بوڑھوں کا ملک کہلاتا ہے ،ان دونوں ممالک میں بوڑھوں کا تناسب کم و بیش 25 فیصدہے۔ان دونوں ممالک میں سگے بیٹے یا بیٹیا ں ساتھ دیں یا نہ دیں ،حکومت ہر عمر رسیدہ کا بازو تھامے ہوئے ہے ،کسی کو گرنے نہیں دیتی۔ ریٹائرمنٹ کے فوائد تو سب کے لئے ہیں ہی ، بزرگ نسل کے تحفظ کے مربوط پروگرامز الگ ہیں۔ان پروگراموں کی اکثر ممالک میں مثال نہیں ملتی۔انڈیا میں تو بالکل ہی نہیں ملتی۔ سرکاری سکیموں کے مثبت نتائج سے سب کے لئے سہولت پیداہوئی ہیں۔

بزرگوں کے سائے سے بہتر کوئی سایہ نہیں ،جس نوجوان کو یہ مل گیا اس کی زندگی بن گئی۔مگر کیا کریں، مغربی اقدار کے مارے ہمارے کچھ ساتھی یہ بھول رہے ہیں کہ والدین نے ہمارے لئے اپنی عمر گنوا دی دن کا چین دیکھا نہ رات کی نیند،پھر شادی کے بندھن کی خواہش بھی پوری کی۔ صد حیف، شادی کے بعد نوجوانوں میں ایک اور خواہش بھی سر اٹھاتی ہے ۔۔۔’’ہم الگ گھر میں رہیں گے ،ہماری بھی آخر کوئی پرائیویسی ہے‘‘۔وہ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ان کے والدین کی بھی کوئی پرائیویسی تھی جو بچوں کی اچھی تربیت اور آرام کی خاطر ’بھاڑ‘ میں گئی۔اس روئیے سے بزرگوں کی تنہائی نے جنم لیا ہے۔وہ تنہا ہیں، اکیلے پڑ گئے ہیں ،ان کی باتیں سننے ، ان سے کچھ کہنے والا بھری دنیامیں ایک بھی نہیں۔جاپان ، سنگاپور،آسٹریلیا، برطانیہ اور جرمنی سمیت کئی ممالک میں حکومت ہے نا! ان ممالک نے تنہائی دور کرنے کا بندوبست بھی کیا ہے۔

مہارت کا مستقبل (SkillsFuture)

83 برس کی اوسط عمر کے ساتھ سنگاپور تیزی سے بوڑھا ہو رہا ہے۔عمر سیدہ مگر تجربہ کار بزرگوں کو تنہا نہیں چھوڑا۔درجنوں سکیمیں ان کے ذہنی اور جسامانی تحفظ کے لئے بنائی گئی ہیں کسی بھی خامی کی صورت میں فوری اصلاح کر لی جاتی ہے۔وہاں پالیسی اور ادارے انسانوں کے لئے ہیں، انسانوں کو اداروں اور ان کے بنائے گئے ڈھانچے میں فٹ کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی۔یہ مت سوچیے کہ سنگاپور حکومت کا سارا دھیان بزرگوں کی بہبود پر ہے وہ نوجوانوں سے بھی غافل نہیں ،’ مہارت کا مستقبل ‘ (SkillsFuture)نامی سکیم کے تحت فنی تربیت حاصل کرنے کے لئے 25سے اوپر کے ہر نوجوان کو500ڈالر دیئے جاتے ہیں۔یہ پروگرام 2014ء سے نافذ ہے۔حکومت 500ڈالر دینے کے بعد بھی نہیں بھولتی، جب تک نوجوان برسر روز گار نہیں ہوتا وہ کوئی نہ کوئی سہولت دیتی رہتی ہے۔ سنگاپور کی یونیورسٹیا ں ہر نوجوان کا ہاتھ تھام لیتی ہیں اور پھر تعلیم و تربیت کا سفر زندگی بھر جاری رہتا ہے۔اس کا کوئی ا نجام نہیں۔سنگاپور نیشنل یونیورسٹی کی ایلومینائی میٹرک کرنے کے بعد 20سال تک نوجوان کاساتھ دیتی ہے۔ہر موڑ پر پڑنے والی ضرورت کے مطابق ایلو مینائی کورسز کا بندوبست کرتی رہتی ہے، جہاں بھی کسی شعبے میں بے روزگاری پید اہوئی وہیں نیا کورس شروع۔نئے تقاضوں کے مطابق تربیتی کورسز شروع کرنے میں سنگاپور یونیورسٹی آف سوشل سائنسز کو بھی نہ بھولیے، ایلومینائی کو مالی تنگی سے بچانے کے لئے دل کھول کر فنڈز مہیا کرتی ہے۔ 

بزرگوں کاجاپان 

جاپان میں اس وقت 25فیصد آبادی 65 برس سے زیادہ بوڑھی ہے۔2060 ء میں یہ تناسب 40فیصد سے تجاوز کر جائے گا۔ جاپان میں ورک فورس کی کمی اور پنشن بم کابروقت تدارک نہ کرنے سے وہاں مالی مسائل رونما ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ جاپانی معیشت پنشن کے بوجھ تلے دبتی جا رہی ہے۔ جاپان نے 2000 میں جامع ’’Long-Term Care Insurance‘‘ سکیم جار ی کی تھی، اسے دنیا کی بہترین انشورنس سکیم مانا جاتا ہے۔ہر بزرگ کو اس کی مرضی کا پلان مل جاتا ہے،اس کے تحت حکومت گراسری کی خرید و فروخت تک میں مدد دیتی ہے۔2011ء میں مزید ترامیم کے بعد اسے صحت عامہ کے حوالے سے بھی بہترین سکیم بنا دیا گیا ہے۔ بزرگوں کو سہولت دینے والے آلات تیار کرنے والی کمپنیوں کو فنڈز دیئے جارہے ہیں۔بوڑھوں کی مدد کرنے والے روبوٹس اور سیل تھیرپیز کی تحقیق سے بھی غافل نہیں ہے۔

افریقی ممالک میں سرمائے کی کمی 

افریقی ممالک کو انفرا سٹرکچر کے مسائل سے نمٹنے کے لئے 130ارب ڈالر سے170ارب ڈالر تک سالانہ درکار ہیں۔جبکہ اس وقت بھی اس خطے کو 68سے 108ارب ڈالر تک کی کمی کا سامنا ہے۔

عالمی بینک کی رپورٹ کے کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ افریقی ممالک مہنگائی کا گڑھ ہیں۔افریقی شہر اپنے برابر انکم والے شہروں سے 29فیصد مہنگے ہیں۔دیگر ممالک کے مقابلے میں ٹرانسپورٹ پر دگنے،ہائوسنگ پر 55فیصد زیادہ خوراک پر 35فیصد اضافی اخراجات کرنا پڑتے ہیں۔

https://jang.com.pk/news/826748?_ga=2.11488372.1700535485.1601455516-1148464595.1571042196