یاد رہے کہ طالبان کا رہنما بیت اللہ محسود اپنے مخالفین کو قتل کرنے سے پہلے قرآنی آیات پڑھتا تھا، پھر احادیث پڑھتا تھا اور پھر ان کو لائن میں کھڑا کرکے گولی مارتا تھا۔
وہ بتاتا تھا کہ جو بھی اسلامی ریاست کو تسلیم نہیں کرتا قرآن و حدیث میں اس کی سزا موت ہے۔
ابھی چند سال پہلے کی بات ہے سوات میں جو اسلامی حکومت کا مخالف ہوتا تھا اس کی سر کٹی لاش چوک میں کئی دن تک لٹکائی جاتی تھی۔
سوشل میڈیا میں سب لوگ وہ ویڈیو دیکھ رہے ہیں جس میں جامعہ حفصہ کی طالبات کافر کا سر قلم کرنے کی پریکٹس کررہی ہیں۔
اب اگر فرانس والے خاکے بناتے ہیں تو ہم ناراض کیوں ہوتے ہیں؟
No comments:
Post a Comment