Tuesday, November 3, 2020

ہالویں...

یوروپ اور امریکہ سمیت دنیا کے مختلف ملکوں میں 31 اکتوبر کو زمین پر روحوں کی آمد کا دن کہا جاتا ہے۔ مغربی دنیا میں اس قدیم ثقافتی تہوار کو 'ہا لووین فیسٹیول' کے نام سے مناتے ہیں۔

تاریخ دانوں کا کہنا ہے ہالووین کا سراغ قبل از مسیح دور میں برطانیہ کے علاقے آئرلینڈ اور شمالی فرانس میں ملتا ہے جہاں سیلٹک قبائل ہر سال 31 اکتوبر کو یہ تہوار مناتے تھے۔ اس شب لوگ روحوں کو خوش کرنے کے لیےخود بھی ڈراونا بہروپ دھار لیتے ہیں۔

پاکستان میں بھی پچھلے کئی دہائیوں سے ہالوین کا تہوار پاکستانی سڑکوں پر منایا جا رہا ہے ۔ سب سے حاص بات یہ که ڈراونا بہروپ دھارنے کے لیے ان بد روحوں کو کسی میک اپ کی بھی ضرورت نہیں۔ انکا کوئی خاص دن بھی نہیں ہوتا جب مرضی ہو سڑکوں پر نکل اتے ہیں ۔ یہ لوگ ملک کے اندر اور باہر کرائے پر بھی دستیاب ہوتے ہیں۔

یہ لوگ اپنے ملک کے بجائے پیسے لیکر مسلم امہ کا ورد  کرتے اپنے مسلمان بھائیوں کو ہی کافر اور مرتد قرار دیتے ہیں غیر ملکی ایجنڈے پر چلتے ہوئے ملک میں فساد کرتے ہیں اور مذہب کی تشریخ اپنے طور سے کرتے ہیں۔ یہ میک اپ کے بغیر انتہائی خوفناک شکلوں کے مالک ہیں ۔ مذھب کے نام پر قتل اور تھوڑ پھوڑ انکے لئے عام  سی بات ہے ۔یہ بد روحیں کئی دہائیوں سے پاکستانی معاشرے کو یرغمال بنائے ہوئے ہیں۔

No comments:

Post a Comment