10گنجان ترین ممالک میں سے 4سب صحرائی خطے میں واقع ہوں گے ،امریکہ سے 11گنا کم رقبے کے حامل نائیجیریا کی آبادی امریکہ سے دگنی ہو سکتی ہے
دنیا کی آبادی 2100ء میں کم ہو کر 8.8ارب رہ جائے گی : عالمی سروے
50کروڑ نفوس کی کمی کے بعد چین کی آبادی ’محض‘ 78کروڑ رہ جائے گی
2100ء میں اگرچہ ہم نہ ہوں گے ،لیکن دنیا میں ہونے والوں کی تعداد (اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق)11 ارب ہو جائے گی۔ 7.6ارب کی موجودہ آبادی میں تقریباََ3.40ارب نفوس کا اضافہ غیر متوقع طورپر ان خطوں میں ہونے والا ہے جو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں،عالمی رپورٹوں کی روشنی میں رواں صدی میں آبادی میں اضافے میں تبدیلیوں کا نیا رائونڈ شروع ہونے والا ہے۔اگلی صدی کے آغاز میں چین دنیا کا سب سے بڑا ملک نہیں رہے گا ،50کروڑ نفوس کی کمی کے بعد چین کی آبادی ’محض‘ 78کروڑ اور 21کروڑ نفوس کی کمی کے بعد انڈیا کی آبادی 1.09 ارب نفوس رہ جائے گی۔ چین سمیت کئی دوسرے ممالک کی آبادی میں کمی یا اضافے پر قابو پانے کے باعث انڈیا ہی آبادی کا بڑا مرکز قرار پائے گا۔ ایک رپورٹ کے مطابق انڈیا پہلے نمبر پر آجائے گاجبکہ ایک اور رپورٹ کے مطابق یہ دوسرے نمبر پر ہوگا ۔یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ انڈیا 2100ء تک کا انتظار نہیں کرے گا اور وہ 2027ء میں چین کو پیچھے چھوڑکر دنیا کا سب سے گنجان آباد ملک بن جائے گا۔نائیجیریا دوسرے اور چین 73.2 کرور نفوس کے ساتھ تیسرے نمبر پر آجائے گا۔ امریکہ چوتھے اور ہم یعنی پاکستان پانچویں نمبر پر ہوں گے۔ امریکہ کی آبادی میں 10.3کروڑ اور پاکستان کی آبادی میں 18.2کروڑ نفوس کا اضافہ ہو سکتا ہے۔
جہاں د یگر ممالک میں طاقت ور فیملی پلاننگ کے ذریعے آبادی میں اضافے پر کنٹرول کر لیا جائے گا وہیں افریقی ممالک میں آبادی کا جن ہر سماجی اور سیاسی اور معاشی ترقی کو گھن کی طرح چاٹ جائے گا۔امریکہ میں آبادی قدرے کنٹرول میں رہے گی، کینیڈااور آسٹریلیا میں آبادی معقول سطح پر برقرار رہنے کا امکان ہے، انڈونیشیاء اور پاکستان کی آبادی میں اضافے کی رفتار بھی غلط لگائی گئی تھی اضافہ توقع سے کم ہو رہا ہے، لہٰذا ڈیمو کریٹک ری پبلک آف کانگو اور ایتھوپیا ہمیں بھی پیچھے چھوڑ جائیں گے ۔
10گنجان ترین ممالک میں سے 4سب صحرائی خطے میں واقع ہوں گے ۔امریکہ سے 11گنا کم رقبے کے حامل نائیجیریا کی آبادی امریکہ سے دگنی ہو سکتی ہے۔ان رپورٹوں کا حیران کر دینے والا پہلو یہ ہے کہ کئی ممالک کی آبادی میں نہ صرف یہ کہ اضافہ نہیں گا، بلکہ چین اور بھارت سمیت کئی ممالک کی آبادی میں حیران کن طو ر پرکروڑوں افراد کی کمی ہوگی ، ایساکیسے ہو گا، ان رپورٹوں میں ذکر نہیں۔
اس وقت 7.6ارب افراد کی دنیا میں بلحاظ آبادی عالمی لیڈر چین ہے۔ انڈیا اورامریکہ اس کے پیچھے ہیں۔ہم بہت نیچے ہیں، لیکن 2100ء تک گنجان آباد ممالک بدل جائیں گے ،کہاجا رہا ہے کہ ایک تو کچھ ممالک میں آبادی میں اضافے کا تناسب درست نہیں لگایا گیا تھا ،اس لئے جن ممالک کی آبادی میں زیادہ اضافہ تجویز کیا گیا تھاہوسکتا ہے کہ ا ن ممالک میں اتنا اضافہ نہ ہو ، جبکہ جن ممالک کی آبادی میں کم اضافہ تجویز کیا گیا تھا اب ان ممالک کی آبادی میں زیادہ اضافے کی امید ظاہر کی گئی ہے۔
شرح پیدائش میں مسلسل کمی کے باوجود آبادی کی شرح نمو اس وقت بھی 1.9فیصد ہے۔جبکہ مجموعی طور پر ایک عورت 2.5بچوں کو جنم دیتی ہے۔یعنی خاندان کا مجموعی سائزایک شوہر، ایک ماں اور 2.5بچوں کے ساتھ 4.5نفوس ہوا ۔پاکستان میں یہ سائز 6 سے زیادہ ہے۔اقوام متحدہ کے مطابق 2100ء تک فی عورت1.9 بچوں کے باعث آبادی میں اضافے کی رفتارمیں کمی ہوگی ۔لانسٹ کے مطابق 183 ممالک میں فرٹیلیٹی ریٹ 2.1سے کم ہوگا، 65برس سے بڑی عمر کے افراد کی تعداد 2.37ارب اور 20سال سے کم عمر لڑکوں کی تعداد 1.7 ہوجائے گی۔
دنیا کے چار گنجان آبا دترین ملک 2100ء میں گنجان ترین ملک نہیں رہیں گے۔اس وقت برازیل، بنگلہ دیش ، روس اور میکسیکو دنیا کے 10گنجان ترین ممالک میں شمار ہوتے ہیں۔ 2100ء تک کانگو، ایتھوپیا، مصر اور تنزانیہ انہیں پیچھے چھوڑ دیں گے۔2100ء تک میکسیکو کی آبادی میں 10فیصد اضافے کا امکان ہے جبکہ برازیل کی آبادی میں15فیصد ،روس کی آبادی میں 14فیصد اور بنگلہ دیش کی آبادی میں 8فیصد کمی کا امکان ہے۔اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اسی عرصے میں کانگو میں آبادی میں اضافے کا تناسب تنزانیہ میں 378فیصد ،کانگو میں 304فیصد،ایتھوپیا میں156فیصداور مصر میں 120 فیصد رہنے کا امکان ہے۔عالمی آبادی میں نصف سے زیادہ اضافہ ان چھ افریقی ممالک (کانگو، مصر انگولہ، سوڈان،چاڈ اور نائیجریا)میں ہو گا۔ نائیجیریا میں 52.7 کروڑنفوس بڑھ جائیں گے۔لانسٹ کے مطابق نائیجیریا کی آبادی میں اضافہ اس سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے۔حالانکہ ترقی کے اشاریوں کے حوالے سے نائیجیریا 157 ممالک کی فہرست میں 152ویں نمبر پرہے۔
اس طرح افریقہ کی آبادی1.1ارب ہے، 2050ء تک دگنی ہو جائے گی۔80فیصد اضافہ شہروں میں ہو گا۔ McKinsey کی تحقیق کے مطابق 2025ء تک 100 افریقی شہروں کی آبادی 10لاکھ سے زیادہ ہو گی۔لاطینی امریکہ کے مقابلے میں یہ تعداد دگنی ہے۔
ایک اور اندازے کے مطابق نائیجر کی آبادی میں اضافے کا تناسب 581فیصد،انگولہ کی آبادی میں اضافے کا تناسب473 فیصد،تنزانیہ کی آبادی میں اضافے کا تناسب 378فیصد ہو سکتا ہے۔7افریقی ممالک (سائو تھ افریقہ، لیبیاء، تیونس ، الجیریا، بوٹسوانہ،مراکش اور کیپ وردے ) میں بچوں کی پیدائش فی عورت 2.37 ہو گی، یہ عالمی مجموعی تعداد کے برابر ہے۔ایسٹرن یورپی ممالک بھی آبادی میں کمی کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ البانیہ میں 62فیصد، سربیا میں52فیصد اور مولڈوویا اور بوسنیا ہرزی گوینا میں مجموعی طور پر 50 فیصد کمی ہو گی۔تھائی لینڈ، جاپان اور سپین سمیت 20یورپی ممالک کی آبادی نصف تک کم ہو سکتی ہے۔1950میں 4یورپی ممالک کی آبادی دنیامیں سب سے زیادہ تھی،2020ء میں ایک رہ جائے گی،جبکہ 2100ء میں ایک بھی یورپی ملک زیادہ آبادی والے ممالک میں شامل نہیں ہوگا۔
ایک اور عالمی سروے کے مطابق دنیا کی آبادی 2064ء میں 9.7 نفوس کے ساتھ انتہا پر ہوگی ،2100ء میں کمی کے ساتھ 8.8ارب رہ جائے گی۔کہا جا رہا ہے کہ قبل ازیں دنیا کی ممکنہ آبادی کے تخمینے درست نہ تھے اور متوقع آبادی 2ارب زیادہ بتائی گئی تھی۔ امریکی یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق ’’10گنجان ترین ممالک میں سے 5ممالک افریقہ میں ہو سکتے ہیں، جن میں نائیجریا،ایتھوپیا، تنزانیہ مصر اور کانگو شامل ہیں۔ 2094ء میں نائیجیریا دنیاکا دوسرا گنجان ترین ملک بن جائے گا ۔
کچھ ممالک اپنی آبادی پر قابو پا لیں گے،کچھ کی آبادی کم ہو جائے گی،کچھ ممالک دنیا کے گنجان ترین ممالک میں شمار ہونے لگیں گے ،بھوک و ننگ کا شکار ممالک کی آبادی تین چارگنا بڑھنے سے معیشت کو کسی ڈگر پر لانے کی تمام کوششیں ناکام ہو جائیں گی۔ان ڈیموگرافک تبدیلیوں کے خطے کی ترقی پرمنفی اور ناقابل اصلاح اثر ات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ذرا دیکھیے ،بعض افریقی ممالک کی آبادی میں تین گنا اضافے کے بعد وہاں غربت اور بے روزگاری کی کیفیت کیا ہو گی،،پہلے ہی افریقی ممالک مختلف طرح کے تنازعات اور مشکلات کاشکار ہیں ،آبادی میں بے ہنگم اضافہ خوفناک کشیدگی اور تصادم کا پیغام ہے ۔
واشنگٹن یونیورسٹی نے اپنی تحقیق میں اقوام متحدہ کی رپورٹ کو غلط قرار دیا ہے۔برطانوی جریدے ’’لانسٹ ‘‘ میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق ’’ہم نے ماضی میں کئی غلط تخمینے لگائے، عین ممکن ہے کہ انڈیا اور چین کی آبادی پہلے سے بتائے گئے اندازوں کے مطابق نہ ہو۔ رپورٹ کے مطابق آبادی میں اضافے کی ’Peak‘ اسی صدی کے وسط سے 2064ء تک میں آ سکتی ہے۔
1950ء میں گنجان ترین ممالک
چین(آبادی 55.4کروڑ )، انڈیا(آبادی 37.6کروڑ )، امریکہ(آبادی15.9کروڑ )، روس(آبادی10.3 کروڑ)، جاپا ن (آبادی 8.3کروڑ ) ، جرمنی (آبادی 7کروڑ )، انڈو نیشیاء (آبادی 7کروڑ )، برازیل (آبادی 5.4کروڑ ) برطانیہ(آبادی 5.1کروڑ ) اور اٹلی (آبادی4.7کروڑ)
2100ء میں گنجان ترین ممالک
انڈیا(آبادی 1.45کروڑ )، چین(آبادی 1.065کروڑ ) ، نائجیریا(آبادی 73.3کروڑ )، امریکہ(آبادی 43.4 کروڑ )،
پاکستان(آبادی 40.3کروڑ )، کانگو(آبادی 36.2 کروڑ )، انڈونیشیاء(آبادی 32.1کروڑ )، ایتھوپیا (آبادی 29.4 کروڑ ) ، تنزانیہ(آبادی 28.6کروڑ ) اور مصر (آبادی 22.5 کروڑ )(بحوالہ Statista)۔
بوڑھوں کی دنیا
نئے اعداد و شمار میں کہا گیا ہے کہ دنیا بوڑھی ہونے والی ہے ،وہ وقت آنے والا ہے جب کئی ممالک میں بوڑھوں کی صحت پر اٹھنے والے اخراجات میں کئی گنا اضافے کا امکان ہے۔2100ء تک2.37ا رب باشندوں کی عمریں65 برس سے اوپرہوں گی۔70فیصد افریقیوں کی عمریں 30برس سے کم ہے۔ینگسٹرز کل آبادی کا 20فیصد ہیں۔یہ ورک فورس کا40 فیصد ہیں جبکہ بے روزگاروں میں ان کا تناسب 60 فیصد ہے۔60فیصد شہری آبادی بھی شہری سہولتوں سے محروم ہے۔2009سے 2015ء انفرا سٹرکچر پر اخراجات کا تناسب جی ڈی پی کے 2 فیصد رہا۔انڈیامیں5.2فیصد اور چین میں جی ڈی پی 8.8فیصد ہیں۔25سے 45 فیصد تک ورک فورس کوٹرانسپورٹ کی سہولت دستیاب نہیں۔
یونیورسٹی آ ف واشنگٹن کی تحقیق کے مطابق جوان آبادی والے ممالک میں فی کس آمدنی اور ترقی کی شرح نمو بوڑھے ممالک کی بہ نسبت اچھی ہے۔ ورکنگ کلاس جتنی زیادہ ہوگی ملک اتنا ہی ترقی کرے گا۔لیکن یہ کلیہ معلوم نہیں کیوں ہمارے اوپر فٹ نہیں بیٹھتا۔کیونکہ یہاں نوجوان آبادی کے تناسب سے فی کس آمدنی میں اضافہ دیکھنے میں نہیں آ رہا۔عالمی رپورٹ نے میرے دل کی بات کہہ دی۔ کسی بھی ملک میں نکمے لوگوں کے تناسب سے ترقی کی رفتار متاثر ہو گی، کام نہ کرنے والے نوجوان جتنے زیادہ ہوں گے ترقی کی رفتار اتنا ہی کم رہنے کا اندیشہ ہے۔
صحت عامہ کی بہترین سہولتوں کی فراہمی سے کئی ممالک اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ زندگی کی حفاظت کرنے میں کافی حد تک کامیاب ہوجائیں گے جس سے آلودگی اور انسان ہی کی پیدا کردہ بیماریوں اور پھیلائے گے وائرسوں سے مرنے والوں کی تعداد میں کمی ہو سکتی ہے۔
سنگاپور میں بوڑھوں کی آبادی اضافے کی رفتار دیگر ممالک سے کہیں زیادہ تیز ہے، جبکہ جاپان تو پہلے ہی بوڑھوں کا ملک کہلاتا ہے ،ان دونوں ممالک میں بوڑھوں کا تناسب کم و بیش 25 فیصدہے۔ان دونوں ممالک میں سگے بیٹے یا بیٹیا ں ساتھ دیں یا نہ دیں ،حکومت ہر عمر رسیدہ کا بازو تھامے ہوئے ہے ،کسی کو گرنے نہیں دیتی۔ ریٹائرمنٹ کے فوائد تو سب کے لئے ہیں ہی ، بزرگ نسل کے تحفظ کے مربوط پروگرامز الگ ہیں۔ان پروگراموں کی اکثر ممالک میں مثال نہیں ملتی۔انڈیا میں تو بالکل ہی نہیں ملتی۔ سرکاری سکیموں کے مثبت نتائج سے سب کے لئے سہولت پیداہوئی ہیں۔
بزرگوں کے سائے سے بہتر کوئی سایہ نہیں ،جس نوجوان کو یہ مل گیا اس کی زندگی بن گئی۔مگر کیا کریں، مغربی اقدار کے مارے ہمارے کچھ ساتھی یہ بھول رہے ہیں کہ والدین نے ہمارے لئے اپنی عمر گنوا دی دن کا چین دیکھا نہ رات کی نیند،پھر شادی کے بندھن کی خواہش بھی پوری کی۔ صد حیف، شادی کے بعد نوجوانوں میں ایک اور خواہش بھی سر اٹھاتی ہے ۔۔۔’’ہم الگ گھر میں رہیں گے ،ہماری بھی آخر کوئی پرائیویسی ہے‘‘۔وہ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ان کے والدین کی بھی کوئی پرائیویسی تھی جو بچوں کی اچھی تربیت اور آرام کی خاطر ’بھاڑ‘ میں گئی۔اس روئیے سے بزرگوں کی تنہائی نے جنم لیا ہے۔وہ تنہا ہیں، اکیلے پڑ گئے ہیں ،ان کی باتیں سننے ، ان سے کچھ کہنے والا بھری دنیامیں ایک بھی نہیں۔جاپان ، سنگاپور،آسٹریلیا، برطانیہ اور جرمنی سمیت کئی ممالک میں حکومت ہے نا! ان ممالک نے تنہائی دور کرنے کا بندوبست بھی کیا ہے۔
مہارت کا مستقبل (SkillsFuture)
83 برس کی اوسط عمر کے ساتھ سنگاپور تیزی سے بوڑھا ہو رہا ہے۔عمر سیدہ مگر تجربہ کار بزرگوں کو تنہا نہیں چھوڑا۔درجنوں سکیمیں ان کے ذہنی اور جسامانی تحفظ کے لئے بنائی گئی ہیں کسی بھی خامی کی صورت میں فوری اصلاح کر لی جاتی ہے۔وہاں پالیسی اور ادارے انسانوں کے لئے ہیں، انسانوں کو اداروں اور ان کے بنائے گئے ڈھانچے میں فٹ کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی۔یہ مت سوچیے کہ سنگاپور حکومت کا سارا دھیان بزرگوں کی بہبود پر ہے وہ نوجوانوں سے بھی غافل نہیں ،’ مہارت کا مستقبل ‘ (SkillsFuture)نامی سکیم کے تحت فنی تربیت حاصل کرنے کے لئے 25سے اوپر کے ہر نوجوان کو500ڈالر دیئے جاتے ہیں۔یہ پروگرام 2014ء سے نافذ ہے۔حکومت 500ڈالر دینے کے بعد بھی نہیں بھولتی، جب تک نوجوان برسر روز گار نہیں ہوتا وہ کوئی نہ کوئی سہولت دیتی رہتی ہے۔ سنگاپور کی یونیورسٹیا ں ہر نوجوان کا ہاتھ تھام لیتی ہیں اور پھر تعلیم و تربیت کا سفر زندگی بھر جاری رہتا ہے۔اس کا کوئی ا نجام نہیں۔سنگاپور نیشنل یونیورسٹی کی ایلومینائی میٹرک کرنے کے بعد 20سال تک نوجوان کاساتھ دیتی ہے۔ہر موڑ پر پڑنے والی ضرورت کے مطابق ایلو مینائی کورسز کا بندوبست کرتی رہتی ہے، جہاں بھی کسی شعبے میں بے روزگاری پید اہوئی وہیں نیا کورس شروع۔نئے تقاضوں کے مطابق تربیتی کورسز شروع کرنے میں سنگاپور یونیورسٹی آف سوشل سائنسز کو بھی نہ بھولیے، ایلومینائی کو مالی تنگی سے بچانے کے لئے دل کھول کر فنڈز مہیا کرتی ہے۔
بزرگوں کاجاپان
جاپان میں اس وقت 25فیصد آبادی 65 برس سے زیادہ بوڑھی ہے۔2060 ء میں یہ تناسب 40فیصد سے تجاوز کر جائے گا۔ جاپان میں ورک فورس کی کمی اور پنشن بم کابروقت تدارک نہ کرنے سے وہاں مالی مسائل رونما ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ جاپانی معیشت پنشن کے بوجھ تلے دبتی جا رہی ہے۔ جاپان نے 2000 میں جامع ’’Long-Term Care Insurance‘‘ سکیم جار ی کی تھی، اسے دنیا کی بہترین انشورنس سکیم مانا جاتا ہے۔ہر بزرگ کو اس کی مرضی کا پلان مل جاتا ہے،اس کے تحت حکومت گراسری کی خرید و فروخت تک میں مدد دیتی ہے۔2011ء میں مزید ترامیم کے بعد اسے صحت عامہ کے حوالے سے بھی بہترین سکیم بنا دیا گیا ہے۔ بزرگوں کو سہولت دینے والے آلات تیار کرنے والی کمپنیوں کو فنڈز دیئے جارہے ہیں۔بوڑھوں کی مدد کرنے والے روبوٹس اور سیل تھیرپیز کی تحقیق سے بھی غافل نہیں ہے۔
افریقی ممالک میں سرمائے کی کمی
افریقی ممالک کو انفرا سٹرکچر کے مسائل سے نمٹنے کے لئے 130ارب ڈالر سے170ارب ڈالر تک سالانہ درکار ہیں۔جبکہ اس وقت بھی اس خطے کو 68سے 108ارب ڈالر تک کی کمی کا سامنا ہے۔
عالمی بینک کی رپورٹ کے کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ افریقی ممالک مہنگائی کا گڑھ ہیں۔افریقی شہر اپنے برابر انکم والے شہروں سے 29فیصد مہنگے ہیں۔دیگر ممالک کے مقابلے میں ٹرانسپورٹ پر دگنے،ہائوسنگ پر 55فیصد زیادہ خوراک پر 35فیصد اضافی اخراجات کرنا پڑتے ہیں۔
https://jang.com.pk/news/826748?_ga=2.11488372.1700535485.1601455516-1148464595.1571042196
No comments:
Post a Comment