پیپلز پارٹی کی مسلح تنظیمیں، تاریخ خاموش نہیں!
فیڈریشن سیکورٹی فورس FSF کی خفیہ کاروائیاں
اپنے مخالفین کو خاموش کرانے کے لئے بھٹو خاندان نے ہر دور میں مختلف مسلح تنظیموں کی بنیاد رکھی۔ ذوالفقار بھٹو نے ایف ایس ایس (فیڈریشن سیکورٹی فورس) بنائی، جو کہ ذوالفقار بھٹو کی راہ میں آنے والے افراد کے لیے قیامت تھی۔ یہ Gestapo style security force تھی، اس کا ہیڈ کوارٹر تو لاہور میں تھا۔ لیکن Dalai ماؤنٹین پر اس کا خفیہ کیمپ تھا، یہ ایک ٹارچر سیل تھا۔ یہاں ذوالفقار علی بھٹو کے مخالفین کو رکھا جاتا اور ازیتیں دی جاتی یا مار دیا جاتا تھا۔ یہ کیمپ بھٹو مخالفین کے لیے برا خواب تھا۔ کہا یہ گیا کہ سول اداروں میں فوج کی مداخلت روکنے کے لیے سول اداروں کی مدد کے لیے بنائی گئی ہے، جب کے اس کے اغراض و مقاصد مخالفین کی تباہی ہی تھے۔
بحوالہ بیان: راشد الدین، (سابق ہیڈ کانسٹبل، فیڈریشن سیکورٹی فورس)
اس تنظیم کو جنرل ضیاء الحق نے ختم کیا یوں یہ کلعدم قرار دے دی گئ۔
الذوالفقار تنظیم مسلح نیٹ ورک
ذوالفقار علی بھٹو کے دونوں بیٹے مرتضی بھٹو اور شاہنواز بھٹو انہوں نے افغانستان میں روس نواز کمیونسٹ حکومت کی مدد سے الذوالفقار نامی دہشت گرد تنظیم کی بنیاد ڈالی۔ کم از کم پانچ ملک اس تنظیم کو اسلحہ، تربیت اور مالی وسائل فراہم کر رہے تھے۔ جن میں انڈیا، افغانستان، شام، لیبیا، روس، فلسطین کی پی ایل او کی پشت پناہی بھی حاصل تھی۔
جئے سندھ تنظیم کے قادر بخش جتوئی کی جلاوطنی کی تفصیل میں طیارہ اغوا کے اس معاملے کے متعلق واضح ہوتا ہے کہ الذولفقار ہو یا کوئی اور اس طرح کی غیر ریاستی تنظیم یا ادارہ وہ کسی ریاستی تعاون کے بغیر نہیں چل سکتے۔ ان کے بقول المرتضیٰ کو افغانستان، شام اور لبیا کی براہ راست اور سوویت یونین اور بھارت کی کسی حد تک حمایت حاصل رہی۔
اس تنظیم کے لوگوں نے پاکستان میں افراتفری، فتنہ فساد، قتل و غارت اور بم دھماکے کرنے کا سلسلہ شروع کیا۔ چوہدری ظہور الٰہی سمیت متعدد لوگ جاں بحق ہوئے۔ جج، جرنیل، سیاسی مخالفین سب نشانے پر تھے۔ ضیاءالحق کو بھی متعدد مرتبہ نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ اس دہشت گرد تنظیم سے دکھاوے کی حد تک بے نظیر نے فاصلہ رکھنے کی کوشش کی لیکن پیپلز پارٹی کی سربراہ نصرت بھٹو ان سے ملتی رہیں اور ان کی رہنمائی بھی کرتی رہیں۔
اس پارٹی کے عسکری اور سیاسی شعبوں کے لئے مالی معاونت کے ذرائع بھی مشترک تھے۔ تنظیم کی دہشت گرد کارروائیوں، بھارت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی اور خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے ساتھ رابطوں کی تفصیل گھر کے بھیدی ’’راجہ انور‘‘ کی کتابوں اور مضامین میں دیکھی جا سکتی ہے۔
ایگل فورس مسلح کاروائیاں
بینظیر نے اقتدار میں آکر ایگل اسکواڈ بنایا،
جس طرح بھٹو نے اپنے مخالفین کو کچلنے کے لیئے فیڈرل سیکورٹی فورس بنائی تھی، اسی طرح بینظیر کی حکومت نے ”ایگل فورس“ نامی ایک پولیس فورس قائم کی تھی۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے جو ایگل اسکواڈ تشکیل دی تھی، اس میں وردیوں میں ملبوس اندرون سندھ کے ڈاکو پیپلز پارٹی کی حکومت کی ایما پر سندھ میں مخالفین کو ٹھکانے لگاتے۔ اس فورس کے متعلق ملٹری کو بہت تحفظات تھے، اس فورس کے کارناموں کا ذکر اصغر خان کیس میں بھی آیا۔
پیپلز امن کمیٹی کی من مانیاں
آصف زرداری نے پیپلز امن کمیٹی تشکیل دی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کا کراچی میں قائم مسلح بازو پیپلز امن کمیٹی کے نام سے جانا جاتا تھا۔ اس کی مدد سے جماعت کراچی میں بھتہ وصول کرتی رہی، پیپلز امن کمیٹی کے چئیرمین عزیر بلوچ کے اعتراف ۲۴ اپریل ۲۰۱۶ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کے روبرو کچھ اس طرح تھے۔ آصف زرداری کے لیے شوگرملوں پر قبضے کیے، فریال تالپور کو ماہانہ ایک کروڑ بھتہ دیا جاتا تھا۔
اس کے مطابق ۲۰۰۳ میں رحمان ڈکیت گروپ میں شمولیت اختیار کی تھی اور ۲۰۰۸ تک ان کے ساتھ ملکر جرائم کیے۔ رحمان ڈکیت کی ہلاکت کے بعد لیاری گینگ وار گروپ کا مکمل کنٹرول سنبھالا اور پیپلز پارٹی کی طرف سے بنائی گئی امن کمیٹی کا چیئر مین بن گیا۔ پولیس افسران کی سرپرستی میں بھتہ خوری، منشیات فروشی، اغوا اور قتل جیسی واردتیں کرتا رہا۔ قادر بلوچ، سینیٹر یوسف بلوچ اور دیگر پولیس افسران ہمارا خیال رکھتے تھے اور ہمیں گرفتار نہیں ہونے نہیں دیتے تھے۔ ۲۰۱۳ میں جب کراچی آپریشن میں تیزی آئی تو فریال تالپور نے مجھے قادر پٹیل اور یوسف بلوچ کے ذریعے ڈیفنس میں اپنے گھر میں بلایا۔ اس موقع پر شرجیل میمن اور نثار میمن بھی موجود تھے ۔ اس نے ذاتی اسلحہ بارود چھپانے کو کہا اور انتظامی معاملات شرجیل اور انعام میمن اور لیاری کے معاملات کو یوسف بلوچ کے حوالے کیا اور مجھے بیرون ملک نکل جانے کو کہا!
پیپلز امن کمیٹی کے چیئرمین عزیر بلوچ کے اعترافی بیان کے مطابق آصف زرداری کے لیے شوگر ملوں پر قبضے کر کے انکے حوالے کیے۔ اہم تنصیبات کے داخلی اور خارجی راستوں کی نشاندہی کی، فریال تالپور کو ماہانہ ایک کروڑ بھتہ دیا جاتا تھا۔ ارشد پپو اور اس کے بھائی اور ساتھی کو پولیس موبائل کے ذریعے اغوا کرکے سر تن سے جدا کیے اور پھر ان کے سروں سے فٹبال بھی کھیلی اور ان کی لاشوں کو آگ لگا دی۔ 159افراد کو لسانی بنیادوں پر قتل کیا۔ عزیر بلوچ نے ارشد پپو، یاسر عرفات اور شیرا پٹھان کے قتل کا بھی اعتراف کیا۔ عزیر بلوچ نے شیر شاہ کباڑی مارکیٹ میں 11 افراد کے قتل کا اعتراف کیا ہے۔ عزیر بلوچ نے 2005 میں 2 رینجرز اہلکاروں کے قتل کا بھی اعتراف کیا۔
یہ تمام تنظیمیں مسلح تھی ،پیپلزپارٹی کی طرف سے شہریوں کو مارنے کے لئے جن کو مفت لائسنس دیا گیا۔
تاریخ خاموش نہیں کردار اب بھی ذندہ ہیں تحقیق کیجیے
No comments:
Post a Comment