پاکستانی اسماعیلی اور اسلام کو منسوخ کرنے کے تازہ اقدامات
امامت کا الوہی تصور توحید اور ختم نبوت دونوں کے بنیاد پر سب سے بڑی حملہ ھے. ایرانی شیعہ عالم رضا المظفر نے امامت کو نبوت کی برابر اور کئ امور میں نبوت سے برتر لکھا ھے. شاید اسلئے امامی مذاھب والے مشہور حدیث "کنت نبیا و آدم بین الماء والطین، میں نبی تھا آدم علیہ السلام پانی اور مٹی کے درمیان تھے" کے مقابلے میں علی کو ایک قول منسوب کیاھے کہ "کنت ولیا و آدم بین الماء و الطین، میں ولی تھا جب آدم علیہ السلام پانی و مٹی کے درمیان تھے". علی ابن ابی طالب تمام شیعہ فرقوں کے اولین امام ھیں اور ان کی یہ امامت منصوص من اللہ ھے.
اسماعیلی شیعہ فرقوں میں بارہ امامی یا اثنا عشری شیعوں کے بعد دوسری بڑی نمبر پر ہیں(شیعیت کا اولین امام علی ابن طالب ھے. امام جعفر صادق کے وفات پر شیعہ کئ فرقوں میں تقسیم ھوئے. اکثریت جعفر صادق کے بیٹ موسی کاظم کو امام مان کر امام حسن عسکری کے بیٹے اور بارہویں امام، امام مہدی پر امامت کے سلسلہ کو منقطع کرتے ہیں. جبکہ اسماعیلی امام جعفر صادق کے بڑے بیٹے امام اسماعیل سے ھوکے مزید کئی ایک فرقوں میں بٹ گئے جن میں آج سلیمانی بوہرے، داؤدی بوہرے اور نزاری یا آغاخانی اسماعیلی قابل ذکر ہیں. آغاخانی اسماعیلیوں کا انچاسویں امام پرنس کریم آغاخان ہیں) انتہاپسندی اور غلو میں رومن کیتھولک کے علاوہ شاید ہی دنیا میں کوئی مذہب اسماعیلیت کی نظیر ھوسکتی ھو. اسماعیلیت کی بنیاد رکھی گئی ایسے تصورات پر ہے جو اسلام کو منسوخ کرنے کے جارحانہ سعی ہے. ابتدائی اسماعیلی عقائد کے مطابق پیغمبر اور امام ایک ھی ھوتا تھا. تاھم امام کے دو قسمیں ھوتے تھے امام ناطق اور امام صامت، بولنے والا امام اور خاموش امام. آدم علیہ السلام امام ناطق تھے اسکے ساتھ شیث علیہ السلام امام صامت، موسی علیہ السلام امام ناطق تھے اور ھارون علیہ السلام امام صامت، عیسی علیہ السلام ناطق امام تھے اور یحییٰ علیہ السلام خاموش امام،حضرت محمد صلعم امام ناطق تھے اور حضرت علی امام صامت. تعجب خیز امر یہ ہے کہ اسماعیلی علم کلام میں بعض اشارے ایسے ہیں کہ امام صامت کا درجہ امام ناطق سے بلند ھوتا ھے. نزاری آغاخانی اسماعیلی عقائد میں امام خداوندی صفات سے بھی متصف ھوتا ھے بلکہ بعض اوقات میں خدا امام کے شکل میں بروز کرتا ھے. اوائل کے اسماعیلی ابوالخطاب الاسدی اور آبی سعید العجلی سے اسی طرح کے عقائد منسوب ہیں. پر اسرار اسماعیلی کتاب، "ام الکتاب" میں خدا امام باقر کے شکل میں جلوہ گر ھے. اسی دور کے عقائد اسلام کی تنسیخ کی اولین کوشش تھی.
اسلام کی تنسیخ کی دوسری کوشش اسماعیلی فرقہ قرامطہ کی تھی. بانی قرامطہ، حمدان قرمط کے بعد ابوسعید الجنابی نے موجودہ حفوف کے ساتھ الحساء میں قرمط ریاست کی بنیاد رکھی. اسے کے دوسرے بیٹے ابوطاھر الجنابی نے 929 میں خانہ کعبہ پر حملہ کیا. تمام حاجیوں کو تہہ تیغ کیا. حجر اسود کو اکھاڑ کر ریزہ ریزہ کیا اور عباسی خلیفہ مکتفی سے پیسے لیکر ایک پتھر 950 میں جامع مسجد کوفہ میں بوری میں بند کرکے چھوڑا کہ یہ حجر اسود ھے. مابعد کے اسماعیلی اس واقعہ سے اسماعیلی ائمہ کی برائت کے قائل ہیں. مگر مستشرقین کہتے ہیں کہ ابوطاھر قرمطی نے یہ سب کچھ اسماعیلی امام کی حکم پر کیا. اسلامی دنیا کے اولین جغرافیہ دان ابن حوقل نے لکھا ھے کہ اس نے حمدان قرمط کو بعد میں فاطمی خلیفہ کے دربار میں دیکھا. فاطمی خلفاء بیک وقت اسماعیلی امام بھی تھے. اسلام کو منسوخ کرنے کی سب سے بڑی اعلان موجودہ نزاری آغاخانی اسماعیلی سلسلے کے امام حسن علی ذکرہ السلام نے 17،رمضان، 559ھ/8 اگست 1164 کو کیا. حسن صباح کے وفات(1124) کے بعد کیابزرگ امید قلعہ الموط کے والی بنے. حسن بن صباح نے جانشین نہیں چھوڑے. تاھم کیا بزرگ امید نے اپنے بیٹے محمد بن بزرگ امید کو جانشین اور والی قلعہ الموط اور اسماعیلیوں کا داعی مقرر کیا. محمد بن بزرگ امید نے اپنے وفات(1162) پر اپنے بیٹے حسن کو اپنا جانشین اور نائب امام مقرر کیا. حسن کے وفات پر اس کے بیٹے نے دعوی کیا کہ ان کے والد حسن علی ذکرہ السلام، الموط کے چوتھے والی، محمد بن بزرگ امید کے فرزند اور نائب امام نہیں بلکہ خود اولاد فاطمہ سے تھے اور امام تھے.(موجودہ انچاسویں اسماعیلی امام کریم اغاخان چہارم اسی حسن کے اولاد ھونے کی دعوی گیر بھی ھے اور سید ھونے کے بھی. تاھم یہ موضوع پھر کبھی. مابعد کے اسماعیلیوں میں وہ امام حسن علی ذکرہ السلام کے نام سے شھرت پائے)
جانشینی کے وقت اس کی عمر 35 سال تھی. جانشینی کے ڈھائی سال بعد اس نے قلعہ الموط، قزوین میں ھر علاقے سے اسماعیلی داعی جمع کئے. 17 رمضان 559 ھجری مطابق 8 اگست 1164 اس نے قلعہ الموط کے سامنے میدان میں مغرب کے جانب ایک بڑی منبر نصب کی تھی جس کے چاروں طرف، چار رنگ کے سفید، سرخ، زرد اور سبز رنگ کے علم لگائے تھے. منبر کے سامنے رودبار اور دیلم، دائیں جانب خراسان اور قہستانی کے نزاری اسماعیلی ، اور بائیں جانب وسطی اور مرکزی ایران کے 'رفقاء' کے بیٹھنے کا انتظام کیا گیا تھا.
ظھر کے وقت، سفید لباس میں ملبوس، سفید پگڑی پہنے ھوئے امام حسن علی ذکرہ السلام قلعہ الموط سے نیچے اتر آئے اور منبر پر چڑھے. سامعین کو خوش آمدید و سلام کہا. پھر تھورے وقفے کیلئے منبر پر بیٹھ گئے. پھر کھڑے ھوئے اور اپنے تلوار ھاتھ میں لئے باواز بلند عربی میں خطبہ شروع کیا، جسے بقول رشید الدین فضل اللہ کے 'جامع التواریخ' کے فقیہہ محمد البستی بیک وقت فارسی گو سامعین کیلئے فارسی میں ترجمہ کرتے رھے. امام حسن نے کہا کہ ان کے الفاظ امام ھی کے الفاظ ہیں. امام نے اسکو اپنا داعئ اور حجت ھونے کیساتھ دینی، روحانی اور شرعی و دنیاوی امور میں اپنا مکمل باختیار خلیفہ بھی مقرر کیا ھے. اسلام اور اسلامی شریعت وقتی اور دورہ ستر کے تقاضے تھے. اب مزید ان کی ضرورت نہیں. جس طرح اسلام منسوخ ھوا اسطرح اسلامی احکامات بھی منسوخ ھیں. اب رمضان ھمیشہ کیلئے ختم. آج عید القیامہ منائی جائی گی. پھر منبر سے نیچے اترے. موجودہ اغاخان کے رشتہ دار، انسٹیٹیوٹ آف اسماعیلی سٹڈیز لندن کے اکیڈمک ڈائریکٹر اور اغاخان فیملی کے آفیشل منشی ڈاکٹر فرہاد دفتری کے مطابق
Then he invited the people to join him at a table which had been prepared for the breaking of their fast. Hasan declared the 'festival of the resurrection'(I'd-i qiyamat), and the people feasted and made merry.
امام حسن نے حاضرین کو انکے ساتھ کھانے کے لگائے گئے میز پر کھانے کی دعوت دی جو روزہ تھوڑے کی غرض سے تیار کی گئی تھی. حسن نے عید قیامت کا اعلان کیا. اسماعیلیوں نے عیش شروع کی.
دو مہینے بعد حج سے تھوری عرصہ پہلے مومن آباد، قہستان میں بھی یہی رسم ادا کی گئی. قہستانی نزاری اسماعیلیوں کے امیر رئیس مظفر کے توسط سے حسن علی ذکرہ السلام کی بھیجا گیا خطبہ پڑھایا گیا . جس میں حسن نے باقاعدہ اپنے آپ کو فرستاہ خدا اور نائب الہی کہا. یہی رسم شام کی اسماعیلیوں میں بھی دھرائی گئی. بقول ڈاکٹر دفتری یہ اسماعیلی تاریخ کی سب بڑھی مذھبی انقلاب تھی. The Concise Encyclopedia of Islam نے اسماعیلیوں پر اپنے آرٹیکل میں عید القیامہ کے حوالے سے لکھا ھے
In 559/1164, Hasan ala Zikrihi s Salam, by ritual repudiation of Islamic law which ceremonially put and end to the fast of Ramzan, proclaimed the Id Al Qiyamah, ushering in a new age in which there was no longer any need to cover the Assassin religion with the appearance of is and its religious law....
1164 میں حسن علی ذکرہ السلام نے رسما اسلامی شریعت کو رمضان کے ظاھری تنسیخ سے ختم کیا.
اسلام کی جدید تنسیخی تحریک کا آغاز، انگریزوں کے خفیہ حکم پر مسلم لیگ کی بنیاد رکھنے والے آغاخان سوم سلطان محمد شاہ نے کی جو انڈیا میں اپنے ھندوستانی پیروکاروں یعنی خوجوں کیلئے اسلام کوھندو قالب میں ڈالنا کا خواہاں تھا. سلطان محمد شاہ کی ان اقدامات کی تکمیل آج کل کراچی میں مقیم اسماعیلی طریقہ اینڈ ریلجیس ایجوکیشن بورڈ ITREB کے چیئرمین نزار میوہ والا اور واعظ رائے کمال الدین کر رہے ہیں. سلطان محمد شاہ نے پیش امام اور خطیب وغیرہ کے اصطلاحات ختم کرکے "جماعت خانہ"، "مکھی" اور "کامڑیا" کے اصطلاحات رائج کیے. پیغمبر اسلام کی مسنون سلام جس کا ذکر قران مجید میں ہیں کہ "لا تقل لمن القی الیک السلم لست مومنا" کے بجائے "یاعلی مدد" اور جوابا "مولی علی مدد" رائج کیا.(موجودہ اسماعیلی YAM اور جواب میں MAM لکھتے ہیں) امام کو ھر حال میں خدا بنانے کی ایک کوشش آغاخان سوم کے بھائی پیر شہاب الدین شاہ نے کی جس نے اپنے "رسالہ در حقیقت دین" میں امام کو خدا کا بروز لکھا. تقریباً عشرہ پہلے افریقہ کے ایک عدالت میں ایک اسماعیلی نے مقدمہ دائر کیا کہ
Imam is the manifestation of God on earth.
جیسا کہ اوپر ذکر ھوا امام کو خدا بنانے کی سب سے بڑی کوشش آجکل کراچی سے اسماعیلی طریقہ بورڈ سے کی جارہی ھے. طریقہ بورڈ کے سب سے وابستہ سب بڑے مبلغ رائے الواعظ رائے کمال الدین نے چار کتابیں لکھے ہیں: مناسک و مجالس، ھمارا اسماعیلی طریقہ، حاضر امام سے مدد مانگنا، اور کمال الدین اور زرینہ کمال کی آپ بیتی. مؤخر الذکر میں ایک جگیہ لکھتا ھے کہ میں اغاخان کے بچوں کو قرآن سکھا رہا تھا کہ اسکی بیٹی نے امام کے بارے میں پوچھا تو آغاخان کے بڑے بیٹے رحیم آغا خان نے جواب دیا کہ امام خدا کی طرف سے ھوتا ھے اور میں نے رحیم کی اس جوب پر تحسین کی. امام گناہ بخشتا ھے، حاضر وناظر ھے وغیرہ. کمال الدین صاب ساٹھ سال میں ریٹامنٹ کے بعد بھی پچاسی، نوے سال کی عمر میں طریقہ بورڈ سے وابستہ ہے. ظاھری طور پر اس کے عقائد کو شخصی بتانے والے بورڈ کے اتھارٹیز کے دروغ بیانی کے برعکس اس کے سی ڈیز جماعت خانوں میں دکھائے جاتے ہیں اور خود لاکھوں تنخواہ کیساتھ ایک ایک دورے پر لاکھوں خرچ کرتا ھے. طریقہ بورڈ کے نصابی کتابوں میں امام کو اوتار لکھا گیا ھے. قرآن کو باقاعدہ اسماعیلی عقائد سے ھٹانے کی سعی میں اسماعیلی طریقہ بورڈ کراچی نے کچھ عرصہ قبل ایک کتاب "نور مبین" شائع کیا تھا جسے اب دبایا گیا ھے جبکہ ایک دوسری اور اھم ترین کتاب جو موجودہ اسماعیلی فقہ کی بنیاد ھے "ھمارے رسومات" ھے جسے اسماعیلی کمیونٹی میں "گرین بک" کہا جاتا ھے. قرآن کی متبادل یہ کتاب حال میں رائج کتاب اسلام کو مکمل طور پر ھندو مذہبی سانچے میں ڈالنے کی کامل اور اختتامی اقدام ہے. خوجہ اسماعیلیوں کے برعکس شمالی علاقہ جات اور چترال کے اسماعیلی نوجوانوں میں ان اقدامات کے خلاف سخت بے چینی پائی جاتی ھے جو عنقریب ایک انقلاب کی شکل لانے والی ھے.
انہی باغی اسماعیلی نوجوانوں نے رائے کمال الدین کے گمراہ کن کتابوں کے علاوہ غیر اسماعیلی دنیا میں مکمل ممنوع "نور مبین" اور "گرین بک" راقم تک پہنچائے ہیں جن کو "ام الکتاب" کیساتھ راقم کے قلم سے مکمل شرح، مختصر اسماعیلی تاریخ اور عقائد کی تعارف کیساتھ چند ھفتوں میں لاھور سے شائع کیا جارہا ھے.
حوالہ جات: تاریخ جھانگشائے از عطا ملک جوینی
جامع التواریخ از رشید الدین فضل اللہ
The Ismailis, Their History and Doctrine by Farhad Daftari
Historical Dictionary of the Ismailis by Farhad Daftari
History of Ismailis by Mumataz Taj Din Sadik Ali
Encyclopedia of Islam by Brill(Edited by HAR Gibb)
The Concise Encyclopedia of Islam by Cyril Glasse