اسرائیل کے بارے معلومات
مشرق وسطیٰ میں معیار زندگی کے اعتبار سے اسرائیل سب سے آگے ہے اور ایشیا میں تیسرے نمبر پر ہے۔ دنیا میں اوسط زیادہ سے زیادہ عمر کے حوالے سے اسرائیل دنیا کے چند بہترین گنے چنے ممالک میں شامل ہے۔
اسرائیل کا قانون انگلش کامن لا، سول لا اور یہودی قوانین کا مجموعہ ہے۔ عدالتی نظام میں جیوری کی بجائے جج فیصلہ کرتے ہیں۔ شادی اور طلاق کے مقدمات کا فیصلہ یہودی، مسلمان، دروز اور مسیحی قوانین کے مطابق متعلقہ مذہبی عدالتیں کرتی ہیں۔ اسرائیل کا عدالتی نظام مکمل طور پر کاغذات سے آزاد ہے اور تمام تر ریکارڈ برقی طور پر محفوظ ہوتا ہے۔
اسرائیل کے سفارتی تعلقات 157 ممالک کے ساتھ ہیں اور 100 سے زیادہ سفارتی مشن بھی دنیا بھر میں موجود ہیں۔ 2010 میں ایشیا بھر میں سب سے زیادہ یعنی 41000 سیاح اسرائیل آئے۔
اگرچہ ترکی اور اسرائیل کے تعلقات 1991 سے پہلے جزوی تھے لیکن ترکی نے 1949 میں اسرائیل کو تسلیم کر کے اس سے تعلقات قائم کر لیے تھے۔ مسلمان اور عرب ممالک اکثر ترکی پر زور دیتے ہیں کہ وہ اسرائیل سے اپنے تعلقات پر نظر ثانی کرے۔
1995 سے اسرائیل اور ترکی کے تعلقات میں بتدریج کمی کے بعد سے اسرائیل اور یونان کے مابین تعلقات بہتر ہوتے جا رہے ہیں۔ دونوں ملکوں میں 2010 میں دفاعی معاہدہ ہوا۔ اس کے علاوہ تیل اور گیس کی تلاش کے شعبے میں بھی اسرائیل قبرص سے تعاون کر رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں یونانی مصنوعات کی دوسری بڑی منڈی اسرائیل ہے۔
آذربائیجان ان چند اکثریتی مسلم ممالک میں سے ایک ہے جس نے اسرائیل کے ساتھ وسیع تر تعلقات قائم کیے ہیں۔ ان تعلقات میں تجارتی اور دفاعی، ثقافتی اور تعلیمی شعبے اہم ہیں۔ آذربائیجان اسرائیل کو کافی مقدار میں تیل مہیا کرتا ہے۔ 2012 میں دونوں ملکوں نے 1.6 ارب ڈالر کے دفاعی ساز و سامان کا معاہدہ کیا تھا۔ 2005 میں آذربائیجان اسرائیل کا پانچواں بڑا تجارتی پارٹنر تھا۔
اسرائیل دنیا بھر میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے ہنگامی امداد دینے کی پالیسی پر کارآمد ہے۔ پچھلے 26 سالوں سے 15 ممالک کو اسرائیل کی طرف سے ہنگامی امداد دی گئی ہے تاکہ قدرتی آفات سے نمٹا جا سکے۔ 2010 میں ہیٹی میں زلزلے کے بعد اسرائیل نے سب سے پہلے وہاں فیلڈ ہسپتال قائم کیا تھا۔ اس کے علاوہ اسرائیل نے 200 سے زیادہ ڈاکٹر اور طبی عملے کے اراکین بھی بھیجے تھے۔ مشن کے اختتام تک اسرائیلی ڈاکٹروں نے کل 1110 مریضوں کا علاج کیا اور 319 کامیاب آپریشن کے علاوہ 16 زچگیوں اور 4 افراد کی جان بچانے کے لیے بھی کام کیا۔ تابکاری کے خطرے کے باوجود اسرائیل ان ممالک میں سے ایک ہے جنہوں نے جاپان کے زلزلے اور سونامی کے بعد سب سے پہلے طبی امدادی کارکن بھیجے۔ اسرائیل نے زلزلے اور سونامی سے متائثرہ شہر کوری ہارا میں ایک کلینک قائم کیا جس میں سرجری، اطفال، میٹرنٹی اور گائناکالوجیکل وارڈ قائم تھے۔ یہاں کل 2300 افراد کا علاج ہوا اور کم از کم 220 افراد یقنی موت سے بچ گئے۔
اسرائیل کی انسانی ہمدردی کی کوششیں 1958 میں سرکاری طور پر شروع ہوئیں جب ماشاو یعنی اسرائیلی وزارت خارجہ امور کی ایجنسی برائے ترقی بین القوامی تعلقات قائم ہوئی۔ اس کے تحت 140 سے زیادہ ممالک کی امداد کی جا چکی ہے جس میں قحط زدہ علاقوں میں خوراک کی تقسیم، عمارتوں کی تعمیر کی تربیت، طبی امدادی عمارت کی تعمیر اور طبی امداد کی فراہمی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اسرائیلی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے والے دیگر اداروں میں اسرا ایڈ، دی فاسٹ اسرائیلی ریسکیو اینڈ سرچ ٹیم، اسرائیلی فلائنگ ایڈ، سیو اے چائلڈز ہارٹ اور لاٹیٹ شامل ہیں۔
یوم کپور کی جنگ کے بعد سے اسرائیل نے جاسوسی مصنوعی سیاروں کا ایک پورا نظام ترتیب دیا ہے۔ اس طرح کے مصنوعی سیارے چھوڑنے والے سات ممالک میں سے اسرائیل بھی ایک ہے۔ 1984 میں اسرائیل نے اپنے جی ڈی پی کا 24 فیصد دفاع پر خرچ کیا تاہم 2006 میں یہ شرح محض 7 فیصد سے کچھ زیادہ تھی۔ عام یقین کیا جاتا ہے کہ اسرائیل کے پاس نہ صرف ایٹمی بلکہ کیمیائی اور جراثیمی ہتھیار بھی موجود ہیں۔ اسرائیل نے این پی ٹی معاہدے پر دستخط نہیں کیے اور اپنے قومی ایٹمی پروگرام کے بارے خاموشی کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے۔ 1991 کی خلیج کی جنگ میں عراقی سکڈ میزائلوں کے حملے کے بعد لازم ہے کہ ہر گھر میں ایک کمرہ ایسا ہو جہاں کیمیائی اور جراثیمی ہتھیاروں کا اثر نہ ہو سکے۔
جنوب مغربی ایشیا میں اسرائیل کو معاشی اور صنعتی ترقی یافتہ ممالک میں سے ایک شمار کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اسرائیل نے 2010 میں انجمن اقتصادی تعاون و ترقی کی تنظیم میں شمولیت اختیار کی۔ عالمی بینک کے مطابق کاروبار میں آسانی کے حوالے سے اسرائیل خطے میں تیسرے جبکہ دنیا بھر میں 38ویں نمبر پر ہے۔ امریکا کے بعد اسرائیل میں دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ سٹارٹ اپ کمپنیاں ہیں۔ شمالی امریکا سے باہر اسرائیل کی کمپنیاں سب سے زیادہ نیسڈیک میں رجسٹر ہیں۔
2010 میں معاشی طور پر سب سے آگے ممالک کی فہرست میں اسرائیل کا نمبر 17واں تھا۔ مشکلات کے وقت اسرائیلی معیشت کو سب سے مستحکم مانا گیا ہے۔ تحقیق اور ترقی کی شرح میں اسرائیل پہلے نمبر پر ہے۔
اسرائیل کے مرکزی بینک کو کارکردگی کے حوالے سے 2009 میں 8ویں سے پہلے نمبر پر جگہ ملی ہے۔ ہنریافتہ افراد کو بیرون ملک بھیجنے کے لیے اسرائیل سب سے آگے ہے۔ مرکزی بینک کے پاس 78 ارب ڈالر کے ذخائر موجود ہیں۔
محدود قدرتی وسائل کے باوجود اسرائیل نے زراعت اور صنعت کے شعبوں میں قابل قدر ترقی کی ہے۔ گذشتہ چند دہائیوں سے اسرائیل خوراک کے شعبے میں ماسوائے غلہ اور مویشی، خودکفیل ہو گیا ہے۔ 2012 میں اسرائیل کی درآمدات کا کل حجم 77.59 ارب ڈالر تھا جس میں خام مال، فوجی سامان، خام ہیرے، ایندھن، غلہ اور دیگر روز مرہ کی اشیاء شامل ہیں۔ اہم برآمدات میں الیکٹرونکس، سافٹ ویئر، کمپیوٹرائزڈ سسٹم، مواصلاتی ٹیکنالوجی، طبی آلات، ادویات، پھل، کیمیکل، فوجی ٹیکنالوجی اور ہیرے اہم ہیں۔ 2012 میں اسرائیل کی کل برآمدات 64.74 ارب ڈالر تھیں۔
شمسی توانائی میں ترقی کے حوالے سے اسرائیل پیش پیش ہے۔ پانی کی بچت اور جیو تھرمل توانائی کے حوالے سے اسرائیل دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔ اس کے علاوہ سافٹ ویئر، مواصلات اور لائف سائنسز میں ہونے والی ترقی سے اسرائیل اب سلیکان ویلی کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو گیا ہے۔ ریسرچ اور ترقی پر ہونے والے اخراجات کے جی ڈی پی کے تناسب کے حوالے سے اسرائیل دنیا بھر میں پہلے نمبر پر ہے۔ انٹل اور مائیکروسافٹ نے امریکا سے باہر پہلی بار ریسرچ اور ڈویلپمنٹ سینٹر اسرائیل میں قائم کیے تھے۔ اس کے علاوہ آئی بی ایم، گوگل، ایپل، ایچ پی، سسکو سسٹمز اور موٹرولا نے بھی اپنے ریسرچ اور ڈویلپمنٹ مراکز اسرائیل میں قائم کیے ہیں۔
اسرائیل میں کل 9 یونیورسٹیاں ہیں جو حکومتی امداد سے چلتی ہیں۔ ہیبریو یونیورسٹی آف یروشلم اسرائیل کی دوسری پرانی یونیورسٹی ہے۔ یہاں یہودیت کے موضوع پر دنیا بھر میں سب سے زیادہ کتب جمع ہیں۔ ٹیکنیون کی یونیورسٹی اسرائیل کی سب سے پرانی یونیورسٹی ہے اور دنیا کی 100 بہترین یونیورسٹیوں میں شامل ہے۔ اسرائیلی سات یونیورسٹیاں دنیا کی 500 بہترین یونیورسٹیوں کی فہرست میں شامل ہیں۔ 2002 سے اب تک اسرائیل نے 6 نوبل پرائز جیتے ہیں۔ فی کس آبادی کے اعتبار سے اسرائیل میں سب سے زیادہ سائنسی مقالے چھپتے ہیں۔
اسرائیلی کمپنیاں شمسی توانائی سے متعلق منصوبوں پر دنیا بھر میں کام کر رہی ہیں۔ 90 فیصد سے زیادہ اسرائیلی گھروں میں پانی گرم کرنے کے لیے شمسی توانائی استعمال ہوتی ہے۔ یہ شرح دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق اسرائیل اس طرح اپنی کل توانائی کا 8 فیصد بچا لیتا ہے۔
آبی ٹیکنالوجی میں اسرائیل دنیا کے بہترین ممالک میں سے ایک ہے۔ 2011 میں اسرائیلی آبی ٹیکنالوجی کا کل حجم 2 ارب ڈالر تھا اور سالانہ برآمدات کروڑوں ڈالر۔ ملک بھر میں آبی قلت کے پیش نظر آبی منصوبہ بندی، زراعت کو جدید بنایا جانا اور قطرہ قطرہ آبپاشی بھی اسرائیل میں ہی ایجاد ہوئیں۔ کھارے پانی کو صاف کرنے اور استعمال شدہ پانی کو دوبارہ قابلِ استعمال بنانے میں بھی اسرائیل سب سے آگے ہے۔ اسرائیل میں ہی دنیا بھر کا سب سے بڑا کھارے پانی کو میٹھا بنانے کا پلانٹ نصب ہے۔ 2013 کے اواخر تک امید ہے کہ اسرائیل کی آبی ضروریات کا 85 فیصد حصہ ریورس اوسموسز سے آئے گا۔ مستقبل قریب میں اسرائیل پانی کو دوسرے ممالک کو برآمد کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
2000 کے اوائل سے ہی سٹیم سیل پر فی کس تحقیقات مقالہ جات کی مقدار میں اسرائیل دنیا بھر میں سب سے آگے ہے۔ ریاضی، طبعیات، کیمیا، کمپیوٹر سائنسز اور معاشیات میں اسرائیلی یونیورسٹیاں دنیا کی سو بہترین جامعات میں شامل ہیں۔
اسرائیل میں برقی کاروں کی چارجنگ اور بیٹریوں کی تبدیلی کا ملک گیر نظام موجود ہے۔ اس سے اسرائیل کو تیل پر انحصار کم کرنے میں سہولت ملی ہے۔
اسرائیلی خلائی ادارہ اسرائیل بھر میں ہونے والے خلائی تحقیقی پروگراموں کی نگرانی کرتا ہے جس میں سائنسی اور تجارتی، دونوں طرح کے پروگرام شامل ہیں۔ اسرائیل ان 9 ممالک میں شامل ہے جو اپنے مصنوعی سیارے بنانے اور اسے خلا میں بھیجنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
No comments:
Post a Comment