بینکنگ نظام تعلیم اور شعوری حکمت عملی
تعلیم مظلوم قوم کو شعور دیتی ہے ،تعلیم مظلوم قوم کیلئے پناہ کا راستہ ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ کونسی تعلیم ؟وہ تعلیم جو نوآبادیات محکوم قوموں کو فراہم کرتی ہے ، اسے “بینکنگ نظام” تعلیم کہتے ہے۔
اس تعلیم کے تحت مظلوم قوموں کے شعوری و تنقیدی رویوں کو ختم کر دیا جاتا ہے۔ محکوم اقوام میں سوال پیدا کرنے کی قابلیت ختم کر دی جاتی ہے جس میں استاد تو عالم مگر طلباء کو جاہل قرار دیے جاتے ہیں استاد بولتا ہے اور طلباء اسے یاد کر کے سٹور کر دیتے ہے اسے معلومات یا معلوماتی تبادلہ کہہ سکتے ہے لیکن تعلیم نہیں۔ یہ نظام محکومی کو برقرار رکھنے کیلئے ہے ۔یہ نظام غلام کو اپنے حالات میں خوش رہنے اور انہیں قدرت سے جدا کرنے کے مترادف ہے۔
فرارے اپنے کتاب تعلیم اور مظلوم عوام میں کہتا ہے کہ اس نظام میں انسان اور قدرت کو ایک Dichotomy کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جس میں انسان کا قدرت اور اپنے حالات کے تبدیلی میں کوئی عمل دخل نہیں ہوتا ۔انسان کے تمام بدحالی کا ذمہ دار تقدیر کو قرار دیا جاتا ہے ۔یہ نظام انسان کوBiophilic زندگی سے محبت کرنے کے بجائے Necrophilic موت سے محبت کرنے کے راہ پر گامزن کرتاہے۔
غلام اپنے ساتھ ہونے والے زیادتیوں کو تقدیر کے ذمہ ڈال کر موت کا انتظار کرتا ہے ۔یہ نظام انسانوں کو مشینوں میں تبدیل کرتا ہے ۔اس نظام کا نعم البدل Problem Based Educationہے۔جو محکوم قوموں کا نظام تعلیم ہے جس میں اپنے ساتھ ہونے والے استحصال کو ایک مسئلے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
جس میں انسان اپنے حالات کا تجزیہ کرتا ہے اور انسان ہی حالات کو بدل سکتا ہے ۔استاد اور طالب علم کے فرق کے بغیر شعوری حکمت عملی کے تحت تعلیم کا ایسانظام بنانا کہ جس میں استاد اور طالب علم دونوں ہی ایک دوسرے سے سیکھتے ہے ۔اس میں معلومات کے تبادلے کے بجائے تنقیدی اور شعوری حکمت عملی کے زریعے علم حاصل کیا جاتاہے ۔کیونکہ غلام کا دماغ سوال کرنے کے لیے ہے۔
سوال کرنا تنقیدی شعور کو نکھارتا ہے اور انسان کو اس غیر انسانی ماحول سے نجات دلا سکتا ہے ۔وہ غیر انسانی ماحول جس سے ظالم و مظلوم دونوں مبتلا ہے ۔مظلوم ہی جدوجہد کے ذریعے خود کو اور ظالم کو اس غیر انسانی عمل سے نکال سکتا ہے ۔مگر کیا مظلوم جو ظالم کے ظلم و جبر کا شکار ہے کیا وہ اس تنقیدی و شعوری حکمت عملی کے ساتھ اپنے لوگوں کو تعلیم دے سکتا ہے؟
فرارے کے مطابق ایک غلام کو اپنے عوام کو شعوری تعلیم دینا غلامی سے نجات کیلئے ضروری ہے ۔غلام قوم کو وہ زرائع تلاش کرنے ہونگے جس سے وہ اپنے قوم کو شعوری و تنقیدی حکمت عملی کے تحت تعلیم دے سکے ۔
آزادی کیا ہے ؟ وہ اس تنقیدی و شعوری حکمت عملی کے دوران ایک Phase ہے جس کے تحت غلام قوم اپنے ریاست خود چلاتی ہے ۔شعوری حکمت عملی کا عمل اس کے بعد بھی چلتا رہتا ہے ۔شعوری حکمت عملی انسان کو شعوری طور پر آذاد کرتا ہے ۔کالونیل ریاست زمین کو colonised کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے استحصال سے غلام قوم کے ذہینت کو بھی colonised کرتا ہے ۔زمینی قبضے کو چھڑوانے سے ذیادہ مشکل ذہنی Decolonisation ہے۔
نو آبادیات محکوم کی نفسیات پر ہاوی ہو کر اسے ذہنی غلام بنا دیتا ہے ۔محکوم آذادی کے جدوجہد میں شامل ہونے کو باوجود ظالم کو idealise کرتا ہے ۔وہ آقا کے خلاف جنگ کرنے کے ساتھ ساتھ اس کا مرعوب ہوتا ہے ،اگر اسے اپنے آقا کے مقابلے میں چھوٹی سے بھی طاقت مل جائے تو وہ آقا سے ذیادہ ظالم بن جاتا ہے جس کی طرف البرٹ کامیو اور جارج اوریل نے بھی اشارہ کیا ہے اس ذہینت کے ساتھ بننے والی نئی حکومت نئے آقا ہی بنا سکتی ہے اور عام عوام پھر سے محکوم بنا دیے جاتے ہے ۔شعوری حکمت عملی انسان کو آذاد کرتی ہے اور وہ تحریک آذادی میں ایک Pseudo participant کے بجائے آذادی کا ایک سچا سپاہی بن جاتا ہے ۔آذادی انسان کے کائنات کے ساتھ محبت کا نام ہے ۔ اگر ذہنوں کو آذاد نہ کیا جائے زمینی آذادی بے معنی بن کر رہ جاتی ہے۔
No comments:
Post a Comment