یونیورسٹی افئیر چلانے کی جگہ نہیں ہے تو افئیر چلانے کی جگہ کونسی ہے۔ کہاں جا کر چلائیں افئیر۔ افئیر جب ایک دفعہ چل پڑتا ہے تو پھر وہ چلتا رہتا ہے جب تک کہ کوئی اور افئیر نہ چل پڑے۔ افئیر کی بریک نہیں ہوتی۔ بریک ہو تو وہ افئیر نہیں ہوتا۔ افئیر کو یونیورسٹی آتے ہوئے گھر پر نہیں چھوڑ کر آ سکتے یا باہر یونیورسٹی کے گیٹ پر گارڈ کے پاس نہیں رکھ سکتے کہ پائین میں کلاس پڑھ کے آیا تسی میرے افئیر دا خیال رکھیا جے۔ افئیر صبح جلدی چلنا شروع کرتا رات کو دیر تک چلتا ہے اور بیچ کے چند گھنٹے بھی آرام نہیں کرتا خواب مین چلتا رہتا ہے۔ وہ پارک میں چلتا ہے سڑک پر چلتا ہے یونیورسٹی میں چلتا ہے گلی میں چلتا ہے جہاں چلنے کی جگہ ہو وہاں چلتا ہے جہاں چلنے کی جگہ نہ ہو وہاں چلتا ہے یہاں تک کہ جہاں سب رکنے والی چیزیں رک جاتی ہیں وہاں بھی چلتا ہے بلکہ وہاں زیادہ تیز چلتا ہے جیسے ٹرین سٹیشن پر ہوائی اڈے پر بس کے سٹاپ پر۔ یہ بندے کے مرنے کے بعد بھی چلتا رہتا ہے جب پرانی شاعری کی محبوبہ پھول لیکر قبر پر آتی ہے۔ مر جانے پر افئیر رک جانے کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ محبوبہ وہابی ہو۔
ایک سانپ بہت زخمی حالت میں ایک بزرگ کے پاس پہنچا۔ بزرگ نے پوچھا تم کہاں سے آئے ہو اور تمہارا یہ حال کس نے کیا ہے۔
سانپ بولا۔۔۔اگر آپ جاننا چاہتے ہیں تو چینل کو سبسکرائب کریں اور بیل آئکن پریس کرنا نہ بھولیں۔
انہی دنوںِ جب چارلی ہیبڈو میں وہ خاکے پہلی بار چھپے جن پر وقفے وقفے سے احتجاج اور مارا پیٹی ہوتی رہتی ہے میرا کچھ دوستوں کے ساتھ کسی سیمینار کے سلسلے میں اسلام آباد کے پریس کلب جانا ہوا۔ پریس کلب کے باہر مدرسے کے بیس پچیس طالبعلم ایک ادھیڑ عمر مولانا کی سربراہی میں احتجاج کر رہے تھے۔ سب لڑکوں نے پلے کارڈ پکڑ رکھے تھے جن پر بہت اچھی لکھائی میں سر تن سے جدا کے مختلف وررؒن درج تھے۔ نامنظور نہیں چلے گی کاٹ کے رکھ دو کے بیچ ایک نعرہ مجھے کافی دلچسپ لگا۔ وہ تھا، چارلی ہیبڈو کو پھانسی دو۔ میں ان کے ساتھ کھڑا ہوا دو چار نعرے لگائے اس کے بعد ایک لڑکے کو ایک طرف لیجا کے پوچھا کہ مجھے یہ بات تو پتا چل گئی کے احتجاج توہین رسالت کے خلاف ہے لیکن یہ چارلی ہیبڈو کون ہے جسے پھانسی دینی ہے۔ اس نے کہا مجھے پتا نہیں ۔ میں نے ان کے ساتھ آئے مولانا کی طرف اشارہ کر کے کہا ان سے پوچھ لوں؟ اس پر وہ میرے ساتھ ان صاحب کی طرف چل پڑا جو احتجاج کی سربراہی فرما رہے تھے۔ شور کافی تھا اس لیے اس نے نزدیک پہنچ کر ان کے کان میں کچھ کہا اور میری طرف اشارہ کیا۔ استاد صاحب چلتے ہوئے سڑک کی سائیڈ پر اس طرف بڑھ آئے جہاں میں کھڑا تھا۔ مین نے سلام کیا ہاتھ ملایا ان کے جذبہ مسلمانی کی تعریف کی اور اپنا سوال دہرا دیا۔ انہوں نے مسکرا کر میری طرف دیکھا اور پوچھا کیا کرتے ہو۔ میں نے کہا یونیورسٹی میں پڑھتا ہوں۔ کہنے لگے اخبار نہیں پڑھتے۔ میں نے کہا کورس کافی زیادہ ہوتا ہے اپنی کتابوں سے فرصت ملے تو اخبار پڑھوں۔ کہنے لگے چارلی ہیبڈو وہ گستاخ ہے جس نے ہمارے نبی کے خاکے بنائے ہیں۔ ہم مغربی دنیا ہے مطالبہ کرتے ہیں کہ یا تو وہ خود چارلی ہیبڈو کو پھانسی دے یا اسے ہمارے حوالے کرے ہم اسے ڈی چوک پر پھانسی پر لٹکائیں گے۔ پہلے میں نے سوچا انہیں چارلی ہینڈو کے بارے بتا دوں لیکن پھر ان کی تعداد دیکھ کر ارادہ منسوخ کر دیا اور پریس کلب میں گھسنے سے پہلے ان کے ساتھ دو نعرے اور لگائے چارلی ہیبڈو کو پھانسی دو چارلی ہیبڈو کو پھانسی دو۔ ان نعروں سے جنت ملے گی یا نہیں مجھے معلوم نہیں لیکن اگر ملتی ہوئی تو اس میں ایک چھوٹا موٹا پلاٹ میرا بھی ہو گا۔
سلمان حیدر
اگر آپ ایران کو سٹینڈرڈ رکھ کر عزادری کو پورے ملک میں یکساں کرنا چاہتے ہیں تو یہ وہ بیوقوفی ہے جو سعودی عرب کو سٹینڈرڈ کر اسلام کو صحیح شکل میں لانے کے نام پر وہابی کر چکے ہیں۔ ملتان کا بندہ ذاکر کو ہی سنتا ہے اسے آپ نہ طالب جوہری سنا سکتے ہیں نہ جواد نقوی۔ جیسا تعزیہ ملتان میں نکلتا ہے ویسا گلگت میں نہیں نکلتا۔ میں ایران کا میوزک درست قرار دے کر تعزیہ کے ساتھ ڈھول اور نفیری بجانے والے خو غلط نہیں کہہ سکتا۔ ایران میں حضرت علی اور امام حسین کی تصویریں سرعام فروخت ہوتی ہیں میرے تصویر کشی یا مجسمہ سازی سے کوئی اختلاف نہ ہونے کے باوجود میں اسے یہاں فروخت نہیں کر سکتا۔ کلچر کو تبدیل کرنے کی کوئی تحریک کمیونٹی کے اندر سے اٹھتی ہے تو مجھے اس سے کوئی اختلاف نہیں لیکن رہبر فلاں کے نام پر میں ایک فٹے سے سب کو نہیں ناپ سکتا۔ چنیوٹ میں اہل سنت برادری عزاداری کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد ہے۔ وہاں عزاداری کا کیا رنگ ہو کا کس پر تنقید کی اجازت ہے کس پر نہیں یہ لوکل کمیونٹی کے آپ نے میعار پر ہے۔ وہ یہ طے کرتے ہیں کہ کیسے کیا جائے کیسے نہ کیا جائے۔ میں کہوں کہ بھائی تم شیعہ ہو تو تعزیے کے ساتھ ڈھول مت بھاو خامنائی صاحب کہتے ہیں یہ حرام ہے تو میں عزاداری کرنے والے سو میں سے ستر آدمی کو امام باڑے میں آنے سے روک دوں گا۔ خامنائی صاحب کو نہیں پتا چنیوٹ کس چڑیا کا نام ہے۔ ان کا فتوی میرے لیے ناقابل قبول ہے۔ آپ کہیں کہ سندھ کا ہندو ذاکر خامنائی صاحب سے پوچھے کہ اسے کیا پڑھنا ہے یا نہیں تو آہ بھی باولے ہیں اور آپ کو یہ سمجھانے والے بھی۔ مسئلہ اہل سنت کے مقدسات کو برا کہنے سے کہیں زیادہ بڑا ہے۔ کسی شیعہ کلچرل آئیڈنٹٹی کے ٹیکسٹ بیسڈ آئڈنٹٹی میں تبدیل ہونے کا ہے اس کے بعد شیعہ اور سنی میں جو اختلاف پیدا ہو گا اسے ختم کرنے خامنائی صاحب نے نہیں ں وہ میں نے آپ نے بھرنا ہے۔ اس لیے خامنائی صاحب کو ایران میں رہنے دیں۔ مجھے بو محرم کی رات کو حسین کا ذکر سننا ہے وضو کے وقت ناک میں پانی تین دفعہ ڈالنا چاہئیے یا پانچ دفعہ یہ نہیں۔ امام باڑہ وہ جگہ ہے جسے مسجد سے علیحدہ اسی لیے رکھا گیا تھا کہ ہندو عیسائی بریلوی شیعہ سب اس سپیس میں اکھٹے ہو سکتے ہیں۔ خامنائی صاحب کو مسجد میں رہنے دیں ان سے ناک میں پانی ڈالنے کے مسائل پر گفتگو کرتے رہیں مجھے مقامی لوگوں کا جڑا رہنا زیادہ عزیز ہے اس سے کہ چنیوٹ کا امام باڑے اٹھا کر تہران لیجاوں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
جن دوستوں کا کہنا ہے کہ خامنائی صاحب نے مقدسات اہل سنت کو برا نہ کہنے کا حکم دیا ہے ان سے گزارش ہے کہ مقدسات اہل سنت کا احترام کرنے کی سب سے بڑی مثال یہ ہے کہ ہم خامنائی صاحب کو کچھ نہیں کہتے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
ایک مولانا بہت پر امن تھے مقدسات اہل سنت کے بارے بہت احتیاط کیسا کرتے تھے۔ محرم سے پہلے امن کمیٹی کی میٹنگ ہوئی تو ایک مولانا نے ان سے کہا کہ قبلہ آپ لوگ اگر معاویہ کو برا نہ کہیں تو کیا حرج ہے وہ تو کربلا کے واقعے سے پہلے انتقال کر گئے تھے۔ اس نے کہا ٹھیک ہے یہ کیا جا سکتا ہے۔ دوسرے مولانا بولے کہ اگر یزید کو بھی برا نہ کہا جائے تو امن و امان کی صورتحال اور بہتر ہو سکتی ہے وہ تو کربلا میں تھا ہی نہیں۔ قبلہ نے کہا چلیں دیکھتے ہیں میں سمجھاتا ہوں دوستوں کو۔ تیسرے مولانا بولے ویسے جنگ ہو رہی تھی جب امام حسین شہید ہوئے ۔ جنگ میں تو ایسا ہی ہوتا ہے اگر آپ شمر کو بھی غلط نہیں تو کیا حرج ہے۔ شمر بچارے کا بھی اتنا کوئی قصور نہیں۔ قبلہ کی بس ہو گئی کہنے لگے میں۔منبر پر جا کر کہہ دیتا ہوں کہ امام حسین روڈ ایکسیڈنٹ میں شہید ہو گئے تھے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
تبرا ایسے بھی کیا جا سکتا ہے کہ وہ تبرا محسوس نہ ہو۔ آہل تشیع کے سگنل اس معاملے میں پورے آٹے ہیں وہ آپ کا جملہ ضائع نہیں جانے دیں گے۔ گالی دینے کی ضرورت اسے پڑتی ہے جو گالی دیے بغیر گالی نہیں دے سکتا۔ اگر مجلس میں جان نہیں تو اس پر وقت صرف کریں۔گرم مصالحہ تیز کرنے سے ٹمبکٹو کی بریانی حیدر آباد کی نہیں ہو جاتی۔ جس مولوی کو بہت گرمی لگ رہی یو اسے دس دن کو فریز میں لگا دیں ٹھیک نکلے گا۔۔ باقی آپ کو پتا ہی ہے کہ
معاویہ کو جو کہتے ہیں آج سیدھا
وہ کل یزید علیہ السلام لکھیں گے۔۔
۔۔۔۔۔۔
جو آپ سے کہے کہ تم گزرے ہوئے یزید پر لعن طعن کرتے ہو دور حاضر کے یزید کو کچھ نہیں کہتے اسے کہیں کہ دس دن آپ ہما رے ساتھ گزرے ہوئے کو برا کہیں گیارہویں دن سے ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہو کر زندہ یزید کے خلاف احتجاج کریں گے۔ اگر وہ کہے آپ سیریس ہی ہو گئے میں تو مذاق کر رہا تھ تو اسے حلیم کھلائیں۔ اگر وہ ضد ہی کر جائے تو نو دن اس سے نعرے لگوائیں اور دسویں دن زنجیر لگوا دیں۔ وہ آپ۔کو یزید قرار دے دے گا اور دوبارہ آپ اسے حلیم کھانے کو بلائیں گے تب بھی نہیں آئے گا۔
نوٹ: اگر واقعی کوئی شیر کا بچہ آج کے یزید کے سامنے کھڑا ہے تو وہ کسی عقیدے کسی مذہب کا ہو اس کا احترا۔م بھی کریں اور اسے حلیم بھی کھلائیں۔وہ امام حسین نہ سہی غلام حسین تو ہے بہرحال۔
۔۔۔۔۔۔۔
میں جب کبھی کج بحثی کر رہا ہوتا ہوں (جو کے میں اکثر کرتا ہوں) تو مجھے اپنے ایک استاد کا کہا یاد آ جاتا ہے۔ انہوں نے ایک بار کسی بات پر مجھے اڑا دیکھا تو ایک قصہ سنایا تھا جس کے مطابق دو دوست جن میں سے ایک جاٹ اور دوسرا تیلی تھا اکھٹے کہیں جا رہہے تھے۔ سفر لمبا تھا تیلی نے سوچا کہ دل لگی کے لیے چھیڑا چھاڑی کی جائے۔ اس نے اپنے جاٹ دوست سے کہا جاٹ رے جاٹ تیرے سر پہ کھاٹ۔ جواب میں جاٹ نے کہا تیلی رے تیلی تیرے سر پہ کولہو۔ تیلی نے کہا انہوں بات بنی نہیں جس پر جاٹ بولا کہ بات بنے نہ بنے دب کر تو مرے گا نا۔ ہمارے فیس بک مباحثوں میں بھی مجھ سمیت اکثر دوست بات بنانے سے زیادہ دبا کر مارنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ قصہ مختصر یہ کہ جاٹ ہونے میں کوئی حرج نہیں دبا کر مارنا بھی اپنی جگہ کبھی کبھی بات بنانے کی کوشش بھی کر لینی چاہئیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جو آپ سے کہے کہ تم گزرے ہوئے یزید پر لعن طعن کرتے ہو دور حاضر کے یزید کو کچھ نہیں کہتے اسے کہیں کہ دس دن آپ ہما رے ساتھ گزرے ہوئے کو برا کہیں گیارہویں دن سے ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہو کر زندہ یزید کے خلاف احتجاج کریں گے۔ اگر وہ کہے آپ سیریس ہی ہو گئے میں تو مذاق کر رہا تھ تو اسے حلیم کھلائیں۔ اگر وہ ضد ہی کر جائے تو نو دن اس سے نعرے لگوائیں اور دسویں دن زنجیر لگوا دیں۔ وہ آپ۔کو یزید قرار دے دے گا اور دوبارہ آپ اسے حلیم کھانے کو بلائیں گے تب بھی نہیں آئے گا۔
نوٹ: اگر واقعی کوئی شیر کا بچہ آج کے یزید کے سامنے کھڑا ہے تو وہ کسی عقیدے کسی مذہب کا ہو اس کا احترا۔م بھی کریں اور اسے حلیم بھی کھلائیں۔وہ امام حسین نہ سہی غلام حسین تو ہے بہرحال۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لعنت تو پہنچتی ہی نہیں!
کراچی میں یزید معاویہ ابوسفیان اور دیگر پر لعنت بھیجنے کا جو واقعہ پیش آیا ہے، اس کی ایف آئی آر صرف تین افراد کے خلاف درج ہونا درست نہیں۔
لعنت سب نے بھیجی ہے، تو سب کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک ہونا چاہئیے اور پورے جلوس کو گرفتارکرنا چاہئیے۔ پھر یہ تفتیش ہونی چاہئیے لعنت صرف کراچی سے بھیجی گئی ہے یا ملک کے باقی شہروں میں بھی یہ کام ہوا ہے۔
اگر یہ ہی صورتحال ملک لے باقی شہروں میں ہے، تو پھر ان تما م شیعوں کو بھی گرفتار کرنا چاہئیے ایک ڈیڑھ کروڑ لوگوں کو صحابی کی بیستی کرنے کا حق نہیں دیا جا سکتا۔ پھر یہ تفتیش بھی ہونی چاہئیے کہ کہیں یہ باقی ممالک میں تو ایسے نہیں کرتے اور اس کے لیے سفارتی مشن بھیجنے چاہئیے اور باقی ملکوں میں بھی یزید معاویہ اور ابوسفیان وغیرہ پر لعنت بھیجی جاتی ہے تو اپنی سٹریٹجک پوزیشن کو استعمال کرتے ہوئے دنیا بھر کے ممالک کو مجبور کیا جانا چاہئیے کہ وہ یزید معاویہ اور ابو سفیان کو لعنت سے بچائیں۔
اگر وہ ممالک ایسا نہیں کر رہے ہوں اور یزید معاویہ اور بوسفیان پر لعنت پڑے جا رہی ہے، تو پاکستان کو اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے آواز اٹھانی چاہئیے اور توہین رسالت کے بین القوامی قانون کی طرح یزید معاویہ اور ابوسفیان کو لعنت سے بچانے کا بین الاقوامی قانون بنوا لینا چاہئیے
ان اقدامات کے بعد ضروری ہے کہ حکومت یہ سراغ لگائے کہ کہ ہر سال کروڑوں لوگ پاکستانی اور مجوزہ بین الاقوامی 1 انون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یزید معاویہ اور ابوسفیان وغیرہ پر لعنت کرتے ہیں۔ یہ ان تک پہنچ بھی رہی ہے یا نہیں۔
بعض افواہوں کے مطابق ترسیل کا نظام بارشوں کی وجہ سے گڑبڑ ہو گیا ہے اور غلطی سے باقی سب کو بھیجی جانے والی بھی انہی کو مل رہی ہے۔ اس معاملے کی تفتیش ہونی چاہئیے اور جو کچھ جسے بھیجا جا رہا ہو اسے ملنا چاہئیے۔ میں بہرحال لعنت بھیجنے کے خلاف ہوں خاص طور پر جب وہ پہنچ بھی نہ رہی ہو ۔ 😂
سلمان حیدر
۔۔۔۔
اگر ہم مذہب کو ریاست اور سیاست سے الگ کردیں تو اس کا فوری نتیجہ یہ نکلے گا کہ ہم کم از کم مسائل کا درست تجزیہ کرنے کے قابل ہوجائیں گے۔ جبکہ اس بات کا ادراک بھی ہونے لگے گا کہ اہلِ مذہب نے ہمیں آج تک ہمیں کیسے الجھا رکھا تھا۔
سعید ابراہیم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ناصبی کہتے ہیں کہ کربلا کا واقعہ محض کہانی ہے اور مبالغے کی وجہ سے حقائق مسخ ہوگئے ہیں۔
چلیں فکشن ہی سہی، جب ہم کوئی کہانی، کوئی ناول پڑھتے ہیں تو اس میں مختلف کردار متعین ہوتے ہیں۔ ہیرو ہوتا ہے، ولن ہوتا ہے، ان کے ساتھی ہوتے ہیں۔
ہم کہانی سے سبق حاصل کرتے ہیں۔ یہ بحث نہیں کرتے کہ کوئی کردار ایسا نہیں ویسا تھا۔ اس کا مقصد یہ نہیں تھا، وہ تھا۔ ولن کا ارادہ نیک تھا لیکن بیان کرنے والے نے بد بنادیا۔
کہانی ہی مان لیجیے۔
اب کردار بدل نہیں سکتے۔ حسین ہیرو ہے۔ یزید ولن ہے۔ آپ کہانی دوبارہ نہیں لکھ سکتے۔
کربلا کا واقعہ کہانی ہے، تب بھی سبق آموز ہے۔ جب تک ظلم برقرار ہے، ظالم حکمران موجود ہیں، اس کا درس پرانا نہیں ہوگا، جو اس سانحے کو نظرانداز کرے گا، وہ عصر حاضر کے حقائق سے لاتعلق ہوجائے گا۔
جب تک یزید کا دفاع کرنے والے موجود ہیں، یزید نام بدل بدل کر آتا رہے گا۔ یہ الگ بات کہ حسین کا ذکر سن کے تلملاتا رہے گا۔
وہ تمام بریلوی دیوبندی اہلحدیث شیعہ اسماعیلی بوہری ملحد ہندو مسیحی، جو سال میں دس دن حسین کا نام لیتے ہیں، باطل کے خلاف جنگ میں حق کے سپاہی ہیں۔
مبشر علی ذیدی
آخر ہم مغربی ممالک کی جانب کیوں بھاگتے ہیں؟
جس کسی کو بھی بہتر معاشرے میں جینے کا احساس ہوتا ہے، اس کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ کسی نہ کسی طرح کسی مغربی ملک میں شفٹ ہوجائے۔ اس کی وجہ ایک نہیں بہت سی ہیں۔
- ان اقوام نے جھوٹ، ملاوٹ، رشوت اور لاقانونیت سے نجات حاصل کرلی ہے۔ جبکہ زندگی کے لیے درکار سہولتیں اس پر مستزاد ہیں۔
- وہاں ہر فرد کو اپنے مذہب پر قائم رہنے، بدلنے یا چھوڑنے کی یکساں آزادی حاصل ہے۔
- وہاں کوئی کسی کی ذاتی زندگی میں مخل نہیں ہوتا۔
- کئی ریاستوں میں جاب لیس ہونے کی صورت میں سوشل سیکیورٹی کا نظام موجود ہے۔ گویا فرد کی بے گھری اور بھوکے مرنے کا کوئی امکان نہیں۔
۔ فرد کی ترقی کیلیے درکار سہولتوں کو ممکن بنادیا گیا۔
- فرد کو اپنی ذات کے بارے میں فیصلے لینے کی آزادی مہیا کردی گئی ہے۔
غور کیجیے تو یہ تبدیلیاں صرف اور صرف اس وقت شروع ہوئیں جب انہوں نے یہ بات سمجھ لی کہ مسائل کے حل کے لیے عقلِ انسانی سے بہتر اور کوئی ٹُول نہیں۔ اور پھر یہ بھی کہ اس کی بنیاد پر جنم لینے والے اختلافات ایسے مقدس نہیں ہوتے کہ ان کی بنیاد پر کسی کو کسی مخالف کے قتل پر اکسایا جاسکے۔
سعید ابراہیم