Saturday, October 12, 2019

Mubashir Zaidi: Religious

مجالس میں نہ جانے والے افراد اکثر ایک بات کرتے ہیں۔ چودہ سو سال سے ایک ہی جیسی باتیں سن سن کر آپ بور نہیں ہوجاتے؟

میں جواب دیتا ہوں کہ علامہ ضمیر اختر نقوی کی مجالس سنیں۔ پچاس سال سے خطاب کررہے ہیں۔ رپیٹیشن کا احساس ہو تو بتائیں۔ مقام وہی کربلا کا ہے لیکن یہ آپ پر منحصر ہے کہ کس راستے سے منزل تک پہنچتے ہیں۔ آپ کے گھر سے کربلا تک ہزار راستے نکلتے ہیں۔ اسی طرح منبر سے سانحہ کربلا تک پہنچنے کے بھی ہزار راستے ہیں۔
میں نے علامہ صاحب کی سیکڑوں مجلسیں سامنے بیٹھ کر سنی ہیں۔ وہ ایک راستے سے دوبارہ نہیں گزرتے۔ ہر بار نئے انداز سے بات کہتے ہیں۔ کل سے پہلے کی سیکڑوں مجلسوں میں شرکت کے باوجود علامہ صاحب مجھے نہیں جانتے تھے۔ کل پہلی ایسی مجلس ہوئی جس میں ان کے سامنے میں بیٹھا تھا اور وہ مجھے پہچان سکتے تھے۔ اپنی پہچان بنانا آسان کام نہیں دوستو۔ چار دوست بنتے ہیں، ہزار دشمن ملتے ہیں، تب کہیں جاکر شناخت حاصل ہوتی ہے۔

ورجینیا میں کل کی مجلس مقصر اور غالی کے موضوع پر تھی۔ یہ معاملہ آج کل پاکستان میں گرم ہے۔ مختصراً یہ ہے کہ حضرت علی کے فضائل بڑھا چڑھا کر سنانے والا غالی ہے یعنی مبالغہ کرتا ہے۔ حضرت علی کے فضائل گھٹاکر سنانے والا مقصر ہے یعنی تقصیر کرتا ہے۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ توازن کیسے قائم رکھیں؟ اور کیا کوئی توازن قائم کرنے کا فارمولا بھی ہے؟

علامہ صاحب نے عجیب طرح سے بات شروع کی۔ پہلے ملحدین، مشرکین اور کفار کو رگیدا۔ مسلمان رہ گئے تو اہل بیت کے دشمنوں پر تبرا کیا۔ جو باقی بچے ان میں مقصر اور غالی کی بحث میں پڑنے والوں پر وار کیا۔

عام طور پر اہل تشیع علما جب مجلس پڑھتے ہیں تو دوسرے فرقے کے علما کی کتابوں کے حوالے دیتے ہیں تاکہ کوئی انھیں رد نہ کرسکے۔ لیکن اس بار بات اہل تشیع کے عقیدے کی تھی۔ علامہ صاحب نے آئمہ کے اقوال اور خطبات سے حوالے دینے شروع کیے اور معترضین کے پرخچے اڑادیے۔

جی چاہے تو مجلس سنیں، فیس بک پر پوری موجود ہے۔ میں مرکزی بحث سے ہٹ کر فقط تین دلچسپ نکتے بیان کرتا ہوں۔

علامہ صاحب نے تقریر کے آغاز میں خدا کے صفاتی ناموں کا ذکر کیا اور ایک نام بتایا، المصور۔
انھوں نے کہا کہ تصویر بنانے کے لیے پانچ شرائط ہوتی ہیں۔ ایک قلم یا برش، دوسرے کاغذ یا کینوس، تیسرے رنگ یا روشنائی، چوتھے روشنی کیونکہ اندھیرے میں تصویر بنانا ممکن نہیں۔

پانچویں شرط یہ ہے کہ جامد شے ہو کیونکہ پانی یا کسی مائع شے پر تصویر نہیں بنائی جاسکتی۔

علامہ صاحب نے کہا کہ خدا ایسا مصور ہے جو قلم کاغذ اور روشنائی کے بغیر ماں کے پیٹ کے اندھیرے میں مائع شے سے تصویر خلق کردیتا ہے۔

دوسرا نکتہ انھوں نے بیان کیا کہ قرآن پاک کا آغاز ان الفاظ سے ہوتا ہے، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں۔ اب کسی بھی شے کی تعریف ہوتی ہے تو وہ دراصل اللہ کی تعریف ہوتی ہے کیونکہ وہ خالق ہے۔ آپ کسی پرندے کی تعریف کرتے ہیں تو یہ اللہ کی تعریف ہے کیونکہ وہ اس کا خالق ہے۔ آپ کسی عمارت کی تعریف کرتے ہیں تو چونکہ وہ عمارت کسی انجینئر نے عقل استعمال کرکے بنائی ہے اور عقل کا خالق اللہ ہے اس لیے یہ اس کی تعریف ہے۔ آپ مشرک یا کافر  کی کسی ایجاد کی تعریف کرتے ہیں تو وہ بھی اللہ کی تعریف ہے۔ اس نے یہ نہیں کہا کہ مشرکوں یا کافروں کی تعریف میری تعریف نہیں ہوگی۔ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں۔

اس کے بعد انھوں نے مقصرین کو مخاطب کرکے کہا کہ علی کی تعریف بھی اللہ کی تعریف ہے۔ آپ علی کے فضائل کم کرتے ہیں، آپ مقصر ہیں۔ ہم بڑھاکر برابر کرتے ہیں۔ ہم غالی نہیں ہیں۔

ایک اور مزے کی بات انھوں نے یہ بتائی کہ لکھنئو کے لوگ موت سے بہت ڈرتے ہیں۔ وہ خود لکھنئو کے ہیں اس لیے ان کی بات کو مستند سمجھیں۔ انھوں نے انکشاف کیا کہ اہل لکھنئو کی گفتگو میں کبھی وہ لفظ نہیں آئے گا جس میں موت کی طرف اشارہ ہو۔ چنانچہ وہ غسل خانہ نہیں کہتے کیونکہ اس سے موت کے بعد غسل کا خیال ذہن میں آتا ہے۔ سنگ مرمر نہیں کہتے کیونکہ اس میں لفظ مر آتا ہے اور وہ بھی دو بار۔ چنانچہ اسے سنگ سفید کہتے ہیں۔

ایک بار کسی نواب صاحب کی ملازمہ کا انتقال ہوگیا۔ نواب صاحب دھاڑیں مار مار کر رونے لگے۔ کسی نے کہا کہ ملازمہ کے مرنے پر اتنا گریہ کیوں؟ نواب صاحب نے فرمایا، ملازمہ کی موت پر نہیں رو رہا۔ رو اس لیے رہا ہوں کہ ملک الموت نے میرا گھر دیکھ لیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایسا کم ہوتا ہے کہ کسی کے پاس ایک کنال کا مکان ہو لیکن وہ تین مرلے پر خوش رہے۔ میرے دادا ایسے ہی شخص تھے۔ باقی زمین پر انھوں نے مسجد اور امام بارگاہ تعمیر کردیا تھا۔ خود نماز پڑھاتے اور مجلس پڑھتے۔ ان کا انتقال اس گھر میں میری ولادت سے کئی سال پہلے ہوگیا تھا۔ ان کی قبر وصیت کے مطابق امام بارگاہ کے احاطے میں بنائی گئی۔
مجھے یاد ہے کہ میں اور خاندان کے دوسرے بچے ان کی قبر پر جاکر بیٹھ جاتے۔ میں ان کے کتبے پر کھدے ہوئے الفاظ پر انگلیاں پھیرتا رہتا تھا۔ وہ کتبہ آج بھی وہیں لگا ہوا ہے۔
میں نے جب ہوش سنبھالا تو دادی اماں کی آنکھیں جاچکی تھیں۔ وہ دن میں بڑے کمرے میں اپنی چارپائی پر بیٹھی پان کھاتی یا لیٹی تسبیح پڑھتی رہتیں۔ نماز کے وقت پھپھو انھیں وضو کرواتیں۔ ظہرین وہ اسی کمرے میں بچھے تخت پر پڑھتیں، مغربین صحن میں بچھے بڑے تخت پر۔ گرمیوں میں سب صحن میں سوتے، سردیوں میں بڑے کمرے میں۔
دادی اماں دیکھ نہیں سکتی تھیں لیکن میرے آداب کہتے ہی پہچان لیتیں۔ بالے میری جان میرے کلیجے کے ٹکڑے میرے پاس آؤ۔ وہ مجھے پاس بلاتیں تو میں دور بھاگتا۔  پیار کرتیں تو میں بدتمیزی سے گال صاف کرتا۔ ان کے منہ سے آتی پان کی بو پر ناک سکیڑتا۔
آج وہ خوشبو میری یادوں کا عطر ہے۔
دادی اماں کے ساتھ پھپھو اور چچا عزادار رہتے تھے۔ ہماری ایک ہی پھپھو تھیں۔ ان کی شادی ان کے کزن عسکری نذر سے ہوئی۔ ان کے کئی بچے ہوئے لیکن بدقسمتی سے سب پیدائش کے وقت ختم ہوگئے۔ میرا خیال ہے کہ یہ پچاس کی دہائی کی بات ہے۔ خانیوال میں لیڈی ڈاکٹر کہاں ملتی کہ صحیح مشورہ دیتی۔ دائیاں ہوتی تھیں۔
پھوپھا عسکری ایک بار والدین سے ملنے امروہا گئے جنھوں نے ان کی دوسری شادی کرادی۔ وہ بیوی کو لے کر خانیوال واپس آگئے۔ ہماری صابر پھپھو نے سوتن کو برداشت کرلیا۔ بعد میں ان کے پانچ بچوں سے بھی محبت کا سلوک کیا۔
مجھے یہ سب بعد میں معلوم ہوا۔ میں نے تو ان پھپھو کو دیکھا جو دادی اماں کی آنکھیں بن گئی تھیں۔ ان کے کھانے پینے، نہانے دھونے اور نماز روزہ مجلس ماتم کا خیال رکھتی تھیں۔
خانیوال میں گیس نئی نئی آئی تھی اور ہر گھر میں نہیں تھی۔ پھپھو برادے کی انگیٹھی پر کھانا پکاتی تھیں۔ اس انگیٹھی میں برادا بھرنا، آگ جلانا، مطلوبہ آنچ ممکن بنانا، روٹی پکانا اور سالن بھوننا اذیت ناک عمل تھا۔ بجلی یا گیس پر کھانا پکانے والی خواتین اس مشکل کا تصور نہیں کرسکتیں۔
پھوپھا دوسری بیوی کے ساتھ الگ گھر میں رہتے تھے لیکن آنکھ کھلتے ہی دادی اماں کے ہاں آجاتے۔ پھپھو لوٹے میں پانی بھر کے ان کا ہاتھ منہ دھلواتیں اور ناشتہ کرواتیں۔ برسوں ان کا یہی معمول رہا۔
پھپھو کی ہزار مصروفیات تھیں۔ دادی اماں کو سنبھالنا ہی کم نہ تھا۔ کھانا پکنا اور گھر کی صفائی کے علاوہ مسجد اور امام بارگاہ کا خیال رکھنا اور زنانی مجلسوں کا انتظام کرنا بھی ان کے ذمے تھا۔ اس کام میں خاندان کی خواتین اور لڑکیاں بھی ان کا ہاتھ بٹاتی تھیں۔ لیکن میں بتا یہ رہا تھا کہ تمام مصروفیات کے باوجود پھپھو مرغیاں پالتی تھیں۔ میں بچپن میں مرغیوں مرغوں کے پیچھے دوڑتا رہتا تھا۔
ایک بار حیدرآباد سے چھوٹے تایا کے بچے خانیوال آئے۔ اس سال پھپھو نے مرغیوں کے نیچے چوبیس انڈے رکھے اور پورے چوبیس چوزے نکل آئے۔ انھوں نے ہر چھوٹے بڑے کو اس کے نام کا چوزہ دکھایا۔ چند ایک چوزے جوان مرغ بنے اور ان میں سے ایک میرا چوزہ بھی تھا۔ ایک دن پھپھو نے وہ مرغا مجھے دے کر کہا کہ اس کا گوشت بنوا لاؤ۔ میں قصائی کی دکان پر گیا لیکن ذبح کروانے کی ہمت نہ ہوئی۔ اس دیسی مرغ کو ایک دکان پر بیچا اور دوسری دکان سے ولایتی چکن کا گوشت لے آیا۔
اس گھر کے تیسرے فرد چچا عزادار تھے۔ جوان تھے لیکن ذہنی طور پر کمزور۔ اسکول میں نہیں پڑھ سکے۔ پرائمری اسکول کے بچے جتنی عقل تھی۔ خاندان بھر کے بچوں کے دوست تھے۔ ہر بچے کا ایک ہی نعرہ ہوتا تھا، چاچا گودی! یعنی چاچا مجھے گود میں لو۔
بچوں کو نیک محمد کی دکان سے چیز دلانی ہو، گپی کے چوک سے سودا سلف لانا ہو، نماز کے لیے صفیں اور مجلس کے لیے دریاں بچھانی ہوں، کسی کے گھر پیغام بھجوانا ہو، چاچا کو آواز لگائی جاتی تھی۔ دادی اماں، پھپھو، تائی امی، ہماری امی، گھر کے کاموں کے لیے چاچا سب کے مشکل کشا تھے۔
چاچا کے لیے صبح سویرے اٹھنا مشکل کام تھا۔ وہ دن چڑھے تک رضائی یا چادر منہ تک لپیٹے پڑے رہتے۔ پھپھو آوازیں دیتی رہتیں، ارے او احدی! نیستی کہیں کے! اٹھا جا، سورج سر پر آگیا۔ چاچا رضائی میں اور گھس جاتے۔ میں نے دوبارہ کسی کے منہ سے احدی کا لفظ نہیں سنا۔
چاچا کو دنیا میں سب سے زیادہ اپنے ریڈیو سے پیار تھا۔ چار بینڈ کا وہ ریڈیو شاید بابا نے انھیں لاکر دیا تھا۔ وہ اس پر چمڑے کا کور چڑھائے رکھتے۔ دن بھر اس کی نوب گھما کر نہ جانے کون سا چینل ڈھونڈتے رہتے۔ آخری وقت تک انھیں وہ چینل نہیں مل سکا۔
میں نے بی بی سی کے پروگرام سیربین کے ٹائٹل کے طور پر بجنے والی بانسری کی دھن سب سے پہلے چاچا کے ریڈیو سے سنی تھی۔ وہ دھن ایسی میرے دماغ میں بیٹھی کہ آج میں خود خبروں کی دھن میں ریڈیو میں بیٹھا ہوں۔

.......
"ایک مبینہ ملحد کا انٹرویو"-
مبشر علی زیدی

سوال: ’’مبشر صاحب! کیا آپ ملحد ہیں؟‘‘
جواب: ’’جناب! میرے مزاج میں تلون ہے۔ کسی وقت ملحد ہوں، کسی وقت متشکک ہوں، کسی وقت خدا پرست ہوں۔‘‘

سوال: ’’آپ کس وقت خدا پرست ہوتے ہیں؟‘‘
جواب: ’’میں نماز اور قرآن پاک پڑھتے وقت خدا پرست بن جاتا ہوں۔‘‘

سوال: ’’کیا آپ نے کبھی نماز اور قرآن پڑھا ہے؟‘‘
جواب: ’’کبھی سے کیا مراد ہے؟ میں حج اور عمرے کرچکا ہوں۔ مسجد الحرام، مسجد نبوی اور مسجد کوفہ میں نماز پڑھ چکا ہوں۔ بارہ سال کی عمر میں قرآن پاک مکمل پڑھ لیا تھا۔ بیس سے زیادہ ترجمے اور آٹھ دس تفاسیر کا جستہ جستہ مطالعہ کرچکا ہوں۔ احادیث اور سیرت کی متعدد کتابیں پڑھ چکا ہوں۔‘‘

سوال: ’’آپ کس وقت ملحد ہوجاتے ہیں؟
جواب: ’’میں تاریخ اور خاص طور پر اسلامی تاریخ پڑھتے ہوئے ملحد ہوجاتا ہوں۔‘‘

سوال: ’’اسلامی تاریخ میں کون سی باتیں آپ کو ٹھیک نہیں لگتیں؟‘‘
جواب: ’’تاریخ طبری کا آغاز تاریخ انسانی سے پہلے سے ہوا۔ یہ مضحکہ خیز بات ہے۔ تاریخ میں خدا کی سرگرمیوں اور معجزوں کا کوئی کام نہیں۔ تاریخ کو غیر جذباتی انداز میں لکھنا اور پڑھنا چاہیے۔‘‘

سوال: ’’آپ اسلامی شعائر کی توہین کیوں کرتے ہیں؟‘‘
جواب: ’’میں اسلامی شعائر کا احترام کرتا ہوں لیکن چیزوں کو غیر جذباتی انداز میں دیکھتا ہوں۔ تقدس کا حد سے زیادہ جذبہ آپ کی فکر کو متاثر کرتا ہے۔ یہ حد سے زیادہ تقدس ہی تھا کہ لوگ پتھر کے بت کی پوجا نہیں چھوڑتے۔ یہ حد سے زیادہ تقدس ہی ہے کہ لوگ قبروں کو سجدہ کرتے ہیں۔ یہ حد سے زیادہ تقدس ہی ہے کہ لوگ ایک مخصوص حلیہ اختیار کرلیتے ہیں۔ اس تقدس کا کوئی فائدہ نہیں اگر آپ جھوٹ بولنا نہیں چھوڑتے اور دوسروں کو آپ کی ذات سے نقصان پہنچتا ہے۔‘‘

سوال: ’’آپ نے خدا سے متعلق کہانیاں کیوں لکھیں؟ لوگ کہتے ہیں کہ آپ نے خدا کا مضحکہ اڑایا۔‘‘
جواب: ’’کیا کوئی انسان اتنا بڑا ہے کہ خدا کا مضحکہ اڑا سکتا ہے؟ میں صرف انسان کے تصورات کا مضحکہ اڑاتا ہوں۔ میں نے ایک کہانی بے گھر لکھی جس میں بتایا کہ میں خدا کو لے کر کئی مذاہب کی عبادت گاہوں میں گیا لیکن کسی نے اسے قبول نہیں کیا۔ ہر عبادت گاہ پر کوئی مولوی، پنڈت، پادری قابض تھا۔ اسی طرح ایک کہانی میں بتایا کہ میں خدا خریدنے کے لیے ایک دکان پر گیا ہوں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ کائنات کا خدا برائے فروخت ہے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ معاشرے کے ہر طبقے نے اپنی سہولت کے مطابق مذہب میں گنجائش پیدا کرلی ہے۔‘‘

سوال: ’’آپ مولویوں کو برا کیوں کہتے ہیں؟‘‘
جواب: ’’پہلے ایک فرق جان لیجیے۔ میری تحریروں کا مولوی وہی ہے جو علامہ اقبال کا ملا ہے۔ یعنی دین ملا فی سبیل اللہ فساد۔ میں مولوی اور عالم کو ایک جیسا خیال نہیں کرتا۔ مولوی، پنڈت، پادری خدا اور جہنم سے ڈرا دھمکا کر اپنا الو سیدھا کرتا ہے، اسے عامر خان نے ایک فلم میں رونگ نمبر قرار دیا ہے۔ عالم وہ ہوتا ہے جو شیریں بیانی سے انسانوں کے دل میں انسانوں کی محبت پیدا کرتا ہے۔‘‘

سوال: ’’آپ نے جنت میں لائبریری کا سوال کیوں اٹھایا؟‘‘
جواب: ’’یکم رمضان کو کسی دوست نے ایک عالم دین وڈیوز بھیجی جس میں یہ ارشادات سننے کو ملے،
جنت میں ایک کنسرٹ ہوگا جس میں انبیا کے علاوہ اللہ خود بھی گانا گائے گا۔ جنت میں شراب نہ صرف وافر ہوگی بلکہ وہاں شراب پینے والوں کے بھی تین درجے ہوں گے۔ وی وی آئی پیز کو اللہ خود شراب کے ’’پیگ‘‘ بناکر پلائے گا۔ اہل جنت کو حوریں ملیں گی۔ اللہ خود حوروں کا میک اپ کرے گا۔
بس اسی لیے میں سوال کر بیٹھا کہ کیا کسی الہامی کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ جنت میں لائبریری ہوگی؟ یا جنت صرف شراب کے پیاسوں اور سیکس کے بھوکوں کے لیے تخلیق کی گئی ہے؟ یہ جنت پر نہیں بلکہ جنت کے اس تصور پر اعتراض تھا جس میں حوروں اور شراب کے سوا کوئی شے بیان نہیں کی جاتی۔‘‘

سوال: ’’لوگوں نے آپ کے سوال کے جواب میں کہا ہے کہ جنت میں سارا علم موجود ہوگا اس لیے کتابوں یا لائبریری کی کیا ضرورت؟‘‘
جواب: ’’یہ بات وہی لوگ کرسکتے ہیں جنھوں نے کبھی شاعری یا فکشن نہیں پڑھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اچھا فکشن اور اچھی شاعری پڑھنا، اچھی موسیقی سننا، اچھی تصاویر، وڈیو یا فیچر فلم دیکھنا بھی اہل ذوق کے لیے اسی قدر یا اس سے بھی زیادہ لطف کا سبب ہوتا ہے جتنا کہ کسی محبوبہ کے ساتھ وقت گزارنا۔ خوراک اور مشروب نسبتاََ کم درجے کا لطف فراہم کرتے ہیں۔
چنانچہ بعض صاحبان کے اس اصرار پر حیرت ہوتی ہے کہ جس مقام پر یعنی جنت میں پوری دنیا کا علم موجود ہوگا، وہاں کتابوں کی کوئی ضرورت نہیں ہوگی۔ آپ کسی کمپیوٹر میں پوری دنیا کا علم جمع کردیں تب بھی وہ یوسفی جیسا ایک نثر پارہ یا غالب جیسا ایک شعر تخلیق نہیں کرسکتا۔ علم کچھ اور شے ہے اور فن کوئی اور کمال۔ لیکن جن لوگوں نے فنون کو گناہ قرار دے دیا ہو، وہ بھلا یہ بات کیسے سمجھ سکتے ہیں۔‘‘

سوال: ’’کچھ لوگ آپ کے بارے میں کہتے ہیں کہ سارا سال آپ لبرل بنے رہتے ہیں اور محرم آتے ہی اہل تشیع کا روپ اختیار کرلیتے ہیں۔‘‘
جواب: ’’لبرل ازم اور سیکولرزم کا تعلق ریاست کے انتظام سے ہے، میں اسے مذہب سے متصادم نہیں سمجھتا چنانچہ لبرل ہونے کو برا بھی نہیں خیال کرتا۔ میں شیعہ گھرانے میں پیدا ہوا تھا، چنانچہ شیعہ کلچر کا اثر ہونا لازمی ہے۔ لیکن حال یہ ہے کہ لیٹ اس بلڈ پاکستان جیسی شیعہ ویب سائٹس پر میرے خلاف باقاعدہ تحریک چلتی ہے۔

میں کسی شخصیت کو کسی مذہب کے زیر اثر نہیں مانتا۔ سب مانتے ہیں کہ سقراط بڑا آدمی تھا، ابراہام لنکن بڑا آدمی تھا، کارل مارکس بڑا آدمی تھا، نیلسن منڈیلا بڑا آدمی تھا۔ انھیں ماننے سے کسی کا دھرم بھرشٹ نہیں ہوتا۔ سسٹر روتھ فاؤ کو خراج عقیدت پیش کرنے سے کوئی ملحد ہرگز مسیحی نہیں ہوجاتا۔ گاندھی کی تحسین کرنے سے کوئی ملحد ہرگز ہندو نہیں ہوجاتا۔

امام حسین ان سب سے بڑے آدمی تھے چنانچہ میں انھیں اسی طرح مانتا ہوں۔ میں مذہب کے زیر اثر نہیں بلکہ ان کی عظمت کا اعتراف کرنے کے لیے کربلا گیا تھا۔ امام حسین کو سلام پیش کرنے سے کسی کا مذہب یا الحاد خطرے میں نہیں پڑتا۔‘‘

No comments:

Post a Comment