وہ تھے تعلیم سے محروم لیکن مجھے پڑھایا
حد سے زیادہ پسینہ میری خاطر انہوں نےبہایا
آج جو کھڑا رہتا ہوں شاہوں میں سر اٹھا کر
میرے باپ نے مجھے اس قابل بنایا
خــــریــد کــر جو پــرندے اُڑائے جاتے ہیں
ہمارے شہر میں کثرت سے پائے جاتے ہیں
میں دیکھ آیا ہوں اِیک ایسا کارخـــانہ 'جہاں
چـــراغ توڑ کـے سُــــورج بنائے جاتے ہیں
کہیں مِلیں گے تو پھر جان تم بھی جاؤ گے
ہـم ایسـے ہیـں نہيـں جیسـے بتائے جاتے ہیں
کیا حسن نے سمجھا ہے کیا عشق نے جانا ہے
ہم خاک نشینوں کی ٹھوکر میں___ زمانہ ہے
جگر مراد آبادی
مجھے اب بات کہنا آگئی ہے
سر محفل کھری باتیں کروں گا
سمندر ہوں خموشی میرا مسلک
اگر بولا بڑی باتیں کروں گا
یوں تو بلانے پر بھی کم بولتے ہیں
جہاں کوٸ نہیں بولتا وہاں ہم بولتے ہیں ۔
کیوں زیاں کار بنوں، سُود فراموش رہوں
فکرِ فردا نہ کروں محوِ غمِ دوش رہوں
نالے بُلبل کے سُنوں اور ہمہ تن گوش رہوں
ہم نَوا مَیں بھی کوئی گُل ہوں کہ خاموش رہوں
نتیجہ پھر وہی ہوگا زمانہ چال بدلے گا
پرندے پھر وہی ہونگے شکاری جال بدلے گا
بدلنے ہیں تو دن بدلو ، بدلتے هو تو ہندسے هی
مہینے پھر وهی هونگے، بیچارا سال بدلے گا
جنون عشق سمجھو یا اپنا عیب ہی سمجھو
اپنے پیار میں مجھ کو چیئیرمین نیب ہی سمجھو
یہ تو ہم کہہ نہیں سکتے کہ محبت ہے بہت
واقعہ یہ ہے کہ دل میں تری عزت ہے بہت
حق کے سارے راستے چھوڑ دو
ربیعہ میرا پیچھا چھوڑ دو
شاعر : سجاد قمر
میری خوبی پر رہتے ہیں یہاں اہل زباں خاموش!!
میرے عیبوں پے چرچا ہو تو گونگے بہی بول پڑتے ہیں
کچھ پلٹ کر نہیں کہا میں نے
یہ مجھے مات ہوگئی ہے کیا؟
مجھ پہ کسنے لگے ہو آوازیں
اتنی اوقات ہوگئی ہے کیا؟
یہ جو بدن میں لہو کو امان دی ہوئی ہے،
کسی کو جینے کی ہم نے زبان دی ہوئی ہے،
تجھے ہم اپنے تعارف میں کیا کہیں پیارے،
ہمارے واسطے لوگوں نے جان دی ہوئی ہے!
*جن کے ہاتھوں میں صداقت کے الم ہوتے ہیں*
*طے شُدہ بات ہے تعداد میں کم ہوتے ہیں۔*
۔۔۔۔
*تم گرانے میں لگے تھے تم نے سوچا ہی نہیں*
*میں گرا تو مسئلہ بن کر کھڑا ہو جاؤں گا*
*مجھ کو چلنے دو اکیلا ، ہے ابھی میرا سفر*
*راستہ روکا گیا تو قافلہ ہو جاؤں گا*
*ساری دنیا کی نظر میں ہے مرا عہد وفا*
*اک ترے کہنے سے کیا میں بے وفا ہو جاؤں گا۔*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں کھجوروں بھرے صحراؤں میں دیکھا گیا ہوں
تخت کے بعد ترے پاؤں میں دیکھا گیا ہوں
۔
پھر مجھے خود بھی خبر ہو نہ سکی میں ہوں کہاں
آخری بار ترے گاؤں میں دیکھا گیا ہوں
۔
لمحہ بھر کو مرے سر پر کوئی بادل آیا
کہنے والوں نے کہا چھاؤں میں دیکھا گیا ہوں
۔
دفن ہوتی ہوئی جھیلوں میں ٹھکانے ہیں مرے
خشک ہوتے ہوے دریاؤں میں دیکھا گیا ہوں
۔
وصل کے تین سو تیرہ میں کہیں ہوں موجود
ہجر کے معرکہ آراؤں میں دیکھا گیا ہوں
۔
مسجدوں اور مزاروں میں تو چرچے ہیں مرے
مندروں اور کلیساؤں میں دیکھا گیا ہوں
"" نا معلوم"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
( تمہارے نام )
بڑا بے ڈھنگ تھا ، جب تم نہیں تھیں
میں خود سے تنگ تھا ، جب تم نہیں تھیں
میں اب رنگین غزلیں لکھ رہا ہوں
سخن بے رنگ تھا ، جب تم نہیں تھیں
تمہارا کون تھا؟ جب میں نہیں تھا
میں کس کے سنگ تھا ، جب تم نہیں تھیں
چمک اٹھا ہوں تیرے پاس آ کر
بدن پر زنگ تھا ، جب تم نہیں تھیں
یہ غم ، جس سے کوئ رشتہ نہیں اب
یہ میرا انگ تھا ، جب تم نہیں تھیں
مرزا منیب بیگ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یُونہی تو ڈُوبا مرے دیس کا سفینہ تھا
کہ حُکمران مِلا ہی بڑا کمینہ تھا
وہ جِن پہ کُفر کے فتوے لگائے جاتے تھے
ہُوئی جو جنگ تو پہلے اُنہی کا سینا تھا
وہ بُت پرست مُسلمان یُوں بھی ہوتے گئے
کہ جاں بچانے کا بس اِک یہی قرینہ تھا
اب اُس کی یاد سے بہلا رہے ہیں دل کو ہم
جُدا ہُوئے تو کسی آس پر تو جینا تھا
پرائی آگ میں کون آج کُود پڑتا ہے
جو اپنے زخم تھے زخموں کو خُود ہی سینا تھا
بس اِک وصال کے بدلے تمام عُمر کا ہجر
خبر نہ تھی کہ ہمیں زہر یہ بھی پینا تھا
بھلا وہ شخص وہ بھی دنیا کامیاب ہوا ۔۔۔؟
کہ جس کے یاروں کے دل میں اُسی کا کینہ تھا
میں اپنے شعر نہ کیونکر سنبھال کر رکھتا
مرے لیے تو یہی قیمتی خزینہ تھا
وہ مُجھ سے ملنے کو آئے تھے خواب میں باقرؔ
کُھلی جو آنکھ تو پھر سامنے مدینہ تھا
*مُــــــــــــــرید بــــــــــــــاقرؔ انصـــــــــــــاری*
صید بڑھتے ہیں تو صیّاد جنم لیتا ہے
ہر قدم پر کوئی جلّاد جنم لیتا ہے
عدل مِٹ جائے تو عزت بھی کُھلے عام بِکے
اِس طرح لوگوں میں الحاد جنم لیتا ہے
ماؤں کے پیٹ میں مقرُوض و محکُوم ہیں طِفل
کون اس دیس میں آزاد جنم لیتا ہے
ہاں وہیں پر کوئی موسیٰ بھی نکل آتا ہے
جب کہیں کوئی ستم زاد جنم لیتا ہے
وہ تو میں تھا کہ جو لڑتا رہا مظلُوم کی جنگ
دیکھئے کون میرے بعد جنم لیتا ہے
ہر ذہیں شخص تو استاد نہیں بن جاتا
لاکھ شاگردوں میں اُستاد جنم لیتا ہے
عشق کی آگ میں جوکُود کے مر جاتا ہے
پھر وہ بن کر نئی رُوداد جنم لیتا ہے
روز لُٹ جاتی ہے عزت کسی شیریں کی یہاں
روز باقؔر نیا فرہاد جنم لیتا ہے
مُــــــــــــــرید بــــــــــــــاقرؔ انصـــــــــــــاری®
.
.
سر جھکاؤ گے تو پتھر دیوتا ہو جائے گا
اتنا مت چاہو اسے وہ بے وفا ہو جائے گا
ہم بھی دریا ہیں ہمیں اپنا ہنر معلوم ہے
جس طرف بھی چل پڑیں گے راستہ ہو جائے گا
کتنی سچائی سے مجھ سے زندگی نے کہہ دیا
تو نہیں میرا تو کوئی دوسرا ہو جائے گا
میں خدا کا نام لے کر پی رہا ہوں دوستو
زہر بھی اس میں اگر ہو گا دوا ہو جائے گا
سب اسی کے ہیں ہوا، خوشبو، زمین و آسماں
میں جہاں بھی جاؤں گا اس کو پتہ ہو جائے گا۔۔۔
- بشیر بدر
( تمہارے نام )
بڑا بے ڈھنگ تھا ، جب تم نہیں تھیں
میں خود سے تنگ تھا ، جب تم نہیں تھیں
میں اب رنگین غزلیں لکھ رہا ہوں
سخن بے رنگ تھا ، جب تم نہیں تھیں
تمہارا کون تھا؟ جب میں نہیں تھا
میں کس کے سنگ تھا ، جب تم نہیں تھیں
چمک اٹھا ہوں تیرے پاس آ کر
بدن پر زنگ تھا ، جب تم نہیں تھیں
یہ غم ، جس سے کوئ رشتہ نہیں اب
یہ میرا انگ تھا ، جب تم نہیں تھیں
مرزا منیب بیگ
کیے کراے کا سارا حساب دوں گا میں
سوال جو بھی کرو گے جواب دوں گا میں
یہ رکھ رکھاؤ کبھی ختم ہونے والا نہیں
بچھڑتے وقت بھی تجھ کو گلاب دوں گا میں
خرم آفاق
ہو گئی بات پرانی مگر اب خیال آتا ہے
عام سا تو شخص تھا اس پر دل آیا کیسے؟
تُم ابھی تَلَک اُسے کیوں بھُلا نہیں پارہے ..
تُمہیں خواب کیوں کسی اور کے نہیں آرہے ..
وہ جِسے یونہی میرا مُسکُرانا پسند تھا ..
اُسی شخص کو میرے قہقہے نہیں بھا رہے ..
مجھے دُکھ ہے جومیرے بعد تیرے قریب ہیں ..
وہ میری طرح تُجھے چاہ کیوں نہیں پارہے ..
یہ میرے بنا تیری سانس کیوں نہیں رُک رہی ..
یہ تیرے بنِا میرے ہوش کیوں نہیں جارہے ..
مُجھے آگے بڑھنا ہے بات سے اے متاعِ جاں ..
مگر آس پاس سے لوگ ہی نہیں جارہے ..
مجھے چائے , کافی نہیں پسند اسے پھینک دو ..
میرے واسطے کوئ جام کیوں نہیں لا رہے ..
تجھے سوچ کر مُجھے چین کیوں نہیں مِل رہا ..
مُجھے دور تُجھ سے کیوں راستے نہیں لا رہے
مرزا منیب بیگ
ایک کلام اہلِ ذوق کی نذر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔
محبّت جو لاؤں وفا لاؤ گے کیا؟
بتاؤ کہ میرا کہا لاؤ گے کیا؟
مرے خواب بھاری بہت ہوں گے تم پر!
کہوں آسماں تو اٹھا لاؤ گے کیا؟
یہ ہاتھوں کو دیکھو یہ سونے ہیں کب سے!
مری چوڑیاں ،تم کڑا لاؤ گے کیا؟
یہ پھولوں کو دیکھو یہ تتلی کو دیکھو!
کہ ان سے نزاکت ذرا لاؤ گے کیا؟
چمکتے یہ جگنو یہ روشن ستارے!
کہوں روشنی تو چرا لاؤ گے کیا؟
یہ تاریک راتوں میں روشن سویرا!
یہ کچھ ایسا ویسا بھلا لاؤ گے کیا؟
محبّت نچھاور کروں گی میں تم پر!
مرا ذہن ہے خالی حرفِ دعا لاؤ گے کیا؟
تمہیں جو کہوں اب جوۓ شیر لاؤ!
بتاؤ کہ تم بھی بنا لاؤ گے کیا؟
یہ جو بھی کہا ہے یہ جو بھی سنا ہے!
پرانا ہے سب ، کچھ نیا لاؤ گے کیا؟
یہ چھوٹی سی خواہش ہے پورا کرو تم!
ہتھیلی پہ بچپن سجا لاؤ گے کیا؟
شریعت کی منکر حیا سے میں باغی!
مرے دل میں حافظ خدا لاؤ گے کیا؟
رشید پردیسی
جو ہمارے مرید ہو جائیں
پیر خواجہ فرید ہو جائیں
ان دنوں سب کو ہم میسر ہیں
آئیں ، اور مستفید ہو جائیں
یہ مسلمانوں کو سہولت ہے
کچھ بھی کر کے شہید ہو جائیں
ماتھا سجدوں سے داغدار کیا
تا کہ دھبے رسید ہو جائیں
یہی انسانوں کی طہارت ہے
خواب دیکھیں ، پلید ہو جائیں
مومنو ! کوفیوں سے بہتر ہے
کھلے لفظوں یزید ہو جائیں
ہنس لے ، تھوڑا مزید ہنس لے یار !
تا کہ دکھ بھی مزید ہو جائیں
جو محبت کا مان رکھتا ہے
ضبط اپنا مہان رکھتا ہے
“وہ کسی اور کا نہیں ہوگاُ”
دل بھی کیسا گمان رکھتا ہے!
تیر آنکھوں سے دیکھنے والا
ہاتھ اپنے کمان رکھتا ہے
جس کو بے آسرا سمجھتے ہو
وہ بھی اک آسمان رکھتا ہے
ڈر کے جو بولتا نہیں صاحِب!
وہ بھی منہ میں زبان رکھتا ہے
ہر گھڑی اُس کو دیکھتے رہنا
میری آنکھیں جوان رکھتا ہے
عمران حسنّ
دل نے وفا کے نام پر کار وفا نہیں کیا
خود کو ہلاک کر لیا خود کو فدا نہیں کیا
خیرہ سران شوق کا کوئی نہیں ہے جنبہ دار
شہر میں اس گروہ نے کس کو خفا نہیں کیا
جو بھی ہو تم پہ معترض اس کو یہی جواب دو
آپ بہت شریف ہیں آپ نے کیا نہیں کیا
نسبت علم ہے بہت حاکم وقت کو عزیز
اس نے تو کار جہل بھی بے علما نہیں کیا
جس کو بھی شیخ و شاہ نے حکم خدا دیا قرار
ہم نے نہیں کیا وہ کام ہاں بہ خدا نہیں کیا
No comments:
Post a Comment