اثنا عشری اہل تشیع کے لیے لازم ہے کہ وہ کسی عالم کی تقلید کریں۔ ایسے عالم کو مرجع تقلید کہا جاتا ہے۔ وکی پیڈیا کے مطابق اس وقت کم از کم اکہتر مراجع حیات ہیں۔ میرا خیال ہے کہ یہ فہرست نامکمل ہے۔ لیکن اتنے مراجع بھی ہوں تو اس کا مطلب ہے کہ ایک مسلک کی تشریح کے اتنے نقطہ ہائے نظر موجود ہیں۔
اہل تشیع کئی طرح کے ہیں۔ مثلاً اخباری شیعہ جو غیر مقلد ہوتے ہیں۔ کئی گروہوں کو شیعہ سمجھا جاتا ہے لیکن وہ مختلف نظریات رکھتے ہیں، جیسے اسماعیلی۔ اہلسنت کے فقہ کے چار آئمہ اور پھر ان کے ماننے والوں کی شاخیں سب جانتے ہیں۔ اسلام کے علاوہ دوسرے مذاہب کی فہرست بھی طویل ہے۔ ان میں بھی متعدد فرقے ہیں۔
ان سب میں مشترک بات یہ ہے کہ خدا کو مانتے ہیں۔ یعنی ایک خدا کو ماننے والوں کے درجنوں نہیں، سیکڑوں نقطہ ہائے نظر ہیں۔ تو پھر خدا کو نہ ماننے والے یا شک کرنے والے سب لوگوں کو ایک قوم سمجھنا کیسی بڑی نادانی ہے؟
آئیں، دیکھتے ہیں کہ خدا کو ماننے، نہ ماننے یا شک کرنے والوں کی چند نمایاں کیٹگریز کیا ہیں:
Agnosticism
خدا کے ہونے یا نہ ہونے کا کسی کو علم نہیں یا علم ہو ہی نہیں ہوسکتا۔ انسانی عقل اس راز کو نہیں پا سکتی۔
Ignosticism
خدا کی حقیقت جاننے کی کوشش کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔
Apatheism
انسان کو خدا کے ہونے یا نہ ہونے کا کوئی فیصلہ ضرور کرنا چاہیے۔
Atheism
کوئی خدا موجود نہیں ہے۔
Deism
خدا موجود تو ہے لیکن وہ کائنات میں کوئی مداخلت نہیں کرتا۔
Monotheism
خدا ایک ہے، وہ سب سے زیادہ بااختیار ہے، اس نے دنیا بنائی اور اس میں مداخلت بھی کرتا ہے۔
Monism
خدا یا کائنات ایک ہی ہے۔ اس ایک نے خود کو بہت سی چیزوں میں تقسیم کرلیا اور وہ ہر شے میں موجود ہے۔
Panentheism
خدا کائنات کے ہر جانب میں موجود ہے اور وقت اور مقام کی قید سے آزاد بھی ہے۔
Henotheism
ایک خدا کی عبادت کرنی چاہیے لیکن امکان ہے کہ مزید خدا بھی موجود ہوں۔
Monolatrism
ایک سے زیادہ خدا یقیناً موجود ہیں لیکن صرف ایک کی عبادت کرنی چاہیے۔
Kathenotheism
ایک سے زیادہ خدا موجود ہیں لیکن ایک وقت میں صرف ایک کی عبادت کرنی چاہیے۔
Theism
ایک یا کئی خدا ہوسکتے ہیں اور وہ وحی بھیج سکتے ہیں۔
Dualism
ایک نہیں، دو عظیم طاقتیں ہیں جو ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ ایک نیکی ہے، دوسری بدی ہے۔
Polytheism
کئی خدا موجود ہیں اور الگ الگ کام کرتے ہیں۔
Omnism
تمام مذاہب ٹھیک ہیں اور سب کا احترام کرنا چاہیے۔
۔
میں علانیہ اگنوسٹک ہوں لیکن نہ مجھے اس پر فخر ہے اور نہ شرمندگی۔ اسلام کہتا ہے کہ جو شخص علم حاصل کرنے کے راستے میں مرجائے، وہ شہید ہے۔ میں اپنی تشکیک کو علم کا راستہ سمجھتا ہوں۔ ممکن ہے کہ کسی دن میں منزل پر پہنچ جاؤں۔ لیکن نہ بھی پہنچ سکا تو اس راستے کو اختیار کرنے پر مطمئن ہوں۔
ایک غلط فہمی ہمارے دوستوں دشمنوں سب کو ہے کہ متشکک اور ملحد ایک ہی ہوتے ہیں۔ جی نہیں، متشکک خدا کا انکار نہیں کرتا۔
دوسری غلط فہمی یہ ہے کہ متشکک صرف مذہب پرستوں کے تصور خدا کی حقانیت پر شک کرتا ہے۔ جی نہیں۔ ہمیں ملحدین کے نظریہ الحاد پر بھی شک ہے۔
متشکک سمجھتا ہے کہ خدا ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی۔ لیکن ہمارے پاس کسی نتیجے پر پہنچنے کے وسائل نہیں ہیں۔ کم از کم فی الحال نہیں ہیں۔
لوگ فقط تصور خدا میں الجھ جاتے ہیں۔ یعنی خدا کیا ہے اور کیا نہیں۔ سچ یہ ہے کہ علمائے اسلام رسول پاک کے کردار پر بھی الجھن کا شکار ہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ وہ نور کا پیکر تھے، کچھ کہتے ہیں کہ وہ خاکی انسان تھے۔ کچھ لوگ انھیں غیب کا عالم سمجھتے ہیں، کچھ قرآن سے دلیل لاتے ہیں کہ انھیں غیب کا علم نہیں تھا۔ یہ بھی لکھا ہے کہ قرآن ان کے دل پر اترتا تھا، اور یہ بھی درج ہے کہ فرشتہ آیات لاتا تھا۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ جبرائیل ان کا معلم تھا، کچھ کہتے ہیں کہ وہ جبرئیل کے استاد تھے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ انھوں نے جسمانی طور پر معراج کا سفر کیا، بعضے کہتے ہیں کہ وہ روحانی سفر تھا یا خواب دیکھا تھا۔ قرآن میں لکھا ہے کہ رسول کا واحد معجزہ یہ کتاب ہے لیکن میں ایک کتاب ایسی دیکھ چکا ہوں جس کا عنوان رسول اللہ کے ایک ہزار معجزات ہے۔
آپ کسی ایک مسلک کے ایک عالم سے کسی فروعی نکتے پر اختلاف کریں تو آپ کو مشرک، کافر، ملحد پتا نہیں کیا کیا قرار دیدے گا۔
ہاں ہم تشکیک میں مبتلا ہیں۔ ہمیں شک ہے اس تصور خدا کے درست ہونے پر، جو علمائے مذہب کے الجھے ہوئے ذہنوں میں موجود ہے اور جسے وہ درست طور پر بیان کرنے کے بھی قابل نہیں۔
ہمیں شک ہے ان فرسودہ خیالات اور مذہبی رسومات کے درست ہونے پر، جو نئے زمانے کے تقاضوں کے مطابق نہیں۔ ہمیں خدشہ ہے کہ علمائے مذہب نئے زمانے کو سمجھنے کے خواہش مند نہیں یا اس قابل نہیں۔
ہمیں سبق آموز قصے کہانیاں پسند ہیں لیکن ہم انھیں تاریخی حقائق تسلیم نہیں کرتے۔ یہ بات افسوس ناک ہے کہ علمائے مذہب کو اسٹیٹمنٹ یعنی بیان، تنقیدی سوچ، دستاویزی شواہد اور تحقیقی نتائج جیسی بنیادی باتوں کا علم نہیں یا فرق معلوم نہیں اور اگر وہ اس بارے میں جانتے ہیں تو پھر بے وجہ کسی بیان کو تحقیقی نتائج پر فوقیت دینے پر اصرار کرتے ہیں۔
ایک معمولی سی مثال پیش کردیتا ہوں۔ اگر میں کہوں کہ علامہ اقبال پاکستان کے وزیراعظم رہے ہیں تو یہ ایک بیان ہے۔ آپ تاریخ کی کتابیں کھول کر دیکھیں گے اور بتادیں گے کہ اب تک بائیس افراد پاکستان کے وزیراعظم رہے ہیں جن میں علامہ اقبال شامل نہیں۔
اب سمجھیں کہ مختلف علاقوں کی، خاص طور پر مصر کی گزشتہ پانچ ہزار سال کی تاریخ موجود ہے۔ تاریخ داں اور تحقیق کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ حضرت موسیٰ کا ذکر کہیں نہیں ملتا۔ توریت میں ان کا ذکر جس دورانیے میں بیان کیا گیا ہے، اس دور کے فرعون کی ممی دریائے نیل کے بجائے اہرام سے ملی ہے۔ بک آف ایگزوڈس میں ذکر ہے کہ حضرت موسیٰ مصر سے اپنی قوم کو لے کر چلے۔ وہ بہت بڑی ہجرت تھی۔ تاریخ میں اس کے شواہد نہیں۔
یہ سب مبشر علی زیدی نہیں کہہ رہا، وہی یہودی تحقیق کرکے بتارہے ہیں جو حضرت موسیٰ کو مسلمانوں سے زیادہ مانتے ہیں اور اسرائیل میں رہتے ہیں۔
یہ بات طے ہے کہ سوچنے والوں اور بغیر سوچے ماننے والوں کا اتفاق رائے ہونا مشکل ہے۔ سائنسی فکر اور غیب پر ایمان یکجان نہیں ہوسکتے۔ اس لیے ہمیں اختلاف رائے پر اتفاق کرلینا چاہیے۔
ایک آخری بات کہ مذہبی لوگوں کا اس بات پر سختی سے ایمان ہونا چاہیے کہ دنیا ایک امتحان ہے اور ہر شخص نے اپنے اعمال (اور شاید اپنے خیالات) کا حساب دینا ہے۔ میں اپنے پرچے میں کیا لکھ رہا ہوں، یہ مجھ پر چھوڑ دیں۔ میں کسی کی نقل نہیں کرنا چاہتا۔ آپ بھی اپنے امتحان کی فکر کریں۔ ایسا نہ ہو کہ دوسرے کے تاکاجھانکی میں آپ اپنا پرچہ خراب کر بیٹھیں۔
Wednesday, December 5, 2018
Mubashir Zaidi: Shia Islam
Labels:
shia
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment