Tuesday, December 4, 2018

نئے پاکستان میں شادی کرنا آسان ہے!

نئے پاکستان میں شادی کرنا آسان ہے! 😂

کبھی کبھی سنجیدہ کہانیاں بھی مزاحیہ رُخ اختیار کرلیتی ہیں۔ لیکن وہ مذاق انسان کسی دوسرے کے ساتھ نہیں کرتا بلکہ حالات اِس کے مذاق کرتے ہیں۔ بَس یوں سمجھ لیجیۓ کہ ایسا بھی اسی کہانی میں ہوا تھا۔

ہر دلعزیز انسان، احباب کی فہرست میں میرے انتہائی قابل احترام شخص طحٰہ بھائی سے بات چیت کے دوران ایک موضوع چھڑ گیا، وہ موضوع شادی تھا۔ میں نے کہا طحٰہ بھائی” شادی ایک ایسا اٹوٹ بندھن ہے، جسے ہم دو اُوراح کا ملاپ کہتے ہیں۔ مگر آج کے دور میں شادی برابری والوں سے کی جاتی ہے۔ کیونکہ دنیاوی وجاہت، شان و شوکت میں کمی نہیں آجاۓ“۔ بَس اِتنی سی بات کہنی تھی، اِس بات پر انھوں نے ایک قصہ سُنا ڈالا۔ میں نے احترام کا پاس رکھتے ہوۓ خاموشی سے سُننا غنیمت سمجھا۔ 

یہ طحٰہ بھائی سے منقول ضعیف روایت ہے کہ ایک لڑکا ایک لڑکی کے عِشق میں مبتلا ہوگیا تھا، مگر وہ اسے دِل و جان سے چاہتا تھا؛ اور لڑکی بھی اسے دِل ہی دِل میں پسند تو کرتی تھی مگر اظہار نہیں کرتی تھی۔ اکثر لڑکیاں اقرار تو کر لیتی ہیں مگر اظہار نہیں کرتی کیونکہ وہ شرماتی ہیں۔ وہ لڑکا انتہائی شریف النفس انسان ہونے کی وجہ اِس لڑکی کا دِل جیت چکا تھا۔ بالاخر اِس لڑکی نے ایک موقع دینے کا فیصلہ کیا۔ اِس نے لڑکے سے کہا کہ مجھے تو تم پسند ہو، لیکن اگر میرے ممی پاپا کو پسند آ گئے، تو میں تم سے شادی کر لوں گی۔ اِس نے لڑکے کو اپنے گھر آنے کی دعوت دی، تو لڑکا جوش میں مقررہ وقت سے بھی آدھا گھنٹہ پہلے ہی اِس کے گھر کے باہر کھڑا تھا۔ یہ ایک عظیم الشان گھر تھا۔ گھر کا گیٹ کھلا، تو اندر اُسے نئے ماڈل کی چار چمکدار گاڑیاں نظر آنے لگیں۔ خیر ملازم اُسے لے کر ڈراہنگ روم میں آ گیا؛ اور کہا کے آپ یہاں انتظار کیجیئے۔

کچھ دیر بعد اُس حسینہ کے والد صاحب اور والدہ کمرے میں داخل ہوۓ؛ اور اِس لڑکے سامنے صوفے پر بیٹھ گئے۔ اِن کی شان دیکھ کر اِس کے چہرے پر ہواہیاں اڑنے لگی۔ مگر وہ بہت کلچرڈ محسوس ہوتے تھے۔ انہوں نے ایک کاروباری قسم کی مُسکراہٹ مجھ پر ڈالی، والد صاحب نے بولنا شروع کیا ” بیٹا کیوں ہماری بچی کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ گئے ہو۔ شَکل سے ہی تم یتیم سے لگتے ہو۔ میری بیٹی اِس شہر کے سب سے مہنگے اسکول سے پڑھی ہے۔ پھر اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لیے ہم نے اِسے امریکہ بھیجا؛ اور وہ ابھی کچھ دِن پہلے وہاں سے ماسٹرز کر کے واپس پہنچی ہے۔ اِس کو اِس ملک کی بڑی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیاں بہت بھاری تنخواہ پر نوکری آفر کر رہی ہیں۔ ہمارے پاس اِس کے لیے بہت سے سیاستدانوں اور بزنس مین کے بیٹوں کے رشتے آرہے ہیں۔ آخر تم کیا چیز ہو، جو اِس کو اس قدر پریشان کر رہے ہو“۔ 

انکل بولے جا رہے تھے؛ اور وہ شَرم سے زمین میں گھڑتا جا رہا تھا۔ اِس کی یہ کیفیت تھی کہ زمین پھٹ جاۓ؛ اور وہ اس میں اتر جاۓ۔  سَچ میں اِس نے اپنی حیثیت سے بہت بڑی کسی چیز کی خواہش کر دی تھی۔ خیر انکل نے اپنی بات جاری رکھتے ہوۓ مزید ارشاد فرمایا ”بیٹا ہم آپ کی بے عزتی نہیں کرنا چاہتے مگر انسان کو اپنی شَکل اور حیثیت دیکھ کر بات کرنی چاہیے۔ تمہارے جیسے لڑکے کو تو ہم اپنی شہزادی بیٹی کا نوکر بھی نہیں رکھنا چاہتے؛ اور تم یہ یتمیوں والا منہ لے کر سیدھا اِس کا رشتہ مانگنے ہی آگئے۔ آخر تمہارے پاس ہے ہی کیا، جو تم نے اِتنی بڑی خواہش کر دی“۔

اس لڑکے نے شدید پریشانی کے عالم میں اپنا تُھوک نِگلتے ہوۓ مری ہوی آواز میں کہا ”انکل میرے پاس چار دیسی مُرغیاں تین درجن دیسی انڈے؛ اور دو عدد کٹّے بھی ہیں“۔ اچانک انکل اور آنٹی کا موڈ تبدیل ہو گیا؛ اور آنٹی نے اس لڑکے پر پیار بھری نظر ڈالتے ہوۓ محبت سے کہا ”بیٹا نِکاح تو آج ہی کر دیتے ہیں، رخصتی کچھ دنوں بعد کر دیں گے“۔

خطیب احمد

No comments:

Post a Comment