اہل تشیعوں کے اختراعی عمل پر اہلسنت عمل پیرا
خطیب احمد
اہل تشیع جب زیارت کو جاتے ہیں، تو اہلیبت علیہ سلام کے مرقد کے سامنے زیارت کی دُعا پڑھتے ہیں؛ اور دوسرے مومنین جو زیارت کا شرف حاصل نہیں کر پاتے، اِن کا سلام اپنی جانب سے پہنچا دیتے ہیں۔ لیکن اب دور ٹیکنالوجی کا ہے، تو جب تک سلام پہنچایا کہ نہیں پہنچایا، تو اِس بات کا اطمینان قلب ہوجاۓ؛ اس لیے وہاں مرقد کے سامنے پرچہ یا موبائل سے اِس شخص کا نام یا تصویر رکھ کر ایک تصویر کھینچ لیتے ہیں تاکہ جس شخص کا سلام پہنچایا ہے، اس شخص کو یقین ہوجاۓ۔ اب یہ رُجحان جدید دور کی ایجاد ہے، تو کافی مقبول ہورہا ہے۔
مگر یہ گفتگو کرنے کا مقصد یہ تھا کہ یہ روایت سُنی مسلمانوں میں بھی مقبول ہوتی جارہی ہے۔ انھوں نے اِس کا نعم البدل یہ نکالا ہے کہ مکہ، مدینہ کوئی شخص عمرہ یا حج کرنے کی غرض سے جاتا ہے، تو اِس سے کعبے، گُنبدِ خضرا کے ساتھ اپنی تصویر یا پرچے پر درج نام کے ساتھ تصویر کھینچ والیتے ہیں۔ یوں کہہ لیجیۓ کے رسول خدا صلی علیہ وآلہ وسلم یا خدا باری تعالٰی کی بارگاہ میں سلام ارض کر دیتے ہیں۔
محرم، صفر کے بعد ربیع الاول کے مہینے میں اکثر لوگ عمرے کرنے جاتے ہیں جس بنا پر سوشل میڈیا پر اس طرح کی تصاویر اکثر و بیشتر دیکھنے کو ملیں گی۔ جبکہ اب سے چند سال پہلے اِس کا اِتنا رواج عام نہیں تھا۔ جُوں جُوں وقت گذر رہا ہے، لوگوں میں شعور بیدار ہورہا ہے، جس وجہ سے وہ ایک دوسرے کی مثبت پہلوؤں کی جانب متوجہ ہورہے ہیں۔
یہ رُجحان ایام عزاء کے بعد کافی دیکھنے میں آتا ہے۔ کیونکہ اکثر مومنین کربلا المقدسة سفر اربعین(چہلم امام حسین علیہ سلام) میں جاتے ہیں۔ نجفِ اشرف سے پیدل کربلا تک پیدل سفر کرتے ہیں، تو نجف میں مرقد مولا علی علیہ سلام اور کربلا میں بین الحرمین (حضرت عباس ؑ اور امام حسین ؑ کے روضے کے درمیان کی جگہ کو کہتے ہیں) کے مقام پر اکثر تصاویر لے کر اپنے پیاروں کا سلام اُن ؑ کی بارگاہ اقدس میں پیش کرتے ہیں۔
اس تحریر کو لکھنے کا مقصد یہ تھا کہ جہاں کچھ شر پسند عناصر اہل تشیعوں کے ہر ایک عمل کو بدعت، کفر، شرک ثابت کرنے کی تگ و دو میں لگے رہتے ہیں، حالانکہ ایسا کچھ عِلمی طور پر ثابت نہیں ہوتا ہے۔ جبکہ وہیں اہل تشیعوں کے مُثبت افکار و اعمال کو اہلسنت بھائی اپنا رہے ہیں۔ اس طرح کے معاملات اتحاد بین المسلمین کو فروغ دیتے ہیں؛ اور امن آشتی قائم کرتے ہیں۔ جس کی بیشتر مثالیں آپ کو مل سکتی ہیں۔ جس میں سے ایک تو میں نے واضح کر دی ہے، دوسری تعزیہ، عَلم، تقسیمِ تبرک اور دیگر شامل ہیں۔ جبکہ اہل تشیع اپنی روائیتی قدیمی تہذیب و تمدن پر اب بھی عمل پیرا ہیں؛ اور مُنظّم جماعت ہونے کی وجہ سے امتیازی حیثیت رکھتے ہیں۔۔
No comments:
Post a Comment