Saturday, June 2, 2018

Qatal e Aysha r.a

مروان نے عائشہ کو کیوں قتل کیا؟

بنی امیہ کے مروان بن حکم نے جناب عائشہ کو اسی وجہ سے قتل کیا کہ جس وجہ سے مروان نے طلحہ بن عبید اللہ کو قتل کیا تھا ۔۔۔۔ اور وہ وجہ ہے کہ طلحہ اور عائشہ  نے عثمان ابن عفان کے قتل میں حصہ لیا تھا۔

اہلسنت کتب میں جناب عائشہ کے قتل کا واقعہ یوں درج ہے:

سنہ ٥٨ھ میں حضرت ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی ﷲ عنہا فوت ہو کر البقیع میں مدفون ہوئیں آپ مروان کی مخالفت کیا کرتی تہیں کیونکہ اس کے اعمال اچھے نہ تھے مروان نے ایک روز دھوکے سے دعوت کے بہانے سے بلا کر ایک گڑھے میں جس میں ننگی تلواریں اور خنجر وغیرہ رکھ دیۓ تھے آپ کو گرا دیا تھا آپ بہت ضعیف اور بوڑہی تھیں زخمی ہوئیں اور انہیں زخموں کے صدمہ سے فوت ہو گئیں۔

اہلسنت حوالے:

تاریخ اسلام از اکبر شاہ نجیب آبادی (آنلائن لنک۔ متبادل لنک)
تاریخ ابن خلدون (سر ورق ۔ صفحہ 506 اور 507) (متبادل لنک صفحہ 506 ۔ صفحہ 507)
مشرف المحبوبین از حضرت خواجہ محبوب قاسم چشتی مشرفی قادری (سرورق ۔ صفحہ 616)
مولیٰ اور معاویہ از خلیل احمد صاحب (سر ورق ۔ صفحہ 407)
سیر الحبیب (سر ورق ۔ صفحہ)
اگرچہ کہ کچھ اہلسنت علماء یہ بیان کرتے ہیں کہ جناب عائشہ کا قتل اس لیے کیا گیا کیونکہ وہ معاویہ ابن ابی سفیان کے غلط احکامات بجا لانے پر مروان بن حکم پر اعتراض کرتی تھیں، مگر معاملے اس سے کہیں گھمبیر ہے اور انکے قتل کی سب سے بڑی وجہ کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ اور وہ وجہ ہے بنی امیہ کی جناب عائشہ سے دشمنی کیونکہ جناب عائشہ نے عثمان ابن عفان کی خلافت کے خلاف سازشیں کر کے انہیں قتل کروایا تھا۔

مروان بن الحکم نے طلحہ و عائشہ کو اس لیے قتل کیا کیونکہ وہ قاتلینِ عثمان تھے

عثمان ابن عفان کا سب سے قریبی ساتھی انکا کزن مروان بن الحکم تھا (ان دونوں کا بشمول معاویہ کا تعلق بنی امیہ سے تھا اور یہ آپس میں رشتے دار تھے)۔

عثمان ابن عفان کے قاتلوں کو اگر کوئی سب سے بہتر طریقے سے پہچانتا تھا، تو وہ یہی مروان بن الحکم تھا۔

ابن جریر طبری نے عمر بن شعبہ سے، اُس نے ابو الحسن سے، اُس نے ابو عمر سے، اُس نے عتبہ بن مغیرہ بن الاخنس سے روایت کی ہے:‏‫

ذات العرق کے مقام پر سعید بن العاص کی ملاقات مروان اور اسکے ساتھیوں سے ہوئی، تو اُس نے اُن لوگوں کو کہا:‏‫ تم لوگ کہاں جاتے ہو جبکہ عثمان کے قاتل تو تمہارے ساتھ ہی ان اونٹوں پر سوار موجود ہیں [نوٹ:‏‫ عائشہ و طلحہ و زبیر کی طرف اشارہ ہے]۔ انہیں قتل کر دو اور پھر اپنے گھروں کو پلٹ جاؤ اور اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو۔
مروان کہنے لگا کہ نہیں ہم آگے جائیں گے اور عثمان کے ایک ایک قاتل کو ڈھونڈ کر قتل کریں گے۔
تاریخ طبری، انگلش ایڈیشن، جلد 16، صفحہ 44

امام اہلسنت ابن عبدالبر نے اپنی کتاب الاستیعاب، ج3، ص213 پر مولا علی (ع) کی یہ تقریر نقل کی ہے:‏‫

۔طلحہ، ‍زبیر اور عائشہ مجھ سے اس چیز کا حق مانگ رہے ہیں جو انہوں نے خود ترک کر دی تھی۔ اور یہ اس خون کا قصاص مانگتے ہیں، جو انہوں نے خود بہایا ہے۔ یہ خود عثمان کے قتل کے ذمہ دار ہیں، اور میں ہرگز اس میں شامل نہ تھا۔ لیکن یہ اب اس کا انکار کرتے ہیں۔ میں ہرگز عثمان کے قتل میں شامل نہیں۔ اور عثمان کے قتل کے واحد مجرم یہ باغی گروہ خود ہے۔ انہوں نے میرے ہاتھ پر بیعت کی اور پھر اسے توڑ دیا

ابن جریر طبری نے زیاد بن ایوب سے، انہوں نے معصب بن سلمان التمیمی سے، انہوں نے محمد سے، انہوں نے عاصم بن کلیب سے، انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی ہے:‏‫
کلیب کہتے ہیں کہ جب وہ جہاد سے واپس آئے تو کچھ دنوں کے بعد یہ مشہور ہو گیا کہ طلحہ و زبیر آ رہے ہیں اور اُن کے ساتھ ام المومنین حضرت عائشہ بھی ہیں۔ یہ سن کر لوگوں کو بہت حیرت ہوئی کیونکہ لوگوں کا خیال تھا کہ ان لوگوں نے ہی عثمان سے ناراض ہو کر لوگوں کو اُس کے خلاف کیا تھا۔ اور اب بدنامی سے بچنے کے لئے قصاص کا نام لے کر نکلے ہیں۔
حضرت عائشہ نے کہا کہ ہم تو تمہاری خاطر ہی عثمان کی تین حرکتوں پر ناراض ہوئے تھے:‏‫ پہلا یہ کہ اُس نے ناعمر لوگوں کو حاکم مقرر کیا، دوسرا یہ کہ اُس نے عامہ کی زمینوں پر قبضہ کیا اور تیسرا یہ کہ اُس نے لوگوں کو دروں اور چھڑی سے مارا۔
تاریخ طبری، انگلش ایڈیشن، جلد 16، صفحہ 100

العقد الفرید، ص 218 پر درج ہے کہ مروان نے عائشہ کو کہا،

عثمان تمہارے خطوط کی وجہ سے مارا گیا ہے۔

اور العقد الفرید، ج 2، ص 210 پر لکھا ہے:‏‫

"مغیرہ بن شعبہ عائشہ کے پاس آیا۔ عائشہ نے اس سے کہا، "جنگ جمل میں جو تیر پھینکے گۓ، ان میں سے کچھ تو مجھے چھوتے ہوۓ گذرے۔" مغیرہ نے جواب دیا،"اگر ایک تیر بھی تمہیں لگ کر قتل کر دیتا تو یہ اس بات کی توبہ ہوتی کہ تم نے لوگوں کو عثمان کے قتل پر اکسایا کرتی تھیں۔"

ابن قیتبہ اپنی کتاب "الامامہ و السیاسہ" کی صفحہ 55 پر تحریر کرتے ہیں:‏‫

جب مقام اوطاس میں حضرت عائشہ سے مغیرہ ابن شعبہ کی ملاقات ہوئی تو اس نے آپ سے دریافت کیا کہ:‏‫
اے ام المومنین کہاں کا ارادہ ہے؟ فرمایا بصرے کا کہا کہ وہاں کیا کام ہے ؟فرمایا خون عثمان کاقصاص لینا ہے اس نے کہا کہ عثما ن کے قاتل تو آپ کے ہمراہ ہیں .پھر مروان کی طرف متوجہ ہوا ,اور پوچھا کہ تمہارا کہا ں کا ارادہ ہے؟اس نے کہا کہ میں بھی بصرہ جارہا ہوں کہا کس مقصد کے لیے؟ کہا کہ عثمان کے قاتلوں سے بدلہ لینا ہے اس نے کہا کہ عثمان کے قاتل تو تمہارے ساتھ ہی ہیں اور انہی طلحہ و زبیر نے تو انہیں قتل کیا تھا .

ریاض النضرہ، ج 4، ص 34 پر لکھا ہوا ہے:‏‫

مروان نے طلحہ کو قتل کر کے اعلان کیا کہ اب عثمان کے خون کا قصاص مانگنے کی کوئی ضرورت نہیں رہی ہے۔

اہل سنت کی معتبر کتب میں یحیی ابن سعید سے روایت ہے:‏‫

۔ جب طلحہ نے میدان جنگ سے پسپا ہونا شروع کیا تو اس وقت طلحہ کے لشکر کی صفوں میں مروان بن حکم بھی موجود تھا۔ مروان بن حکم اور بنی امیہ، طلحہ کو عثمان کا قاتل سمجھتے تھے۔ مروان نے طلحہ پر ایک تیر کھینچ کر چلایا، جس سے وہ بری طرح زخمی ہو گیا۔ پھر اس نے ابان سے کہا (جو عثمان کا بیٹا تھا)، "میں نے تمہیں تمہارے باپ کے ایک

No comments:

Post a Comment