Monday, June 4, 2018

جنگ جمل

......جنگ جمل......
👈طلحہ اور زبیر مدینہ سے کوچ کر کے مکہ میں داخل ہوئے۔دونوں نے عائشہ کو اتنا سمجھایا کہ وہ ان کے ہمراہ ہو گئیں اور امیر المومنینؑ کی بیعت توڑنے کے لیے سب بصرہ کی جانب چل پڑے۔
👈امیرالمومنینؑ کو طلحہ اور زبیر کے عائشہ سے ملنے کی خبر ملی تو آپؑ نے لوگوں کے سامنے خدا کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا :
جب عثمان اور لوگوں کا اختلاف سامنے آیا نتیجہ میں عثمان قتل ہو گئے تو تم سب نے مل کر میری بیعت کرنے کا تقاضا کیا اور میں نے انکار کیایہاں تک کہ تم لوگ ہر طرف سے مجھ پر ایسے ٹوٹ پڑے اور مجھے گھیر لیا جیسے پیاسے اونٹ پانی کے حوض پر ٹوٹ پڑھتے ہیں۔اور ایسا لگا کہ تم لوگ مجھے قتل کردو گے اور کچھ لوگ تمہارے پیروں کے تلے دب کر مرجائیں گے، مجبوراً میں نے اپنا ہاتھ پھیلادیا اور تم سب نے میرا ہاتھ پکڑ کر میری بیعت کی۔
سب سے پہلے اپنے مکمل شعور و ادراک کے ساتھ جس نے میری بیعت کی وہ طلحہ اور زبیر تھے لیکن نہایت افسوس کہ جو لوگ سب سے پہلے بیعت توڑ رہے ہیں وہی طلحہ و زبیر ہیں۔
👈سلیم ابنِ قیس لکھتے ہیں کہ روزِ جمل امیرالمومنینؑ نے طلحہ و زبیر کو اپنے پاس بلایا اور فرمایا:
کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہؐ نے فرمایا کہ اہلِ جمل ملعون ہیں؟
اس بات کو تمام صاحبانِ روایت اور خُود دخترِ ابوبکر عائشہ بھی جانتی ہیں۔
طلحہ و زبیر !! ہم کیسے ملعون ہو سکتے ہیں، جبکہ ہم اہل بہشت سے ہیں۔
امیرالمومنین !! اگر تم اہل بہشت سے ہوتے تو میں تمہاری ہر گز مخالفت نہ کرتا اور تمہارے ساتھ جنگ نہ کرتا۔
👈روایت ہے کہ روز جمل عائشہ جس اونٹ پر سوار تھیں اس کا نام عسکر تھا۔جب اس کا ایک پیر کاٹ کر جدا کر دیا گیا تو دوسرے پیر پر برابر کھڑا رہا، یہاں تک کہ امیر المومنینؑ نے لوگوں سے کہا اس اونٹ کو ذبح کر دو کیونکہ یہ شیطان ہے۔
امام محمد باقرؑ سے روایت ہے کہ روزِ جمل عائشہ لوگوں کو برانگیختہ کرنے اور فتنہ انگیزی کرنے میں لگی ہوئی تھیں اور کجاوہ پر مسلسل تیروں کی بارش ہو رہی تھی تو امیر المومنینؑ نے فرمایا:
میرے پاس اس کےعلاوہ کوئی چارہ نہیں کہ رسول خداؐ کی طرف سے ان کی زوجیت کے رابطہ کو قطع کر کے اس کو طلاق دے دوں، اس وقت آپؑ نے بلند آواز سے مجمع سے کہا جس نے رسول خداؐ کو فرماتے سنا ہے کہ:
اے علیؑ ! میرے بعد میری ازواج کے امور تمہارے ہاتھوں میں ہیں وہ نزدیک آ کر گوائی دے۔
پس کچھ افراد نے اس روایت کی گوائی دی جس میں دو شخص اصحابِ بدر میں سے تھے۔جب عائشہ نے یہ ماجرا دیکھا تو اس طرح روئیں کہ دوسروں نے رونے کی آواز سنی۔
اس وقت امیرالمومنینؑ نے فرمایا میں نے رسول خداؐ کو فرماتے سنا ہے کہ :
اے علیؑ ! خدا وند عالم روز جمل پانچ ہزار ملائکہ سے تمہاری تائید و مدد کرے گا۔
👈روایت ہے کہ جنگ کے اختتام پر جب عائشہ نے مکہ جانے سے انکار کیا تو عبداللہ ابن عباس نے کہا آپؑ ان کو شہر بصرہ میں چھوڑ دیں تو امیر المومنینؑ نے فرمایا:
وہ فتنہ و فساد میں کوتاہی نہیں کریں گی، میرا مقصد ہے کہ ان کو اس گھر میں واپس کر دوں جس سے باہر نکلی ہیں۔
👈محمد ابن اسحاق نے روایت کی ہے کہ عائشہ بصرہ سے واپس ہونے کے بعد مسلسل لوگوں کو فتنہ وفساد اور علی ابن ابیطالبؑ کی دشمنی و مخالفت پر  سختی سے اصرار کرتی رہیں، اسود بختری کے زریعہ معاویہ و اہل شام کو خطوط لکھے اور ان کے خلاف انہیں دعوت دی۔
احتجاج طبرسی ص 342

No comments:

Post a Comment