Thursday, June 28, 2018

بسکہ دشوار نہیں لکھنا لکھانا یارو!

کیا واقعی کارپوریٹ آرگنائزیشن میں رہتےہوئے، افسران کے حکام مانتے ہوئے، کمپنی پالیسی کی پیروی کرتے ہوئے ہم ٹرینڈ منکی (سدھائے ہوئے جانور) یا لکیر کے فقیربن چکے ہیں؟ 24 گھنٹے مسلسل دباؤ میں رہنے کے بعد کیا ہم ڈپریشن کا شکار ہوچکے ہیں؟ کیا ہمیں کسی گیپ کی یا وقفے کی ضرورت ہے؟ کیا دماغ کو ریلیکس کرنے کی ضرورت ہے؟ کیا آؤٹ آف باکس سوچنے کی ضرورت ہے؟ کیا ا ن سب کے لیے بھی گائیڈ لائنز چاہئیے؟

اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبانِ عقل
لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے

پروفیشنل زندگی میں ایک دہائی گزارنے کے بعد جب جذبات و احساسات کے اظہار کے لیے پلیٹ فارم نہیں ملا تو اپنے لیے قلم اٹھایا۔ سب کچھ الفاظ کی صورت محفوظ کرتے گئے، اب شائع شدہ تحاریر کی بھی سینچری ہوچکی ہے۔

لکھیں حال کیا اس کو حیرت سے ہم تو

گہے کاغذ  و گہہ قلم دیکھتے ہیں

اکثر لوگ تبصروں اور انباکس میں پوچھتے ہیں کہ بلاگ اور کالم میں کیا فرق ہے؟ کالم نگاری کیا ہے؟ بہت سوں نے کہا۔ ۔ لکھنے کیلئے اتنے سارے آئیڈیاز کہاں سےآتے ہیں، اتنا وقت کیسے لکھنے کو دیا جائے اور ہم کالم نگار کس طرح بن سکتے ہیں؟

اس کی وضاحت کے لیے چند نکات تشکیل دئیے ہیں، امید ہے بہت کچھ کلئیر ہوجائے گا۔

تعارف:

صحافت یا ماس کمیونیکیشن کے دائرہ مطالعہ میں سب ایڈیٹنگ، رپورٹنگ، انٹرویو، اداریہ، فیچر نگاری، اشتہارات کے علاوہ ایک اہم اور حساس شعبۂ صحافت ”کالم نگاری” یا کالم نویسی ہے۔

کالم میں دیا گیا ہر لفظ ذو معنی اور معلومات سے بھرپور مواد اخبار کی مقبولیت اور کثیر اشاعت کا سبب بنتی ہے بلکہ یوں کہہ سکتے ہیں کہ اچھے اور معیاری کالم اخبار کا ادارتی حسن اور پہچان ہوتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آج کے دور میں ہر خواندہ شخص کچھ نہ کچھ لکھ سکتا ہے لیکن ایسی تحریر لکھنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں جس میں لکھنے والے کے دل کی بات کا اظہار بھی ہو اور اس سے دوسروں کے احساسات و جذبات اور معاشرے کے مختلف پہلوؤں کی عکاسی بھی ہوتی ہو۔ اس لیے کالم ایسے صحافی یا اہل قلم کی تحریر ہے جو وسیع علم، تجربے، بصیرت اور فکر و نظر کا حامل ہو۔

ابن انشاء کے مطابق ”میں کالم کومضمون سمجھتا ہوں جس طرح مضمون بے کراں چیز ہے، کالم بھی ہے”۔ بقول عطاء الحق قاسمی ”کالم ایک تحریری کارٹون ہوتا ہے جس میں کالم نویس الفاظ سے خاکہ تیار کرتا ہے”۔

کالم:

کالم انگریزی زبان کا لفظ ہے۔ اس لئے اس کے ساتھ عربی یا فارسی کے کوئی اسمائے معرفہ یا نکرہ یا کوئی فعل یا اس کے مشتقات نہیں لگائے جا سکتے۔ یعنی کالم رائٹنگ تو کہا جا سکتا ہے، کالم نویسی کہنا یا لکھنا غلط ہوگا۔ لیکن ہماری زبان میں کالم نویسی اور کالم نگاری ایک عرصے سے مستعمل ہیں اور چونکہ غلط العام یا غلط العوام ہیں اسلئے درست تسلیم کئے جاتے ہیں۔

ویسے تو کالم نویس کے لئے موضوعات کی کوئی قید نہیں، لیکن ہم نے شائد از خود ان موضوعات کو مقید کر رکھا ہے۔ ہم زیادہ تر حالاتِ حاضرہ پر قلم توڑنے کو کالم نگاری کا نام دیتے ہیں اور وہ بھی پاکستان کے سیاسی حالاتِ حاضرہ پر۔

انگریزی زبان کی ایک خوبی (یا خامی) یہ بھی ہے کہ ایک ایک لفظ کے کئی کئی معانی ہیں بس Spellings وہی رہتے ہیں، مثلاً اسی لفظ کالم (Column) ہی کو لیجئے۔ اس کے پانچ سات مختلف معانی ہیں جبکہ ہجے ایک ہی ہیں۔

1۔ عسکری اصطلاح میں کالم، سپاہیوں کے اس گروپ کو کہا جاتا ہے جو ایک دوسرے کے پیچھے رواں دواں رہتے ہیں۔

2۔ فوج میں بھی سنگل کالم کی اصطلاح اس وقت استعمال کی جاتی ہے جب کوئی درہ اتنا تنگ ہو کہ اس سے گزرنے کے لئے ٹروپس کو ایک قطار (سنگل فائل) کی شکل میں گزرنا پڑے۔

3۔ لفظ کالم “طب” کی اصطلاح میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ کالم کا ٹوٹ جانا اور ورٹیکل کالم وغیرہ

4۔ اسی طرح فنِ تعمیر میں بھی کالم ایک ایسے ستون کو کہا جاتا ہے جو بالکل سیدھا اور عمودی ہوتا ہے اور جو عمارت کو سہارا دینے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔

5۔ تھرما میٹر میں آپ جو ایک سفید سی پارے کی باریک لکیر دیکھتے ہیں اس کو بھی کالم ہی کا نام دیا جاتا ہے۔

6۔ صحافت کی اصطلاح میں کالم کے دو معانی ہیں…. ایک تو اخبار کے صفحے کا وہ حصہ جو عمودی شکل میں صفحے کو چھ، سات یا آٹھ حصوں میں برابر تقسیم کرتا ہے۔ دو کالموں کے درمیان یا تو ایک لکیر ڈال دی جاتی ہے یا اسپیس خالی چھوڑ دی جاتی ہے، تاکہ دو کالموں میں امتیاز کیا جاسکے اور الفاظ ایک دوسرے کے ساتھ گڈمڈ نہ ہوں اور دوسری صحافتی اصطلاح وہ ہے جو ہماراآج کا موضوع ہے۔

انگریزی لغت میں اس کی جو تشریح کی گئی ہے وہ یہ ہے:

یعنی ایک ایسا آرٹیکل جو کسی اخبار میں باقاعدگی سے شائع ہوتا ہو، کالم کہلاتا ہے۔

ایک اور انگریزی لغت میں اس کی تعریف یوں ہے۔ :

آرٹیکل وہ ہے جس میں مختلف تناظر کے پہلووں پرمختلف آراء دی جاتی ہیں۔

اداریے اور کالم میں فرق:

اداریے اور کالم میں یہی بنیادی فرق ہے۔ اداریہ ایک سیدھی چال ہے بلکہ کالم میں وہی باتیں ہوتی ہیں لیکن انداز ذرا مختلف ہوتا ہے۔ یہ ایک ہلکی پھلکی مزہ دینے والی تحریر ہوتی ہے جس کا انداز یوں ہوتا ہے کہ جیسے آپ کسی کی چٹکیاں لے کر اسے سمجھانے کی کوشش کریں۔

آرٹیکل اور کالم میں فرق:

آرٹیکل ایک غیر افسانوی، (نان فکشنل) تحریر ہوتی ہے جس میں ذاتی رائے کا دخل کم ہوتا ہے جبکہ کالم میں آپ ذاتی آراء کو شامل کر لیتے ہیں، بلکہ پورا “مضمون” ہی اسی ذاتی رائے پر استوار کر لیتے ہیں۔

ادب:

کالم نویسی ادب کا حصہ ہے، صحافت کا ہر صفحہ تاریخ ہے۔ آپ معاشرے کے حالات اور زندگی پر لکھتے ہیں۔ اگر آپ کے لکھنے کا طریقہ ادیبانہ ہے تو اسے یقیناً ادب سمجھا جائے گا۔ ہر کالم ادب کا حصہ نہیں۔ جیسے ہر غزل ادب کا حصہ نہیں۔ اس کا دارومدار وقت، موضوع اور لکھنے والے کی شخصیت پر ہوتا ہے۔

بلاگ:

لفظ “بلاگ (Blog)” ویب لاگ (Web Log) سے بنا ہے۔ بلاگ ایک قسم کی ذاتی ڈائری ہے جو آپ انٹرنیٹ پر لکھتے ہیں۔ اپنی سوچ اور شوق کے مطابق اپنے خیالات، تجربات اور معلومات لکھتے ہیں اور قارئین سے تبادلہ خیال کرتے ہیں۔

بلاگ کہانی کی طرز پر یا ضمیرِ متکلم (first person) میں لکھے جا تے ہیں۔ بلاگ کا استعمال کسی بھی معاملے یا خبر پر اپنا تجزیہ دینے کے لیے، یا لوگوں کی رائے کا تجزیہ کرنے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ بلاگ ایک ہی موضوع پر مختلف مضامین کو لنک کر کے موضوع پر موجود مختلف خیالات کا جائزہ لے سکتا ہے۔ بلاگ حالاتِ حاضرہ، سماجی مسائل، سیاسی واقعے و پیش رفت، اور ملکی و غیر ملکی حالات پر لکھے جاتے ہیں۔

ذاتی ڈائری اور بلاگ میں فرق

ذاتی ڈائری آپ تک یا چند ایک لوگوں تک محدود ہوتی ہے جبکہ بلاگ پوری دنیا کے سامنے کھلی کتاب کی مانند ہوتا ہے۔

آپ ذاتی ڈائری میں شاعری اور اچھی باتیں لکھتے ہیں اسی طرح بلاگ پر بھی آپ شاعری، اچھی باتیں، تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرسکتے ہیں۔

فیچر اسٹوریز:

بلاگ فیچر اسٹوریز سے مختلف ہوتے ہیں۔ لوگوں سے زیادہ انٹرویوز کرنا اور ان کی باتوں کے حوالے دینا بلاگ نہیں، بلکہ فیچر کہلاتا ہے۔

خبر:

بلاگز خبر سے بھی مختلف ہوتے ہیں، اس لیے کسی بھی شہ سرخی والی خبر کو مختلف الفاظ میں پیش کر دینا بھی بلاگ نہیں کہلایا جا سکتا۔

بلاگ اور کالم میں فرق:

بلاگ کالم کے مقابلے میں زیادہ غیر رسمی مزاج کے تحت لکھے جاتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود بلاگ پوسٹس میں رائے یا دلیل کا ہونا ضروری ہے، اور بیان کی گئی کہانی کو وسیع تناظر میں بھی پیش کرنا چاہئیے۔ بلاگ کے لیے جس قدر ممکن ہو ایسے موضوع کا انتخاب کرنا چاہئیے جو حقیقت سے قریب تر ہو۔

صحافت میں مفروضہ یہ ہے کہ لکھنے والا غیر جانب دار ہے۔ لکھنے والا رائے عامہ کے ایک مفروضہ حصے کی نمائندگی کرتا ہے۔ صحافی ایک فرد کی حیثیت سے قلم اٹھاتا ہے لیکن اس کی اخلاقی حیثیت اجتماعی ہے۔ چنانچہ صحافت میں ‘صیغہ متکلم’ ایک ناقابل قبول طرز بیان ہے۔ پڑھنے والے کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ صحافی کے والدین کون تھے۔ احباب کون ہیں۔ لکھنے والے کی ذاتی معاشرتی ترجیحات کیا ہیں۔ سیاسی رجحانات کیا ہیں۔ بے شک لکھنے والے کے سیاسی رجحانات بھی ہوتے ہیں۔ معاشرتی میلان بھی ہوتے ہیں لیکن پیشہ ورانہ کام کرتے ہوئے صحافی کی ذات غیر اہم ہو جاتی ہے۔ صحافت میں وہ تحریر کمزور بلکہ ناگوار سمجھی جاتی ہے جس میں بار بار لکھنے والا اپنی ذات کا ذکر کرتا ہے۔ اور صیغہ متکلم(first person) استعمال کرتا ہے۔

فیس بک اسٹیٹس:

یہ ہر لکھاری کا ہائیڈ پارک ہے۔ کوئی بھی کالم نگار ہو، ادیب یا تجزیہ نگار، اس کے پروفیشنل روپ کے ساتھ اس کی ذاتی شخصیت بھی ہے۔ کچھ اس کی پسند، ناپسند ہے، اس کے تعصبات بھی ممکن ہیں۔ یہ اسٹیٹس آدمی کھل کر لکھتا ہے، بغیر کسی کارپوریٹ دباؤ، سنسر پالیسی کے خوف سے۔

یہ فیس بک ہے، فلیش رائٹنگ، انسٹنٹ ری ایکشنز، آپ اپنی فیس بک پوسٹ کو ڈیلیٹ بھی کر سکتے ہیں، اسے مذاق میں ٹال بھی سکتے ہیں۔ تاہم بلاگ، کالم، آرٹیکل کے ساتھ ایسا نہیں کیا جاسکتا۔

مشق، تحریر کو بہتر اور مؤثر بنانے کا نہایت کارگر اور کامیاب ذریعہ ہے۔ خوش نویسی (کتابت ) کے حوالے سے ایک شعر ہے:

گر تو می خواہی کہ باشی خوش نویس
مے نویس و مے نویس و مے نویس

) اگر تو چاہتا ہے کہ خوش نویس بن جائے تو لکھتا رہ، لکھتا رہ، لکھتا رہ)۔

ادیب، مضمون نویس یا نثر نگار بننے کے لیے مسلسل لکھتے رہنا از بس ضروری ہے۔ بعض معروف اور نامور ادیب بھی مسلسل مشق کے اس عمل سے گزر کر ہی بلند پایہ نثرنویس بنے ہیں،

اگر پڑھنے کا ذوق نہیں ہے تو نہ لکھیں۔
اور اگر لکھنے کا ذوق وشوق ہے تو بہت پڑھیں۔

تیسری بات یہ کہ اگر لکھنے کا شوق ہے اور اس کی قدرتی صلاحیت بھی ہے تواس راہ کے ضروری لوازم سے آراستہ ہونے کا اہتمام کیجیے۔

مسلسل مطالعہ:

ایک اچھا لکھنے والا، معیاری تحریروں اور کتابوں کے مطالعے سے کبھی غافل نہیں ہوتا۔ مطالعہ کرتے ہوئے دیکھئے کہ زبان کیسی بامحاورہ ہے؟ الفاظ وتراکیب کا استعمال کیسا ہے؟ جملوں کی ساخت کیسی ہے؟ آپ کسی سے متاثر ہوکر اس کی نقل نہ کیجیے۔ معیاری تحریروں کا جس قدر وسیع مطالعہ کریں گے، غیر شعوری طور پر، آپ کی تحریر بھی بہتر ہوتی جائے گی۔

لوازمہ و معلومات:

جب آپ کسی خاص موضوع پر کچھ لکھنا چاہیں تو ممکنہ حد تک، متعلقہ معلومات اور لوازمہ فراہم کر لیں۔ کتابوں سے، رسالوں سے اور انسائیکلو پیڈیا سے۔ اسی طرح بزرگوں یا اس شعبے کے ماہرین سے استفسار اور مشورہ بھی کیجیے۔ جس قدر مفصل معلومات فراہم ہوں گی، آپ کی تحریر اس قدر جامع اور بھر پور ہو گی۔ ناکافی یا غلط معلومات کی بنیاد پر لکھی جانے والی تحریر ناقص ہو گی اور بعض صورتوں میں گمراہ کن بھی۔

سوچ بچار:

اپنے ارد گرد پھیلی ہوئی زندگی، اس کے نشیب وفراز، اس کے خیرو شراور اس کے وقوعات و حادثات پر غور و فکر کی عادت ڈالیے۔ کسی صورت حال کے اسباب، اس سے عہدہ بر آ ہونے کی تدابیر، مسائل حل کرنے کے طریقے اور مختلف مسائل کو سلجھانے کی صورتیں، ان پہلوؤں کے بارے میں سوچ بچار کریں، معاملات کی ماہیت اور تصویر کے دونوں رخ آپ کے زیر غور رہیں گے، آپ کے لیے حقائق تک پہنچنا اور اصلیت کوجان لینا آسان ہو گا اور آپ کے ذہن میں مسائل و معاملات کو سلجھانے کی صلاحیت پیدا ہوگی۔ اس طرح آپ کی تحریر تفکر و تدبر کی حامل اور قارئین کے لیے کہیں زیادہ افادیت کا باعث ہو گی۔

ابتدائی خاکہ اور ترتیب:

آپ جو کچھ لکھنا چاہیں، موضوع کاا نتخاب کر لیں۔ آغاز کیسے ہو گا؟ کیا کیا نکات، کس ترتیب سے پیش کریں گے؟ دلائل؟ موضوع کی مناسبت سے اقوال، فرمودات، ضرب الامثال، اشعار بھی جمع و نوٹ کر لیں اور ان کی ترتیب بھی قائم کر لیں۔ پھر اختتام کیسے ہو گا؟ خاکے پر غور کیجیے۔ کیا یہ ترتیب مناسب اور منطقی ہے؟ اگر نہیں تو اس میں مناسب رد وبدل کر کے خاکے کو زیادہ سلیقے اور ہنر مندی سے مرتب کیجیے۔ جب آپ کو خاصا تجربہ ہوجائےگا تو پھر آپ کو خاکہ بنانے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔

من گھڑت کہانیوں کی بجائے عام زندگی میں ہونے والے تجربات پر لکھیں۔ اس سے ایک تو آپ کے تجربات اور تجزیے دوسرے لوگوں تک پہنچیں گے اور جب قارئین تبصرے یا رائے دیں گے تو آپ کو تصویر کے کئی دوسرے رخ نظر آئیں گے۔ جس سے آپ کی سوچ مزید پختہ ہو گی۔

اور اگر کوئی جواب میں آپ سے اختلاف کرے تو کم از کم اس کے جواب پر غور ضرور کریں کیونکہ ہو سکتا ہے آپ کسی جگہ غلطی کر رہے ہوں۔ اگر آپ ذرا سی بھی “انا” یا “میں نہ مانو” کے فارمولے پر چلے تو بلاگنگ کے حوالے سے آپ کو اور آپ کی سوچ کو نقصان ہو سکتا ہے۔

کتاب ہو یا اخبار، تحریر کی ادارت بہت ضروری ہے۔ تحریر کو خام حالت میں یونہی نہیں شائع کردینا چاہئیے۔ اپنے ڈرافٹ پر نظر ثانی کریں۔ ہجے اور لغوی اغلاط کے علاوہ جملوں کی ترتیب پر بھی دھیان دیں۔

جس اخبار یا میگزین کے لیے لکھنا چاہتے ہیں، اس کے مزاج کو دیکھیں، اس کی پالیسی معلوم کریں، اس کے پڑھنے والوں کا حلقہ کیسا ہے؟ وہ کوئی ادبی میگزین ہے، مذہبی ہے، سائنسی ہے، بلدیاتی ہے، اسپورٹس کے حوالے سے ہے، فلمی ہے یا کہ جنرل۔ ۔ غرض کہ اخبار و رسائل کے مقاصد کو سامنے رکھتے ہوئے لکھیں۔

اور ایک روز آئے گا جب آپ کا شمار لکھنے والوں کی فہرست میں ہو گا، اور آپ کے لیے باعثِ رشک ہوگا۔

قلم چل ابھی چلتی تیری زباں ہے
کہ پھر بات کہنے کی فرصت کہاں ہے

Friday, June 22, 2018

سیلفی ایک لا علاج مرض ہے!

سیلفی ایک لا علاج مرض ہے!

دُنیا ترقی کی مَنازل طے کرنے میں مصروف ہے اور ہم جَدید دور کی ایجاد کردہ ”سیلفی“ بڑے اِنہماک سے دوسروں کے ساتھ لینے میں مشغول ہیں۔ کیونکہ جہاں روز بروز ہمارا اپنا اِسٹیٹس گِرتا جا رہا ہے وہاں فیس بُک پر اِسٹیٹس اَپ ڈیٹ کر کے نہ جانے ہم کس خوش فہمی میں مُبتلا ہیں۔ گویا اگر فیس بُک پر اِسٹیٹس اَپ ڈیٹ ہوگیا تو، ہمارا شمار ایک باعزت ، اہل علم افراد میں ہونے لگ جاۓ گا۔

زندگی بہت خوبصورت ہے۔ ہم زندگی کے ہر گذرتے دِن کو یادگار بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور اِن ہی لمحات کو تصویر کی شَکل میں محفوظ کر لیتے ہیں۔ اگر ماضی میں دیکھنا ہو تو تصاویر میں جھانک لیتے ہیں، تو ماضی کی گذری ہوئی یادیں تازہ ہوجاتی ہیں۔ پہلے کے دور میں بناٶ سِینگھار کر کے تصاویر لی جاتی تھیں مگر اب زمانہ بدل چکا ہے کیونکہ اب سیلفی کے لیے تیار ہوا جاتا ہے۔جب سیلفی مُتعارف نہیں کرائی گئی تھی، تو تصویر لینے والا تصویر میں نہیں آسکتا تھا۔ لیکن سیلفی کے ذریعے نہ صرف تصویریں ہاتھ کے ہاتھ دیکھی جاسکتی ہیں، بلکہ تصویر لینے والا بھی با آسانی تصویر میں آسکتا ہے۔ کیمرے، اِسمارٹ فون سے اُتاری گئی تصاویر جِنھیں  سَماجی روابط کی ویب سائٹس پر پوسٹ کیا جاۓ وہ سیلفی کہلاتی ہے۔

سیلفی کا بُخار اب سَرطان بن چکا ہے وہ بھی لا علاج! یہ سیلفیاں خود پَسندی کے جراثیم اِتنی تیزی کے ساتھ پھیل رہے ہیں کہ اب جراثیم بھی شرما گئے کیا ہم بُرے ہیں۔ مجھے تو اب تک ٹھیک سے سیلفی بنانا نہیں آتی کیونکہ میں ایک ”سیلف میڈ“  انسان ہوں۔ میرے والدین اِن جاں لیوا بیماریوں سے واقف تھے، تو مجھے بَچپن میں ہی حفاظتی ٹِیکے لگادئیے تھے۔ اگر کوئی شخص اپنی بے تُکی سیلفی کے بجاۓ سادہ سیلفی کھینچ کر اپنے ہی سوشل مِیڈیا اکاونٹ پر پوسٹ کر دے، تو ایک خاص ”مہذب طبقے“ کے لوگ جِن کو حَسد کی بیماری چاٹ رہی ہے وہ اِس تصویر پر تَہمتوں کی برسات کر کے اپنی ہی آخرت تباہ کر دیتے ہیں۔

سیلفی کا جو یہ بڑھتا ہوا رجحان معاشرے میں اَنا پَرستی کو فروغ دے رہا ہے۔ سیلفی بنانے کی خَبط مَردوں کی نِسبت خواتین میں زیادہ پائی جاتی ہے۔ مجھے تو اب تک یہ سمجھ نہیں آیا کہ آخر ہم اپنی بُھونڈی تخلیقات کے ذریعے معاشرے کی کونسی تصویر دُنیا کو دیکھانا چاہتے ہیں۔ اگر ٹوئیٹر پر عالمی ٹرینڈز دیکھیئے اور پھر پاکستانی ٹرینڈز دیکھیئے۔ یَہود و نصارٰی جِن کو ہم اپنا دُشمن تصور کرتے ہیں وہ مَسائل اور ان کے حَل پر گفتگو کرتے ہوۓ نظر آتے ہیں، بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دے کر اِن پر اظہارِ خیال کرتے ہیں، ماحولیاتی مسائل کو کس طرح حل کرنا ہے اتفاق اور عدم اتفاق کے خوبصورت مظاہرے دیکھنے کو ملتے ہیں،  اعتدال پسندی اور انتہا پسندی کے اِمتیاز کو واضح کرنے کی دِلکش بحثیں ہوتی ہیں، نسل پرستی، تہذیبی ، علاقائی تفاخر کے تصادم سے بچنے کے لیے تجاویز کا تبادلہ کرتے ہیں۔ لیکن ہمارے یہاں ”گو نواز گو“ ، ”رو عمران رو“ ، میں تو کہوں گا“ ، ”تِیر چلے گا، بَلا چلے گا“ اس جیسے بے تُکے  ٹرینڈز چلتے ہیں۔ جہاں ہم دِل کھول کر دوسروں کے عُیوب کی دِلیرانہ نمائش کرتے ہیں، ساتھ ہی ساتھ ایک دوسرے کو ہاہاہا قہقہوں کے سبب آنسوں نکلتے ہوۓ اِمُوٹِیکون بھی  بھیج کر اپنی حسدانہ ، عدم تحفظ کا شکار شخصیت کا پوری دُنیا کو تعارف کراتے ہیں۔

یہ سب کر کے خُوب انداہ ہورہا ہے کہ ہم کس سِمت میں جارہے ہیں۔  نہ جانے ہم اپنی کونسی چھپی ہوئی جَبلت کو تسکین پہنچانے کا سامان کر رہے ہیں۔ حالانکہ ایسے بُلاگز پر بعض لوگ تنقید تو کرتے ہیں، لیکن میں اِس کو تاریخ کا حِصہ بنانا چاہتا ہوں۔ ہمیں احساس اِس وقت ہوگا جب ہماری اخلاقیات کا پَارہ انسانی اِقدار کے نقطہ اِنجماد سے گِر جاۓ گا۔

تحریر : خطیب احمد

نوٹ : محترم مدیر صاحب میرے author پیج پر میرے تصویر موجود نہیں ہے براۓ مہربانی میری تصویر جو اس بلاگ کے ساتھ ارسال کی ہے، ساتھ ہی ساتھ تعارف بھی لگا دیں۔ جزاك الله

تعارف : خطیب احمد طالب علم ہیں۔ صحافت اور اردو ادب سے گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔  سماجی مسائل اور تعلیمی امور پر لکھنا پسند کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ فن خطابت سے بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔۔

Thursday, June 21, 2018

مخلوط طرز تعلیم اور معاشرہ

مخلوط طرز تعلیم اور معاشرہ

تعلیم انسان کا بنیادی حق ہے اور بِلا کسی وجہ انسان کو اِس کے اس حق سے محروم کرنا زیادتی ہے۔آج کے اس پُر آشوب دور میں علم کے حصول میں بے شمار روکاوٹیں حائل ہوتی ہیں، جسے تعلیم یافتہ افراد ہی دور کرسکتے ہیں۔ جس کے لیۓ معاشرے میں تعلیم یافتہ افراد کا ہونا بے حد ضروری ہے۔ تمام افراد تک مُساوی تعلیم کے مواقع فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

آج کل ہمارے معاشرے میں جو نظام تعلیم ہے اس میں دو طریقے کار کو سامنے رکھا گیا ہے۔ ایک یہ کہ طلبہ اور طالبات کو علیحدہ علیحدہ  اداروں میں تعلیم دی جاۓ اور دوسرا یہ کہ انھیں ایک ساتھ ہی تعلیم کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ اس قسم کی تعلیم کو (co-education) مخلوط تعلیم کہا جاتا ہے۔ بہت سے لوگ طلبہ اور طالبات کو علیحدہ  تعلیم حاصل کرنے کے حق میں ہیں۔ جبکہ کچھ لوگ مخلوط تعلیمی نظام کو پسند کرتے ہیں۔ اس کے حق میں سب بڑی بڑی تَاويل پیش کرتے ہیں۔

مخلوط تعلیم کے سلسلے میں اگر آپ دیکھیں تو جب بچہ یا بچی چھ بَرس سے ذائد عمر کو پہنچتے ہیں تو ان کی ذہنی نشوونُما کی رفتار تیز ہوجاتی ہے۔ لڑکیوں کا قد لڑکوں کے مقابلے میں تیزی سے بڑھتا ہے۔ جب وہ بڑے ہوتے ہیں تو ان کے رنگ روپ میں زیادہ دلکشی پیدا ہوجاتی ہے۔ طلبہ اس قابل ہوجاتے ہیں کہ وہ اپنی زمہ داریوں کو سمجھ پائیں۔بڑھتی ہوئی عمر کے طلبہ اور طالبات میں تَجسس کا عُنصر پایا جاتا ہے۔ اگر جو باتیں ان سے چھپائی جائیں گی تو وہ ان کو جاننے کے لئے مزید جتن کریں گے۔ ان تمام وجوہات کی بِنا پر ان کا ذہن تعلیم کی جانب سے ہٹ جاتا ہے اور عمومًا  وہ غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ہوجاتے ہیں۔ حتیٰ العلم بچوں کو ابتدائی تعلیم کی سطح سے ہی ان کو مخلوط طرزِ تدریس پر تعلیم فراہم کرنی چاہے۔ جس بنا پر وہ غیر اخلاقی سرگرمیوں اور غلط جِنسی تعلقات استوار کرنے سے گریز کریں۔

لہذا مخلوط تعلیم کے حق میں دلیل دینے والے اس بات پر توجہ دیتے ہیں کہ طلبہ و طالبات کو ایک ساتھ ہی پڑھنے کا موقع دیا جاۓ۔ اگر علیحدہ تعلیم فراہم کی جاۓ گی تو ، جو مسابقت کا عنصر ہے وہ صرف ایک جنس تک ہی محدود ہوکر رہ جاۓ گا۔ جبکہ مخلوط تعلیم میں دونوں اجناس ایک ساتھ ہی پروان چڑھتے ہیں۔ جس وجہ سے ان کے درمیان زیادہ مسابقت پائی جاتی ہے اور وہ اپنی توجہ تعلیم پر مرکوز رکھتے ہیں۔

جب انسان مخلوط طرز تعلیم سے تعلیم حاصل کر کے عملی زندگی قدم رکھتا ہے، تو وہ اپنی عملی زندگی میں لوگوں سے تعلقات استوار کرنے میں کوئی پریشانی اور ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا اور وہ جنسی انتہا  پسندی سے بھی محفوظ رہتا ہے۔ مخلوط تعلیم سے طلبہ کا معاشرتی دائرہ پہلے نسبت وسیع ہوجاتا ہے۔ طلبہ گھر کی چار دیوداری سے باہر رہتے ہیں اور ساتھیوں سے دوستی کے خواہشمند ہوتے ہیں۔ ان کے دِلوں میں ہمدردی، دوستی ، اور خلوص و محبت کے خیالات پیدا ہوتے ہیں۔ اس وقت ان کے سامنے جنس مخالف نہ ہو، تو وہ تشنگی محسوس کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ تعلیم میں ان کی دلچسپی برقرار نہیں رہتی اور اس تشنگی و دلچسپی کو مد نظر رکھتے ہوۓ یہ عمدہ طریقہ ہے۔

مخلوط طرز تعلیم انسان کو اس قابل کرتی ہے کہ وہ جنس مخالف کے ساتھ کس طرح روابط قائم کر سکتا ہے۔ انسان کے اندر خود اعتمادی کا جذبہ پیدا کرتی ہے کہ وہ سماجی میل جول کے لائق ہوجاۓ۔ اس تعلیمی نظام کی خوبیوں کو مد نظر رکھتے ہوۓ اسے بیشتر اسکولز، کالجز اور جامعات میں نافذ کیاگیا ہے۔

تحریر : خطیب  احمد

تعارف: خطیب احمد طالب علم ہیں۔ صحافت اور اردو ادب سے گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔  سماجی مسائل اور تعلیمی امور پر لکھنا پسند کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ فنِ خطابت سے بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔

Monday, June 18, 2018

مغرور لڑکیاں

مغرور لڑکیاں

ایک وقت تھا جب لڑکیاں اِتنی کم عِلم ہوا کرتی تھیں کہ بیاہتے ہوۓ سِیانی عورتيں یہ مشورہ دیا کرتی تھیں کہ مَرد کے دِل میں جانے کا راستہ اس کے معدے سے ہوتا ہوا گذرتا ہے۔ اب نَیا دور ہے تو یہ لڑکیاں ہمیشہ مَرد کو نیچا دیکھا کر اپنے آپ کو عالمی حَسینہ تصور کرتی ہیں۔ لیکن حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہوتا یہ ان کی دانش کا مغالطہ ہے۔

آپ میں سے کچھ لوگ میری اِس بات کو مبالغہ آمیز تصور کرتے ہوۓ مطمئن تو ہوجائیں گے، حقیقت تو یہ ہے کہ فیمینیزم کے اِس دور میں یہ بات کرتے ہوۓ بھی ڈر لگ رہا ہے۔ اگر لڑکیوں کی تعریف کریں گے، تو یہ غرور میں مبتلا ہوجاتی ہیں۔ غلطی سے طیش کی حالت میں زیادہ تعریف کر لیں تو یہ جِنسی طور پر حراساں کرنے کا الزام سیدھے سادے اِنسان پر لگا دیتی ہیں۔ حُسن کے نَشے میں جب سَرشاری غرور کا پارہ بڑھ جاتا ہے، تو یہ دوسروں کی پرواہ نہیں کرتیں۔

ایک صاحبہ نے تو مجھے فیس بُک پر رِیکوسٹ سینڈ کری، دیکھنے میں تو بڑی با حِجاب تھیں اور ایک مُقرر بھی تھیں، تو میں نے اِن کی رِیکوسٹ قبول کر لی۔ ایک مرتبہ انھوں نے مجھ سے میرے مَسلک کی معلومات حاصل کرنے کی غَرض سے سوالات کیۓ ، تو میں نے بھی بڑے مہذب انداز میں ان تمام سوالات کا جواب دے دیا۔ محترمہ کی کم علمی کا یہ عالم تھا کہ ان کو الف کے بعد ب کا علم نہیں تھا۔ اسی واقعے کے بعد میں نے ان کے زکواة مانگنے والے اشتہار پر ہنسنے والا ایک اِموٹِیکُون ارسال کردیا، تو وہ آگ بگولہ ہوگئیں ۔ کہتی ہیں کہ ” کیوں ہنس رہے ہو“ میں نے کہا کہ ”ان چھوٹے موٹے فلاحی اِداروں کو دینے سے اچھا ہے انسان اپنے عَطیات خود غرباء اور مَساکین کو اپنے ہاتھوں سے دے“۔ بس میں تو گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوگیا اور انھوں نے مجھے بلاک کر دیا۔ اس بات کا ذکر یہاں کرنے کا مقصد صرف یہ تھا کہ ان کی مغروریت اور کم عِلمی نے ان کے حجاب میں چھپے ہوۓ روپ کو واضع کر دیا۔

دنیا کی تاریخ میں یہ بات تسلیم کر لی گئی ہے کہ خواتین کی نفسیات کو سمجھنا نا ممکن ہے۔ کہتے ہیں دنیا کا کوئی کام نا ممکن نہیں  ہے بشرطیکہ کام خواتین کی نفسیات کو سمجھنے کا نہ ہو۔ ہزار  سال سے حضرت آدم علیہ سلام کے سیانے فرزندوں نے بھی اس گُتھی کو سُلجھانے کے لیے کیا کچھ نہیں کیا۔ لیکن ہمیشہ ناکامی کا منہ دیکھا پڑتا ہے۔ یہ ایک طرح سے حیرتوں کا سَمندر ہے کہ جس میں کُل دنیا بھر کے مَرد ہمیشہ الٹے سیدھے غوطے لگاتے رہتے ہیں۔ لیکن اِس تحقیق کے دوران ہاتھ آئی خاتون سے بھی ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔

بعض پاکستانی لڑکوں میں اتنی ہمت ہی نہیں کہ وہ لڑکیوں کے سامنے ڈھنگ سے بات کرسکیں، انہیں یہی دھڑکا لگا رہتا ہے کہ اتنی مشکل سے ہاتھ آئی لڑکی اگر ناراض ہو گئی تو نئی کہاں ڈھونڈتا پھروں گا۔ لیکن وقت بدل رہا ہے، اب لڑکوں نے بھی پر پُرزے نکالنے شروع کر دئیے ہیں، لڑکوں نے ٹھان لیا ہے کہ جو بھی ہو وہ لڑکیوں کے ہاتھوں مَزید رُسوا نہیں ہوں گے۔ لیکن لڑکوں کے لئے یہ کام آسان نہیں ہوگا، اس کے لئے انہیں اپنی عزت بحال کروانی ہوگی اور یہ اسی صورت ممکن ہے اگر وہ سوشل میڈیا پر ایک مُہم چلائیں جس کا ہیش ٹیگ ہو ’’لڑکوں کی عزت کرو۔‘‘

تحریر: خطیب احمد