Sunday, December 30, 2018

پانی کی تلاش !

پانی کی تلاش

بیت جانے والا ہر پَل ہر لمحہ میرے زہن پر نقش ہوجاتا ہے۔ پیر کا دن تھا بادل چھاۓ ہوۓ سورج کبھی بادلوں میں چھپ جاتا کبھی جلوہ افروز ہوجاتا۔ بارش کی بوندیں زمین پر گرنے کی وجہ سے زمین سے اک مہک اٹھ رہی تھی، جو دل و دماغ کو تسکین بخش رہی تھی۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے زمین پر کسی نے زمرد بکھرے ہوۓ ہوں۔

ہم تمام دوستوں نے سوچا کیوں نہ اس موسم کا لطف اٹھانے کیلے کچوریاں لے آتے ہیں؛ اور سب ایک ساتھ نوش کریں گے، تو مزہ دوبالا ہوجاۓ گا۔ میں اور میرا ایک دوست کچوریاں لینے بازار کی طرف نکل پڑے آہستہ آہستہ چہل قدمی کرتے ہوۓ ہم دکان پر پہنچے چاچا سے کہا کے ٢٨ کچوریاں دے دیں، چاچا کچوریاں بنانے میں لگے ہم انتظار کر رہے تھے۔ تیل میں ڈوبی کچوریاں ؛اور اس میں اٹھنے والی خوشبو سے جی للچانے لگا۔  میرے ہاتھ میں پانی کی بوتل تھی، سوچا کے بھر لو پیاس محسوس ہوگی تو پی لیں گے۔ دکان کے بائیں جانب ایک چاۓ کا ہوٹل تھا، تو میں وہاں موجود پانی کے جگ سے پانی بھرنے والا ہی تھا کہ خان صاحب نےآواز دی کے پانی نہ بھرو! میں نےکہا بس ایک بوتل ہی ہے، تو انہوں نے جب بھی منع کر دیا۔ پھر میں نے برابر میں ہوٹل سے متصل ایک دکان سے انکل سےکہا پانی ہوگا پینے کا انہوں نے کہا آگے سے بھر لو میں آگے جاکے کُولر سے بھرنے لگا، تو وہاں کام کرنے والے لڑکے نے کہا یہاں سے نہیں وہ نَل سے بھر لو!  میں نے وہاں سے بوتل میں پانی بھر لیا پانی تو بظاہر صاف شفاف لگ رہا تھا۔ پھر میں کچوریاں لینے چاچا کے پاس پہنچا پیسے دیئے اور چل پڑے، ہم میں اپنے دوست کو پانی دیا لو پی لو اِس نے دیکھ کہا اِس میں تو کچرا ہے، پھر وہ پانی ہم نے گٹر میں پھینک دیا۔

مجھے اِس بات نے تشکیکیت میں مبتلا کر دیا؛ اور میں یہ سوچ رہا تھا مانو کہ میں پانی مانگا لیا یا جائیداد مانگ لی، جو سب نے اس طرح بے حسی سے منع کر دیا۔ بھرنے کو دیا تو وہ بھی صاف نہیں تھا۔ ہم لوگ بھی عجب طبیعت کے مالک ہیں ،خلوص ومحبت معاشرے میں ناپید ہوچکی ہے نہ جانے ہم کس راہ پر چل پڑے ہیں۔ سیدھی بات کرو تو بدتمیز خوش اخلاقی سےپیش آؤ تو ڈپلومیٹ اور اگر کسی سے اختلاف کرو تو بے ادب اور اگر لحاظ کرو تو منافق، انسان کتنا بدل گیا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ، پانی کی بڑھتی ہوئی قِلت کی وجہ سے ایک دوسرے کو پانی دینے سے ہم اجتناب کرنے لگے ہیں۔

دراصل صفائی، غذا، کا سارا نظام پانی ہی سے وابستہ ہے روز مرہ کی زندگی میں سارے کام کا دارومدار پانی پر ہے۔ پانی کی اسی ناگزیر یت کے سبب ہر دور میں پانی کے لئے تنازعات ہوتے رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق پانی کے لئے تنازعات کی تاریخ پانچ ہزار سالہ پرانی ہے۔ اس وقت دنیا کے مختلف آبی ذرائع کے حوالے سے عالمی تنازعات کا سلسلہ ہے۔ بلکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل کی بڑی جنگیں پانی کے لئے ہوں گی۔

ایک طرف انسانی آبادی کے لئے پانی ناگزیر ہے۔ تو دوسری جانب اس وقت عالمی سطح پر دنیا قلتِ آب کا شکار ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق اس وقت عالمی آبادی کا گیارہ فیصد یعنی 783 ملین افراد پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس وقت دنیا کے دو بلین افراد صاف پانی سے محروم ہے۔ قلتِ آب سے دوچار ممالک میں پاکستان بھی شامل ہے۔ پانی کی قلت سے ملک کے سارے طبقات پریشان ہیں۔ بلوچستان کے تقریباً اضلاع میں قلتِ آب کی صورتِ حال نیز سندھ کے بہت سے علاقوں سے لوگ احتیاطی طورپر نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں۔ بالخصوص’’ تھر‘‘ جو ایک صحرائی علاقہ ہے۔ کراچی کے بہت سے علاقوں میں پانی کی شدید کمی ہے بڑے بڑے پوش علاقوں میں پانی ٹینکر کے ذریعہ سپلائی کی جارہی ہیں۔ قلتِ آب کی اس سنگین صورتحال سے نکلنے کے لئے فوری طور پر اسکو حل کرنا ضروری ہے۔ اﷲ ہم سب پر اپنا خصوصی رحم فرمائے۔ (آمین)

تحریر : خطیب احمد

Tuesday, December 25, 2018

قائداعظم اور آج کا نوجوان

قائداعظم اور آج کا نوجوان

خطیب احمد

آج ہماری نوجوان نسل قائداعظم اور ان کے افکار و نظریات کے بارے میں محض 14 نکات تک محدود ہے۔ اس موضوع کا انتخاب میرے نزدیک ہماری قوم بالخصوص نوجوانوں کو ایک بھولا سبق یاد دلانے کے مترادف ہے۔ یہ نکات ہم کئی مرتبہ پڑھ چکے ہیں لیکن ہماری قوم ان سے آج تک وہ سبق حاصل نہیں کرسکی جو ان نکات کا اصل مقصد تھا۔

قائداعظم محمد علی جناحؒ کا ہم سب پر احسان ہے کہ آپ نے ہمیں ایک آزاد ملک لے کر دیا، مگر بدقسمتی سے 70 سال گزر جانے کے بعد بھی آج تک اس ملک میں جمہوریت کے بجائے جاگیردارنہ اور آمرانہ نظام ہی مسلط ہے۔ ہم آج بھی ان بے حِس اور جابر حکمرانوں کے تابع ہیں جنہیں اس ملک اور عوام سے کوئی غرض نہیں، حالانکہ وطن عزیز کو حاصل کرنے کےلیے اشرافیہ نے نہیں، عوام نے ہی اپنی جانوں کی قربانی دی تھی۔

صرف نوجوان نسل ہی نہیں، بلکہ بحیثیت قوم ہم سب قائداعظمؒ کے نظریات اور تصورات سے بہت دور چلے گئے ہیں۔ قائداعظمؒ کے نظریات، تصورات، خواہشات، اصول اور مملکتِ خداداد کےلیے ان کے وژن کو ہر دور کی حکومت نے نظر انداز کیا ہے۔ حکمرانوں کی اپنی ترقی اور دولت میں اضافہ تو دن دُونی رات چوگنی کے حساب سے ہوتا ہے مگر عوام کو ہوائی اسکیموں پر ٹرخا دیاجاتا ہے، بنیادی سہولتیں تک فراہم نہیں کی جاتیں۔ وجہ وہی ہے کہ ہم قائداعظمؒ کے نظریات اور تصورات کو بھلا بیٹھے ہیں۔

آج کا پاکستانی قائداعظم اور ان کی فکر سے واقف ہو یا نہ ہو، مگر 25 دسمبر کو چھٹی کے دن کے طور پر ضرور مناتا ہے۔ اس ملک کا نوجوان جو رشتہ بھیجنے کے بعد اپنے سسر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتا ہے کہ جہیز کتنا دوگے، جو عورت کو محبت سے نہیں پیسے سے تولتا ہے اور اسے سرِبازار نیلام کردیتا ہے؛ اس ملک کا وہ نوجوان جو اپنی سوچ، تعلیم اور صلاحیت کے استعمال سے تبدیلی کا خواہشمند نہیں بلکہ بددیانتی، شارٹ کٹ اور چور دروازوں کے ذریعے ترقی چاہتا ہے۔ اپنی ‏تعلیم اور کیریئر کی فکر کرنے کے بجائے حسیناؤں کے چکر میں وقت ضائع کرکے اپنے آپ کو بربادی کی راہ پر ڈالتا ہے، زندگی میں کبھی کچھ بن نہیں پاتا۔ پھر کہتے ہیں کہ یہ قائداعظم محمدعلی جناحؒ کے خوابوں کی تعبیر ہے؟

آج بھی ہم اس الجھن کا شکار اور سوچ میں گُم ہیں کہ قائداعظمؒ کے نظریات اور تصورات درحقیقت تھے کیا؟ جن نظریات پر اتفاق ہے ان پر بھی تجزیہ اور رائے تو دی جاتی ہے مگر افسوس کہ عمل درآمد ان پر بھی نہیں کیا جاتا۔ افسوس کہ ہم نے نہ صرف قائداعظمؒ کو بھلا دیا بلکہ ان کے فرمودات کو بھی پس پشت ڈال دیا۔

میں اپنے نوجوانوں سے بس یہ کہنا چاہتا ہوں کہ پہلے اپنی زندگی کا مقصد طے کیجیے، پھر اپنی نگاہ اور ساری توجہ اسی مقصد پر مرکوز کردیجیے۔ کام ایسا کرو کہ ٹی وی پر دیکھے جاؤ، سی سی ٹی وی (CCTV) پر تو چور بھی نظر آجاتا ہے۔

Thursday, December 20, 2018

پابند صحافت قائد اعظم کے ویژن سے غداری ہے

پابند صحافت قائد اعظم کے ویژن سے غداری ہے

تحریر : خطیب احمد

پاکستان ہم نے قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی قیادت میں حاصل کیا تھا۔ اِس کے حصول کے لیے ایک نعرہ لگایا تھا، وہ یہ تھا کہ ”لا الہ اللہ“ اِس کی تعبیر اور تشریح بھی ہماری قیادت نے خود ہی کر لی تھی۔ لیکن حُصول پاکستان کے بعد ہمارے سیاسی رہنماٶں نے قائداعظم کے فرمودات کو پسِ پُشت ڈال کر غلط تعبیر و تشریح کر کے عوام کو گمراہ کیا۔

لیکن جب حقائق سے آگاہ کرنے کے لیے عوام تک حقائق پہنچنا شروع ہوۓ، تو اُس وقت آزادی صحافت پر قدغن لگاۓ گئے تھے۔ اب خبر اچھی ہو یا بُری، مُثبت ہو یا مَنفی ہر دور میں عوام تک پہنچانے میں روکاوٹیں حائل ہوتی ہیں۔ مگر صحافت میں اولین ترجیح یہ ہوتی ہے کہ عوام کو گمراہی کے راستے پر گامزن ہونے سے بچایا جاۓ تاکہ وہ مُثبت پہلوؤں سے آگاہ ہوسکیں۔

صحافت ایک ایسا شعبہ ہے، جس میں ایک صحافی پر کافی ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ جس کو اِن ذمہ داریوں بخوبی طور پر پورا کرنا پڑتا ہے۔ اِس بات سے مجھے سِینئر کالم نگار مظہر عباس کے کالم کی وہ بات یاد آگئی، جو اِنھوں نے اپنے کالم میں کہی تھی۔ بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ نے ایک انگریز Potan Joseph کو ڈان اخبار کا مدیر 1938 میں لگایا، تو کچھ مسلم لیگ کے رہنما حیران ہوئے؛ اور سوال کیا کہ ایک انگریز کو لگانے کی کیا ضرورت تھی۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ نے جواب دیا ’’یہ شخص ایک ایسا مدیر ہے جو استعفیٰ اپنی جیب میں رکھتا ہے؛ اور کبھی صحافتی اصولوں پر سمجھوتا نہیں کرتا‘‘۔ اِس نے جب اخبار چھوڑا تو لکھا کہ ’’میں جتنا عرصہ ڈان میں رہا، جناح نے کبھی میرے کام میں مداخلت نہیں کی۔ کوئی ایسی خبر آتی جس کا تعلق مسلم لیگ سے ہو، تو میں خود اِن سے پوچھ لیتا تھا‘‘۔

لیکن قائد اعظم کی وفات کے بعد ہماری ریاستی پالیسی اِس قدر صحافت کے منافی رہی ہے، جس وجہ سے کبھی بھی کسی بھی وقت اخبار کو بند کیا جاسکتا تھا؛ یا پابندی لگائی جاسکتی تھی۔ جس وجہ سے صحافتی اداروں کو صحافتی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوۓ حقائق کو دیکھانا مشکل ہوگیا تھا۔ مگر جہاں سَچ لکھنے والے ہوتے ہیں، تو وہاں جھوٹ لکھنے والے بھی موجود ہوتے ہیں۔ حکمران طبقہ وہ واحد طبقہ ہوتا ہے، جن کے ہاتھ میں سرکشی کے گھوڑے کی لگام ہوتی ہے۔ اِن کی سماعتوں کو اپنے فیصلوں پر چاہے وہ صحیح ہوں یا غلط، ان پر مِن و عَن ستائش کی خواہش ہوتی ہے۔ کیونکہ اِن کو اپنے فیصلوں پر سب کچھ اچھا سُننے کی عادت ہوتی ہے؛ اور یہ کام درباری صحافیوں کے علاوہ کوئی اور جانفشانی کے ساتھ نہیں کرسکتا۔

گزشتہ ادوار کی طرح پھر سے میڈیا کا معاشی قتل کرنے کے قوانین بناۓ جارہے ہیں، جوکہ ایک طرح سے آزادئ راۓ پر پابند کے مترادف ہے۔ دلیل یہ دی جاتی ہے کہ حکومت نِجی چینلز کو اشتہارات دے کر اِن کی معاونت کیوں کرے۔ اشتہارات کی بندش کے ساتھ ہی ساتھ جائیداد کی خرید و فروخت یا ریئل اسٹیٹ کا کاروبار بھی ڈالر کی قمیت میں بار بار اتار چڑھاؤ کی وجہ سے مندی کا شکار ہے۔ دونوں جانب سے اشتہارات کی بندش کی وجہ سے بیشتر روزنامے مالی بحران کا شکار ہوتے نظر آرہے ہیں۔

چنانچہ جنگ گروپ بھی اسی مالی بحران کا شکار ہے؛ اور اسی مالی بحران کے باعث پشاور، کراچی اور لاہور سے شائع ہونے والے پانچ اخبارات اور دو ایڈیشنز کو بند کر کے تقریباً دو ہزار کے قریب ملازمین کو فارغ کردیا ہے۔ جبکہ بند ہونے والے اخبارات میں روزنامہ عوام، ڈیلی نیوز، روزنامہ انقلاب، پشاور اور فیصل آباد سے شائع ہونے والے جنگ کے دو ایڈیشنز اور دو ڈمّی اخبارات پاکستان ٹائمز اور وقت شامل ہیں، جو کہ بند ہوچکے ہیں۔ یقین جانیئے سَچ ہمیشہ کڑوا ہوتا ہے، کیونکہ اگر یہ میٹھا ہوتا، تو اس طرح سے رسوا نہ کیا جاتا۔ سنسر شپ کی آڑ میں کتنی ہی پابندی عائد کر دی٫جائیں مگر سَچ کی آواز سُنائی دیتی ہے۔ اگر اس طرح کے حالات جمہوریت میں رہے، تو اِسے جمہوریت تو کہا جاسکتا ہے مگر لاٹھی کے سہارے چلنے والی جمہوریت کہنا حق بجانب ہوگا۔

http://www.humsub.com.pk/198643/khateeb-ahmed-12/

Friday, December 14, 2018

اہل تشیعوں کے اختراعی افکار پر اہلسنت عمل پیرا

اہل تشیعوں کے اختراعی عمل پر اہلسنت عمل پیرا

خطیب احمد

اہل تشیع جب زیارت کو جاتے ہیں، تو اہلیبت علیہ سلام کے مرقد کے سامنے زیارت کی دُعا پڑھتے ہیں؛ اور دوسرے مومنین جو زیارت کا شرف حاصل نہیں کر پاتے، اِن کا سلام اپنی جانب سے پہنچا دیتے ہیں۔ لیکن اب دور ٹیکنالوجی کا ہے، تو جب تک سلام پہنچایا کہ نہیں پہنچایا، تو اِس بات کا اطمینان قلب ہوجاۓ؛ اس لیے وہاں مرقد کے سامنے پرچہ یا موبائل سے اِس شخص کا نام یا تصویر رکھ کر ایک تصویر کھینچ لیتے ہیں تاکہ جس شخص کا سلام پہنچایا ہے، اس شخص کو یقین ہوجاۓ۔ اب یہ رُجحان جدید دور کی ایجاد ہے، تو کافی مقبول ہورہا ہے۔

مگر یہ گفتگو کرنے کا مقصد یہ تھا کہ یہ روایت سُنی مسلمانوں میں بھی مقبول ہوتی جارہی ہے۔ انھوں نے اِس کا نعم البدل یہ نکالا ہے کہ مکہ، مدینہ کوئی شخص عمرہ یا حج کرنے کی غرض سے جاتا ہے، تو اِس سے کعبے، گُنبدِ خضرا کے ساتھ اپنی تصویر یا پرچے پر درج نام کے ساتھ تصویر کھینچ والیتے ہیں۔ یوں کہہ لیجیۓ کے رسول خدا صلی علیہ وآلہ وسلم یا خدا باری تعالٰی کی بارگاہ میں سلام ارض کر دیتے ہیں۔

محرم، صفر کے بعد ربیع الاول کے مہینے میں اکثر لوگ عمرے کرنے جاتے ہیں جس بنا پر سوشل میڈیا پر اس طرح کی تصاویر اکثر و بیشتر دیکھنے کو ملیں گی۔ جبکہ اب سے چند سال پہلے اِس کا اِتنا رواج عام نہیں تھا۔ جُوں جُوں وقت گذر رہا ہے، لوگوں میں شعور بیدار ہورہا ہے، جس وجہ سے وہ ایک دوسرے کی مثبت پہلوؤں کی جانب متوجہ ہورہے ہیں۔

یہ رُجحان ایام عزاء کے بعد کافی دیکھنے میں آتا ہے۔ کیونکہ اکثر مومنین کربلا المقدسة سفر اربعین(چہلم امام حسین علیہ سلام) میں جاتے ہیں۔ نجفِ اشرف سے پیدل کربلا تک پیدل سفر کرتے ہیں، تو نجف میں مرقد مولا علی علیہ سلام اور کربلا میں بین الحرمین (حضرت عباس ؑ اور امام حسین ؑ کے روضے کے درمیان کی جگہ کو کہتے ہیں) کے مقام پر اکثر تصاویر لے کر اپنے پیاروں کا سلام اُن ؑ  کی بارگاہ اقدس میں پیش کرتے ہیں۔

اس تحریر کو لکھنے کا مقصد یہ تھا کہ جہاں کچھ شر پسند عناصر اہل تشیعوں کے ہر ایک عمل کو بدعت، کفر، شرک ثابت کرنے کی تگ و دو میں لگے رہتے ہیں، حالانکہ ایسا کچھ عِلمی طور پر ثابت نہیں ہوتا ہے۔ جبکہ وہیں اہل تشیعوں کے مُثبت افکار و اعمال کو اہلسنت بھائی اپنا رہے ہیں۔ اس طرح کے معاملات اتحاد بین المسلمین کو فروغ دیتے ہیں؛ اور امن آشتی قائم کرتے ہیں۔ جس کی بیشتر مثالیں آپ کو مل سکتی ہیں۔ جس میں سے ایک تو میں نے واضح کر دی ہے، دوسری تعزیہ، عَلم، تقسیمِ تبرک اور دیگر شامل ہیں۔ جبکہ اہل تشیع اپنی روائیتی قدیمی تہذیب و تمدن پر اب بھی عمل پیرا ہیں؛ اور مُنظّم جماعت ہونے کی وجہ سے امتیازی حیثیت رکھتے ہیں۔۔

Thursday, December 6, 2018

شیعہ مسلک کے عقائد

*شیعہ مسلک کے عقائد*

*اصول دین*

❶توحید:
قُلْ ھُوَاللّٰہُ اَحَدْ. کہہ دو! وہ اللہ ایک ہے.
(سورہ الإخلاص)

❷عدل:
اَنَّ اللّٰہَ لَیْسَ بِظَلاَّمٍ لِّلْعَبِیْدِ.
بےشک اللّٰہ اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں.
(سورہ آل عمران:182)

❸نبّوت:
وَمَآ اَرسَلْنَا مِنْ رَّسُولٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰہ.
اور ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس لئے کہ خدا کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے.
(سورہ النسآء:64)

❹امامت:
قَالَ اِنِّیْ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا.
اس(اللّٰہ) نے کہا میں تم [ابراھیم] کو لوگوں کا امام بنانے والا ہوں. (سورہ بقرہ:124)

❺قیامت:
اِنَّ اللّٰہَ یَفْصِلُ بَیْنَھُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ.
بےشک اللّٰہ ان لوگوں کے درمیان قیامت کے دن فیصلہ کرے گا. (سورہ الحج:17)

*فروع دین*

❶نماز:
وَاَقِیْمُوْا الصَّلٰوۃَ... اور نماز قائم کرو.
(سورہ بقرہ43)

❷روزہ:
کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ... تم پر روزے فرض کر دیئے گئے ہیں.
(سورہ بقرہ:183)

❸حج:
وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلاً.
اور ان لوگوں پر جو وہاں تک پہنچنے کی استطاعت رکھتے ہوں محض اللّٰہ کے لئے خانہ کعبہ کا حج واجب ھے. (سورہ آل عمران:97)

❹زکواۃ؛
وَاٰتُواالزَّکٰوۃَ... اور زکواۃ ادا کرو.
(سورہ بقرہ:43)

❺خمس؛
وَاعْلَمُوْا اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَئ فَاَنَّ لِلّٰہِ خُمُسَہ وَلِلرَّسُوْلِ ولِذِی الْقُرْبیٰ۔۔۔۔۔
اور جان لو جو غنیمت(نفع) تم کسی چیز سے حاصل کرو تو اس کا پانچواں حصہ خدا اس کے رسول اور {رسول کے} قرابتداروں کا ہے.
(سورہ الانفال:41)

❻جھاد؛
وَجَاھِدُوْا فِی اللّٰہِ حَقَّ جِھَادِہ.
اور اللّٰہ کی راہ میں ایسے جھاد کرو جیسا جھاد کا حق ھے. (سورہ الحج:78)

❼امربالمعروف،
❽نہی عن المنکر:
کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ.
تم بہترین امت ہو جو لوگوں کی ھدایت کے لئے پیدا کئے گئے ہو، تم لوگوں کو نیکی کی دعوت دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو.
(سورہ آل عمران:110)

❾توّلا:
قُل لَّآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْراً اِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبیٰ.
کہہ دیجیے کہ میں تم سے اپنے قرابتداروں (اھلبیتؑ) کی محبت کے سوا کوئی اجرِ رسالت نہیں مانگتا. (سورہ الشورٰی:23)

❿تبّرا:
اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہ لَعَنَھُمُ اللّٰہُ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ.
بےشک جو لوگ خدا اور اس کے رسول کو اذیت دیتے ہیں ان پر خدا نے دنیا اور آخرت میں لعنت کی ھے. (سورہ الاحزاب:57)

*(زیادہ سے زیادہ عام کریں تاکہ دنیا کو معلوم ہو کس کے عقائد و فقہ قرآن کے مطابق ہیں)*

Wednesday, December 5, 2018

Mubashir Zaidi: Shia Islam

اثنا عشری اہل تشیع کے لیے لازم ہے کہ وہ کسی عالم کی تقلید کریں۔ ایسے عالم کو مرجع تقلید کہا جاتا ہے۔ وکی پیڈیا کے مطابق اس وقت کم از کم اکہتر مراجع حیات ہیں۔ میرا خیال ہے کہ یہ فہرست نامکمل ہے۔ لیکن اتنے مراجع بھی ہوں تو اس کا مطلب ہے کہ ایک مسلک کی تشریح کے اتنے نقطہ ہائے نظر موجود ہیں۔
اہل تشیع کئی طرح کے ہیں۔ مثلاً اخباری شیعہ جو غیر مقلد ہوتے ہیں۔ کئی گروہوں کو شیعہ سمجھا جاتا ہے لیکن وہ مختلف نظریات رکھتے ہیں، جیسے اسماعیلی۔ اہلسنت کے فقہ کے چار آئمہ اور پھر ان کے ماننے والوں کی شاخیں سب جانتے ہیں۔ اسلام کے علاوہ دوسرے مذاہب کی فہرست بھی طویل ہے۔ ان میں بھی متعدد فرقے ہیں۔
ان سب میں مشترک بات یہ ہے کہ خدا کو مانتے ہیں۔ یعنی ایک خدا کو ماننے والوں کے درجنوں نہیں، سیکڑوں نقطہ ہائے نظر ہیں۔ تو پھر خدا کو نہ ماننے والے یا شک کرنے والے سب لوگوں کو ایک قوم سمجھنا کیسی بڑی نادانی ہے؟
آئیں، دیکھتے ہیں کہ خدا کو ماننے، نہ ماننے یا شک کرنے والوں کی چند نمایاں کیٹگریز کیا ہیں:
Agnosticism
خدا کے ہونے یا نہ ہونے کا کسی کو علم نہیں یا علم ہو ہی نہیں ہوسکتا۔ انسانی عقل اس راز کو نہیں پا سکتی۔
Ignosticism
خدا کی حقیقت جاننے کی کوشش کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔
Apatheism
انسان کو خدا کے ہونے یا نہ ہونے کا کوئی فیصلہ ضرور کرنا چاہیے۔
Atheism
کوئی خدا موجود نہیں ہے۔
Deism
خدا موجود تو ہے لیکن وہ کائنات میں کوئی مداخلت نہیں کرتا۔
Monotheism
خدا ایک ہے، وہ سب سے زیادہ بااختیار ہے، اس نے دنیا بنائی اور اس میں مداخلت بھی کرتا ہے۔
Monism
خدا یا کائنات ایک ہی ہے۔ اس ایک نے خود کو بہت سی چیزوں میں تقسیم کرلیا اور وہ ہر شے میں موجود ہے۔
Panentheism
خدا کائنات کے ہر جانب میں موجود ہے اور وقت اور مقام کی قید سے آزاد بھی ہے۔
Henotheism
ایک خدا کی عبادت کرنی چاہیے لیکن امکان ہے کہ مزید خدا بھی موجود ہوں۔
Monolatrism
ایک سے زیادہ خدا یقیناً موجود ہیں لیکن صرف ایک کی عبادت کرنی چاہیے۔
Kathenotheism
ایک سے زیادہ خدا موجود ہیں لیکن ایک وقت میں صرف ایک کی عبادت کرنی چاہیے۔
Theism
ایک یا کئی خدا ہوسکتے ہیں اور وہ وحی بھیج سکتے ہیں۔
Dualism
ایک نہیں، دو عظیم طاقتیں ہیں جو ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ ایک نیکی ہے، دوسری بدی ہے۔
Polytheism
کئی خدا موجود ہیں اور الگ الگ کام کرتے ہیں۔
Omnism
تمام مذاہب ٹھیک ہیں اور سب کا احترام کرنا چاہیے۔
۔
میں علانیہ اگنوسٹک ہوں لیکن نہ مجھے اس پر فخر ہے اور نہ شرمندگی۔ اسلام کہتا ہے کہ جو شخص علم حاصل کرنے کے راستے میں مرجائے، وہ شہید ہے۔ میں اپنی تشکیک کو علم کا راستہ سمجھتا ہوں۔ ممکن ہے کہ کسی دن میں منزل پر پہنچ جاؤں۔ لیکن نہ بھی پہنچ سکا تو اس راستے کو اختیار کرنے پر مطمئن ہوں۔
ایک غلط فہمی ہمارے دوستوں دشمنوں سب کو ہے کہ متشکک اور ملحد ایک ہی ہوتے ہیں۔ جی نہیں، متشکک خدا کا انکار نہیں کرتا۔
دوسری غلط فہمی یہ ہے کہ متشکک صرف مذہب پرستوں کے تصور خدا کی حقانیت پر شک کرتا ہے۔ جی نہیں۔ ہمیں ملحدین کے نظریہ الحاد پر بھی شک ہے۔
متشکک سمجھتا ہے کہ خدا ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی۔ لیکن ہمارے پاس کسی نتیجے پر پہنچنے کے وسائل نہیں ہیں۔ کم از کم فی الحال نہیں ہیں۔
لوگ فقط تصور خدا میں الجھ جاتے ہیں۔ یعنی خدا کیا ہے اور کیا نہیں۔ سچ یہ ہے کہ علمائے اسلام رسول پاک کے کردار پر بھی الجھن کا شکار ہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ وہ نور کا پیکر تھے، کچھ کہتے ہیں کہ وہ خاکی انسان تھے۔ کچھ لوگ انھیں غیب کا عالم سمجھتے ہیں، کچھ قرآن سے دلیل لاتے ہیں کہ انھیں غیب کا علم نہیں تھا۔ یہ بھی لکھا ہے کہ قرآن ان کے دل پر اترتا تھا، اور یہ بھی درج ہے کہ فرشتہ آیات لاتا تھا۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ جبرائیل ان کا معلم تھا، کچھ کہتے ہیں کہ وہ جبرئیل کے استاد تھے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ انھوں نے جسمانی طور پر معراج کا سفر کیا، بعضے کہتے ہیں کہ وہ روحانی سفر تھا یا خواب دیکھا تھا۔ قرآن میں لکھا ہے کہ رسول کا واحد معجزہ یہ کتاب ہے لیکن میں ایک کتاب ایسی دیکھ چکا ہوں جس کا عنوان رسول اللہ کے ایک ہزار معجزات ہے۔
آپ کسی ایک مسلک کے ایک عالم سے کسی فروعی نکتے پر اختلاف کریں تو آپ کو مشرک، کافر، ملحد پتا نہیں کیا کیا قرار دیدے گا۔
ہاں ہم تشکیک میں مبتلا ہیں۔ ہمیں شک ہے اس تصور خدا کے درست ہونے پر، جو علمائے مذہب کے الجھے ہوئے ذہنوں میں موجود ہے اور جسے وہ درست طور پر بیان کرنے کے بھی قابل نہیں۔
ہمیں شک ہے ان فرسودہ خیالات اور مذہبی رسومات کے درست ہونے پر، جو نئے زمانے کے تقاضوں کے مطابق نہیں۔ ہمیں خدشہ ہے کہ علمائے مذہب نئے زمانے کو سمجھنے کے خواہش مند نہیں یا اس قابل نہیں۔
ہمیں سبق آموز قصے کہانیاں پسند ہیں لیکن ہم انھیں تاریخی حقائق تسلیم نہیں کرتے۔ یہ بات افسوس ناک ہے کہ علمائے مذہب کو اسٹیٹمنٹ یعنی بیان، تنقیدی سوچ، دستاویزی شواہد اور تحقیقی نتائج جیسی بنیادی باتوں کا علم نہیں یا فرق معلوم نہیں اور اگر وہ اس بارے میں جانتے ہیں تو پھر بے وجہ کسی بیان کو تحقیقی نتائج پر فوقیت دینے پر اصرار کرتے ہیں۔
ایک معمولی سی مثال پیش کردیتا ہوں۔ اگر میں کہوں کہ علامہ اقبال پاکستان کے وزیراعظم رہے ہیں تو یہ ایک بیان ہے۔ آپ تاریخ کی کتابیں کھول کر دیکھیں گے اور بتادیں گے کہ اب تک بائیس افراد پاکستان کے وزیراعظم رہے ہیں جن میں علامہ اقبال شامل نہیں۔
اب سمجھیں کہ مختلف علاقوں کی، خاص طور پر مصر کی گزشتہ پانچ ہزار سال کی تاریخ موجود ہے۔ تاریخ داں اور تحقیق کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ حضرت موسیٰ کا ذکر کہیں نہیں ملتا۔ توریت میں ان کا ذکر جس دورانیے میں بیان کیا گیا ہے، اس دور کے فرعون کی ممی دریائے نیل کے بجائے اہرام سے ملی ہے۔ بک آف ایگزوڈس میں ذکر ہے کہ حضرت موسیٰ مصر سے اپنی قوم کو لے کر چلے۔ وہ بہت بڑی ہجرت تھی۔ تاریخ میں اس کے شواہد نہیں۔
یہ سب مبشر علی زیدی نہیں کہہ رہا، وہی یہودی تحقیق کرکے بتارہے ہیں جو حضرت موسیٰ کو مسلمانوں سے زیادہ مانتے ہیں اور اسرائیل میں رہتے ہیں۔
یہ بات طے ہے کہ سوچنے والوں اور بغیر سوچے ماننے والوں کا اتفاق رائے ہونا مشکل ہے۔ سائنسی فکر اور غیب پر ایمان یکجان نہیں ہوسکتے۔ اس لیے ہمیں اختلاف رائے پر اتفاق کرلینا چاہیے۔
ایک آخری بات کہ مذہبی لوگوں کا اس بات پر سختی سے ایمان ہونا چاہیے کہ دنیا ایک امتحان ہے اور ہر شخص نے اپنے اعمال (اور شاید اپنے خیالات) کا حساب دینا ہے۔ میں اپنے پرچے میں کیا لکھ رہا ہوں، یہ مجھ پر چھوڑ دیں۔ میں کسی کی نقل نہیں کرنا چاہتا۔ آپ بھی اپنے امتحان کی فکر کریں۔ ایسا نہ ہو کہ دوسرے کے تاکاجھانکی میں آپ اپنا پرچہ خراب کر بیٹھیں۔