Monday, December 25, 2017

Those people who had called Quaid e Azam to be Kaafir e Azam today are also celebrating Quaid e Azam's birthday today.

Thread: People who branded Jinnah as Kafir-e-Azam, British Agent and Pakistan as Cancer,Palidistan #KnowYourEnemies

Jamat-e-Islami: JI's founder Maududi believed that there's nobody in the ML with an 'Islamic Outlook' and Jinnah is in cahoots with the British, he strongly opposed the creation of Pakistan.

Majlis-e-Ahrar: Founded by Ataullah Bukhari and Mazhar Ali Azhar. Deoband faction which called Pakistan 'Palidistan' and Jinnah 'Kafir-e-Azam'; also proposed Madhe Sahaba movement to counter ML- to attack Jinnah's Shia Khoja background

Jamiat-e-Ulema-e-Hind: Founded by the Hussain Madni (Shaikul Hadith of the Deoband Seminary) and Maulana Azad. Strictly opposed the creation of a separate homeland for Muslims

Khaksar Tehreek: Founded by Inayatullah Mashriqi. Mashriqi blamed Jinnah for being a British agent, and an opponent of the Indian Muslim glory

Unionists: Most of the feudal families of Punjab (yes they're still there in our Parliament) opposed ML and Pakistan. The forerunner was Khizar Hayat Tiwana

Darul Uloom Deoband: The Seminary was actively involved in issuing decrees against Jinnah calling him 'Rafidhi' and 'Kafir'

Mullahs of every beard size were active against Jinnah, but the man didn't stop and surrender. Ae Quaid-e-Azam Tera Ehsan Hai Ehsan~

“Pakistan is a fool’s paradise and an infidel state of Muslims. The Muslim migrants are deserters and cowards, who fought a national battle, but when the time came to pay the price, they took the path of escape”- Maulana Maududi (Founder JI)

Saturday, December 23, 2017

سیاسی چیلنجز

مکرمی ! پاکستان جیسے ترقی پزیر ملک میں سیاسی استحکام ہمیشہ سے ہی ایک چیلنج رہا ہے، معیشت کی گروتھ کیلئے ملک میں سیاسی استحکام انتہائی ضروری ہے ،ملک سیاسی عدم استحکام کا متحمل نہیں ہو سکتا۔تمام سیاسی پارٹیوں کو عوام کے مفاد اور ملک کی بہتر ہوتی معیشت کو مد نظر رکھا کر اپنی سیاست کرنا ہو گی. پاکستان جیسے ترقی پزیر ملک میں سیاسی استحکام ہمیشہ سے ہی ایک چیلنج رہا ہے اور جب ملک سیاسی عدم استحکام کا شکار ہوا تو اس کو بہت سی مشکلات کا سامنا کر نا پڑا۔ سیاسی استحکام ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔،سیاسی عدم استحکام سے ملک کو زیادہ نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ جب بھی ملک میں سیاسی عدم استحکام دیکھا گیا تو اس کا سب سے پہلا اثر ملکی حالات پر ہوا ۔ ملک میں جب بھی سیاسی استحکام نظر آتا ہے تو ملک میں کاروبار  معیشت میں ترقی دیکھنے میں آتی ہے مگر جب سیاسی استحکام نہیں ہوتا تو ملک تباہ حالی کی طرف جاتا نظر آتا ہے۔ملک کے کرتا دھرتاٶں کو معاشی استحکام کو مضبوط کرنے کی طرف دھیان دینا چاہۓ۔

تحریر : خطیب احمد

Wednesday, December 6, 2017

قضّیہ ازواج عمر ابن خطاب

حضرت عمر  کے امّ کلثوم سے نکاح کا ماجرا ایک جھوٹی داستان ہے اس لئے کہ
یہ داستان تفصیل کیساتھ صحاح ستّہ میں سے کسی ایک میں بھی نقل نہیں ہوئی
بعض محققین کا تو کہنا ہے کہ حضرت علی  کی کسی بیٹی کا نام اُمّ کلثوم نہیں تھا. حیات فاطمہ الزہراء: ٢١٩،باقر شریف قرشی؛علل الشرائع ١: ١٨٦،باب ١٤٩ بلکہ یہ حضرت زینب کی کنیت تھی اور ان کی شادی عبداللہ بن جعفر سے ہوئی تھی .

نام میں مغالطہ ہوا ہے اس لئے کہ حضرت عمر  نے حضرت ابوبکر  کی بیٹی اُمّ کلثوم سے شادی کی خواستگاری کی تھی مگر حضرت عائشہ  کی مخالفت کی وجہ سے شادی واقع نہ ہو سکی . الأغانی ١٦: ١٠٣

حضرت عمر  کا اُمّ کلثوم نامی خاتون سے عقد تو ہوا لیکن اس کے باپ کا نام جرول تھا جو عبید اللہ بن عمر  کی ماں تھیں . سیر اعلام النبلاء ( تاریخ الخلفاء): ٨٧

تاریخی حقائق سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب ماجرا من گھڑت ہے اس لئے کہ کہتے ہیں امّ کلثوم کی شادی پہلے عمر سے ہوئی ان کی وفات کے بعد محمد بن جعفر سے ، ان کی وفات کے بعد ان کے بھائی عون بن جعفر سے ہوئی جبکہ ہماری تاریخی کتب اس بات پر شاہد ہیں کہ یہ دونوں بھائی حضرت عمر  کے دور خلافت میں جنگ تستر شہید ہوگئے تھے . استیعاب ٣: ٤٢٣اور ٣١٥؛ تاریخ طبری ٤: ٢١٣؛ الاکمل فی التاریخ ٢: ٥٤٦

    اور پھر ہماری کتب میںیہ بھی لکھا جاتاہے کہ ان دونوں بھائیوں کی وفات کے بعد ان کی شادی ان کے تیسرے بھائی عبداللہ بن جعفرسے ہوئی جبکہ ان کی شادی تو حضرت زینب سے ہوئی تھی اور وہ اس وقت تک اسی عبداللہ کے عقد میں ہی تھیں تو کیا اسلام میں ایک زمانہ میں دو بہنوں کے ساتھ شادی جائز ہے الطبقات الکبرٰی  ٤٦٢یا یہ کہ حقیقت میں ایسا عقد واقع ہی نہیں ہوا ۔

۔۔۔۔۔ حصہ دوم

بعض لوگوں کا گمان باطل ہے کہ عمر ابن خطاب کی شادی دختر امیرالمومنین مولا علیؑ ؑسے ہوئی تھی لیکن!!!

قرآن حکیم ۔لعنت اللہ علی الکاذبین (جھوٹوں پر اللہ کی لعنت)۔سورۃ آل عمران۔آیت۔61

علم الریاضیات اس بات کی نفی کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ یہ بات جھوٹ اورافتراء کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔

غور سے  پڑھیں۔۔۔

تو تاریخ کہتی ہے کہ جب عمر ابن خطاب اسلام لائے تو ان کی عمر چالیس(40)برس تھی.

اور تریسٹھ(63) برس کی عمر میں عمر ابن خطاب وفات پا گئے

امیر المومنین علی ؑ دعوت ذوالعشیرہ میں نو(9) برس کے تھے۔

امیر المومنین علی ؑ نے جب سیدۃالنساء العالمین ؑ سے شادی کی تو آپ ؑ  پچیس(25) برس کے تھے۔

یعنی دعوت ذوالعشیرہ کے سولہ(16)برس بعدامیر المومنین علی ؑ کی شادی ہوئی۔

اور عمر بن خطاب دعوت ذولعشیرہ  کے سات(7)برس بعد اسلام لاِئے

یعنی جب عمر ابن خطاب نے کلمہ پڑھا تو امیرالمومنین علی ؑسولہ(16)برس کے تھے۔

عمر ابن خطاب کے اسلام لانے کے نو(9) برس بعدامیر المومنین علیؑ کی شادی ہوئی،تب امیر المومنین علی علیہ السلام پچیس (25) برس کے تھے۔  (9+16) 25 = برس

جب  امیر المومنین علیؑ کی شادی ہوئی تب عمر ابن خطاب (49) برس کے تھے(49=40+9برس)۔

کیا ایسا نہیں ہے؟

اللہ تعالیٰ نے امیر المومنین علیؑ کو شادی کے ایک برس بعد امام حسنؑ عطا فرمائے۔

دو(2)  برس بعد امام حسینؑ عطا فرمائے

چار(4)برس بعدسیدۃ زینبؑ کی ولادت ہوئی۔

امیر المومنین علیؑ کی شادی کے چھ(6)  برس بعد سیدۃ اُم کلثوم ؑ اس دنیا میں تشریف لائیں،

پس سیدۃ اُم کلثومؑ کی دنیا میں آمدکے وقت عمر ابن خطاب پچپن(55) برس کے تھے۔
(55=49+6 برس)

عمر ابن خطاب تریسٹھ(63) برس کی  میں وفات پا گئے۔

سیدۃ ام کلثومؑ بنت امیرالمومنین علیؑ کی دنیا میں آمد کے بعد عمرابن خطاب آٹھ(8)برس زندہ رہے۔
(8=63-55برس)۔

اہلسنت علماء کے بقول عمر ابن خطاب کی وفات سے تین(3)برس پہلے شادی ہوئی اور ایک بیٹا پیداہوا جس کا نام زید ابن عمر تھا یوں شادی کے وقت سیدۃ ام کلثومؑ کی عمر پانچ(5)برس بنتی ہے۔
(5=8-3برس)۔

کیاعقل و منطق اس بات کو قبول کرتی ہے کہ پانچ (5) برس کی عمر میں کسی عورت کی شادی ہو جائے؟؟؟

اوراس سے ایک بچہ بھی پیدا ہو جائے جس بچے کا نام زید ابن عمر رکھا گیاتھا؟؟؟

Friday, December 1, 2017

دور بنو امیہ میں مولا علیء پر لعن طعن

گالیاں دینا معاویہ اور مغیرہ بن شعبہ کی سنت ہے،  علی والے ایسا نہیں کرتے۔۔۔ جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ فاسقین بنو امیہ کی پیری میں کرتے ہیں۔۔ چاہے شیعہ چاہے سنی۔۔

شیعوں میں ایک طبقہ اصحاب رسول میں سے کچھ کو فاسق و فاجر یا دشمن اہلبیت مان کر ان پر تبرا کرتا ہے، لیکن بنو امیہ کے دور میں یہ کام جمعہ اور عید کے خطبوں میں عبادت سمجھ کرکیا جاتا تھا۔۔۔
میں آپ سے پوچھتا ہوں۔۔ جب ایک شخص کو معلوم ہو کہ ایک نام نہاد صحابی کے حکم سے برسر ممبر علی ع پر لعن کروایا جاتا تھا اور یہ سنت بانوے سال تک جاری رہی۔۔عمر بن عبدالعزیز کے چار سال چھوڑ کر۔۔ تو کیا آپ کے دل میں ان دشمنان اہلبیت کی محبت ہوگی یا ان سے نفرت و بیزاری ہوگی۔۔۔؟؟؟ علی ع سے محبت تو ایمان کی علامت قرار دی گئی ہے اور یہ پیمانہ اور کسی کے بارے میں نبی ص نے متعین نہیں کیا ہے صرف علی ع کے بارے میں صراحت آئی ہے۔۔

قال علي ‏والذي فلق الحبة وبرأ النسمة إنه لعهد النبي الأمي ‏(ص) ‏‏إلي ‏ ‏أن لا يحبني الا مؤمن ، ولا يبغضني الا منافق.(مسلم)