شیعہ مخالفین ان پر کفر کا الزام لگانے کے لیے یہ بہانہ استعمال کرتے ہیں کہ انہیں کلمہ کو تبدیل کر لیا ہے۔
محترم برادران ہماری نیت یہی ہے کہ ان پھیلائی گئی غلط اور جھوٹی غلط فہمیوں کا ازالہ کیا جائے تاکہ حق واضح ہو سکے. اللہ ہماری اس نیک نیت کو قبول فرمائے اور اس میں برکت عطا فرمائے۔ امین۔
" کلمہ اسلام اور کلمہ ایمان میں فرق "
اس موقع پر سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ ذیل کی دو چیزوں کے مابین فرق کو سمجھا جائے۔
کلمہ اسلام
کلمہ ایمان
کلمہِ اسلام کیا ہے؟
جب کسی شخص کو مسلمان کرنا ہوتا تھا تو رسول اللہ ﷺ اُسے یہ کلمہ پڑھواتے تھے:
اَشُہَدُ اَنُ لاٰ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحُدَہُ لاٰ شَرِیکَ لَہُ وَ اَشُہَدُ اَنَّ مُحَمَّداً عَبُدُہُ وَ رَسُوُلُہُ
“میں گواہی دیتا ہوں کہ کوئی معبود نہیں سوائے اللہ کے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اسکے بندے اور رسول ہیں۔
تمام مسلمان (اہلسنت اور اہل تشیع) اس بات پر متفق ہیں کہ کہ جو شخص بھی یہ کلمہ پڑھے گا، وہ مسلمان بن جاتا ہے (یعنی اُس کے ساتھ تمام معاملات مسلمانوں والے ہیں)۔ چاہے اسکے بعد کوئی شخص اہلسنت کے 6 کلمے نہ بھی پڑھے، تب بھی وہ مسلمان ہے۔
کلمہ ایمان کیا ہیں؟
اسلام ۔۔۔۔ مسلم ۔۔۔ مطلب ہے زبان سے اقرار کرنا
ایمان ۔۔۔۔۔ مومن ۔۔۔مطلب ہے دل سے ماننا اور اقرار کرنا
قران کےمطابق ذیل کی چیزوں کی شہادت دی جائے تو یہ عین ایمان کے مطابق ہے:
قیامت پر ایمان لانا
ملائکہ (فرشتوں) پر ایمان لانا
کُتب (جو گذشتہ انبیاء پر نازل ہوئیں) پر ایمان لانا
گذشتہ تمام رسولوں پر ایمان لانا
شیعہ فقہ کے مطابق اس بات کی عام اجازت ہے کلمہ اسلام پڑھنے کے بعد ایمان کا کوئی بھی کلمہ پڑھ لیا جائے، یا پھر کوئی بھی دعا پڑھ لی جائے (مگر اس بات کی اجازت نہیں کہ انہیں کلمہ اسلام کا جزو مانا جائے)۔
کلمہ اسلام پڑھ لینے سے ایمان کی شروعات ہوتی ہے، تکمیل نہیں ہوتی ہے۔ کلمہ اسلام میں ہم گواہی دیتے ہیں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ مگر یہ بات تو قادیانی حضرات بھی کہتے ہیں اور بعینہ یہی کلمہ اسلام پڑھتے ہیں، مگر اسکے باوجود وہ کافر ہیں۔ وجہ؟ وجہ یہ ہے کہ وہ ایمان کےایک ایسے جزو کا انکار کر رہے ہیں جو اگرچہ کہ کلمہ اسلام میں شامل تو نہیں، مگر ایمان کا حصہ بالضرور ہے۔
اب فرض کریں ایک شخص کلمہ اسلام پڑھتا ہے اور اللہ کی وحدانیت کے ساتھ محمد ﷺ کو اللہ کا بندہ اور سول مانتا ہے، مگر ساتھ میں کہے کہ وہ عیسی علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا بھی مانتا ہے تو کیا وہ مسلمان باقی رہے گا؟
اسی طرح اگر کسی عیسائی کے سامنے ہم کلمہ اسلام کے ساتھ ساتھ اس بات کی گواہی بھی دے دیں کہ عیسی ؑ اللہ کے بندے اورنبی ہیں اور بیٹے نہیں، تو کیا یہ زائد کلماتِ ایمان ادا کرنے سے ہم کافر اور بدعتِ ضلالت کا شکار ہو جائیں گے؟
اور اگر قادیانی حضرات کی وجہ سے ہم کلمہ اسلام کے ساتھ ساتھ یہ شہادت بھی پڑھ دیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ خاتم النبین ہیں تو کیا یہ بھی کفر و بدعت ہے؟
" اہلسنت کے چھ کلمے (بشمول ایمان مفصل اور ایمانِ مجمل)"
اہلسنت نہ صرف کلمہ اسلام پر یقین رکھتے ہیں، بلکہ ان کے ہاں اس کے ساتھ ساتھ پانچ 5 مزید کلمے بھی ہیں اور دو طرح کی ایمان کی عبارات بھی ہیں (یعنی ایمانِ مفصل اور ایمانِ مجمل)۔
اب رسول (ص) نے تو کبھی یہ حکم نہیں دیا تھا کہ ان 6+2=8 عبارات کو بطور کلمہ اور ایمان لیا جائے، بلکہ یہ سلف علماء تھے جنہوں نے یہ عبارات قران و حدیث سے وضع کی تھیں۔
تو اب اگر علیا ولی اللہ کی گواہی دینا شرک ٹھرا، تو پھر ان چھ کلموں اور ایمانِ مفصل اور مجمل پر بھی لگائیے شرک کے فتوے؟ اگر نہیں لگاتے تو اس منافقت کی وجہ تو فرمائیے؟
No comments:
Post a Comment