Sunday, December 11, 2016

پہلا مددگار


جب رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دین اسلام کی دعوت دی تو حق قبول کرنےوالو میں عورتوں میں جناب خدیجہ کبری سلام اللہ علیہ اور مرد حضرت میں جناب ابو طالب علیہاسلام ھے یہ ھی وجہ بنی کہ عرب کے لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھر پر بلا کر اللہ کی توحید اور اپنی آخری نبوت کا پیغام دیا اور مجمع عام کو کھانے پینے کو بھی دیا یہ سب جناب ابو طالب علیہاسلام کی نگرانی اور خرچے پر ھوا تاریخ گواہ ھے کہ چالیس دن تک عرب کے بدو کھاتے رھے مگر دین حق کو نظر انداز کرتے رھے ان کھانے والومیں ابوبکرے عمر عثمان بھی تھے انہوں نے بھی ۴۰ دن تک کوئ اسلام قبول نہ کیا ۔دسترخوان ابو طالب علیہاسلام کے ٹکڑے کھاتے اور چل پڑتے ۔یہ جھوٹ ھے کہ ابوبکرے نے پہلے اسلام قبول کیا مردوں میں یہ جھوٹ ھے ۷۰ سال کے انسان کو مرد نہیں مردہ کہتے ھیں پہلی دعوت اسلام میں جو۴۰دن تک کھلائ گئی اس میں ثابت نہیں ھے جب کہ جناب ابو طالب علیہاسلام اللہ کے رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بالکل ساتھ بلکہ سارا خرچہ جناب ابو طالب علیہاسلام کا تھا۔اگر ابوبکرے نے اسلام قبول ھی کیا تھا تو گھر میں سے ابوبکرے کی ماں باپ بہن بھائ دوست نے کیوں قبول نہ کیا ۔جب کہ جناب ابو طالب علیہاسلام کی زوجہ پاک جناب اسد علیہ السلام کی بیٹی جناب فاطمہ علیہ السلام دوسری بی بی ھے کہ جس نے جناب خدیجہ کے بعد اسلام قبول کیا ۔۔۔۔۔تاریخ گواہ ھے کہ ابوبکرے عمر عثمان میں زرا بھربھی بہادری نہ تھی ثبوت کہ۸۳غزوات میں سے کوئ بھی غزوہ نہ جیتا جب کہ مولا علی بن حضرت ابو طالب علیہاسلام نے تنہا سب کے سب غزوے جیتے ۔۔۔۔اور اللہ کے حکم سے ابوبکرے عمر عثمان کو پاک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی بھی عجمی ملک میں اپنا سفیر بناکر نہیں بھیجا نہ روم کی نہ حبشہ کی طرف ان کا اتنا معیار اور علم نہ تھا کہ بھیجےجاتے کیونکہ ابوبکر عمر عثمان نے جنگ احد سے بھاگ کر اپنا ایمان سب کو بتا دیا تھا پھر ہجرت کا واقعہ بھی گواہ ھے کہ جواللہ کے نبی کے ساتھ محو ہجرت ھے وہ راستے میں کافروں کو اپنے راستے کے گزرنے کی جگہ کو نشانیاں پھینک پھینک کر بتا رھاتھا کہ ھم اس راستے سے گزرےہیں اور وہ یہ ھوا کہ مکہ کے کافر عین اس غار کے دھانے تک پہنچے کہ جس کے اندر اللہ کا نبی تھا نہ کبوتری انڈہ دیتی نہ اگر  مکڑی جالا بنتی تو مکہ کے کافر کامیاب ھو جاتے مگر اللہ نے ابوبکر کے اس ساتھ جوکہ خود زبردستی اس ہجرت کے سفرمیں شامل ھوے تھے کو کامیاب نہ ھو نے دیا ۔سب سنی فرقے بولتا ہیں یار غار یار غار یہ خود بول کر قرآن کے منکر بن گئے ہیں قرآن میں لکھا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنا یار مت کہو ۔۔۔۔۔مگر سنی بول رھے ہیں یار غار تھا تو غار ثور میں ابوبکر کیوں نہ یار غار ثور بنایا ۔۔۔اچھا اس وقت کافر تھا تو سب کیا ھے زبردستی باغ فدک پر قبضہ کیا زبردستی حجرہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلومیں گڑ گئے یہ افضیلیت میں تو شمار نہیں  ۔۔۔کیونکہ کوئ سند و حدیث تاریخ میں نہیں ھاں مولویوں کی لمبی زبانیں بہت ملے گی۔۔یہ اسلام ھے زبان سے نہیں آیت اور حدیث سے سمجھا جاتا ھے ,۔۔۔۔۔۔معاویہ ھرامی کہ جواللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پتھر مارتا تھا پھر بدر احد خندق میں جنگ کر کے اپنی دشمنی منوا چکا تھا بدر میں یہ معاویہ اپنے ماموں کے جہنم میں جانے کو آج تک بھول نہ پایا اور محبت میں خود بھی ماموں کے پیچھے جہنم میں چلاگیا فتح مکہ کے کم و بیش دوسال سے بھی کم وفت یہ معاویہ اللہ کے رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ظاہری مسلمان رہا اس عرصے میں بھی یہ کیا اس کی ماں ھندہ زانی جب بھی اللہ کے رسول کے سامنے آئ اللہ کے رسول اپنا منہ پھیر لیتے اور حدیث بھی ھے کہ 
تم میری آنکھوں کے سامنے مت آیا کرو ۔۔تمہیں دیکھ کر مجھےاپنے شہید چچا کا پامال لاشہ یاد آجاتا ھے ,۔۔۔۔۔۔رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی پوری ۶۳ تریسٹھ سالہزندگی میں صرف تین مرتبہ غصہ آیا کہ چہرہ پاک سرخ ھو گیا ۔۔جب جبرئیل نے امت کے ھاتھوں قتل حسین علیہاسلام کی خبر دی۔۔۔۔۔۔جب عمرو بن عبدود نے خندق پار کر کے رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو للکارا۔۔۔۔۔جب سید الشہدا حضرت امیر حمزہ علیہ السلام کی ناپاک قاتلہ معاویہ کی نجس ماں ھندہ کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دیکھتے ۔۔۔۔۔۔
اللہ کی لعنت بنو امیہ پر کہ جس کو اللہ نے قرآن میں شجرہ ملعونہ کے نام سے پکارا ھے ۔۔اس شجرے میں داعش ۔۔۔لشکر جھنگوی ۔۔۔طالبان۔۔۔۔وھابی ۔۔۔۔سنی ۔۔۔دیوبندی ۔۔۔اہلحدیث شامل ھے ۔۔۔کیونکہ یہ ھی معاویہ کو صحابی بھونکتے ھیں حالانکہ تاریخ طبری میں حدیث موجود ھے کہ 
معاویہ کو میرے منمبر پر بیٹھا دیکھو تو پیٹ پھاڑ دینا ۔۔۔۔
مگر سب کے سب فرقے اس کو زبانی بنا ثبوت کے نجانےکیا کیا بولتےھیں ۔۔

#تحقیقی_مواد

خطیب احمد

No comments:

Post a Comment