آن کیمرہ OC
دنیا بھر میں آج دریاؤں کا عالمی دن منایا جارہا ہے اور دریائے سندھ بھی ان میں سے ایک ہے جو کئی سال پہلے لاکھوں کیوسک پانی اپنی آغوش میں لیتے ہوئے سمندر میں جاتا تھا اور اب وہاں صرف ریت ہی ریت نظر آتی ہے دیکھتے ہیں ۔احمد خشک کی یہ رپورٹ...
وآئس اوور VO
دریائے سندھ ایک عظیم دریا ہے جس کے ذریعے لاکھوں کیوسک پانی پورے پاکستان سے گزرتے ہوئے سندھ اور پھر ٹھٹھہ میں سمندر میں شامل ہوتا تھا۔ کئی سال پہلے دریائے سندھ پوری آب و تاب کے ساتھ بہتا تھا اور ماہی گیر بھی خوشحال زندگی گزارتے تھے لیکن آج صورت حال برعکس ہے۔
دریائے سندھ میں پانی کی کمی سے ماہیگیر تو معاشی بدحالی کا شکار ہیں. دوسری طرف سمندر کا کڑوا پانی ٹھٹھہ سجاول اور بدین اضلاع کی لاکھوں ایکڑ زرعی اراضی بھی نگل چکا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ زمین کو سمندر برد ہونے سے بچانے کے لئے دریائے سندھ میں میٹھے پانی کا بہنا نہایت ضروری ہے۔
سلاٹ SOT....expert on this issue...
دریائے سندھ سے جسے دریائوں کا بادشاہ بھی کہا جاتا ہے جو دوسروں کی پیاس بجھانے والہ آج خود میٹھے پانی کی پیاس میں تڑپ رہا ہے کوٹری ڈاؤن اسٹریم سے پانی نہ چھوڑنے کی وجہ سے دنیا کا ساتواں اور ایشیا کا سب سے بڑا انڈس ڈیلٹا تباہی کی طرف گامزن ہے انڈس ڈیلٹا کے اضلاع ٹھٹھہ سجاول بدین کی زرعی زمین سمندر برد ہو چکی ہے سمندر تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے سمندر کی تباہی سے بچانے کلیئے فوری طور پر دریائے سندھ میں پانی چھوڑا جائے
یہاں افراد کے سلاٹ SOT...issue related person
اختتام Extro....
ضرورت اس امر کی ہے کہ دریائے سندھ میں 1991 کے پانی معاہدے کے تحت پانی چھوڑا جائے جس سے ایشیا کے سب سے بڑے انڈس ڈیلٹا کو سمندر کی تباہی سے بچایا جاسکتا ہے...
کیمرہ مین.......کے ساتھ احمد خشک...........نیوز ..کراچی...
No comments:
Post a Comment