PARADOX
شاگردوں نے استاد سے پوچها
مغالطہ( Paradox ) سے کیا مراد هے؟
استاد نے کہا:
اس کے لیے ایک مثال پیش کرتا ہوں.
دو مرد میرے پاس آتے ہیں. ایک صاف ستهرا اور دوسرا گندا.
میں ان دونوں کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ غسل کرکے پاک و صاف ہو جائیں.
اب آپ بتائیں کہ ان میں سے کون غسل کرے گا؟
شاگردوں نے کہا: گندا مرد.
استاد نے کہا:
نہیں بلکہ صاف آدمی ایسا کرے گا کیونکہ اسے نہانے کی عادت ہے جبکہ گندے کو صفائی کی قدر و قیمت معلوم ہی نہیں.
اب بتائیں کہ کون نہائے گا؟
بچوں نے کہا: صاف آدمی.
استاد نے کہا:
نہیں بلکہ گندا نہائے گا کیونکہ اسے صفائی کی ضرورت ہے.
پس اب بتائیں کہ کون نہائے گا؟
سب نے کہا: گندا.
استاد نے کہا :
نہیں بلکہ دونوں نہائیں گے کیونکہ صاف آدمی کو نہانے کی عادت ہے جبکہ گندے کو نہانے کی ضرورت ہے.
اب بتائیں کہ کون نہائے گا
سب نے کہا :دونوں.
استاد نے کہا:
نہیں کوئی نہیں. کیونکہ گندے کو نہانے کی عادت نہیں جبکہ صاف کو نہانے کی حاجت نہیں.
اب بتائیں کون نہائے گا؟
بولے :کوئی نہیں.
پهر بولے:
استاد آپ ہر بار الگ جواب دیتے ہیں اور ہر جواب درست معلوم ہوتا ہے. ہمیں درست بات کیسے معلوم ہو؟
استاد نے کہا (Paradox) مغالطہ یہی تو ہے
آج کل اہم یہ نہیں ہے کہ حقیقت کیا ہے؟
اہم یہ ہے کہ میڈیا کس چیز کو ثابت کرنا چاہتا ہے.!
امید ہے میڈیا کے چکروں کی سمجھ آ گئی ہو گی
اگر آپ کو سمجھ آ گئی ہے تو دوسروں کو بھی سمجھا دیں
...
پی ایس ایل خالصتا entertainment ہے۔ میں بھی دیکھتا ہوں۔ ضرور ہونی چاہئے۔ مگر جب یہ دیکھتا ہوں کہ کچھ لوگوں نے اسے قومی مفاد سمجھ کر تنقید سے استثناء دے دیا ہے اور شہر کے کچھ علاقوں میں کرفیو لگ جانے پر تنقید کرنے والوں کو غداری کے سرٹیفیکیٹ ملنے لگے ہیں تو معاملے کی تہہ میں جانا پڑتا ہے۔ سب سے پہلے تو یہ سمجھ لیجئے کہ کرکٹ کی بحالی ملکی ترقی کی ضامن نہیں۔ پاکستان میں بینالاقوامی کرکٹ بند ہوئے تقریبا 10 سال ہی ہوئے تھے۔ اس سے پہلے 60 سال چلتی رہی ہے۔ اس سے اگر آپکا ملک سپر پاور بن گیا تھا تو بتادیجیے تصحیح کر لیتا ہوں۔ دنیا کی تمام ریاستیں ریاستی امور سے توجہ ہٹانے کیلئے mass distractions کا سہارا لیتی ہیں۔ امریکہ میں Super Bowl اسکی اچھی مثال ہے۔ اگر آپ کو یہ بات بھی بھونڈی لگتی ہے تو اپ کی اطلاع کیلیے عرض ہے کہ اس موضوع پر Theodor Adorno، Herman اور Noam Chomsky نے جامع ریسرچ کر رکھی ہے جا کر پڑھ لیجیے۔ کرکٹ کی بحالی میں ملکی ترقی کا کوئی راز چھپا نہیں۔ یہ آپکو ریاست نے اپنے پراپیگینڈے سے سکھایا ہے جس پر سوال آپ کے ذہن میں پیدا نہ ہو سکا۔ ریاست کو ایسے ایونٹ کرانے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ عوام میں coercion کے جذبات کا رخ موڑنا اس کی survival کیلئے بیت اہم ہے۔ پھر چاہے قذافی سٹیڈیم کے گراونڈ کو خشک کرنے کیلئے عسکری ہیلی کاپٹر کا استعمال کرنا پڑے یا پورا ملک بند کرنا یا اربوں روپے لگانا پڑیں۔ وہ لگائے گی۔ نازی جرمنی میں Joseph Goebbels کا کام ہی یہ تھا کہ جرمن عوام کا جی لبھانے کیلئے ایسی فلمیں بنائی جائیں جس سے وہ نظریں نہ ہٹا سکیں اور ہٹلر کی پالیسیوں پر غور کرنے کا دماغ انکے پاس بچے ہی نہ۔ اس لیے جذباتی نہ ہوئیے۔ عقل کا استعمال کیجئے۔ ملکی ترقی کا راز سائنسی اور جدید علوم کو سیکھنے سے مشروط ہے۔ کرکٹ کی بحالی سے نہیں۔ مثال کے طور پر اسرائیل جو کھیلوں میں سب سے پیچھے اور باقی ہر میدان میں سب سے آگے ہے۔ کرکٹ دیکھیں مگر عقل سے جنونیت کا پردہ ہٹا کر۔
سید مزمل
No comments:
Post a Comment