Tuesday, October 27, 2020

Population Report From.Dunya News.

10گنجان ترین ممالک میں سے 4سب صحرائی خطے میں واقع ہوں گے ،امریکہ سے 11گنا کم رقبے کے حامل نائیجیریا کی آبادی امریکہ سے دگنی ہو سکتی ہے

دنیا کی آبادی 2100ء میں کم ہو کر 8.8ارب رہ جائے گی : عالمی سروے

50کروڑ نفوس کی کمی کے بعد چین کی آبادی ’محض‘ 78کروڑ رہ جائے گی

 2100ء میں اگرچہ ہم نہ ہوں گے ،لیکن دنیا میں ہونے والوں کی تعداد (اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق)11 ارب ہو جائے گی۔ 7.6ارب کی موجودہ آبادی میں تقریباََ3.40ارب نفوس کا اضافہ غیر متوقع طورپر ان خطوں میں ہونے والا ہے جو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں،عالمی رپورٹوں کی روشنی میں رواں صدی میں آبادی میں اضافے میں تبدیلیوں کا نیا رائونڈ شروع ہونے والا ہے۔اگلی صدی کے آغاز میں چین دنیا کا سب سے بڑا ملک نہیں رہے گا ،50کروڑ نفوس کی کمی کے بعد چین کی آبادی ’محض‘ 78کروڑ اور 21کروڑ نفوس کی کمی کے بعد انڈیا کی آبادی 1.09 ارب نفوس رہ جائے گی۔ چین سمیت کئی دوسرے ممالک کی آبادی میں کمی یا اضافے پر قابو پانے کے باعث انڈیا ہی آبادی کا بڑا مرکز قرار پائے گا۔ ایک رپورٹ کے مطابق انڈیا پہلے نمبر پر آجائے گاجبکہ ایک اور رپورٹ کے مطابق یہ دوسرے نمبر پر ہوگا ۔یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ انڈیا 2100ء تک کا انتظار نہیں کرے گا اور وہ 2027ء میں چین کو پیچھے چھوڑکر دنیا کا سب سے گنجان آباد ملک بن جائے گا۔نائیجیریا دوسرے اور چین 73.2 کرور نفوس کے ساتھ تیسرے نمبر پر آجائے گا۔ امریکہ چوتھے اور ہم یعنی پاکستان پانچویں نمبر پر ہوں گے۔ امریکہ کی آبادی میں 10.3کروڑ اور پاکستان کی آبادی میں 18.2کروڑ نفوس کا اضافہ ہو سکتا ہے۔

جہاں د یگر ممالک میں طاقت ور فیملی پلاننگ کے ذریعے آبادی میں اضافے پر کنٹرول کر لیا جائے گا وہیں افریقی ممالک میں آبادی کا جن ہر سماجی اور سیاسی اور معاشی ترقی کو گھن کی طرح چاٹ جائے گا۔امریکہ میں آبادی قدرے کنٹرول میں رہے گی، کینیڈااور آسٹریلیا میں آبادی معقول سطح پر برقرار رہنے کا امکان ہے، انڈونیشیاء اور پاکستان کی آبادی میں اضافے کی رفتار بھی غلط لگائی گئی تھی اضافہ توقع سے کم ہو رہا ہے، لہٰذا ڈیمو کریٹک ری پبلک آف کانگو اور ایتھوپیا ہمیں بھی پیچھے چھوڑ جائیں گے ۔
10گنجان ترین ممالک میں سے 4سب صحرائی خطے میں واقع ہوں گے ۔امریکہ سے 11گنا کم رقبے کے حامل نائیجیریا کی آبادی امریکہ سے دگنی ہو سکتی ہے۔ان رپورٹوں کا حیران کر دینے والا پہلو یہ ہے کہ کئی ممالک کی آبادی میں نہ صرف یہ کہ اضافہ نہیں گا، بلکہ چین اور بھارت سمیت کئی ممالک کی آبادی میں حیران کن طو ر پرکروڑوں افراد کی کمی ہوگی ، ایساکیسے ہو گا، ان رپورٹوں میں ذکر نہیں۔

اس وقت 7.6ارب افراد کی دنیا میں بلحاظ آبادی عالمی لیڈر چین ہے۔ انڈیا اورامریکہ اس کے پیچھے ہیں۔ہم بہت نیچے ہیں، لیکن 2100ء تک گنجان آباد ممالک بدل جائیں گے ،کہاجا رہا ہے کہ ایک تو کچھ ممالک میں آبادی میں اضافے کا تناسب درست نہیں لگایا گیا تھا ،اس لئے جن ممالک کی آبادی میں زیادہ اضافہ تجویز کیا گیا تھاہوسکتا ہے کہ ا ن ممالک میں اتنا اضافہ نہ ہو ، جبکہ جن ممالک کی آبادی میں کم اضافہ تجویز کیا گیا تھا اب ان ممالک کی آبادی میں زیادہ اضافے کی امید ظاہر کی گئی ہے۔

شرح پیدائش میں مسلسل کمی کے باوجود آبادی کی شرح نمو اس وقت بھی 1.9فیصد ہے۔جبکہ مجموعی طور پر ایک عورت 2.5بچوں کو جنم دیتی ہے۔یعنی خاندان کا مجموعی سائزایک شوہر، ایک ماں اور 2.5بچوں کے ساتھ 4.5نفوس ہوا ۔پاکستان میں یہ سائز 6 سے زیادہ ہے۔اقوام متحدہ کے مطابق 2100ء تک فی عورت1.9 بچوں کے باعث آبادی میں اضافے کی رفتارمیں کمی ہوگی ۔لانسٹ کے مطابق 183 ممالک میں فرٹیلیٹی ریٹ 2.1سے کم ہوگا، 65برس سے بڑی عمر کے افراد کی تعداد 2.37ارب اور 20سال سے کم عمر لڑکوں کی تعداد 1.7 ہوجائے گی۔

دنیا کے چار گنجان آبا دترین ملک 2100ء میں گنجان ترین ملک نہیں رہیں گے۔اس وقت برازیل، بنگلہ دیش ، روس اور میکسیکو دنیا کے 10گنجان ترین ممالک میں شمار ہوتے ہیں۔ 2100ء تک کانگو، ایتھوپیا، مصر اور تنزانیہ انہیں پیچھے چھوڑ دیں گے۔2100ء تک میکسیکو کی آبادی میں 10فیصد اضافے کا امکان ہے جبکہ برازیل کی آبادی میں15فیصد ،روس کی آبادی میں 14فیصد اور بنگلہ دیش کی آبادی میں 8فیصد کمی کا امکان ہے۔اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اسی عرصے میں کانگو میں آبادی میں اضافے کا تناسب تنزانیہ میں 378فیصد ،کانگو میں 304فیصد،ایتھوپیا میں156فیصداور مصر میں 120 فیصد رہنے کا امکان ہے۔عالمی آبادی میں نصف سے زیادہ اضافہ ان چھ افریقی ممالک (کانگو، مصر انگولہ، سوڈان،چاڈ اور نائیجریا)میں ہو گا۔ نائیجیریا میں 52.7 کروڑنفوس بڑھ جائیں گے۔لانسٹ کے مطابق نائیجیریا کی آبادی میں اضافہ اس سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے۔حالانکہ ترقی کے اشاریوں کے حوالے سے نائیجیریا 157 ممالک کی فہرست میں 152ویں نمبر پرہے۔

اس طرح افریقہ کی آبادی1.1ارب ہے، 2050ء تک دگنی ہو جائے گی۔80فیصد اضافہ شہروں میں ہو گا۔ McKinsey کی تحقیق کے مطابق 2025ء تک 100 افریقی شہروں کی آبادی 10لاکھ سے زیادہ ہو گی۔لاطینی امریکہ کے مقابلے میں یہ تعداد دگنی ہے۔

ایک اور اندازے کے مطابق نائیجر کی آبادی میں اضافے کا تناسب 581فیصد،انگولہ کی آبادی میں اضافے کا تناسب473 فیصد،تنزانیہ کی آبادی میں اضافے کا تناسب 378فیصد ہو سکتا ہے۔7افریقی ممالک (سائو تھ افریقہ، لیبیاء، تیونس ، الجیریا، بوٹسوانہ،مراکش اور کیپ وردے ) میں بچوں کی پیدائش فی عورت 2.37 ہو گی، یہ عالمی مجموعی تعداد کے برابر ہے۔ایسٹرن یورپی ممالک بھی آبادی میں کمی کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ البانیہ میں 62فیصد، سربیا میں52فیصد اور مولڈوویا اور بوسنیا ہرزی گوینا میں مجموعی طور پر 50 فیصد کمی ہو گی۔تھائی لینڈ، جاپان اور سپین سمیت 20یورپی ممالک کی آبادی نصف تک کم ہو سکتی ہے۔1950میں 4یورپی ممالک کی آبادی دنیامیں سب سے زیادہ تھی،2020ء میں ایک رہ جائے گی،جبکہ 2100ء میں ایک بھی یورپی ملک زیادہ آبادی والے ممالک میں شامل نہیں ہوگا۔

ایک اور عالمی سروے کے مطابق دنیا کی آبادی 2064ء میں 9.7 نفوس کے ساتھ انتہا پر ہوگی ،2100ء میں کمی کے ساتھ 8.8ارب رہ جائے گی۔کہا جا رہا ہے کہ قبل ازیں دنیا کی ممکنہ آبادی کے تخمینے درست نہ تھے اور متوقع آبادی 2ارب زیادہ بتائی گئی تھی۔ امریکی یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق ’’10گنجان ترین ممالک میں سے 5ممالک افریقہ میں ہو سکتے ہیں، جن میں نائیجریا،ایتھوپیا، تنزانیہ مصر اور کانگو شامل ہیں۔ 2094ء میں نائیجیریا دنیاکا دوسرا گنجان ترین ملک بن جائے گا ۔

کچھ ممالک اپنی آبادی پر قابو پا لیں گے،کچھ کی آبادی کم ہو جائے گی،کچھ ممالک دنیا کے گنجان ترین ممالک میں شمار ہونے لگیں گے ،بھوک و ننگ کا شکار ممالک کی آبادی تین چارگنا بڑھنے سے معیشت کو کسی ڈگر پر لانے کی تمام کوششیں ناکام ہو جائیں گی۔ان ڈیموگرافک تبدیلیوں کے خطے کی ترقی پرمنفی اور ناقابل اصلاح اثر ات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ذرا دیکھیے ،بعض افریقی ممالک کی آبادی میں تین گنا اضافے کے بعد وہاں غربت اور بے روزگاری کی کیفیت کیا ہو گی،،پہلے ہی افریقی ممالک مختلف طرح کے تنازعات اور مشکلات کاشکار ہیں ،آبادی میں بے ہنگم اضافہ خوفناک کشیدگی اور تصادم کا پیغام ہے ۔ 

واشنگٹن یونیورسٹی نے اپنی تحقیق میں اقوام متحدہ کی رپورٹ کو غلط قرار دیا ہے۔برطانوی جریدے ’’لانسٹ ‘‘ میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق ’’ہم نے ماضی میں کئی غلط تخمینے لگائے، عین ممکن ہے کہ انڈیا اور چین کی آبادی پہلے سے بتائے گئے اندازوں کے مطابق نہ ہو۔ رپورٹ کے مطابق آبادی میں اضافے کی ’Peak‘ اسی صدی کے وسط سے 2064ء تک میں آ سکتی ہے۔

1950ء میں گنجان ترین ممالک 

چین(آبادی 55.4کروڑ )، انڈیا(آبادی 37.6کروڑ )، امریکہ(آبادی15.9کروڑ )، روس(آبادی10.3 کروڑ)، جاپا ن (آبادی 8.3کروڑ ) ، جرمنی (آبادی 7کروڑ )، انڈو نیشیاء (آبادی 7کروڑ )، برازیل (آبادی 5.4کروڑ ) برطانیہ(آبادی 5.1کروڑ ) اور اٹلی (آبادی4.7کروڑ)

2100ء میں گنجان ترین ممالک

انڈیا(آبادی 1.45کروڑ )، چین(آبادی 1.065کروڑ ) ، نائجیریا(آبادی 73.3کروڑ )، امریکہ(آبادی 43.4 کروڑ )، 

پاکستان(آبادی 40.3کروڑ )، کانگو(آبادی 36.2 کروڑ )، انڈونیشیاء(آبادی 32.1کروڑ )، ایتھوپیا (آبادی 29.4 کروڑ ) ، تنزانیہ(آبادی 28.6کروڑ ) اور مصر (آبادی 22.5 کروڑ )(بحوالہ Statista)۔

بوڑھوں کی دنیا 

نئے اعداد و شمار میں کہا گیا ہے کہ دنیا بوڑھی ہونے والی ہے ،وہ وقت آنے والا ہے جب کئی ممالک میں بوڑھوں کی صحت پر اٹھنے والے اخراجات میں کئی گنا اضافے کا امکان ہے۔2100ء تک2.37ا رب باشندوں کی عمریں65 برس سے اوپرہوں گی۔70فیصد افریقیوں کی عمریں 30برس سے کم ہے۔ینگسٹرز کل آبادی کا 20فیصد ہیں۔یہ ورک فورس کا40 فیصد ہیں جبکہ بے روزگاروں میں ان کا تناسب 60 فیصد ہے۔60فیصد شہری آبادی بھی شہری سہولتوں سے محروم ہے۔2009سے 2015ء انفرا سٹرکچر پر اخراجات کا تناسب جی ڈی پی کے 2 فیصد رہا۔انڈیامیں5.2فیصد اور چین میں جی ڈی پی 8.8فیصد ہیں۔25سے 45 فیصد تک ورک فورس کوٹرانسپورٹ کی سہولت دستیاب نہیں۔ 

یونیورسٹی آ ف واشنگٹن کی تحقیق کے مطابق جوان آبادی والے ممالک میں فی کس آمدنی اور ترقی کی شرح نمو بوڑھے ممالک کی بہ نسبت اچھی ہے۔ ورکنگ کلاس جتنی زیادہ ہوگی ملک اتنا ہی ترقی کرے گا۔لیکن یہ کلیہ معلوم نہیں کیوں ہمارے اوپر فٹ نہیں بیٹھتا۔کیونکہ یہاں نوجوان آبادی کے تناسب سے فی کس آمدنی میں اضافہ دیکھنے میں نہیں آ رہا۔عالمی رپورٹ نے میرے دل کی بات کہہ دی۔ کسی بھی ملک میں نکمے لوگوں کے تناسب سے ترقی کی رفتار متاثر ہو گی، کام نہ کرنے والے نوجوان جتنے زیادہ ہوں گے ترقی کی رفتار اتنا ہی کم رہنے کا اندیشہ ہے۔
صحت عامہ کی بہترین سہولتوں کی فراہمی سے کئی ممالک اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ زندگی کی حفاظت کرنے میں کافی حد تک کامیاب ہوجائیں گے جس سے آلودگی اور انسان ہی کی پیدا کردہ بیماریوں اور پھیلائے گے وائرسوں سے مرنے والوں کی تعداد میں کمی ہو سکتی ہے۔

سنگاپور میں بوڑھوں کی آبادی اضافے کی رفتار دیگر ممالک سے کہیں زیادہ تیز ہے، جبکہ جاپان تو پہلے ہی بوڑھوں کا ملک کہلاتا ہے ،ان دونوں ممالک میں بوڑھوں کا تناسب کم و بیش 25 فیصدہے۔ان دونوں ممالک میں سگے بیٹے یا بیٹیا ں ساتھ دیں یا نہ دیں ،حکومت ہر عمر رسیدہ کا بازو تھامے ہوئے ہے ،کسی کو گرنے نہیں دیتی۔ ریٹائرمنٹ کے فوائد تو سب کے لئے ہیں ہی ، بزرگ نسل کے تحفظ کے مربوط پروگرامز الگ ہیں۔ان پروگراموں کی اکثر ممالک میں مثال نہیں ملتی۔انڈیا میں تو بالکل ہی نہیں ملتی۔ سرکاری سکیموں کے مثبت نتائج سے سب کے لئے سہولت پیداہوئی ہیں۔

بزرگوں کے سائے سے بہتر کوئی سایہ نہیں ،جس نوجوان کو یہ مل گیا اس کی زندگی بن گئی۔مگر کیا کریں، مغربی اقدار کے مارے ہمارے کچھ ساتھی یہ بھول رہے ہیں کہ والدین نے ہمارے لئے اپنی عمر گنوا دی دن کا چین دیکھا نہ رات کی نیند،پھر شادی کے بندھن کی خواہش بھی پوری کی۔ صد حیف، شادی کے بعد نوجوانوں میں ایک اور خواہش بھی سر اٹھاتی ہے ۔۔۔’’ہم الگ گھر میں رہیں گے ،ہماری بھی آخر کوئی پرائیویسی ہے‘‘۔وہ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ان کے والدین کی بھی کوئی پرائیویسی تھی جو بچوں کی اچھی تربیت اور آرام کی خاطر ’بھاڑ‘ میں گئی۔اس روئیے سے بزرگوں کی تنہائی نے جنم لیا ہے۔وہ تنہا ہیں، اکیلے پڑ گئے ہیں ،ان کی باتیں سننے ، ان سے کچھ کہنے والا بھری دنیامیں ایک بھی نہیں۔جاپان ، سنگاپور،آسٹریلیا، برطانیہ اور جرمنی سمیت کئی ممالک میں حکومت ہے نا! ان ممالک نے تنہائی دور کرنے کا بندوبست بھی کیا ہے۔

مہارت کا مستقبل (SkillsFuture)

83 برس کی اوسط عمر کے ساتھ سنگاپور تیزی سے بوڑھا ہو رہا ہے۔عمر سیدہ مگر تجربہ کار بزرگوں کو تنہا نہیں چھوڑا۔درجنوں سکیمیں ان کے ذہنی اور جسامانی تحفظ کے لئے بنائی گئی ہیں کسی بھی خامی کی صورت میں فوری اصلاح کر لی جاتی ہے۔وہاں پالیسی اور ادارے انسانوں کے لئے ہیں، انسانوں کو اداروں اور ان کے بنائے گئے ڈھانچے میں فٹ کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی۔یہ مت سوچیے کہ سنگاپور حکومت کا سارا دھیان بزرگوں کی بہبود پر ہے وہ نوجوانوں سے بھی غافل نہیں ،’ مہارت کا مستقبل ‘ (SkillsFuture)نامی سکیم کے تحت فنی تربیت حاصل کرنے کے لئے 25سے اوپر کے ہر نوجوان کو500ڈالر دیئے جاتے ہیں۔یہ پروگرام 2014ء سے نافذ ہے۔حکومت 500ڈالر دینے کے بعد بھی نہیں بھولتی، جب تک نوجوان برسر روز گار نہیں ہوتا وہ کوئی نہ کوئی سہولت دیتی رہتی ہے۔ سنگاپور کی یونیورسٹیا ں ہر نوجوان کا ہاتھ تھام لیتی ہیں اور پھر تعلیم و تربیت کا سفر زندگی بھر جاری رہتا ہے۔اس کا کوئی ا نجام نہیں۔سنگاپور نیشنل یونیورسٹی کی ایلومینائی میٹرک کرنے کے بعد 20سال تک نوجوان کاساتھ دیتی ہے۔ہر موڑ پر پڑنے والی ضرورت کے مطابق ایلو مینائی کورسز کا بندوبست کرتی رہتی ہے، جہاں بھی کسی شعبے میں بے روزگاری پید اہوئی وہیں نیا کورس شروع۔نئے تقاضوں کے مطابق تربیتی کورسز شروع کرنے میں سنگاپور یونیورسٹی آف سوشل سائنسز کو بھی نہ بھولیے، ایلومینائی کو مالی تنگی سے بچانے کے لئے دل کھول کر فنڈز مہیا کرتی ہے۔ 

بزرگوں کاجاپان 

جاپان میں اس وقت 25فیصد آبادی 65 برس سے زیادہ بوڑھی ہے۔2060 ء میں یہ تناسب 40فیصد سے تجاوز کر جائے گا۔ جاپان میں ورک فورس کی کمی اور پنشن بم کابروقت تدارک نہ کرنے سے وہاں مالی مسائل رونما ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ جاپانی معیشت پنشن کے بوجھ تلے دبتی جا رہی ہے۔ جاپان نے 2000 میں جامع ’’Long-Term Care Insurance‘‘ سکیم جار ی کی تھی، اسے دنیا کی بہترین انشورنس سکیم مانا جاتا ہے۔ہر بزرگ کو اس کی مرضی کا پلان مل جاتا ہے،اس کے تحت حکومت گراسری کی خرید و فروخت تک میں مدد دیتی ہے۔2011ء میں مزید ترامیم کے بعد اسے صحت عامہ کے حوالے سے بھی بہترین سکیم بنا دیا گیا ہے۔ بزرگوں کو سہولت دینے والے آلات تیار کرنے والی کمپنیوں کو فنڈز دیئے جارہے ہیں۔بوڑھوں کی مدد کرنے والے روبوٹس اور سیل تھیرپیز کی تحقیق سے بھی غافل نہیں ہے۔

افریقی ممالک میں سرمائے کی کمی 

افریقی ممالک کو انفرا سٹرکچر کے مسائل سے نمٹنے کے لئے 130ارب ڈالر سے170ارب ڈالر تک سالانہ درکار ہیں۔جبکہ اس وقت بھی اس خطے کو 68سے 108ارب ڈالر تک کی کمی کا سامنا ہے۔

عالمی بینک کی رپورٹ کے کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ افریقی ممالک مہنگائی کا گڑھ ہیں۔افریقی شہر اپنے برابر انکم والے شہروں سے 29فیصد مہنگے ہیں۔دیگر ممالک کے مقابلے میں ٹرانسپورٹ پر دگنے،ہائوسنگ پر 55فیصد زیادہ خوراک پر 35فیصد اضافی اخراجات کرنا پڑتے ہیں۔

https://jang.com.pk/news/826748?_ga=2.11488372.1700535485.1601455516-1148464595.1571042196

Why do we fail

Why do we fail? | Khateeb Ahmed

The reason for the failure of the Muslim world is that the majority of Muslim countries have been cut off from the method of the knowledge that is the basis of the modern world.

Muslim countries have also ignored the principles of politics and economy, which are the path to development.

There is always a lack of unity among Muslims, so we must first understand that Muslims are a religious group. There are no political groups and political interests are always different.

These Muslim countries can cooperate with each other, but their unification is just a dream.

The failure of the Muslim world is the result of its own mistakes. Accusing others of conspiracy is only used to erase one's incompetence.

If you agree with me, share this idea with others.

Saturday, October 24, 2020

Dunya N.P Education Column

The 21st century and our outdated testing system.

https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddique/2020-10-24/32859/92722870

Murree's resistance to the British Crown

https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddique/2020-08-26/32163/98338905

The 21st Century and the Challenge of Teacher Training

https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddique/2020-08-08/31947/65537029

Education, workshop culture and the mirage of change

https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddique/2020-10-21/32823/46496476

Net of the social media

https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddique/2020-10-14/32739/84362411

Public Universities: Foundations Shake!

https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddique/2020-06-27/31466/76553424

Let the universities breathe

https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddique/2020-06-20/31376/72032353

No budget for education

https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddique/2020-06-17/31337/98079257

British crown and black water

https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddique/2020-04-11/30534/31437306

How writing will effective

https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddique/2020-05-30/31103/73689816

Society Dr Ali Shariyati and Changing

https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddique/2020-05-06/30815/44122874

We learn form mistakes

https://dunya.com.pk/index.php/author/m-ibrahim-khan/2020-10-29/32928/47937997

University Ranking

https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddique/2020-11-21/33183/26540300

Wednesday, October 21, 2020

پیپلز پارٹی کی مسلح تنظیمیں

پیپلز پارٹی کی مسلح تنظیمیں، تاریخ خاموش نہیں!

فیڈریشن سیکورٹی فورس FSF کی خفیہ کاروائیاں

اپنے مخالفین کو خاموش کرانے کے لئے بھٹو خاندان نے ہر دور میں مختلف مسلح تنظیموں کی بنیاد رکھی۔ ذوالفقار بھٹو نے ایف ایس ایس (فیڈریشن سیکورٹی فورس) بنائی، جو کہ ذوالفقار بھٹو کی راہ میں آنے والے افراد کے لیے قیامت تھی۔ یہ Gestapo style security force تھی، اس کا ہیڈ کوارٹر تو لاہور میں تھا۔ لیکن Dalai ماؤنٹین پر اس کا خفیہ کیمپ تھا، یہ ایک ٹارچر سیل تھا۔ یہاں ذوالفقار علی بھٹو کے مخالفین کو رکھا جاتا اور ازیتیں دی جاتی یا مار دیا جاتا تھا۔ یہ کیمپ بھٹو مخالفین کے لیے برا خواب تھا۔ کہا یہ گیا کہ سول اداروں میں فوج کی مداخلت روکنے کے لیے سول اداروں کی مدد کے لیے بنائی گئی ہے، جب کے اس کے اغراض و مقاصد مخالفین کی تباہی ہی تھے۔

بحوالہ بیان: راشد الدین، (سابق ہیڈ کانسٹبل، فیڈریشن سیکورٹی فورس)

اس تنظیم کو جنرل ضیاء الحق نے ختم کیا یوں یہ کلعدم قرار دے دی گئ۔

الذوالفقار تنظیم مسلح نیٹ ورک

ذوالفقار علی بھٹو کے دونوں بیٹے مرتضی بھٹو اور شاہنواز بھٹو انہوں نے افغانستان میں روس نواز کمیونسٹ حکومت کی مدد سے الذوالفقار نامی دہشت گرد تنظیم کی بنیاد ڈالی۔ کم از کم پانچ ملک اس تنظیم کو اسلحہ، تربیت اور مالی وسائل فراہم کر رہے تھے۔ جن میں انڈیا، افغانستان، شام، لیبیا، روس، فلسطین کی پی ایل او کی پشت پناہی بھی حاصل تھی۔

جئے سندھ تنظیم کے قادر بخش جتوئی کی جلاوطنی کی تفصیل میں طیارہ اغوا کے اس معاملے کے متعلق واضح ہوتا ہے کہ الذولفقار ہو یا کوئی اور اس طرح کی غیر ریاستی تنظیم یا ادارہ وہ کسی ریاستی تعاون کے بغیر نہیں چل سکتے۔ ان کے بقول المرتضیٰ کو افغانستان، شام اور لبیا کی براہ راست اور سوویت یونین اور بھارت کی کسی حد تک حمایت حاصل رہی۔

اس تنظیم کے لوگوں نے پاکستان میں افراتفری، فتنہ فساد، قتل و غارت اور بم دھماکے کرنے کا سلسلہ شروع کیا۔ چوہدری ظہور الٰہی سمیت متعدد لوگ جاں بحق ہوئے۔ جج، جرنیل، سیاسی مخالفین سب نشانے پر تھے۔ ضیاءالحق کو بھی متعدد مرتبہ نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ اس دہشت گرد تنظیم سے دکھاوے کی حد تک بے نظیر نے فاصلہ رکھنے کی کوشش کی لیکن پیپلز پارٹی کی سربراہ نصرت بھٹو ان سے ملتی رہیں اور ان کی رہنمائی بھی کرتی رہیں۔

اس پارٹی کے عسکری اور سیاسی شعبوں کے لئے مالی معاونت کے ذرائع بھی مشترک تھے۔ تنظیم کی دہشت گرد کارروائیوں، بھارت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی اور خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے ساتھ رابطوں کی تفصیل گھر کے بھیدی ’’راجہ انور‘‘ کی کتابوں اور مضامین میں دیکھی جا سکتی ہے۔

ایگل فورس مسلح کاروائیاں

بینظیر نے اقتدار میں آکر ایگل اسکواڈ بنایا،
جس طرح بھٹو نے اپنے مخالفین کو کچلنے کے لیئے فیڈرل سیکورٹی فورس بنائی تھی، اسی طرح بینظیر کی حکومت نے ”ایگل فورس“ نامی ایک  پولیس فورس قائم کی تھی۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے جو ایگل اسکواڈ تشکیل دی تھی، اس میں وردیوں میں ملبوس اندرون سندھ کے ڈاکو پیپلز پارٹی کی حکومت کی ایما پر سندھ میں مخالفین کو ٹھکانے لگاتے۔ اس فورس کے متعلق ملٹری کو بہت تحفظات تھے، اس فورس کے کارناموں کا ذکر اصغر خان کیس میں بھی آیا۔

پیپلز امن کمیٹی کی من مانیاں

آصف زرداری نے پیپلز امن کمیٹی تشکیل دی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کا کراچی میں قائم مسلح بازو پیپلز امن کمیٹی کے نام سے جانا جاتا تھا۔ اس کی مدد سے جماعت کراچی میں بھتہ وصول کرتی رہی، پیپلز امن کمیٹی کے چئیرمین عزیر بلوچ کے اعتراف ۲۴ اپریل ۲۰۱۶ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کے روبرو کچھ اس طرح تھے۔ آصف زرداری کے لیے شوگرملوں پر قبضے کیے، فریال تالپور کو ماہانہ ایک کروڑ بھتہ دیا  جاتا تھا۔

اس کے مطابق ۲۰۰۳ میں رحمان ڈکیت گروپ میں شمولیت اختیار کی تھی اور ۲۰۰۸ تک ان کے ساتھ ملکر جرائم کیے۔ رحمان ڈکیت کی ہلاکت کے بعد لیاری گینگ وار گروپ کا مکمل کنٹرول سنبھالا اور پیپلز پارٹی کی طرف سے بنائی گئی امن کمیٹی کا چیئر مین بن گیا۔ پولیس افسران کی سرپرستی میں بھتہ خوری، منشیات فروشی، اغوا اور قتل جیسی واردتیں کرتا رہا۔ قادر بلوچ، سینیٹر یوسف بلوچ اور دیگر پولیس افسران ہمارا خیال رکھتے تھے اور ہمیں گرفتار نہیں ہونے نہیں دیتے تھے۔ ۲۰۱۳ میں جب کراچی آپریشن میں تیزی آئی تو فریال تالپور نے مجھے قادر پٹیل اور یوسف بلوچ کے ذریعے ڈیفنس میں اپنے  گھر میں بلایا۔ اس موقع پر شرجیل میمن اور نثار میمن بھی موجود تھے ۔ اس نے ذاتی اسلحہ بارود چھپانے کو کہا اور انتظامی معاملات شرجیل اور انعام میمن اور لیاری کے معاملات کو یوسف بلوچ کے حوالے کیا اور مجھے بیرون ملک نکل جانے کو کہا!

پیپلز امن کمیٹی کے چیئرمین عزیر بلوچ کے اعترافی بیان کے مطابق آصف زرداری کے لیے شوگر ملوں پر قبضے کر کے انکے حوالے کیے۔ اہم تنصیبات کے داخلی اور خارجی راستوں کی نشاندہی کی، فریال تالپور کو ماہانہ ایک کروڑ بھتہ دیا جاتا  تھا۔ ارشد پپو اور اس کے بھائی اور ساتھی کو پولیس موبائل کے ذریعے اغوا کرکے سر تن سے جدا کیے اور پھر ان کے سروں سے فٹبال بھی کھیلی اور ان کی لاشوں کو آگ لگا دی۔ 159افراد کو لسانی بنیادوں پر قتل کیا۔ عزیر بلوچ نے ارشد پپو، یاسر عرفات اور شیرا پٹھان کے قتل کا بھی اعتراف کیا۔ عزیر بلوچ نے شیر شاہ کباڑی مارکیٹ میں 11 افراد کے قتل کا اعتراف کیا ہے۔ عزیر بلوچ نے 2005 میں 2 رینجرز اہلکاروں کے قتل کا بھی اعتراف کیا۔

یہ تمام تنظیمیں مسلح تھی ،پیپلزپارٹی کی طرف سے شہریوں کو مارنے کے لئے جن کو مفت لائسنس دیا گیا۔

تاریخ خاموش نہیں کردار اب بھی ذندہ ہیں تحقیق کیجیے

Monday, October 19, 2020

فنی جملے

اس پروگرام کے مہمانِ خصوصی فاروق ستار ہوں گے اور صدارت حریم شاہ صاحبہ کریں گی

پروگرام کا آغاز،
👈 رضوان زیدی کو دلہن دو 👉 کے موضوع پر ریفرنڈم سے ہوگا

کیک کٹائی کی رسم آنٹی گورمنٹ سے ادا کروائی جائے گی

اس کے بعد نصیبو لال اپنے فن کا مظاہرہ کریں گی

اور آخر میں مفتی قوی رضوان زیدی کی شادی کی جلد از جلد شادی کے لئے دعا کروائیں گے 🙈

۔۔۔۔۔

پاکستان ڈبیٹ کونسل ثوبان بیگ کی سالگرہ پر جشن منانے کا اعلان کرتی ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پاکستان ڈبیٹ کونسل اپنے حلف یافتہ رکن عمر خان کو نکاح کی مبارکباد دیتے ہوئے اپنے پرائیویٹ جیٹ پر بارات لانے لےجانے کا اعلان کرتی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔

پاکستان ڈبیٹ کونسل اطیب کو سالگرہ کی مبارکباد دیتے ہوئے علاقےکی صفائی کے لئے 4 ڈمپر 6 ٹرالے دینے کا اعلان کرتی ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پاکستان ڈبیٹ کونسل اپنے بنیادی رکن اسفر رضا کو ہوائی جہاز میں سفر کرنے پر مبارکباد دیتے ہوئے ان تمام سفری و اسفری اخراجات اٹھانے کا اعلان کرتی ہے