Sunday, September 27, 2020

Cover Letter

I am writing to express my interest in your organization and would become a content writer in your organization.

My ambitious interest in content writing and social media, combined with working with your organization and would be a unique and enriching experience for both parties.

Having a 3-year experience in the field of writing and also doing freelancing. I have developed my strong expertise in blogging, article writing, editing, proofreading and 1-year experience in social media content/management and content creation.

The main achievements that I had in my previous position, that are highly relevant in your specific case and proof the value that I can add to your organization is: 

I have produced the best quality content for Express-News, Dunya News Blogs and HumSab website that was reached the many peoples. A topic that includes social issues, education, history and women empowerment. Also, have good command in social media so I create the best content for the clients.

Moreover, doing brands promotion through Instagram Marketing and affiliated working with PR agencies. So working with your the organization will be a perfect opportunity and a perfect match for my personal and professional interest.

By associating with your organization, I will show you my best skills, how I work.

Kind regards,

Khateeb Ahmed

Saturday, September 19, 2020

پریس ریلز پریس فارمیٹ

پریس کانفرنس /کراچی پریس کلب

محترم ایڈیٹر، نیوز ایڈیٹر، چیف رپورٹر، فوٹوگرافر صاحبان

محترم / محترمہ بیوروچیف، کنٹرولر نیوز، اسائنمنٹ ایڈیٹر، رپورٹر، کیمرہ مین صاحبان

السلام علیکم!

مہاجر قومی موومنٹ (پاکستان) کے سیکریٹری جنرل عارف اعظم و  اراکین مرکزی کمیٹی آج مورخہ 9 ستمبر 2020، بوقت 4:00 بجے شام کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کریں گے جس میں وہ وزیر اعظم کے اعلان کردہ پیکج اور کراچی میں سندھی ایڈمنسٹریٹرز کی تقرری سمیت اہم امور پر اپنے موقف سے صحافی برادری کو آگاہ کریں گے

آپ سے گزارش ہے کہ اس اہم پریس کانفرنس کی کوریج کیلئے متعلقہ رپورٹر، کیمرہ مین اور فوٹو گرافر صاحبان کو ذمہ داریا ں تفویض فرمائیں، جس کے ہم مشکور ہوں گے۔

جاری کر دہ : شعبہ نشرواشاعت

مہاجر قومی موومنٹ (پاکستان)

رابطہ نمبر
*( عامر صدیقی)*
03102047497

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسائنمنٹ برائے لائیو/کوریج پریس کانفرنس

جناب محترم/ محترمہ ڈائریکٹر نیوز، بیورو چیف، چیف ایڈیٹر، ایڈیٹر، اسائنمنٹ ایڈیٹر، چیف رپورٹرز، رپورٹرز، کیمرہ مین، فوٹوگرافرز صاحبان

السلام علیکم

مجلسِ وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصرعباس جعفری دیگر مرکزی رہنماوں کے ہمراہ موجودہ ملکی صورت حال سمیت  جشن میلاد النبی و ہفتہ وحدت کے حوالے سے اہم پریس کانفرنس سے خطاب کریں گے۔

آپ سے گذارش ہے کہ اس اہم پریس کانفرنس کی لائیو کوریج کو یقینی بنا کر شکریہ کا موقع دیں.شکریہ

*مورخہ*: * 29 اکتوبر 2020*
*بروز* *جمعرات*
*بوقت*:  *4:00 بجے*
*بمقام*: *ھاوس نمبر 2،A گلی نمبر 25 ایف سکس ٹو اسلام آباد*

برائے رابطہ

03209912514
03158310648

*میڈیا سیل مجلسِ وحدت مسلمین پاکستان*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

درخواست برائے اہم اسائنمنٹ لائیو/میڈیا کوریج— اہم پریس کانفرنس

جناب محترم/ محترمہ

ڈائریکٹر نیوز، بیورو چیف، اسائنمنٹ ایڈیٹر، چیف ایڈیٹر، چیف ایڈیٹر نیوز، ایڈیٹر، رپورٹرز، کیمرہ مین، فوٹوگرافرز

السلام علیکم

چئیر مین پاک سر زمین پارٹی سید مصطفیٰ کمال کل 26 دسمبر 2020، بروز ہفتہ اہم پریس کانفرنس سے خطاب کریں گے

*مورخہ*: *26 دسمبر 2020*
*بوقت*: *صبح 10:30 بجے*
*بمقام*: *پاکستان ہاوس، 44L رازی روڈ، PECHS ،Block 6 کراچی*

تمام صحافی خواتین و حضرات اور چینلز سے درخواست ہے کہ براہ کرم میڈیا کوریج کے لیے آپ اور لائیو کوریج کے لئے اپنی ڈی ایس این جی بتائے گئے وقت اور مقام پر بھجوا دیں۔

آپ کے تعاون کے طلبگار۔

*مرکزی شعبہ نشر و اشاعت*
*پاک سرزمین پارٹی*

http://www.psp.org.pk

.......

*اسائمنٹ*

*ہنگامی پریس کانفرنس*
*9بجے شب نشتر پارک کراچی*

محترم جناب اسائمنٹ ایڈیٹر / ایڈیٹر / چیف رپورٹر /بیوروچیف/کیمرہ مین /فوٹو گرافر حضرات

السلام و علیکم

کراچی۔21 رمضان یوم علی کے جلوس کے حوالے سے ضمیر الحسن ٹرسٹ وآرگنائزر مرکزی جلوس اور اکابرین ملت جعفریہ کی جانب سےآج 01 مئ بروز ہفتہ  *رات 9بجے *نشتر پارک کراچی میں  *ہنگامی پریس کانفرنس* کا انعقاد کیا گیا ہے۔کانفرنس میں اکابرینِ ملت جعفریہ یوم علی کے موقع پر نکالے جانے والے جلوس  کے حوالے سے *اہم اعلانات* کریں گے۔

آپ تمام پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا نمائندگان سےکوریج کی گزارش ہے

الیکٹرونک میڈیا کے نمائندہ سے گزارش ہے کہ وہ لائیو کوریج کے لیے ڈی ایس این جیز کے ہمراہ *ہنگامی پریس کانفرنس* کی کوریج کریں۔شکریہ

والسلام۔۔۔۔۔
ضمیر الحسن ٹرسٹ آرگنائزر مرکزی جلوس نشتر پارک کراچی
رابطہ برائے
03009274859

Wednesday, September 16, 2020

Zaidi sahib Web

وائس آف امریکا کی ملازمت اچانک ختم ہوگئی۔ لوگ بتاتے ہیں کہ ادارے کی 78 سالہ تاریخ میں کبھی کسی کو اس طرح ٹرمنیٹ نہیں کیا گیا جس طرح ہمیں۔ ہم یعنی چار عارضی ملازمین کو۔ پانچویں ساتھی مستقل ملازم ہیں۔ ان کے بارے میں کچھ علم نہیں۔
یہ کہتے ہوئے تکلیف ہوتی ہے کہ ہمیں ٹرمنیٹ کیا گیا۔ جس شخص کو اپنے ہر ادارے میں ہمیشہ تعریفیں سننے کو ملی ہوں، اس کے لیے خود کو یقین دلانا آسان نہیں کہ اسے ادارے سے نکالا گیا ہے۔ لیکن اطمینان اس بات کا ہے کہ غفلت کا الزام نہیں تھا۔ کرپشن کا الزام نہیں تھا۔ ہراسمنٹ کا الزام نہیں تھا۔ برے رویے کا الزام نہیں تھا۔
وائس آف امریکا میں کنٹریکٹرز کو بونس نہیں دیے جاتے تھے۔ مجھے ایک سال میں دو بونس ملے اور تیسرا یہ کیس سامنے آنے کے بعد روکا گیا۔ سال بھر بہترین کارکردگی پر بونس کا وعدہ تھا۔ میرے پاس ادارے کا وہ تعریفی خط ہے جو مجھے اس بونس کا حق دار بناتا ہے۔
پھر ہمیں کیوں نکالا گیا؟
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک کنزرویٹو فلم میکر مائیکل پیک کو وائس آف امریکا کے نگراں ادارے یو ایس اے جی ایم کا سربراہ نامزد کیا تھا۔ یہاں سرکاری اداروں کے سربراہوں کی تعیناتی کانگریس کی منظوری سے مشروط ہوتی ہے۔ مائیکل پیک کی منظوری میں تین سال لگ گئے۔ تین ماہ پہلے انھوں نے عہدہ سنبھالا۔
انھوں نے آتے ہی پہلا کام کیا کہ عارضی ویزوں کے ملازمین کی توسیع روک دی۔ وائس آف امریکا کی خبریں اور نشریات قانون کے تحت اندرون ملک کے لیے نہیں ہوتیں۔ ان کا رخ ہمیشہ بیرون ملک ہوتا ہے۔ دوسرے ملکوں کے لیے نشریات ہوتی ہیں تو ان ملکوں کے صحافیوں کو عارضی ویزوں پر مدعو کیا جاتا ہے۔ بعد میں انھیں مستقل کردیا جاتا ہے۔ ان کا گرین کارڈ اسپانسر کیا جاتا ہے۔
مائیکل پیک آئے تو اس وقت 76 ملازمین عارضی ویزوں پر تھے۔ توسیع نہ ہونے کی وجہ سے ان سب کو اپنے اپنے ملک واپس جانا پڑے گا۔ ان میں سے کچھ کو اپنے ملکوں میں خطرات لاحق ہیں۔ صحافتی تنظیمیں اور میڈیا تنقید کررہا ہے لیکن مائیکل پیک نہیں سن رہے۔
ان حالات میں وائس آف امریکا اردو پر ایک خبر صدارتی امیدوار جو بائیڈن کے مسلمانوں سے خطاب کے بارے میں چلی۔ خبر میں کیا ٹھیک تھا، کیا غلط تھا، اس سے قطع نظر مشکوک انداز میں تحقیقات ہوئی جس میں کوئی صحافی شامل نہیں تھا۔ ایک وکیل صاحب نے تحقیقات کی اور ہمیں ملزم ٹھہرادیا۔ امریکی میڈیا کے مطابق ان وکیل صاحب کا اپنا کیس عدالت میں ہے کیونکہ انھوں نے اپنے باپ کو دھمکایا تھا۔ عدالت نے ان پر پابندی لگائی ہے کہ اپنے والد سے دور رہیں۔ ان سے یہ بھی کہا ہے کہ اسلحہ نہیں رکھ سکتے۔
ٹرمنیشن کے بعد میں نے عدالت سے رجوع کرلیا ہے۔ وکیل کا کہنا ہے کہ میرا کیس مضبوط ہے کیونکہ خبر چلنے میں میرا کردار نہیں تھا۔ جن کا کردار تھا، ان کی سزا بھی اس قدر سخت نہیں ہونی چاہیے تھی۔
کیا یہ دلچسپ بات نہیں کہ مبینہ ملحد اور مصدقہ متشکک کو مسلمانوں کے حق میں خبر چلانے پر امریکہ میں ملازمت سے ہاتھ دھونے پڑے؟
ادھر پاکستان میں اے آر وائی نے احمد نورانی کے خلاف خبر چلائی تو اس میں میرا نام بھی شامل کرلیا۔ یہاں میں بیروزگار بیٹھا ہوں اور دوست سمجھ رہے ہیں کہ مجھے ملک دشمن خبریں چلانے پر لاکھوں ڈالر مل رہے ہیں۔
الیکشن ٹرمپ جیتیں یا بائیڈن، کیس کا فیصلہ ہمارے حق میں ہو یا خلاف، بہرحال مجھے کچھ کرنا ہے۔ خیال آیا کہ میرا تعلق بے وجہ احمد نورانی کی ویب سائٹ سے جوڑا جارہا ہے۔ کیوں نہ میں اپنی مرضی کی ویب سائٹ بناؤں؟ کیوں نہ اس میں اپنے دوستوں کے بلاگ اور وی لاگ شامل کروں؟ کام چل پڑا تو دوسروں کی غلط فہمیاں دور ہوجائیں گی۔ نہ چلا تو اپنی خوش فہمی دور ہوجائے گی۔
ویب سائٹ کا نام بے لاگ رکھا ہے۔ بے لاگ یعنی صاف صاف اور کھری کھری۔ کوئی ایڈیٹنگ نہیں۔ کوئی سنسرشپ نہیں۔ جو کہنے والا کہے گا، ہم چھاپیں گے۔ کسی کو اچھا لگے یا برا لگے، اب بولنے والوں کو کوئی نہیں روک سکتا۔
واضح رہے کہ یہ ویب سائٹ کسی کی حریف نہیں۔ کسی کے خلاف نہیں۔ میری کسی سے رقابت نہیں۔ میں خود دو ویب سائٹس کے لیے لکھ رہا ہوں۔ آج آصف بھائی یعنی آصف فرخی کی سالگرہ ہے۔ وہی رول ماڈل ہیں۔ اپنا پرچہ نکالتے تھے لیکن دوسروں کے رسالوں میں بھی مضامین لکھتے تھے۔ ایسا ہی ہونا چاہیے۔
اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو اتوار کو ویب سائٹ کا پہلا صفحہ چھاپ دوں گا۔ گزشتہ دو ہفتوں سے دوستوں سے تعاون کی درخواست کررہا تھا۔ کچھ بلاگ، وی لاگ مل گئے ہیں۔ باقی راستے میں ہیں۔ جو دے، اس کا بھلا۔ جو نہ دے، اس کا بھی بھلا۔
کوئی مہربان وی لاگ بھیجنا چاہے تو تین سے پانچ منٹ کی ویڈیو وی ٹرانسفر سے بھیج دے۔ بلاگ بھی بھیجا جاسکتا ہے۔ ای میل ایڈرس یہ ہے:
mubashirzaidi@outlook.com

Thursday, September 10, 2020

JANG: Karachi City Topics

Najam Ul Hassan : capitalism IR socialism

https://jang.com.pk/news/889070

Karachi k Khatraat

https://jang.com.pk/news/818549?_ga=2.12365554.770716620.1599467126-1148464595.1571042196

Cultural Day

https://jang.com.pk/news/818551?_ga=2.23381500.770716620.1599467126-1148464595.1571042196

Karachi ki Tabahiii

https://jang.com.pk/news/820276

Tuesday, September 8, 2020

سائبر کرائم اور ناقص قانون

*سائبر کرائم اور ناقص قانون سازی*

    ✍️ ابومحسن
_______
تمام اقوام عالم میں قانون سازی کی مشترکہ(common)اور اہم بنیاد حب الوطنی ہے ملک میں اجتماعی سیاسی مذہبی اور تہذیبی استحکام کی غرض سے قوانین بنائے جاتے ہیں لہذا وطن سے محبت رکھنے والے لوگ ہمیشہ یہی کوشش کرتے ہیں کہ قانون اس انداز میں نہ بنایا جائے کہ جو اجتماعی ہم آہنگی(social harmony)کے تقاضوں کو پورا نہ کرتا ہو لہذا اس مشترکہ بنیادی اصول کو پیش نظر رکھتے ہوئے قانون سازی کی جاتی ہے قانون سازی کے مرحلے میں سب سے اہم اصول،شفافیت(transparency) ہے۔

شفافیت اس قانون میں استعمال ہونے والے بنیادی مفاہیم( basic concepts )کو واضح کرنے اور قانون کے حدوداربعہ (parameters)کو بیان کرنے سے ہی حاصل ہوتی ہے مثال کے طور پر”مذہبی منافرت”کا مفہوم ،مذہبی معاشروں میں اپنی اسی  کلیت کی وجہ سے ایک بہت مبہم اور غیرشفاف مفہوم ہے لہذا اصولی طور پر ایسے مفاہیم کا واضح کیا جانا ضروری ہےتا کہ قانون کے مخاطب کو پتہ چل سکے کہ کیا عمر بن سعد اور یزید کے بارے میں گفتگو بھی ”مذہبی منافرت” کے زمرے میں آتی ہے یا نہیں؟

کیا “مذہبی منافرت”کو کم کرنے یا ختم کرنے کیلئیے اسے دوسروں کے مقدسات کی توہین سے پرہیز سے بڑھ کر ان کی اتباع اور پیروی بھی کرنا ہو گی؟

مختصر یہ کہ ان حدود کا ممکنہ اور ضروری حد تک معلوم ہونا ضروری ہے۔قانون سازی سے بعد کا مرحلہ اس قانون کے نفاذ اور عملدرآمد کا ہے اس سلسلے میں ریاست کی سب سے بنیادی ذمہ داری آگاہی واطلاع(awareness) دینے کی ہے۔یہ آگاہی(awareness)کس حد تک ہونی چاہئیے اس کا تعلق اس بات سے ہے کہ یہ قانون معاشرے کےکن افرادکو شامل ہے مثال کے طور پر اگر قانون معاشرے کے ایک خاص طبقے کے ساتھ مربوط ہے جیسے تاجر،معلم،ملازم پیشہ افراد تو آگاہی کا عمل اتنا ہی کافی ہے جس سے اس شعبے کے افراد کو قانون کا پتہ چل جائے لیکن اگر قانون عمومی ہے اور معاشرے کے ہر فرد سے متعلق ہے تو اس کے بارے میں آگاہی بھی اتنے ہی وسیع پیمانے پر مختلف ذرائع اور مختلف انداز میں ہونی چاہئے چونکہ معاشرہ پڑھے لکھے اور ان پڑھ افراد کا مجموعہ ہے اور اگر ریاست یہ کام نہ کرے تو اس نے اپنی ذمہ داری انجام نہیں دی اور قانون پر عملدرآمد کے سلسلے میں بنیادی حقوق عامہ کو پاوں تلے روند ڈالا۔

سائیبر کرائمز(cyber crimes)سے متعلقہ قوانین کے بارے میں قانون سازی کے مرحلے میں ایک قابل اعتراض مسئلہ.... 👇
V⭕N
👇
مکمل پڑھنے کیلئے کلک کریں
https://bit.ly/3iaJWIK

Sunday, September 6, 2020

Western Power, Exposed Woman

Western Power, Exposed Woman

Exposed women

By Khateeb Ahmed

Do you have a TV in your house? Of course it will be, then you will have to watch movies or dramas. Often a phrase has been heard that "I will expose the culprit". Now the way the culprit is exposed and convicted, it cannot be done in the niqab because the culprit could not be identified in the niqab. In the same way, the West has shown its strength by exposing women by banning the niqab in recent years.

So if you look at France and Belgium, there is a complete ban on women covering their faces in public. French President Nicolas Sarkozy, whose government imposed the ban, said in support of the ban that "the niqab is a sign of oppression" which is why the ban was imposed. About 2,000 of France's 70 million people wear the niqab.

If we talk about Belgium, since 2011 there is a ban on wearing any clothes that do not identify. The Belgian court upheld the ban, saying it did not violate basic human rights, and the European Court of Human Rights upheld it. It is estimated that out of a population of 10 million, except Belgium, there are about 200 women who cover their faces.

Surprisingly, in 2017, Austria also banned anyone from wearing the niqab in all courts and schools in the country, citing the fact that covering one's face in public places hinders free speech. Then the Netherlands imposed a ban. One by one, the whole of Europe banned it.

The West makes strong arguments in its use of force. They have established a free society after a long struggle, the veil of Muslim women is conflicting with their society. Because they have established a society of equality, while in Muslim countries there is no integrated system of education, science and social security, Muslims have a prosperous life built there. Now Muslim women want facilities there, but also refuse to obey their social laws. Every citizen must follow the law if they wants to get facilities.

One thing is clear in his argument that when a person hides his face, it does not identify him and security problems arise. Supposedly, a terrorist wearing a niqab or burqa can reach a sensitive place and damage the country's property. Can you imagine, if a person enters a place where he can see others, but no one can see him? In the same way, anyone can test someone, give false testimony in court, forge documents. We cannot accuse anyone of this crime.

So now we have to look at ourselves. The laws of the West that we try, but think a hundred times before applying them to ourselves. We want open freedom in the West, we can do whatever we want according to our religion. But Muslim countries do not want to give this freedom to non-Muslims in their country. While the prosperous turn to the West for a better life, then they will enforce their own laws. But alas, the West has exposed its power because this is always the case with weak nations.