ظلم oppression کیا ہے۔ ظلم کسی چیز کو اس کی ٹھیک جگہ سے ہٹا دینا ہے یا کمی بیشی کر دینا۔ اس کا متضاد عدل ہے یعنی چیزؤں کو ان کی ٹھیک ٹھیک جگہ پہ رکھ دینا اور انسان کو کون بتائے گا کہ ظلم کیا ہے اور عدل کیا یہ دین بتاتا ہے۔ یعنی ظلم کی سیدھی سی تعریف یہ ہے کہ اللہ کے دین سے ہٹ جانا۔ ظلم، دین میں کمی یا زیادتی کرنا ہے۔ دین سے مراد صرف عبادات نہیں ہیں۔ دین میں مرد عورت کے واضح حقوق وفرائض ہیں، حلال و حرام کی حدود ہیں، قتل و غارت، چوری، زنا اور دیگر معاشرتی برائیوں و جرائم کی سزا ہے، اداب ہیں، انسان کا اس سے خالق سے تعلق، انسان کا دوسرے انسانوں سے تعلق، انسان کے روز مرہ کے معاملات ہیں گویا کہ آپ اپنی زندگی کا کوئی حصہ اٹھا لیں دین نے بتا دیا ہے وہ “فطری” طور پہ کس نوعیت کا ہونا چاہئے۔ ان بتائے ہوئے اصولوں میں کمی یا زیادتی کرنا ظلم ہے۔ اہل علم نے ظلم کی تین اقسام کا ذکر کیا ہے وہ ظلم جو انسان اللہ کے حق میں کرتا ہے یعنی کفر و شرک. قرآن میں آیا ہے کہ “شرک تو بڑا بھاری ظلم ہے (۳۱:۱۳)، تو اس سے بڑا ظالم کون ہو گا جو خدا پر جھوٹ بولے (۳۹:۳۲)” دوسری قسم کا ظلم انسان دوسرؤں پر کرتا ہے “اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے مگر جو درگزر کرے اور معاملے کو درست کر لے تو اس کا بدلہ خدا کہ ذمہ ہے اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا (۴۶:۴۰)” اس میں دوسری قسم کے ظلم کا ذکر ہے اور تیسری قسم کا ظلم وہ ہے جو انسان خود پر کرتا ہے اللہ کی نافرمانی کر کے “ تو کچھ ان میں اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں (۳۵:۳۲)” اسلام نہ صرف ظلم کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ اس کے خلاف عملی جدو جہد کی ترغیب دیتا ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، “اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ صحابہ نے عرض کیا، یا رسول اللہ! ہم مظلوم کی تو مدد کر سکتے ہیں۔ لیکن ظالم کی مدد کس طرح کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ظلم سے اس کا ہاتھ پکڑ لو (یہی اس کی مدد ہے)” (بخاری)۔ تہذیب حاضر میں “سماجی انصاف” (social justice) اور آزادی (freedom) نئے مذاہب ہیں جو خدا کے تصور کے بغیر انسانوں کو ان کے حقوق (rights) سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہی نظریات سے نکلی شاخیں اشتراکیت (communism) اور تحریک نسواں (feminism) ہیں اور بھی شاخیں ہیں جیسے ہیومینزم، سیکولر لبرلزم پر ابھی میرا موضوع وہ نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ آپ دین کو جب نظر انداز کر دیتے ہیں تو آپ کے پاس ظلم و عدل کا کوئی پیمانہ (criteria) باقی نہیں رہتا، کوئی حد نہیں رہتی۔ مغرب میں ان نظریات کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ وہاں مذہب مسخ شدہ شکل اختیار کر چکا تھا جسے چرچ انسانوں پر اجارہداری کے لئے استعمال کرتا تھا نہ ان کا مذہب جامع تھا نہ اصل شکل میں کہ وہ انسانوں کو ان کے جائز حقوق سمجھا سکتا۔لہذا انہوں نے مذہب سے بغاوت کر کے انسانی عقل کو نجات دہندہ قرار دیا اور renaissance سے گزر کر اپنی تہذیب نو کی بنیاد رکھی۔
اسلام اس کے عین برعکس اپنی اصلی شکل میں قیامت تک محفوظ ہے مسلمانوں کی پہلی ریاست انسانیت کے لئے انصاف و عدل کا اعلی ترین معیار رہے گی۔ مسلمانوں نے جب دین کو تھاما تو وہ دنیا کے فاتح بن گئے، انہوں نے جو بھی خطہ فتح کیا وہاں فساد و ظلم کا خاتمہ کیا اور عدل کی بنیاد رکھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور اللہ کی کتاب اتنی جامع ہے کہ جب تک مسلمان اس پر کسی حد تک عمل پیرا رہے علم و دانش، عدل و انصاف، تعلیم و تربیت کا مرکز بنے رہے اور جتنا دور ہوتے گئے اتنی پستی، جہالت، تاریکی میں ڈوبتے گئے۔ ہم اپنی ۱۴۰۰ سالہ تاریخ سے سبق سیکھنے کی بجائے نئے جہالت کے راستوں پر رواں دواں ہیں اور اس پر افسوس یہ کہ اس جہالت کو ہم اپنی نجات و عافیت کا راستہ سمجھنے لگے ہیں۔ اسلام نے معاشیات کا پورا فلسفہ پیش کیا پر انقلاب روس کے بعد مسلم نوجوان سرخ انقلاب کے خواب دیکھنے لگے جبکہ مارکس کا نظریہ بلکل دوسرا عقیدہ تھا جو دین اسلام کے عین متضاد تھا جو دنیا کو خدا کی تخلیق کی بجائے معاشیات کی عینک سے دیکھتا تھا جو مذہب کو عوام کے لئے افیون سمجھتا تھا جب سویٹ یونین کے پرزے ہو گئے تو یہ انقلابی بھی بغلیں جھانکنے لگے۔ جب کہ انقلاب کی سب سے بڑی کتاب ان کے گھرؤں میں تھی۔ اللہ نے عدل کا پورا نظام ان کو دے رکھا تھا۔ پر انہوں نے ایک مذہب بیزار معاشرے کے “برینڈڈ” نظریے کو اپنے پاس موجود دین پر ترجیح دی۔ کیونکہ ہمارا مزاج بن گیا ہے کہ ہم اپنے مسائل کا حل ہمیشہ دوسروں کے پاس تلاش کرتے ہیں ۔ اسی طرح مسلمانوں کی ۱۴۰۰ سالہ تاریخ میں فیمنزم کا کوئی کردار رہا نہ مسلمانوں کے معاشرؤں میں تعلیم کی اہمیت ، وراثت میں حقوق، معاشرے میں مقام دلوانے میں مغربی تحریکوں کا رتی برابر بھی کوئی رول ہے۔ میراث میں حق کے لئے قانون بنانے کے لئے نہ مسلمان عورتوں کو فرانس و امریکہ کی خواتین کی طرح سڑکوں پر احتجاج کرنے پڑے نہ تعلیم کا حق تسلیم کروانے کے لئے در در کی ٹھوکریں کھانی پڑیں۔ اللہ نے یہ حقوق واضح کیے اور مسلمانوں نے اپنے اولین دور میں اس کا احتمام کیا ہم نے جب تک اللہ کے دین سے قانوں اخذ کئے ہمارے معاشرے میں مرد و عورت کے بیچ انصاف و امن قائم رہا وہ اللہ کو اپنا خالق جانتے ہوئے حقوق و فرائض ادا کرتے رہے پر جیسے جیسے دین سے دور ہوئے اور علاقائی و ثقافتی روایتوں نے دین کے اصل احکامات پر گرد ڈال دی ہمارے مزاجوں میں جہالت و ناانصافی شامل ہو گئی۔ خواتین کو دین میں واضح کئے گئے احکامات سے محروم کر دیا گیا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ خواتین اس ظلم پر دین کو دوبارہ تھامتیں کہتییں کہ جب اللہ نے مجھے یہ حق دیا ہے تو کوئی مجھ سے یہ کیسے چھین سکتا ہے وہ دین اسلام کے نظام عدل کو قائم کرنے کے لئے متحرک ہوتیں پر ہوا اس کے برعکس ہم نے اپنے مسائل کا حل دوبارہ دور دراز کی تہذیبوں میں تلاش کرنا شروع کر دیا۔ تحریک نسواں کا نیا برینڈ ہمارے ہاں متعارف کرایا گیا ریڈیکل فیمنزم جس میں پدر شاہی (patriarchy) یعنی مرد کی کسی بھی شعبے میں سربراہی کو “ظلم” کے مترادف سمجھا جاتا اور مارکس کے طبقاتی کشمکش (class conflict) کی طرح انسانی تاریخ کو sex conflict یعنی مرد و عورت کے بیچ طاقت کے حصول کی کشمکش قرار دیا گیا اس سے ابھرنے والی تحریک اپنے مزاج میں مرد و عورت کے مابین خلش رکھتی ہے، فیمزم کی صف اول کی بیشتر فلسفی ایک خاندان کو ظلم کا مرکز (unit of oppression) اور عورت کی آزادی تب تک ممکن نہیں سمجھتیں جب تک وہ مرد اور حمل سے مکمل آزاد نہ ہو جائے۔ جب کہ دینِ اسلام نے مرد و عورت کو ایک دوسرے کا جوڑ(complement) قرار دیا اور بتایا کہ “ہم نے تمہارے درمیان محبت و مہربانی پیدا کر دی” (۳۰:۲۱) دونوں جنس کو ان کے جائز حقوق و فرائض سمجھائے اور معاشرے میں ان کا مقام بتا دیا اور قیامت کے روز اس بنیاد پر اجر و عذاب بھی رکھ دیا پر ہمارے اسکول کالج کی لڑکیوں نے معاشرے میں پھیلی ناانصافی سے نبٹنے کے لئے واحد حل تحریک نسواں کو سمجھا جب کہ ان کے کمرؤں میں پڑا مصحف انہیں بلا رہا تھا کہ تمہارے حقوق کا تحفظ اللہ نے اپنی کتاب میں کر دیا ہے تمہیں اسے نافذ کروانا ہے پر انہوں نے patriarchy کو اپنا ازلی دشمن اور مرد کو ازلی ظالم oppressor قرار دے دیا۔ یہ نظریہ اسلام میں کہیں موجود نہیں۔ اس سے جنم لینے والی تحریک و عزائم چند بنیادی حقوق کے مطالبات کے علاوہ دین سے عین متضاد ہیں۔ لوگ کہتے ہیں حقوق کے مطالبات میں کیا مسئلہ ہے مسئلہ تحریک کے عقائد میں ہے، ظلم صرف حقوق نہ ملنا نہیں بلکہ اللہ کے دین کے متضاد نظریے کی حمایت بھی ہے۔ مسلمان ہر جگہ اپنے مسائل تلاش کرتے رہے ہیں، ظلم معاشرے میں انتہا پر ہے، عدل کا تصور اب تخیلاتی بنتا جا رہا ہے ہر بار منہ کے بل گرنے کے باوجود ہم نہیں سمجھتے کہ دینِ حق - “حق” ہونے کا دعوی اسی لئے کرتا ہے کہ یہ دین اللہ کی طرف سے ہے اور اللہ کے دین کا نفاذ ہر دور میں انسان کی نجات و فلاح کا واحد راستہ ہے۔
-محمد عمار یونس
No comments:
Post a Comment