عالمی مفادات کی گہری سازش
خطیب احمد
”امریکی صحافی پِیٹر بیکر کے اہم انکشافات، مشرق وسطٰی کی پیچیدہ صورتحال، چین کی اسرائیل میں 16.5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری، امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے درمیان 12 کھرب ڈالر کا تجارتی معاہدہ، امریکا چینی معاشی چپقلش، امتِ مُسلمہ لاچار، تنہائی کا شِکار“
جب آفتاب کی نور کی پہلی کرن اس کرہ ارض پر پڑی، سال نو کا آغاز ہوا۔ اچانک سنگ دل ہوائیں چلنے لگیں، شاخوں پر کوئی پتہ باقی نہ رہا۔ یوں لگا کہ دنیا سے امن و آشی غائب ہوگئی ہے۔
سالِ نو کی ابتدا کے بعد ہی برق رفتاری سے شورش کی لہر دوڑی کہ امریکا نے فضائی حملے میں ایرانی پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے سربراه جنرل قاسم سلیمانی کو ہلاک کر دیا۔ جنرل قاسم کی ہلاکت کے بعد کشیدگی اس حد تک بڑھ گئی کہ تیسری عالمی جنگ کا خدشہ ظاہر ہونے لگا۔ جس کے بعد امریکا ایران کے درمیان تلخ بیانات کا مجادلہ جاری ہوگیا؛ اور مشرق وسطی میں تناٶ کی کیفیت بڑھ گئی۔ مگر جنگ کا خطرہ نہیں ہے کیونکہ عالمی قوتیں اس کی کسی قیمت پر متحمل نہیں ہوسکتیں۔ کیونکہ یہ عالمی قوتوں کی مفادات کی تکرار ہے۔
تاریخ کے اوراق بھی شاہد ہیں کہ مشرق وسطی کا خطہ ہمیشہ سے شورش کی لپیٹ میں رہا ہے۔ چونکہ اس خطے میں تیل کے ذخائر موجود ہیں؛ اور ایشیائی ممالک کا اس خطے براہ راست تو کوئی تعلق تو نہیں ہے، لیکن اندرونی طور پر مفادات پنہاں ہیں۔ اس خطے پر ایران نے جنرل قاسم سلیمانی کے ذریعے ملیشیا فورسز کو منظم کرنے میں اپنا کردار ادا کیا تھا۔ لہذا امریکا کو جنرل قاسم سلیمانی کا وجود کسی صورت پسند نہیں تھا، جس وجہ سے امریکی حکام پچھلے اٹھارہ مہینوں سے نشانہ بنانے کے تعاقب میں تھے۔ امریکی خفیہ ایجنسیوں سے مختلف معلومات سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی امریکی حکام اور سفارتخانوں پر حملے کے لیےگروہوں کو منظم کرنے میں مصروف تھے۔ چنانچہ امریکی خفیہ ایجنسیوں کی جنرل قاسم کی نقل و حرکت پر کڑی تھی۔ امریکی صحافی پیٹر بیکر نے اپنے کالم میں مذکورہ بات کی تصدیق کر دی ہے۔ جبکہ کہ امریکی خفیہ ایجنسی کی سربراه جینا ہیسپل نے کہہ دیا تھا کہ جنرل قاسم سلیمانی مشرق وسطی میں سے امریکی فوج کو باہر نکالنے کی بھرپور کوشش کر کررہے ہیں۔
اب دیکھنا یہ ہے قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد مشرق وسطی کی پیچیدہ صورت حال کس طرف جارہی ہے۔ کیونکہ اس خطے میں سعودی عرب، اسرائیل اور دیگر خلیجی ریاستیں ہیں؛ اور دوسری جانب ایران ہے، جس کے اثرات لبنان، عراق، شام اور یمن میں پائے جاتے ہیں۔ بیرونی قوتوں میں امریکہ اور یورپی ممالک ہیں، تو بڑی طاقتوں کے بھی اس خطے پر اثرات ہیں، جن میں چین اور روس شامل ہیں۔
روس کی جانب سے چند سال قبل شام کے صدر بشار الاسد کی حمایت حاصل کرکے شام میں اپنی مداخلت شروع کردی تھی۔ جواز یہ تھا کہ وہ داعش کے خاتمہ چاہتے ہیں؛ اور روس نے شام کے کئی علاقوں کو داعش سے آزاد کروا لیا ہے۔ جبکہ حکومت مخالف قوتوں پر بمباری کرتا ہے۔ اس فضائی حملوں میں عام شہری بھی لقمہ اجل بن جاتے ہیں، UN Humanitarian Coordination Agency OCHA کے مطابق تقریبا پینتیس لاکھ افراد اپنے گھروں سے بھاگ گئے ہیں۔ مزید یہ کہ عراق میں امریکا کے چھ ہزار، شام آٹھ سو، قطر تیرہ ہزار، سعودی عرب تین ہزار، ترکی ڈھائی ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں۔
چنانچہ چین بھی اپنی معیشت کو مستحکم کرنے کی جدوجہد میں مشغول ہے؛ اور وہ تیل کا بڑا خریدار ہے، اس وجہ سے وہ ایشیائی، یورپی، افریقی ممالک سمیت جنوبی امریکی کو اپنے لیے اہم خطہ تصور کرتا ہے۔ کیونکہ یہ خطہ اس کی معیشت میں ایک ستون کا کام کریں گا۔ چونکہ چین اس وقت بڑی کفایت شعاری کے ساتھ بین الاقوامی سطح پر کام کر رہا ہے۔ چین نے مشرق وسطی میں اپنے قدم ایک عرصے سے جمائے ہوئے ہیں۔ اسرائیل جس کے امریکہ کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں، جس کے باجود اسرائیل نے چند سالوں میں چین کو اہمیت دی ہے۔
دراصل چین اسرائیل کی اعلی ٹیکنالوجی، خوراک، ذراعت، بائیو ٹیکنالوجی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے Hebrew یونیورسٹی، برلان یونیورسٹی اور تل ابیب یونیورسٹی میں کنفیشن انسٹی ٹیوٹس قائم کردیئے ہیں۔ دونوں ممالک معیشت کےساتھ اپنی ثقافت کو بھی بڑھانے کے خواہ ہیں، جس کے لیے ادارے قائم کیے ہیں۔ جب اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نتین یاہو نے چین کا دورہ کیا تھا، تو اس وقت دس معاہدوں پر دستخط کیے تھے۔ جن کی مالیت 25 ارب ڈالر ہے۔ جبکہ چین نے 2016 میں اسرائیل کی ٹیکنالوجی میں 16.5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی، جو 2015 کے مقابلے میں دس گناہ زیادہ بتائی جاتی ہے۔ اب چین کی ترقی کی وجہ سے اس کی تیل کی کھپت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ جس وجہ سے چین کے لیے مشرق وسطی کا خطہ انتہائی اہم ہے۔ چونکہ امریکا اس وقت سپر پاور ہے؛ اور کسی دوسرے ملک کو اقتصادی، تجارتی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بڑی بڑی سرمایہ کاری کے فروغ کو اپنے خلاف تصور کرتا ہے۔ اس لیے امریکا مشرق وسطی میں کشیدگی بڑھانے کی ایسی پالیسی کو فروغ دے رہا ہے تاکہ امریکی فوجی خطے میں قابض رہیں۔
دراصل خطے میں جاری کشیدگی سے چین کو نقصان ہے کیونکہ چین کو تیل کی ضرورت ہے؛ اور روس اور امریکا تیل میں خود کفیل ہیں۔ چین تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے، جس وجہ سے وہ مشرق وسطی میں کسی بھی خلیجی ریاست پر معاشی پابندیاں یا اس پر بیرونی قوتوں کے سبب پیدا کردہ کشیدگی کے حق میں نہیں ہے۔ چین ہر ممکن طور پر ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ مگر مشرق وسطی میں سعودی عرب کے امریکا سے حلیفانہ تعلقات ہیں؛ اور سعودی عرب ہی اپنے مسلم ملک ایران کو مسلک کی بنیاد پر اپنا دشمن تصور کرتا ہے ۔۔ جبکہ ایران خطے میں اپنا اثرو رسوخ قائم کرنے کےلیے یمن کے حوثیوں کی مدد کرتا ہے۔ گزشتہ سال ستمبر میں جب سعودی عرب کی دو اہم تیل کی تنصیبات پر حملہ کیا تھا، تو اس کی ذمہ داری حوثیوں نے قبول کر لی تھی۔ سعودی تیل کی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا تھا، جس کے نتیجے میں کئی افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس کی ذمہ داری ایران پر عائد کردی گئی تھی، تو امریکا نے اپنے حلیف بھرہور کاروائی کی پیش کش کی تھی لیکن سعودی حکام نے نرمی سے کام لیا اور جنگی خطرات سے بچا لیا تھا۔
چنانچہ اس دور میں تمام ممالک جنگ کے بجائے اپنے قومی مفاد کو ترجیح؛ اور معیشت کو بہتر کرنے کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں۔ حال ہی میں امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے درمیان 12 کھرب ڈالر کا USMCA تجارتی معاہدہ ہوا، جو 25 سال پرانے بین الاقوامی تجارتی معاہدے NATA کی جگہ لے گا۔ لہذا اب چین کو مشرق وسطی میں سفارتکاری، تجارت کے ذریعے تعلقات استوار کرنے کی ضرورت ہے۔ مگر چین اب بھی اپنی معیشت کے استحکام کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔ جس میں کسی بھی ملک کی حمایت یا مخالفت نہیں کر سکتا۔ مگر چین سرمایہ کاری کے لیے مشرقی وسطی میں آمادہ تو ہے لیکن امریکی استعماریت کا جال اس قدر گہرا ہے کہ چین کو مشکلات پیش آتی ہیں۔
چونکہ جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت سے قبل امریکا نے اپنے فوجی واپس بلانے کا عندیہ دیا تھا، مگر اچانک تین ہزار کے قریب فوجیوں کو واپس عراق میں تعینات کردیا تھا۔ چین سمیت دیگر ممالک بھی امریکی صدر ٹرمپ کی پالیسوں کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ یہ شخص کب کس وقت کیا اعلان کرےگا۔ حال ہی میں صدر ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ سے امریکی فوجی واپس بلانے کا عندیہ دیا تھا، مگر اچانک ایرانی جنرل قاسم سلیمانی پر ڈرون حملہ کر کے ان کو ہلاک کردیا۔ جب خطے میں صورت حال مزید بگڑ گئی، تو امریکا فوجیوں کو واپس بلانے کے اعلان کے باوجود مزید تین ہزار فوجی عراق میں تعینات کرنے کا اعلان کر دیا۔ جبکہ امریکی بحری بیڑھ جس کو چند روز قبل بحرالکاہل میں تعینات تھا اس کو واپس خلیج میں بلوالیا ہے۔
آخر کار سوال تو بہت ہیں کہ امریکی اجارہ داری اس خطے میں کب تک رہ سکتی ہے؟ ایک طرف ایران نے اپنے اپنا مٶقف واضح کیا ہے جنرل قاسم کا بدلہ لیا جائے، اب وہ بدلہ جان کے بدلے جان کا ہوگا؟ اسلامی ممالک کب تک امریکہ کا بوچھ اٹھا پائیں گے؟ خیر سوال تو بہت ہیں مگر جواب کے لیے مستقبل کا انتظار کرنا ہوگا۔ کیونکہ اس صورتحال میں صرف چین ہی اس خطے میں اپنی سرمایہ کاری اور تیل کی ضروت کی وجہ سے ہی مشرقی وسطی میں اپنے قدم جما سکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
No comments:
Post a Comment