Saturday, March 28, 2020

ہم سوچتے کیوں نہیں ہیں؟

ہم سوچتے کیوں نہیں ہیں؟

خطیب احمد

*”اسپینش فلو نےبرطانوی ہند کے سپاہیوں سمیت دو کروڑ کے قریب افراد کو نگل گیا، نہ جانے کب موت ہم سے مزاج پوچھ لے، ہمارا پورا ملک بھی اضطراب اور کرب میں مبتلا ہے، اٹلی، فرانس، اسپین اور امریکا کو دیکھ کر ہر انسان خوف میں مبتلا، اب کوئی راستہ نہیں ہے، بے ہودہ گوئی، مذاق، مذہبی مغلظات، ناشائستہ گفتگو کے بجائے، درست سمت کا تعین کر لیجیئے۔“*

انسان کے بدن مادی میں نظام اعصاب کا مرکزی حصہ دماغ کہلاتا ہے، جس کو سوچنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن بدقسمتی ہم نے سوچانا ہی چھوڑ دیا ہے، شاید اس لیے کہ زیادہ سوچیں گے، تو زیادہ پریشانی محسوس ہوگی۔

اگر سوچیں، تو یہ ادراک ہوگا کہ چودہویں صدی میں پھیلنے والی عالمی وباء طاعون جس کو ”کالی موت“ بھی کہا گیا، یہ یورپ کی ایک تہائی آبادی کو نگل گیا تھی۔ اس کے بعد بیسویں صدی کے دوسرے عشرے میں پہلی عالمی جنگ کے اختتام پر ”اسپینش فلو“ نے جنم لیا تھا، جو برطانوی ہند کے سپاہيوں کو بھی لاحق ہوگیا۔ یہ فلو دو کروڑ کے قریب افراد کو نگل کر چین سے بیٹھا نہیں بلکہ اندازے کے مطابق جنوری 1918 سے دسمبر 1920 کے درمیان پانچ کروڑ لوگوں کو اپنا رزق بنا چکا تھا۔ لیکن ہم نے ماضی سے سبق حاصل کرنے بعد بھی کبھی سوچا ہی نہیں کہ یہ کرونا وائرس کتنی جانیں لے سکتا ہے۔

لیکن پھر وہ ہی بات آگئی کہ ہم سوچتے کیوں نہیں ہیں؟ جہاں ایک پل کا بھی علم نہیں کہ کیا ہوگا، نہ جانے کب موت ہم سے مزاج پوچھ کر جسم سے چمٹ جائے گی، یہ کسی کو معلوم نہیں ہے۔ مگر جہاں ہمارا اپنا اسٹیٹس گرتا جارہا ہے وہیں ہم فیس بک پر اسٹیٹس اپڈیٹ کرکے آنکھوں سے آنسوں نکلتے تھوبڑے ایک دوسرے کو بھیج کر پتہ نہیں ہم اپنی جبلت کی کونسی تسکین حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ روز بروز انسانیت کا احساس بھی وقت کے ساتھ اپنی موت آپ مرتا جارہا ہے۔

ہمارا پورا ملک بھی اضطراب اور کرب کی حالت میں مبتلا ہے کہ آنے والا وقت کیا ہوگا؟ کیا ہم اس بیماری کو شکست دے پائیں گے؟ جن ممالک کی معیشت مضبوط تھیں، انہوں نے اس کو اپنی قوت ارادی اور مضبوط مدافعتی نظام سے شکست سے دوچار کیا ہے۔ لیکن ہم تو اپنی مدد آپ کرنے کی حالت میں بھی نہیں ہیں۔  جبکہ امریکا کی مثال ہمارے سامنے ہے، جس نے دو ہزار ارب ڈالرز کا کورونا پیکچ کی منظوری دی ہے، جو ملکی تاریخ کا سب سے بڑا پیکچ ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 500 ڈالرز متاثرہ صنعتوں کے لیے مختص کیے ہیں، جبکہ 290 ارب ڈالرز کی رقم خاندانوں میں تقسیم کی جائے گی، یعنی 3 ہزار ڈالرز فی کس امریکی خاندان کو رقم ملے گی۔

لیکن پاکستان کی صورتحال دیکھیں، تو وفاقی حکومت نے متاثرہ خاندانوں کے لیے فی کس 3 ہزار روپے، سندھ حکومت نے 6 ہزار اور پختونخوان حکومت نے 5 ہزار روپے فی کس امدادی رقم کا اعلان کیا ہے۔ بہر کیف یہ تو ہماری حکومت کی کارستانی تھی، جو ہمیشہ ایسی رہے گی۔ لیکن ہمیں سوچنے کی اشد ضرورت ہے کہ دنیا کے کئی ممالک بشمول اٹلی، فرانس، اسپین اور امریکا کس قرب و اذیت میں مبتلا ہیں، جہاں ہلاکتوں کی تعداد سیکڑوں سے بھی تجاوز کرچکی ہے۔ ہر انسان دوسرے انسان سے خوف کھا رہا ہے کہ مرنے کے بعد بھی اس کوئی غسل، کفن کچھ نہیں دیا جائے گا بلکہ جراثیم کش اسپرے کرکے پلاسٹک میں پیک کرکے پولیس کی نگرانی میں دفن کر دیا جائے گا۔ صرف ایک نام سے یاد کیا جائے گا کہ وہ فلاں نمبر کا مردہ تھا۔

اب ہاتھ جوڑ کر گذارش ہی کر سکتے ہیں، اس کے علاوہ کوئی راستہ نظر نہیں آتا ہے۔ کیونکہ عالمی ادارہ صحت نے خبردار کر دیا ہے کہ تمام ممالک اس وائرس کی حقیقت کا ادارک کرلیں کیونکہ کرونا وائرس کے اثرات کافی وقت تک قائم رہیں گے۔

لہذا اب بھی وقت ہے، جو اس نظام کائنات کا مالک ہے اس کی جانب متوجہ ہوجائیں کیونکہ کوئی فرد دودھ کا دھلا نہیں ہے، سب گناہ گار ہیں، تو براہ کرم سماجی روابط کی ویب سائٹس پر کی بورڈ کو تھام کر ایک دوسرے کے خلاف بے ہودہ گوئی، مذاق، مذہبی مغلظات، ناشائستہ گفتگو کرکے اپنے رب کے غضب کو مزید آواز دینے کے بجائے، درست سمت کا تعین کر لیجیئے۔

اپنی قیمتی رائے سے آگاہ کیجیے!

✉ khateebahmed64@gmail.com

🔗 https://dailypakistan.com.pk/29-Mar-2020/1113384

Wednesday, March 11, 2020

Saturday, March 7, 2020

عالمی مفادات کی تکرار

عالمی مفادات کی گہری سازش

خطیب احمد

”امریکی صحافی پِیٹر بیکر کے اہم انکشافات، مشرق وسطٰی کی پیچیدہ صورتحال، چین کی اسرائیل میں 16.5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری، امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے درمیان 12 کھرب ڈالر کا تجارتی معاہدہ، امریکا چینی معاشی چپقلش، امتِ مُسلمہ لاچار، تنہائی کا شِکار“

جب آفتاب کی نور کی پہلی کرن اس کرہ ارض پر پڑی، سال نو کا آغاز ہوا۔ اچانک سنگ دل ہوائیں چلنے لگیں، شاخوں پر کوئی پتہ باقی نہ رہا۔ یوں لگا کہ دنیا سے امن و آشی غائب ہوگئی ہے۔

سالِ نو کی ابتدا کے بعد ہی برق رفتاری سے شورش کی لہر دوڑی کہ امریکا نے فضائی حملے میں ایرانی پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے سربراه جنرل قاسم سلیمانی کو ہلاک کر دیا۔ جنرل قاسم کی ہلاکت کے بعد کشیدگی اس حد تک بڑھ گئی کہ تیسری عالمی جنگ کا خدشہ ظاہر ہونے لگا۔ جس کے بعد امریکا ایران کے درمیان تلخ بیانات کا مجادلہ جاری ہوگیا؛ اور مشرق وسطی میں تناٶ کی کیفیت بڑھ گئی۔ مگر جنگ کا خطرہ نہیں ہے کیونکہ عالمی قوتیں اس کی کسی قیمت پر متحمل نہیں ہوسکتیں۔ کیونکہ یہ عالمی قوتوں کی مفادات کی تکرار ہے۔

تاریخ کے اوراق بھی شاہد ہیں کہ مشرق وسطی کا خطہ ہمیشہ سے شورش کی لپیٹ میں رہا ہے۔ چونکہ اس خطے میں تیل کے ذخائر موجود ہیں؛ اور ایشیائی ممالک کا اس خطے براہ راست تو کوئی تعلق تو نہیں ہے، لیکن اندرونی طور پر مفادات پنہاں ہیں۔ اس خطے پر ایران نے جنرل قاسم سلیمانی کے ذریعے ملیشیا فورسز کو منظم کرنے میں اپنا کردار ادا کیا تھا۔ لہذا امریکا کو جنرل قاسم سلیمانی کا وجود کسی صورت پسند نہیں تھا، جس وجہ سے امریکی حکام  پچھلے اٹھارہ مہینوں سے نشانہ بنانے کے تعاقب میں تھے۔ امریکی خفیہ ایجنسیوں سے مختلف معلومات سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی امریکی حکام اور سفارتخانوں پر حملے کے لیےگروہوں کو منظم کرنے میں مصروف تھے۔ چنانچہ امریکی خفیہ ایجنسیوں کی جنرل قاسم کی نقل و حرکت پر کڑی تھی۔ امریکی صحافی پیٹر بیکر نے اپنے کالم میں مذکورہ بات کی تصدیق کر دی ہے۔ جبکہ کہ امریکی خفیہ ایجنسی کی سربراه جینا ہیسپل نے کہہ دیا تھا کہ جنرل قاسم سلیمانی مشرق وسطی میں سے امریکی فوج کو باہر نکالنے کی بھرپور کوشش کر کررہے ہیں۔ 

اب دیکھنا یہ ہے قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد مشرق وسطی کی پیچیدہ صورت حال کس طرف جارہی ہے۔ کیونکہ اس خطے میں سعودی عرب، اسرائیل اور دیگر خلیجی ریاستیں ہیں؛ اور دوسری جانب ایران ہے، جس کے اثرات لبنان، عراق، شام اور یمن میں پائے جاتے ہیں۔ بیرونی قوتوں میں امریکہ اور یورپی ممالک ہیں، تو بڑی طاقتوں کے بھی اس خطے پر اثرات ہیں، جن میں چین اور روس شامل ہیں۔

روس کی جانب سے چند سال قبل شام کے صدر بشار الاسد کی حمایت حاصل کرکے شام میں اپنی مداخلت شروع کردی تھی۔ جواز یہ تھا کہ وہ داعش کے خاتمہ چاہتے ہیں؛ اور روس نے شام کے کئی علاقوں کو داعش سے آزاد کروا لیا ہے۔ جبکہ حکومت مخالف قوتوں پر بمباری کرتا ہے۔ اس فضائی حملوں میں عام شہری بھی لقمہ اجل بن جاتے ہیں، UN Humanitarian  Coordination Agency  OCHA کے مطابق تقریبا پینتیس لاکھ افراد اپنے گھروں سے بھاگ گئے ہیں۔ مزید یہ کہ عراق میں امریکا کے چھ ہزار، شام آٹھ سو، قطر تیرہ ہزار، سعودی عرب تین ہزار، ترکی ڈھائی ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں۔ 

چنانچہ چین بھی اپنی معیشت کو مستحکم کرنے کی جدوجہد میں مشغول ہے؛ اور وہ تیل کا بڑا خریدار ہے، اس وجہ سے وہ ایشیائی، یورپی، افریقی ممالک سمیت جنوبی امریکی کو اپنے لیے اہم خطہ تصور کرتا ہے۔ کیونکہ یہ خطہ اس کی معیشت میں ایک ستون کا کام کریں گا۔ چونکہ چین اس وقت بڑی کفایت شعاری کے ساتھ بین الاقوامی سطح پر کام کر رہا ہے۔ چین نے مشرق وسطی میں اپنے قدم ایک عرصے سے جمائے ہوئے ہیں۔ اسرائیل جس کے امریکہ کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں، جس کے باجود اسرائیل نے چند سالوں میں چین کو اہمیت دی ہے۔

دراصل چین اسرائیل کی اعلی ٹیکنالوجی، خوراک، ذراعت، بائیو ٹیکنالوجی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے Hebrew یونیورسٹی، برلان یونیورسٹی اور تل ابیب یونیورسٹی میں کنفیشن انسٹی ٹیوٹس قائم کردیئے ہیں۔ دونوں ممالک معیشت کےساتھ اپنی ثقافت کو بھی بڑھانے کے خواہ ہیں، جس کے لیے ادارے قائم کیے ہیں۔ جب اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نتین یاہو نے چین کا دورہ کیا تھا، تو اس وقت دس معاہدوں پر دستخط کیے تھے۔ جن کی مالیت 25 ارب ڈالر ہے۔ جبکہ چین نے 2016 میں اسرائیل کی ٹیکنالوجی میں 16.5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی، جو 2015 کے مقابلے میں دس گناہ زیادہ بتائی جاتی ہے۔ اب چین کی ترقی کی وجہ سے اس کی تیل کی کھپت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ جس وجہ سے چین کے لیے مشرق وسطی کا خطہ انتہائی اہم ہے۔ چونکہ امریکا اس وقت سپر پاور ہے؛ اور کسی دوسرے ملک کو اقتصادی، تجارتی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بڑی بڑی سرمایہ کاری کے فروغ کو اپنے خلاف تصور کرتا ہے۔ اس لیے امریکا مشرق وسطی میں کشیدگی بڑھانے کی ایسی پالیسی کو فروغ دے رہا ہے تاکہ امریکی فوجی خطے میں قابض رہیں۔

دراصل خطے میں جاری کشیدگی سے چین کو نقصان ہے کیونکہ چین کو تیل کی ضرورت ہے؛ اور روس اور امریکا تیل میں خود کفیل ہیں۔ چین تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے، جس وجہ سے وہ مشرق وسطی میں کسی بھی خلیجی ریاست پر معاشی پابندیاں یا اس پر بیرونی قوتوں کے سبب پیدا کردہ کشیدگی کے حق میں نہیں ہے۔ چین ہر ممکن طور پر ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ مگر مشرق وسطی میں سعودی عرب کے امریکا سے حلیفانہ تعلقات ہیں؛ اور سعودی عرب ہی اپنے مسلم ملک ایران کو مسلک کی بنیاد پر اپنا دشمن تصور کرتا ہے ۔۔ جبکہ ایران خطے میں اپنا اثرو رسوخ قائم کرنے کےلیے یمن کے حوثیوں کی مدد کرتا ہے۔ گزشتہ سال ستمبر میں جب سعودی عرب کی دو اہم تیل کی تنصیبات پر حملہ کیا تھا، تو اس کی ذمہ داری حوثیوں نے قبول کر لی تھی۔ سعودی تیل کی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا تھا، جس کے نتیجے میں کئی افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس کی ذمہ داری ایران پر عائد کردی گئی تھی، تو امریکا نے اپنے حلیف بھرہور کاروائی کی پیش کش کی تھی لیکن سعودی حکام نے نرمی سے کام لیا اور جنگی خطرات سے بچا لیا تھا۔ 

چنانچہ اس دور میں تمام ممالک جنگ کے بجائے اپنے قومی مفاد کو ترجیح؛ اور معیشت کو بہتر کرنے کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں۔ حال ہی میں امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے درمیان 12 کھرب ڈالر کا USMCA تجارتی معاہدہ ہوا، جو 25 سال پرانے بین الاقوامی تجارتی معاہدے NATA کی جگہ لے گا۔ لہذا اب چین کو مشرق وسطی میں سفارتکاری، تجارت کے ذریعے تعلقات استوار کرنے کی ضرورت ہے۔ مگر چین اب بھی اپنی معیشت کے استحکام کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔ جس میں کسی بھی ملک کی حمایت یا مخالفت نہیں کر سکتا۔ مگر چین سرمایہ کاری کے لیے مشرقی وسطی میں آمادہ تو ہے لیکن امریکی استعماریت کا جال اس قدر گہرا ہے کہ چین کو مشکلات پیش آتی ہیں۔

چونکہ جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت سے قبل امریکا نے اپنے فوجی واپس بلانے کا عندیہ دیا تھا، مگر اچانک تین ہزار کے قریب فوجیوں کو واپس عراق میں تعینات کردیا تھا۔ چین سمیت دیگر ممالک بھی امریکی صدر ٹرمپ کی پالیسوں کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ یہ شخص کب کس وقت کیا اعلان کرےگا۔ حال ہی میں صدر ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ سے امریکی فوجی واپس بلانے کا عندیہ دیا تھا، مگر اچانک ایرانی جنرل قاسم سلیمانی پر ڈرون حملہ کر کے ان کو ہلاک کردیا۔ جب خطے میں صورت حال مزید بگڑ گئی، تو امریکا فوجیوں کو واپس بلانے کے اعلان کے باوجود مزید تین ہزار فوجی عراق میں تعینات کرنے کا اعلان کر دیا۔ جبکہ امریکی بحری بیڑھ جس کو چند روز قبل بحرالکاہل میں تعینات تھا اس کو واپس خلیج میں بلوالیا ہے۔

آخر کار سوال تو بہت ہیں کہ امریکی اجارہ داری اس خطے میں کب تک رہ سکتی ہے؟ ایک طرف ایران نے اپنے اپنا مٶقف واضح کیا ہے جنرل قاسم کا بدلہ لیا جائے، اب وہ بدلہ جان کے بدلے جان کا ہوگا؟ اسلامی ممالک کب تک امریکہ کا بوچھ اٹھا پائیں گے؟ خیر سوال تو بہت ہیں مگر جواب کے لیے مستقبل کا انتظار کرنا ہوگا۔ کیونکہ اس صورتحال میں صرف چین ہی اس خطے میں اپنی سرمایہ کاری  اور تیل کی ضروت کی وجہ سے ہی مشرقی وسطی میں اپنے قدم جما سکتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Monday, March 2, 2020

Zalimeeein

ظلم oppression کیا ہے۔ ظلم کسی  چیز کو اس کی ٹھیک جگہ سے ہٹا دینا ہے یا کمی بیشی کر دینا۔ اس کا متضاد عدل ہے یعنی چیزؤں کو ان کی ٹھیک ٹھیک جگہ پہ رکھ دینا اور انسان کو کون بتائے گا کہ ظلم کیا ہے اور عدل کیا یہ دین بتاتا ہے۔ یعنی ظلم کی سیدھی سی تعریف یہ ہے کہ اللہ کے دین سے ہٹ جانا۔ ظلم، دین میں کمی یا زیادتی کرنا ہے۔ دین سے مراد صرف عبادات نہیں ہیں۔ دین میں مرد عورت کے واضح حقوق وفرائض  ہیں، حلال و حرام کی حدود ہیں، قتل و غارت، چوری، زنا اور دیگر معاشرتی برائیوں و جرائم  کی سزا ہے، اداب ہیں، انسان کا اس سے خالق سے تعلق، انسان کا دوسرے انسانوں سے تعلق، انسان کے روز مرہ کے معاملات ہیں گویا کہ آپ اپنی زندگی کا کوئی حصہ اٹھا لیں دین نے بتا دیا ہے وہ “فطری” طور پہ کس نوعیت کا ہونا چاہئے۔ ان بتائے ہوئے اصولوں میں کمی یا زیادتی کرنا ظلم ہے۔ اہل علم نے ظلم کی تین اقسام کا ذکر کیا ہے وہ ظلم جو انسان اللہ کے حق میں کرتا ہے یعنی کفر و شرک. قرآن میں آیا ہے کہ “شرک تو بڑا بھاری ظلم ہے (۳۱:۱۳)، تو اس سے بڑا ظالم کون ہو گا جو خدا پر جھوٹ بولے (۳۹:۳۲)” دوسری قسم کا ظلم انسان دوسرؤں پر کرتا ہے “اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے مگر جو درگزر کرے اور معاملے کو درست کر لے تو اس کا بدلہ خدا کہ ذمہ ہے اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا (۴۶:۴۰)” اس میں دوسری قسم کے ظلم کا ذکر ہے اور تیسری قسم کا ظلم وہ ہے جو انسان خود پر کرتا ہے اللہ کی نافرمانی کر کے “ تو کچھ ان میں اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں (۳۵:۳۲)” اسلام نہ صرف ظلم کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ اس کے خلاف عملی جدو جہد کی ترغیب دیتا ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، “اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ صحابہ نے عرض کیا، یا رسول اللہ! ہم مظلوم کی تو مدد کر سکتے ہیں۔ لیکن ظالم کی مدد کس طرح کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ظلم سے اس کا ہاتھ پکڑ لو (یہی اس کی مدد ہے)” (بخاری)۔ تہذیب حاضر میں “سماجی انصاف” (social justice) اور آزادی (freedom) نئے مذاہب ہیں جو خدا کے تصور کے بغیر انسانوں کو ان کے حقوق (rights) سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہی نظریات سے نکلی شاخیں اشتراکیت  (communism) اور تحریک نسواں (feminism) ہیں اور بھی شاخیں ہیں جیسے ہیومینزم، سیکولر لبرلزم پر ابھی میرا موضوع وہ نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ آپ دین کو جب نظر انداز کر دیتے ہیں تو آپ کے پاس ظلم و عدل کا کوئی پیمانہ (criteria) باقی نہیں رہتا، کوئی حد نہیں رہتی۔ مغرب میں ان نظریات کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ وہاں مذہب مسخ شدہ شکل اختیار کر چکا تھا جسے چرچ انسانوں پر اجارہداری کے لئے استعمال کرتا تھا نہ ان کا مذہب جامع تھا نہ اصل شکل میں کہ وہ انسانوں کو ان کے جائز حقوق سمجھا سکتا۔لہذا انہوں نے مذہب سے بغاوت کر کے انسانی عقل کو نجات دہندہ قرار دیا اور renaissance سے گزر کر اپنی تہذیب نو کی بنیاد رکھی۔
اسلام اس کے عین برعکس اپنی اصلی شکل میں قیامت تک محفوظ ہے مسلمانوں کی پہلی ریاست انسانیت کے لئے انصاف و عدل کا اعلی ترین معیار رہے گی۔ مسلمانوں نے جب دین کو تھاما تو وہ دنیا کے فاتح بن گئے، انہوں نے جو بھی خطہ فتح کیا وہاں فساد و ظلم کا خاتمہ کیا اور عدل کی بنیاد رکھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کی تعلیمات اور اللہ کی کتاب اتنی جامع ہے کہ جب تک مسلمان اس پر کسی حد تک عمل پیرا رہے علم و دانش، عدل و انصاف، تعلیم و تربیت کا مرکز بنے رہے اور جتنا دور ہوتے گئے اتنی پستی، جہالت، تاریکی میں ڈوبتے گئے۔ ہم اپنی ۱۴۰۰ سالہ تاریخ سے سبق سیکھنے کی بجائے نئے جہالت کے راستوں پر رواں دواں ہیں اور اس پر افسوس یہ کہ اس جہالت کو ہم اپنی نجات و عافیت کا راستہ سمجھنے لگے ہیں۔ اسلام نے معاشیات کا پورا فلسفہ پیش کیا پر انقلاب روس کے بعد مسلم نوجوان سرخ انقلاب کے خواب دیکھنے لگے جبکہ مارکس کا نظریہ بلکل دوسرا عقیدہ تھا جو دین اسلام کے عین متضاد تھا جو دنیا کو خدا کی تخلیق کی بجائے معاشیات کی عینک سے دیکھتا تھا جو مذہب کو عوام کے لئے افیون سمجھتا تھا جب سویٹ یونین کے پرزے ہو گئے تو یہ انقلابی بھی بغلیں جھانکنے لگے۔ جب کہ انقلاب کی سب سے بڑی کتاب ان کے گھرؤں میں تھی۔ اللہ نے عدل کا پورا نظام ان کو دے رکھا تھا۔ پر انہوں نے ایک مذہب بیزار معاشرے کے “برینڈڈ” نظریے کو اپنے پاس موجود دین پر ترجیح دی۔ کیونکہ ہمارا مزاج بن گیا ہے کہ ہم اپنے مسائل کا حل ہمیشہ دوسروں کے پاس تلاش کرتے ہیں ۔ اسی طرح مسلمانوں کی ۱۴۰۰ سالہ تاریخ میں فیمنزم کا کوئی کردار رہا نہ مسلمانوں کے معاشرؤں میں تعلیم کی اہمیت ، وراثت میں حقوق، معاشرے میں مقام دلوانے میں مغربی تحریکوں کا رتی برابر بھی کوئی رول ہے۔ میراث میں حق کے لئے قانون بنانے کے لئے نہ مسلمان عورتوں کو فرانس و امریکہ کی خواتین کی طرح سڑکوں پر احتجاج کرنے پڑے نہ تعلیم کا حق تسلیم کروانے کے لئے در در کی ٹھوکریں کھانی پڑیں۔ اللہ نے یہ حقوق واضح کیے اور مسلمانوں نے اپنے اولین دور میں اس کا احتمام کیا ہم نے جب تک اللہ کے دین سے قانوں اخذ کئے ہمارے معاشرے میں مرد و عورت کے بیچ انصاف و امن قائم رہا وہ اللہ کو اپنا خالق جانتے ہوئے حقوق و فرائض ادا کرتے رہے پر جیسے جیسے دین سے دور ہوئے اور علاقائی و ثقافتی روایتوں نے دین کے اصل احکامات پر گرد ڈال دی ہمارے مزاجوں میں جہالت و ناانصافی شامل ہو گئی۔ خواتین کو دین میں واضح کئے گئے احکامات سے محروم کر دیا گیا۔  ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ خواتین اس ظلم پر دین کو دوبارہ تھامتیں کہتییں کہ جب اللہ نے مجھے یہ حق دیا ہے تو کوئی مجھ سے یہ کیسے چھین سکتا ہے وہ دین اسلام کے نظام عدل کو قائم کرنے کے لئے متحرک ہوتیں پر ہوا اس کے برعکس ہم نے اپنے مسائل کا حل دوبارہ دور دراز کی تہذیبوں میں تلاش کرنا شروع کر دیا۔ تحریک نسواں کا نیا برینڈ ہمارے ہاں متعارف کرایا گیا ریڈیکل فیمنزم جس میں پدر شاہی (patriarchy) یعنی مرد کی کسی بھی شعبے میں سربراہی کو “ظلم” کے مترادف سمجھا جاتا اور مارکس کے طبقاتی کشمکش (class conflict) کی طرح انسانی تاریخ کو sex conflict  یعنی مرد و عورت کے بیچ طاقت کے حصول کی کشمکش قرار دیا گیا اس سے ابھرنے والی تحریک اپنے مزاج میں مرد و عورت کے مابین خلش رکھتی ہے، فیمزم کی صف اول کی بیشتر فلسفی ایک خاندان کو ظلم کا مرکز (unit of oppression) اور عورت کی آزادی تب تک ممکن نہیں سمجھتیں  جب تک وہ مرد اور حمل سے  مکمل آزاد نہ ہو جائے۔  جب کہ دینِ اسلام نے مرد و عورت کو ایک دوسرے کا جوڑ(complement) قرار دیا اور بتایا کہ “ہم نے تمہارے درمیان محبت و مہربانی پیدا کر دی” (۳۰:۲۱) دونوں جنس  کو ان کے جائز حقوق و فرائض سمجھائے اور معاشرے میں ان کا مقام بتا دیا اور قیامت کے روز اس بنیاد پر اجر و عذاب بھی رکھ دیا پر ہمارے اسکول کالج کی لڑکیوں نے معاشرے میں پھیلی ناانصافی سے نبٹنے کے لئے واحد حل تحریک نسواں کو سمجھا جب کہ ان کے کمرؤں میں پڑا مصحف انہیں بلا رہا تھا کہ تمہارے حقوق کا تحفظ اللہ نے اپنی کتاب میں کر دیا ہے تمہیں اسے نافذ کروانا ہے پر انہوں نے patriarchy کو اپنا ازلی دشمن اور مرد کو ازلی ظالم oppressor قرار دے دیا۔ یہ نظریہ اسلام میں کہیں موجود نہیں۔ اس سے جنم لینے والی تحریک و عزائم چند بنیادی حقوق کے مطالبات کے علاوہ دین سے عین متضاد ہیں۔ لوگ کہتے ہیں حقوق کے مطالبات میں کیا مسئلہ ہے مسئلہ تحریک کے عقائد میں ہے، ظلم صرف حقوق نہ ملنا نہیں بلکہ اللہ کے دین کے متضاد نظریے کی حمایت بھی ہے۔ مسلمان ہر جگہ اپنے مسائل تلاش کرتے رہے ہیں، ظلم معاشرے میں انتہا پر ہے، عدل کا تصور اب تخیلاتی بنتا جا رہا ہے ہر بار منہ کے بل گرنے کے باوجود ہم نہیں سمجھتے کہ دینِ حق - “حق” ہونے کا دعوی اسی لئے کرتا ہے کہ یہ دین اللہ کی طرف سے ہے اور اللہ کے دین کا نفاذ ہر دور میں انسان کی نجات و فلاح کا واحد راستہ ہے۔

-محمد عمار یونس