Saturday, November 9, 2019

_ذاکر_سے_خطاب

#_ذاکر_سے_خطاب" 🎿

معروف شاعر "جناب جوش ملیح آبادی" نے ایک مجلس عزا کا اہتمام کیا تو "ذاکر' نے پیسے مانگ لیے۔
جناب جوش کو یہ بات اتنی ناگوار گزری کہ 3 دن تک خاموش چُپ چاپ کمرے میں بند رہے۔ آخر انھوں نے قلم اُٹھایا اور نظم "ذاکر سے خطاب" لکھ ڈالی۔۔۔
(ذاکرین کے بارے میں حضرت جوش رح کے اشعار آج کے ۹۹.۹۹ فیصد  مولویوں، خطیبوں، نوحہ خوانوں، ماتمی سنگتوں اور ذاکرین پر منطبق ہوتے ہیں)

سوچ تو اے ذاکر افسردہ طبع نرم خو
آہ تو نیلام کرتا ھے شہیدوں کا لہو

تاجرانہ مشق ھے مجلس میں تیری ہاؤ ھو
فیس کا دریوزہ ھے منبر پر تیری گفتگو

عالم اخلاق کو زیر و زبر کرتا ھے تو-
خون اہلیبیت میں لقمے کو تر کرتا ھے تو

حرص نے تجھ کو سکھایا ھے دنایت کا سبق
کربلا کے ذِکر میں لیتا نہیں کیوں نامِ حق

چشمہء دولت ھے تیرا سیلِ اشک بے قلق
خوں کی چادر سے بناتا ھے تو سونے کے ورق

خانہء برباد ھے دولت سرا تیرے لیئے
اک دفینہ ھے زمینِ کربلا تیرے لیئے

کیا بتاؤں کیا تصور تو نے پیدا کر دیا
غیرتِ حق کو بُھلا کر حق کو رُسوا کر دیا

کربلا و خونِ مولا کو تماشا کر دیا
آب رکنا باد و بُستاں مُصلیٰ کر دیا

مشقِ گِریہ، عَیش کی تمہید ھے تیرے لیئے
عشرہء ماہِ محرّم عِید ھے تیرے لیئے

سوچ تو کچھ جی میں اے مُشتاق ِ راہِ مُستقیم
مومنوں کے دل ہوں اور داماندہء اُمید و بِیم

شدّتِ آہ و بُکا سے دل ہوں سینوں میں دو نِیم
کیوں یہی لے دے کے تھا کیا مقصدِ ذبحِ عظیم

خوف ھے قربانی ِ اعظم نظر سے گر نہ جائے
ابنِ حیدر کے لہو پر دیکھ پانی پھر نہ جائے

سازِ عشرت ھے تجھے ذکرِ امامِ مشرقَین
ڈھالتا ھے تیرے سِکّے بستگان ِ غم کا بَین

تیری دارُ الضّرب ھے اہلِ عزا کا شور و شین
سر جُھکا لے شرم سے اے تاجرِ خونِ حسین

ذہن میں آتا ھے جس کا نام تلواروں کے ساتھ
اس کا ماتم, اور ھو سِکّوں کی جھنکاروں کے ساتھ

۔ ۔ ۔

No comments:

Post a Comment