Sunday, September 8, 2019

10 محرم کا روزہ رکھنے والا اہلِ بیت ع کا دشمن اور جہنمی ہے

*10 محرم کا روزہ رکھنے والا اہلِ بیت ع کا دشمن اور  جہنمی ہے*

بنى امیہ لعنت اللہ علیہم نہ فقط یہ کہ امام حسین (ع) اور انکے اہل بیت و اصحاب کی شہادت پر عزاداری کرنے کی مخالفت کرتے تھے بلکہ عملی طور پر بھی مقابلہ کرنے کی غرض سے انھوں نے روز عاشورا کو جشن و خوشی و عید کا دن قرار دیا ہوا تھا۔

بنی امیہ روز عاشورا کو مبارک دن جانتے تھے اور اس دن جشن کی محافل برپا کیا کرتے تھے اور اس دن پورے سال کا راشن گھروں میں ذخیرہ کیا کرتے تھے اور وہ یہ سارے کام ہر سال انجام دیا کرتے تھے۔

اسی وجہ سے آئمہ معصومین اور انہی کی راہ پر چلنے والے فقہاء نے بھی اس دن روزہ رکھنے سے منع کرتے ہوئے، اس دن کے روزے کو مکروہ قرار دیا ہے۔

*امام صادق علیہ السلام سے عاشورا کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیا تو امام نے فرمایا:*
یہ دن امام حسین کی شہادت کا دن ہے، اگر تم اس دن امام حسین پر ہونے والے مصائب سے راضی و خوش ہو تو اس دن روزہ رکھو۔

بنی امیہ لعنت اللہ علیہم اور اہل شام، کہ جہنوں نے امام حسین کو شہید کیا تھا، نے نذر مانی ہوئی تھی کہ اگر حسین قتل ہو جائے اور ہمارا شامی لشکر سلامتی کے ساتھ واپس آ جائے اور مقام خلافت آل ابو سفیان کو مل جائے تو عاشورا کے دن کو خوشی کے ساتھ اپنے لیے عید کا دن قرار دیں گے اور شکرانے کے طور پر اس دن روزہ رکھیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

📚 امالی شیخ طوسی، ص 667، رقم‏1397 / 4.

*امام رضا علیہ السلام سے اسی بارے میں حدیث نقل ہوئی ہے کہ:*

یہ دن وہ دن ہے کہ بنی امیہ اس دن روزہ رکھتے تھے، حالانکہ اس دن اسلام اور مسلمین عزادار ہوئے تھے، پس آج کے دن روزہ نہ رکھو، جو بھی اس دن روزہ رکھے گا تو آل امیہ کی طرح اسکے نصیب میں بھی جہنم کی آگ لکھی جائے گی۔

📚 *حوالہ جات:*
اصول کافی، ج 4، ص147، شماره حدیث 6

تهذیب الاحکام ، ج4، ص301، شماره حدیث 912

الإستبصار، ج2، ص135، شماره حدیث 443

بحارالأنوار، ج61، ص291.

شفاءالصدور، طهرانی ، ص 259،

No comments:

Post a Comment