جب ہوئی وہ مجھ سے پہلی بار محو گفتگو
مجھے اس کا جب سے بولنا بہت پسند ہے
اس سے مِلَن کے بعد دل میں سناٹا چھایا تھا
مجھے اس سے خوابوں میں ملنا بہت پسند ہے
وہ جس راہ سے گذر کر کلاس میں جاتی ہے
مجھے اس راہ سے گذرنا بہت پسند ہے
جب وہ کلاس میں کسی چُٹکلے پر ہنستی ہے
مجھے اس کا کِھل کے ہنسنا بہت پسند ہے
وہ کسی موضوع پر سَر سے جو سوال کرتی ہے
مجھے ان سوالوں کو سننا بہت پسند ہے
جب وہ اوباش لڑکوں کو دیکھ کر منہ بناتی ہے
تو مجھے اس کی ہر ادا پر لہکنا بہت پسند ہے
جب مجھ سے مل کر وہ بے ساختہ مسکراتی ہے
کلیجے میں ٹھنڈ محسوس کرنا بہت پسند ہے
وہ جس پوائنٹ میں جامعہ سے گھر جاتی ہے
مجھے اس پوائنٹ کو بس تکنا بہت پسند ہے
جب لوگ اس کا ذکر جو چھیڑ دیتے ہیں
تو مجھے اس کے ذکر میں ڈوبنا بہت پسند ہے
جب وہ سیاہ لباس میں ملبوس ہو کر آتی ہے
تو مجھے اسکا سیاہ لباس پہننا بہت پسند ہے
وہ تو ایرانی چادر میں لگتی ہے زہرہؑ کی کنیز
مجھے بس اسے یوں دیکھنا بہت پسند ہے
خدا سے دعا مجھے اس کا محرم بنا دے
مجھے اس کو اپنے پاس رکھنا بہت پسند ہے
اے خدا کب وہ لے گی میرا نام سنیئے خطیبؔ
تو میں بھی کہوں مجھے یہ نام سننا بہت پسند ہے
خطیبؔ احمد
No comments:
Post a Comment