Friday, May 10, 2019

تراویح

بسم اللہ الر حمٰن الرحیم
الجواب حامداً ومصلیاً

آپﷺنے تین دن جماعت کے ساتھ تراویح پڑھی اور پھر امت پرفرض ہوجانے کے خوف سے جماعت سے نہیں پڑھی، البتہ  حضرت عمر ؓ نے اپنے دور سب کو ایک امام پر اکٹھا کرکے باجماعت تراویح شروع کرائی۔

صحيح البخاري- (1/ 98)
أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ خَرَجَ لَيْلَةً مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ فَصَلَّى فِي الْمَسْجِدِ وَصَلَّى رِجَالٌ بِصَلَاتِهِ فَأَصْبَحَ النَّاسُ فَتَحَدَّثُوا فَاجْتَمَعَ أَكْثَرُ مِنْهُمْ فَاجْتَمَعَ أَكْثَرُ مِنْهُمْ فَصَلَّوْا مَعَهُ (فَصَلَّى فَصَلَّوْا مَعَهُ) فَأَصْبَحَ النَّاسُ فَتَحَدَّثُوا فَكَثُرَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ مِنَ اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِﷺ فَصَلَّى فَصَلَّوْا بِصَلَاتِهِ فَلَمَّا كَانَتِ اللَّيْلَةُ الرَّابِعَةُ عَجَزَ الْمَسْجِدُ عَنْ أَهْلِهِ حَتَّى خَرَجَ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ فَلَمَّا قَضَى الْفَجْرَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَتَشَهَّدَ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّهُ لَمْ يَخْفَ عَلَيَّ مَكَانُكُمْ وَلَكِنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْتَرَضَ عَلَيْكُمْ فَتَعْجِزُوا عَنْهَا فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ ﷺ وَالْأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ۔
ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عروہؓ  کو خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ رمضان کینصف شب میں مسجد تشریف لے گئے اور وہاں تراویح کی نماز پڑھی۔ کچھ صحابہ رضی اللہ عنہم بھی آپ کے ساتھ نماز میں شریک ہو گئے۔ صبح ہوئی تو انہوں نے اس کا چرچا کیا۔ چنانچہ دوسری رات میں لوگ پہلے سے بھی زیادہ جمع ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ دوسری صبح کو اور زیادہ چرچا ہوا اور تیسری رات اس سے بھی زیادہ لوگ جمع ہو گئے۔ آپ نے اس رات بھی نماز پڑھی اور لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کی۔ چوتھی رات کو یہ عالم تھا کہ مسجد میں نماز پڑھنے آنے والوں کے لیے جگہ بھی باقی نہیں رہی تھی۔ لیکن اس رات آپ برآمد ہی نہیں ہوئےبلکہ صبح کی نماز کے لیے باہر تشریف لائے۔ جب نماز پڑھ لی تو لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر شہادت کے بعد فرمایا۔ امابعد! تمہارے یہاں جمع ہونے کا مجھے علم تھا، لیکن مجھے خوف اس کا ہوا کہ کہیں یہ نماز تم پر فرض نہ کر دی جائے اور پھر تم اس کی ادائیگی سے عاجز ہو جاؤ، چنانچہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو یہی کیفیت قائم رہی۔

صحيح البخاري- (1/ 97)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ قَالَ مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ ﷺ وَالْأَمْرُ (وَالنَّاسُ) عَلَى ذَلِكَ ثُمَّ كَانَ الْأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ فِي خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ وَصَدْرًا مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے رمضان کی راتوں میں بیدار رہ کرنماز تراویح پڑھی، ایمان اور ثواب کی نیت کے ساتھ، اس کے اگلے تمام گناہ معاف ہو جائیں گے۔ ابن شہاب نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی اور لوگوں کا یہی حال رہا (الگ الگ اکیلے اور جماعتوں سے تراویح پڑھتے تھے)اس کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں اور عمر رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دور خلافت میں بھی ایسا ہی رہا۔

نیز تراویح کی بیس رکعات سنت موکدہ  ہیں اور یہ بیس رکعات حضورصلی اللہ علیہ وسلم اورصحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے ثابت ہیں اسی لئے حضرات تابعین ؒ،ائمہ ِٔمجتہدین ؒ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ ؒ ،امام شافعی ؒ اور امام احمد بن حنبلؒ  کے نزدیک تراویح کی بیس رکعات ہیں اور امام مالک ؒ کے بھی ایک قول کے مطابق تراویح کی بیس رکعات ہیں جبکہ ان کے دوسرے قول کے مطابق تراویح کی چھتّیس رکعات پڑھنازیادہ  اچھاہے یعنی ائمہ ِاربعہؒ میں سے کسی کے نزدیک بھی تراویح کی بیس سے کم رکعات نہیں ہیں اور یہی جمہور کاقول ہے ،آج تک مشرق ومغرب میں تمام امتِ مسلمہ کا اسی پر عمل رہاہے اور آج کل بھی حرمین شریفین میں تراویح کی بیس رکعات ہوتی ہیں لہٰذا تراویح کی   آٹھ رکعات والا قول درست نہیں کیونکہ جن روایات میں آٹھ رکعات کا ذکر ہے اس سے تہجد کی نماز مرادہےتراویح کی نماز مراد نہیں۔
بیس رکعات تراویح کےتفصیلی مدلل ثبوت کےلئے جامعہ دارالعلوم کراچی کے منسلکہ تین فتاویٰ (62/1363,26/629,60/458)مذکورہ لنکس سے ڈاؤن لوڈ کرکے مطالعہ فرمائیں۔

=========

No comments:

Post a Comment