Sunday, May 19, 2019

غزل: خطیبؔ احمد

جب ہوئی وہ مجھ سے پہلی بار محو گفتگو
مجھے اس کا جب سے بولنا بہت پسند ہے

اس سے مِلَن کے بعد دل میں سناٹا چھایا تھا
مجھے اس سے خوابوں میں ملنا بہت پسند ہے

وہ جس راہ سے گذر کر کلاس میں جاتی ہے
مجھے اس راہ سے گذرنا بہت پسند ہے

جب وہ کلاس میں کسی چُٹکلے پر ہنستی ہے
مجھے اس کا  کِھل کے ہنسنا بہت پسند ہے

وہ کسی موضوع پر سَر سے جو سوال کرتی ہے
مجھے ان سوالوں کو سننا بہت پسند ہے

جب وہ اوباش لڑکوں کو دیکھ کر منہ بناتی ہے
تو مجھے اس کی ہر ادا پر لہکنا بہت پسند ہے

جب مجھ سے مل کر وہ بے ساختہ مسکراتی ہے
کلیجے میں ٹھنڈ محسوس کرنا بہت پسند ہے

وہ جس پوائنٹ میں جامعہ سے گھر جاتی ہے
مجھے اس پوائنٹ کو بس تکنا بہت پسند ہے

جب لوگ اس کا ذکر جو چھیڑ دیتے ہیں
تو مجھے اس کے ذکر میں ڈوبنا بہت پسند ہے

جب وہ سیاہ لباس میں ملبوس ہو کر آتی ہے
تو مجھے اسکا سیاہ لباس پہننا بہت پسند ہے

وہ تو ایرانی چادر میں لگتی ہے زہرہؑ کی کنیز
مجھے بس اسے یوں دیکھنا بہت پسند ہے

خدا سے دعا مجھے اس کا محرم بنا دے
مجھے  اس کو اپنے پاس رکھنا بہت پسند ہے

اے خدا کب وہ لے گی میرا نام سنیئے خطیبؔ
تو میں بھی کہوں مجھے یہ نام سننا بہت پسند ہے

خطیبؔ احمد

Friday, May 10, 2019

تراویح

بسم اللہ الر حمٰن الرحیم
الجواب حامداً ومصلیاً

آپﷺنے تین دن جماعت کے ساتھ تراویح پڑھی اور پھر امت پرفرض ہوجانے کے خوف سے جماعت سے نہیں پڑھی، البتہ  حضرت عمر ؓ نے اپنے دور سب کو ایک امام پر اکٹھا کرکے باجماعت تراویح شروع کرائی۔

صحيح البخاري- (1/ 98)
أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ خَرَجَ لَيْلَةً مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ فَصَلَّى فِي الْمَسْجِدِ وَصَلَّى رِجَالٌ بِصَلَاتِهِ فَأَصْبَحَ النَّاسُ فَتَحَدَّثُوا فَاجْتَمَعَ أَكْثَرُ مِنْهُمْ فَاجْتَمَعَ أَكْثَرُ مِنْهُمْ فَصَلَّوْا مَعَهُ (فَصَلَّى فَصَلَّوْا مَعَهُ) فَأَصْبَحَ النَّاسُ فَتَحَدَّثُوا فَكَثُرَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ مِنَ اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِﷺ فَصَلَّى فَصَلَّوْا بِصَلَاتِهِ فَلَمَّا كَانَتِ اللَّيْلَةُ الرَّابِعَةُ عَجَزَ الْمَسْجِدُ عَنْ أَهْلِهِ حَتَّى خَرَجَ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ فَلَمَّا قَضَى الْفَجْرَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَتَشَهَّدَ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّهُ لَمْ يَخْفَ عَلَيَّ مَكَانُكُمْ وَلَكِنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْتَرَضَ عَلَيْكُمْ فَتَعْجِزُوا عَنْهَا فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ ﷺ وَالْأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ۔
ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عروہؓ  کو خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ رمضان کینصف شب میں مسجد تشریف لے گئے اور وہاں تراویح کی نماز پڑھی۔ کچھ صحابہ رضی اللہ عنہم بھی آپ کے ساتھ نماز میں شریک ہو گئے۔ صبح ہوئی تو انہوں نے اس کا چرچا کیا۔ چنانچہ دوسری رات میں لوگ پہلے سے بھی زیادہ جمع ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ دوسری صبح کو اور زیادہ چرچا ہوا اور تیسری رات اس سے بھی زیادہ لوگ جمع ہو گئے۔ آپ نے اس رات بھی نماز پڑھی اور لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کی۔ چوتھی رات کو یہ عالم تھا کہ مسجد میں نماز پڑھنے آنے والوں کے لیے جگہ بھی باقی نہیں رہی تھی۔ لیکن اس رات آپ برآمد ہی نہیں ہوئےبلکہ صبح کی نماز کے لیے باہر تشریف لائے۔ جب نماز پڑھ لی تو لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر شہادت کے بعد فرمایا۔ امابعد! تمہارے یہاں جمع ہونے کا مجھے علم تھا، لیکن مجھے خوف اس کا ہوا کہ کہیں یہ نماز تم پر فرض نہ کر دی جائے اور پھر تم اس کی ادائیگی سے عاجز ہو جاؤ، چنانچہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو یہی کیفیت قائم رہی۔

صحيح البخاري- (1/ 97)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ قَالَ مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ ﷺ وَالْأَمْرُ (وَالنَّاسُ) عَلَى ذَلِكَ ثُمَّ كَانَ الْأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ فِي خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ وَصَدْرًا مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے رمضان کی راتوں میں بیدار رہ کرنماز تراویح پڑھی، ایمان اور ثواب کی نیت کے ساتھ، اس کے اگلے تمام گناہ معاف ہو جائیں گے۔ ابن شہاب نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی اور لوگوں کا یہی حال رہا (الگ الگ اکیلے اور جماعتوں سے تراویح پڑھتے تھے)اس کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں اور عمر رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دور خلافت میں بھی ایسا ہی رہا۔

نیز تراویح کی بیس رکعات سنت موکدہ  ہیں اور یہ بیس رکعات حضورصلی اللہ علیہ وسلم اورصحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے ثابت ہیں اسی لئے حضرات تابعین ؒ،ائمہ ِٔمجتہدین ؒ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ ؒ ،امام شافعی ؒ اور امام احمد بن حنبلؒ  کے نزدیک تراویح کی بیس رکعات ہیں اور امام مالک ؒ کے بھی ایک قول کے مطابق تراویح کی بیس رکعات ہیں جبکہ ان کے دوسرے قول کے مطابق تراویح کی چھتّیس رکعات پڑھنازیادہ  اچھاہے یعنی ائمہ ِاربعہؒ میں سے کسی کے نزدیک بھی تراویح کی بیس سے کم رکعات نہیں ہیں اور یہی جمہور کاقول ہے ،آج تک مشرق ومغرب میں تمام امتِ مسلمہ کا اسی پر عمل رہاہے اور آج کل بھی حرمین شریفین میں تراویح کی بیس رکعات ہوتی ہیں لہٰذا تراویح کی   آٹھ رکعات والا قول درست نہیں کیونکہ جن روایات میں آٹھ رکعات کا ذکر ہے اس سے تہجد کی نماز مرادہےتراویح کی نماز مراد نہیں۔
بیس رکعات تراویح کےتفصیلی مدلل ثبوت کےلئے جامعہ دارالعلوم کراچی کے منسلکہ تین فتاویٰ (62/1363,26/629,60/458)مذکورہ لنکس سے ڈاؤن لوڈ کرکے مطالعہ فرمائیں۔

=========

جامعہ کی حلال محبت!

جامعہ کی حلال محبت!

تحریر : خطیب احمد

محبت تو پانی کی طرح ہونی چاہیے، جو اپنی جگہ خود بنائے، جیسے پانی اپنا راستہ خود بناتا ہے، پہاڑوں کا سینہ چاک کرکے اپنا راستہ خود بنا لیتا ہے، جو اپنا سفر جاری رکھتا ہے۔ راستے میں جوں جوں آگے بڑھتا ہے، لوگ اس سے سیراب ہوتے ہیں۔ دراصل ہمارے ہاں محبت بھی درجات میں منقسم ہے، جیسے کہ ’’حلال محبت۔‘‘ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ بھئی یہ حلال محبت کون سی ہوتی ہے؟

جب یہ محبت شرعی قواعد و ضوابط کی پیروی کرنے والوں کو ہوتی ہے، تو اس کو عام لوگ ’’حلال محبت‘‘ کا نام بھی دے دیتے ہیں۔ جامعہ کراچی میں دو شعبہ جات ایسے ہیں جن کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے: شعبہ تاریخ اسلام اور شعبہ علوم اسلامی؛ کیونکہ ان کے مائنر مضامین کی کلاسز بھی ایک ہی ساتھ ہوتی ہیں۔ اب دونوں شعبہ جات کے طلبا پر منحصر ہے کہ انہوں نے کون سا مضمون چنا ہے۔

یہ جاننا سب سے اہم ہے کہ یہاں کس قسم کے طلبا پائے جاتے ہیں۔ میری ایک دوست ہیں، جن کا تعلق شعبہ علوم اسلامی سے ہے، ان کو دیکھ کر لگتا ہے کہ ان کی یا تو بوتیک ہے یا وہ کوئی ماڈل ہیں۔ ایک مرتبہ ان سے کہا کہ میں نے جامعہ کے کنفیشن پیچ پر پڑھا ہے، کسی لڑکی نے لکھا تھا کہ Beauty exists in Department of Islamic Learning، تو موصوفہ تھوڑا اتراتے ہوئے بولیں ’’ہاں بھئی! بات تو ٹھیک ہی ہے۔ مجھے دیکھ لیں!‘‘ یہ جملہ سن کر میں اضطراب کا شکار ہوگیا کہ اب ہنسا جائے یا رویا جائے۔

ان دونوں شعبہ جات میں لڑکوں کی تعداد ویسے ہی کم ہے؛ اور لڑکوں کی قدر ویسے ہی ہے جیسے ڈالر کے سامنے روپے کی، مگر لڑکے اسے بھی برداشت کرجاتے ہیں۔ لیکن ایک بات وہ برداشت نہیں کرپاتے، وہ ہیں نقاب میں چھپی جھیل سی گہری آنکھیں۔ اب مجال ہے کوئی لڑکی بغیر آئی لائنر اور مسکارا کے نظر آجائے۔ اکثریت کا یہی حال ہے۔ کچھ تو اس سے بھی تجاوز کر جاتی ہیں کہ اللہ کی بنائی ہوئی ان نازک آنکھوں پر دو دو کلو میک اپ انڈیل کر آجاتی ہیں۔ پتا نہیں آنکھیں بھی کیسے کھولتی ہوں گی۔ اب یہ میک اپ زدہ آنکھیں مقناطیس کی طرح متوجہ کرتی ہیں اور کمزور دِلوں پر ایسے حملہ کرتی ہیں جیسے شیر اپنے شکار پر حملہ کرتا ہے۔ ‏بعض مرتبہ تو اتنی اچھی آنکھیں نظر آجاتی ہیں کہ دوسری نظر واجب سی لگتی؛ اور پھر بعد میں فرض ہوجاتی ہے۔ البتہ یاد رہے کہ شعبہ جات کا تقدس قائم رکھنے کےلیے ’’فرض‘‘ اور ’’واجب‘‘ کی اصطلاحات استعمال کی ہیں۔

لیکن پوری جامعہ میں شعبہ تاریخ اسلام اور شعبہ علوم اسلامی کے مابین محبت کے قصے بہت مشہور ہیں۔ یہ قصے منظر عام پر کم ہی آتے ہیں مگر اندر کے لوگ سب جانتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ناں کہ قبر کا حال تو مردہ ہی جانتا ہے۔ کیونکہ یہ بے چارے عام لوگوں کی طرح کھلم کھلا محبت کا اظہار نہیں کرسکتے، ان کو حلال طریقہ اپنانا پڑتا ہے۔

اسی بات پر مجھے اپنے ایک دوست کا قصہ یاد آگیا۔ وہ بتاتے ہیں کہ میری ایک لڑکی سے ملاقات ’’پی جی‘‘ (پریم گلی) کینٹین کے پاس والی مسجد کے سامنے ہوئی تھی۔ اس نے مجھے دیکھا، میں نے اسے دیکھا۔ وہ دھیمے قدم چل کر میرے پاس آنے کو بڑھی، میرے بھی قدم اس کی جانب چلنے لگے۔ اس کی چمکتی آنکھوں پر دو کلو میک اپ لگا ہوا تھا۔ میرے سر پر ٹوپی تھی، اس کا چمکیلا عبایا تھا، میرا سفید کُرتا تھا۔ میں اپنے خیال میں تصور کرنے لگا کہ میں پی جی کے مشہور گول گپے اس کے ساتھ کھا رہا ہوں۔ جیسے ہی وہ قریب آئی، بولی ’’سنیے!‘‘ میں اپنے خیالوں سے ہوش میں آگیا ’’جی کہیے؟‘‘ وہ کہنے لگی کے میڈم پروین نے جو اسائنمنٹ دیا ہے، اس کے بارے میں ذرا سمجھا دیجیے۔ میرا کلیجہ منہ کو آنے لگا، جسم پر کپکپی طاری تھی، جیسے تیسے میں نے اسے سمجھا کر روانہ کردیا۔

اس دن کے بعد دھیرے دھیرے ہماری بات چیت طول پکڑنے لگی تھی۔ وہ مجھے کہتی تھی ’’میں تمہیں اسامہ بن لادن سے بھی زیادہ پیار کروں گی۔‘‘ میں نے کہا ’’میں تمہارے لیے حلوہ بھی چھوڑ سکتا ہوں،‘‘ وہ کہتی ’’اچھا، قسم کھاؤ!‘‘ میں نے کہا ’’اشرافیوں کی طاہری کی قسم،‘‘ تب کہیں جاکر اسے تسلی ہوئی۔ وہ مجھے روز فون کرکے کہتی تھی کہ آپ نے عشاء کی نماز پڑھ لی؟ میں بھی جواب میں ہاں کہہ دے دیتا تھا، اور تہجد کے بعد فون کرنے کا کہہ دیتا تھا، کیونکہ تہجد میں اسے اٹھانے کا ذمہ میرا تھا۔ اگر اسے نہ اٹھاتا، تو وہ مجھے نہ اٹھا دے اس بات کا خطرہ مجھے ہر وقت لاحق رہتا تھا۔ بالآخر میں نے اس بات کو غنیمت سمجھا کہ اس کو اٹھاؤ، نہیں تو خود اٹھ جاؤ گے۔

یوں ہماری زندگی برق رفتار ٹرین کی طرح چل رہی تھی لیکن جب نکاح کا وقت آیا تو وہ کہنے لگی ’’طارق جمیل صاحب،‘‘ میں نے کہا نہیں! ’’علامہ طاہر القادری صاحب‘‘ اور پھر ہمارے درمیان یہ بحث شدومد کے ساتھ آگے بڑھنے لگی۔ وہ مجھے اسے پار سے کافر کہتی تھی، میں اسے کافر کہتا تھا۔ وہ شعبہ علوم اسلامی کی لڑکی، میں شعبہ تاریخ اسلام کا لڑکا۔ لیکن دل تو دل ہوتا ہے، پھر بھی مانتا ہی نہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ دونوں شعبہ جات آمنے سامنے ہی ہیں۔ لگتا ہے اس کہانی کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی یہ گانا ’’تیرے عشق میں کافر کافر ہوں‘‘ لکھا گیا ہے۔ ویسے ہمارے دوست کی یہ کہانی ہر متشکک انسان کو تشکیکیت میں مبتلا کر دیتی ہے کہ شاعر حضرات اب تک جو اپنی غزلیات میں محبوبہ کو کافر کہتے آرہے تھے، کیا ان کے ساتھ بھی یہ حادثات ہوئے تھے؟ سوالات تو بہت ہیں مگر جواب کی تلاش ہے۔

لہٰذا تمام افراد سے یہ گزارش ہے کہ اپنا اکاؤنٹ دیکھ بھال کر کھولا کریں، دوسروں کے اکاؤنٹ پر قبضہ نہ کریں۔ مطلب آسان ہے کہ اپنے نظريات، عقائد، خاندانی، گھریلو معاملات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی تعلق قائم کیجیے۔ بعد میں کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ اس رشتے کو نباہ نہ سکیں۔

https://www.express.pk/story/1659459/464/