محبت کرنا مشکل ہے!
محبت ایک طرح کا جُنون و سودا جو صورت انسانی کو دیکھنے سے دِل میں پیدا ہوتا ہے۔ محبت کی بنیاد تجربے یا مشاہدہ پر نہیں بلکہ تخیلیت پر ہوتی ہےـ یہ ایک فریب ہے، جوکہ یہ تعقلیت کو ایسا زہر پلاۓ گی کہ عقل اس کے جواز میں عقلی تعبیریں بنانا شروع کردیتی ہے۔ چنانچہ محبت ایک وجدانی جذبہ ہے گو کہ اس سے بڑا دھوکہ فطرت قائم نہیں کرسکتی ہے۔
لیکن یہ محبت متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیۓ ایک بے حد پیچیدہ معاملہ ہے۔ خاص طور پر ہمارے معاشرے میں یہ ایسا طبقہ ہے، جو نمائشی تو ہے مگر ناقابلِ عمل اخلاقیات کا اسیر ہوتا ہے۔ اِس طبقے کے لئے مذہب اور معاشرہ ایک ایسی مجبوری ہوتا ہے۔ جسے نہ تو یہ پوری طرح اپنا سکتا ہے؛ اور نہ ہی اسے ترک کر سکتا ہے۔ بس یوں جانیئے کہ اِس طبقے کے افراد اس کی دُم پکڑے گھسٹتے رہتے ہیں۔
کیونکہ ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہاں محبت کے مفہوم میں عورت کو حتٰی الامکان رومانویت اور تصوریت کی تصویر میں ڈھالا ہے۔ مَرد کی کی نظر میں عورت کی جو شبیہہ پیدا کی ہے، وہ رُومانویت اور جِنسی تسکین حاصل کرنے تک ہی محدود ہے۔ جبکہ مذہبی اور ثقافتی اقدار کے ذریعے مردوں اور عورتوں میں ناروا دوری قائم رکھی جاتی ہے۔ یہ ہی دوری عورت اور مَرد کو ایک دوسرے کے لئے معمہ بنا دیتی ہے؛ اور یوں ایک دوسرے کے لئے تجسس اور کشش غیر ضروری حد تک انگیخت ہونے لگتی ہے۔
عورت اور مرد کے تعلقات کے درمیان دوریاں ہوتی ہیں۔ جب کبھی کسی بہانے سے رابطے کا موقع ملتا ہے، تو وہ اِس بے جا کشش کے باعث فوراً ہی ایک دوسرے پر دِل و جان سے مَر مٹتے ہیں۔ یہ ایک عام بات ہے جس چیز سے انسان کو دور رکھا جاۓ گا، تو اِس چیز کو دیکھنے کا اشتیاق دِل میں وجود پاتا ہے۔ انگريزی زبان میں اِس کیفیت کو delusion کہتے ہیں۔ یہ ایسی کیفیت ہے، جس میں اِنسان نہایت استقامت کے ساتھ اپنا نظریہ بنا لیتا ہے۔ جس کے بر خلاف اعلٰی اور ناقابل تردید شواہد موجود ہوتے ہیں۔ دارصل delusion میں اِنسان صرف دیکھتا ہے، جو وہ دیکھنا چاہتا ہے۔ انسان کے دل میں موجود بے چینی اُسے delusion میں مبتلا کر دیتی ہے۔
کئی مرتبہ تو اِس طرح کا سانحہ صرف ایک فریق کے ساتھ ہی پیش آتا ہے۔ جس کی وجہ سے اسے طویل عرصہ تک یکطرفہ محبت کا عذاب جھیلنا پڑتا ہے۔ یہ معاملہ دو طرفہ بھی ہو، تو بے جا کشش انہیں ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع نہیں دیتی ہے۔ ویسے تو سماجی پابندیوں کے باعث براہِ راست ملاقات کے مواقع کم ہی نصیب ہوتے ہیں۔
ایسی صورتحال میں دونوں فریق اپنے بیچ موجود خلا کو ایک دوسرے کے تخیلاتی محاسن سے بھرنا شروع کر دیتے ہیں؛ اور یوں خود کو اِس یقین کا اسیر کر لیتے ہیں کہ اِن کا محبوب دنیا کا نایاب ترین فرد ہے۔ یہ ہی تخیلاتی محاسن جب شادی کے بعد ناپید ملتے ہیں، تو معلوم پڑتا ہے کہ آہ ہم جسے سونا سمجھے تھے، وہ تو پیتل نکل آیا۔ اب ایسے حالات میں بھلا شادی سے پہلے کی افسانوی محبت کیوں کر باقی رہ سکتی ہے، جبکہ اِس میں ایک دوسرے کی شخصیت کے بارے میں خود ساختہ خیالات اور مایوسی کا عنصر بھی شامل ہوچکا ہو۔
تحریر خطیب احمد
No comments:
Post a Comment