شیعیت کے خلاف پرچار میں اس نکتے کو بھی ضرور شامل کیا جاتا ہے کہ یہ رسول خدا ص کی ازواج مخصوصا جناب عایشہ کے احترام کے قائل نہیں۔ جبکہ تشیع کے بزرگ علماء کی نظر یہ ہے کہ تمام ازواج رسول خدا ص کا احترام ضرروی ہے۔
علامہ طباطبائی رح مفسر بزرگ جہان اسلام اس بارے میں یوں فرماتے ہیں:
"یہ کہ رسول خدا ص کی ازواج امت کی مائیں ہیں، یہ حکم شرعی ہے اور اس کا معنی یہ ہے کہ جس طرح ماں کا احترام ہر مسلمان پر واجب ہے اور اس سے شادی حرام ہے، اسی طرح رسول خدا ص کی ازواج کا احترام بھی سب پر واجب ہے اور ان سے شادی کرنا حرام ہے۔ کہ جس چیز کی تصریح سورہ احزاب آیت 53 میں وَلَا أَن تَنكِحُوا أَزْوَاجَهُ مِن بَعْدِهِ أَبَدًا واضح طور پر موجود ہے۔
البتہ رسول خدا ص کی ازواج کو ماں سے تشبیہ کرنے سے مراد ماں سے منسلک سارے آثار نہیں ہیں بلکہ کچھ آثار ہیں۔ کیونکہ ماں کے احترام کے علاوہ وراثت کے قوانین بھی ہیں جیسے ماں اپنی اولاد سے ارث لے سکتی ہے اسی طرح اس کی اولاد اس سے!!
اسی طرح ماں کی طرف دیکھنا جایز ہے۔ اور اس کے علاوہ دوسرے احکام کہ صرف حقیقی ماں سے مخصوص ہیں۔ لیکن رسول خدا ص کی ازواج ان دو حکموں یعنی احترام اور نکاح کا حرام ہونا دوسرے احکام نہیں رکھتیں۔
}1{
آیت اللہ مکارم شیرازی اپنی تفسیر میں یوں لکھتے ہیں کہ؛
یہ سب یعنی رسول خدا ص کی ازواج کی منزلت تمام مومنوں کی ماں کے برابر ہے، البتہ معنوی اور روحانی ماں۔ جس طرح رسول خدا ص امت کے روحانی اور معنوی باپ ہیں۔
}2{
البتہ یہ بات واضح ہے کہ احترام کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اصولی تنقید بھی نہیں کی جاسکتی!! جس طرح رسول خدا ص کے اصحاب میں جلیل القدر افراد موجود تھے کہ جن کی فضیلت میں آیات و روایات بھی موجود ہیں لیکن اس سے یہ مطلب نہیں نکلتا کہ ہم سارے اصحاب کو معصوم کہنے لگیں اور ان کے تمام اعمال کو صحیح سمجھنے لگیں!!
قرآن میں کافی آیات جیسے سورہ برائت، نور اور منافقین میں موجود آیات ان اصحاب میں منافقیقن کی موجودگی کو بیان کررہی ہیں اور ان کی شدید انداز میں مذمت کررہی ہیں۔
دوسری طرف کچھ ایسے افراد بھی ان میں تھے کہ جنہوں نے رسول خدا ص کی رحلت کے بعد مسلمانوں میں جنگ کی آگ بھڑکائی اور اور خلیفہ وقت سے اپنی بیعت کو توڑ دیا کہ جس کے نتیجے میں ہزاروں مسلمانوں کا خون بہا۔
کیا ہم ان تمام افراد کو ہر عیب و گناہ سے پاک سمجھ سکتے ہیں؟!؟!
دوسرے الفاظ میں کس طرح جنگ کے دونوں اطراف کے لوگوں کو صحیح سمجھنے لگیں؟؟ مثلا جمل یا صفین؟!؟ یہ ایک ایسا تضاد ہے کہ جو ہمارے لئے قابل قبول نہیں۔ اور جو افراد "اجتہاد" کو اس مسئلے میں لے کر آتے ہیں کہ ان میں ایک طرف حق تھا اور دوسری طرٖف نے اجتہادی غلطی کی اور چونکہ انہوں نے اجتہادی غلطی کی تو یہ خدا کے نزدیک معزور ہیں بلکہ ثواب کے بھی مستحق ہیں!! ہمارے لئے اس بات کو قبول کرنا مشکل ہے۔
کس طرح اجتہاد کا بہانہ کرکے پیغمبر ص کے جانشین کی بیعت کو توڑا جاسکتا ہے؟!؟ اور پھر جنگ کے شعلے روشن کرکے ہزاروں بے گناہوں کا قتل؟!!؟
اگر یہ سب خونریزی اجتہاد کے ذریعے توجیح کے قابل ہے تو پھر کون سا عمل توجیح کے قابل نہیں رہا؟!!
اس لئے سارے انسان یہاں تک کہ رسول خدا ص کے اصحاب اپنے اعمال کے ذمہ دار ہیں اور اس قرآنی اصل کے مطابق یعنی "انّ اکرمکم عند الله اتقیکم" }تم سب میں مکرم ترین وہ ہے کہ جو سب سے زیادہ متقی ہو۔{ کے مطابق ان کے اعمال کو منصفانہ انداز سے پرکھا جانا چاہئے اور یہ کہنا چاہئے کہ جن اصحاب نے رسول خدا ص کا ان کی زندگی میں مخلصانہ ساتھ دیا اور ان کی وفات کے بعد اسلام کی سربلندی کے لئے کوشش کرتے رہے اور اپنے عہد و پیمان پر پابند رہے، ان کو اچھا کہنا چاہئے اور ان کے احترام کا قائل ہونا چاہئے جبکہ وہ افراد کہ جنہوں نے منافقانہ انداز اختیار رکھا اور قلب رسول خدا ص کو رنجیدہ کرتے رہے اور ان کی رحلت کے بعد اپنا راستہ اسلام کے راستے سے جدا کرکے ایسے کام انجام دیئے کہ جو مسلمانوں کے نقصان کا باعث بنے ان سے درس عبرت لینا چاہئے۔ 3
ام المومنین عایشہ کے بارے میں بھی ہم یہی نظر رکھتے ہیں کہ اس کے ساتھ ساتھ کہ ان کے احترام کے قائل ہیں، اس بات سے بھی صرف نظر نہیں کرسکتے کہ جو روایتیں اور داستانیں ان کے "حق" میں اور امیر المومنین علی علیہ السلام کی "ذم" میں جعل کی گئیں، اس نے تاریخ کا دھارا انتہائی شدت سے متاثر کیا البتہ ان تمام کوششوں کے باوجود بھی حق چھپ نہیں سکا!!
کیسے ممکن ہے کہ ہم ان کو رسول خدا ص کی افضل ترین زوجہ کہیں جب کہ صحیح حدیث کے مطابق کہ جس کو جناب عایشہ نے خود نقل کیا ہے، رسول خدا ص حضرت خدیجہ سلام اللہ علیھا کو سب سے افضل خاتون سمجھتے تھے۔ جس طرح جناب عایشہ خود فرماتی ہیں:
ایک دن رسول خدا ص حضرت خدیجہ سلام اللہ علیھا کو یاد کررہے تھے، تو میں نے ان کی "عیب جوئی" کرتے ہوئے کہا کہ وہ بوڑھی عورت ایسی اور ویسی تھی۔ اور اللہ تعالی نے آپ ص کو ان سے بہتر عطا کی ہیں!! تو رسول خدا ص کو اس بات سے بہت دکھ ہوا اور اتنا غصہ آیا کہ پیشانی کے بال غصے سے لرز رہے تھے، فرمایا:
اللہ تعالی نے ان سے بہتر مجھے عطا نہیں کی۔ وہ مجھ پر اس وقت ایمان لائی کہ جب کوئی اور مجھ پر ایمان نہیں لایا تھا۔ اس نے اس وقت میری تصدیق کی کہ جب سب میری تکذیب کررہے تھے، مجھے اپنے مال و دولت میں شریک کیا کہ جب سب نے مجھے محروم کردیا تھا۔ اللہ تعالی نے اس کے ذریعے سے مجھے اولاد عطا کی، نہ کسی اور کے ذریعے !} 4، 5{
اس لئے جناب خدیجہ سلام اللہ علیھا ازواج رسول اللہ ص میں سب سے افضل ہیں کہ اس روایت میں بھی اس بات کو واضح انداز سے سمجھا جاسکتا ہے۔
«اَفْضَلُ نِساءِ اَهْلِ الْجَنَّهِ خَدِیْجَهُ بِنْتُ خُوَیْلِدَ، وَ فاطِمَهُ بِنْتُ مُحَمَّد، وَ آسِیَهُ بِنْتُ مُزاحِمَ وَ مَرْیَمُ بِنْتُ عِمْرانَ»؛ 6
}1{. تفسير الميزان، جلد16، ص414.
}2{ تفسیرنمونه، ج17، ص204.
{3} آیت الله مکارم شیرازی، اعتقاد ما، ص63.
{4}. یہ حدیث اور اس کے بعد آنے والی حدیث صحیح اور مستفیض ہیں۔ بخاری اور مسلم نے بھی اس حدیث کو نقل کیا ہے۔
{5} جس طرح بخارى نے باب «غیرة النساء»; و وجدهن اس کو اواخر کتاب نکاح، صفحه 175، جزء سوم صحیح میں نقل کیا ہے۔
{6}. اسدالغابه، ج ۵، ص۴۳۷؛ استیعاب، ج۴، ص۱۸۲۱
No comments:
Post a Comment