Tuesday, October 16, 2018

کیڑا تو پھر کیڑا ہوتا ہے!

کیڑا تو پھر کیڑا ہوتا ہے

ہُنر کوئی بھی ہو نومشقی کی منزل سے گذرنے کے بعد ہی اعتماد بڑھتا ہے۔ اب وہ ہُنر چاہے کام بنانے کا ہو یا کام بِگاڑنے کا ہو، کچھ ایسے خوش قسمت ہوتے ہیں جِنہیں اِس طرز کی پُختگی حاصل ہوتی ہے۔ میرا تو لکھنے کا یہ تجربہ رہا ہے کہ جب قلم اٹھایا تو ایک ناشِدنی خیال ستاتا رہا کہ ایسے افراد پر بھی کچھ لکھوں جو سڑیل طبیعت اور دوسروں کے کاموں میں کیڑے نکالتے ہیں۔ بہر حال اِن پر لکھنے کا موقع اس درویشِ بے نشاں کو نصیب ہوا۔

غالباً کوئی بڑا دانا تھا جس نے کہا تھا کہ ” ہر ایک میں کیڑا نکالنے والے لوگ بذات خود کیڑا ہوتے ہیں“۔ ویسے کیڑے تو ”حشرات الارض “ ہیں جو اپنی مقبولیت کے ساتھ ہی ساتھ کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ لیکن بعض کیڑے پیٹ میں بھی ہوتے ہیں۔ جِن کے سبب زیادہ  بھوک لگتی ہے۔ کیونکہ روز مرہ جو غِذا کھائی جاتی ہے، وہ معدے میں پہنچنے سے پہلے اِن کیڑوں کی نظر ہوجاتی ہے۔ جب غِذا انسان کھا رہا ہوتا ہے ، تو یہ کیڑے اس غِذا پر اپنی کڑی نظر رکھتے ہیں۔ جیسے ہی غِذا حلق کے راستے داخل ہوتی ہے، تو یہ اسے نِگل جاتے ہیں۔ ان اُچکے کیڑوں کی حِرص مُستحق کو اِس کے حق سے اِس حَد تک محروم کردیتی ہیں کہ وہ شِکم سیری کے باوجود بھوک لگتی ہے۔ اِن کیڑوں کی ایک قسم دانتوں میں چِپک جاتی ہے ، جو آہستہ آہستہ ہیجان اور درد میں انسان کو مبتلا کر دیتی ہے۔ اگر جَبڑے کا بغور جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اِس جگہ پر کبھی دانت  ہوا کرتا تھا۔

ماہرین حشرات سے اِن کیڑوں کی اَن گِنت اقسام  دریافت کی جاسکتی ہیں۔ لیکن قبر اور منہ کے کیڑے اس لیۓ نایاب ہیں کہ جب تک ان دونوں کو کھول کر نہ دیکھا جاۓ جب تک ان سے فطری گِھن محسوس کرنا ایک مُتجسس انسان کے لیۓ مَحض تصور کے سِواء اور کچھ نہیں ہے۔ یہاں یہ وضاحت اس لیۓ کی ہے، کیونکہ بعض انسان بھی اِن ہی کیڑوں سے مُماثلت رکھتے ہیں۔ جب تک ان کو ذاتی طور پر نہ پرکھا جاۓ ، تو اِن کے مِزاج کا اندازہ کرنا بے حَد مشکل ہوتا ہے۔ یہ وہ کِیڑے نہیں جو ناقص صفائی کی بنا پر پیدا ہوجائیں بلکہ یہ تو کُلبلاتی سُنڈیوں کی مانند ہوتے ہیں۔ تعصب اور دریدہ دہنی کی وجہ سے انسانی آنکھ سے دیکھنا انھیں عِبث ہوتا ہے۔ دلچسپی کی بات تو یہ ہے کہ ایسے کِیڑے اپنی بد کلامی اور بد اخلاقی کا بد ترین مظاہرہ کرتے ہیں اور دیکھنے کے خواشمندوں کو ازخود موقع فراہم کرتے ہیں۔ یہ اپنی جَبلت سے اِس قدر بدبو دار اور ڈنک مارنے خیالات ان کے اِتنے غلیظ ہوتے ہیں کہ اپنے احسان مَندوں کو کاٹنے سے باز نہیں آتے ہیں۔ ایسے کیڑے یہ سمجھتے کہ اِنکے چیتھڑے لیکچر سُن کر دنیا انکو ارسطُو سمجھنے لگی ہے تو، یہ سراسر احمق اور چُغد پَن کی نشانی ہے۔

چند ایسے کِیڑے بھی ہوتے ہیں، جنہیں ادب ، دانش ، عِلم ، اِخلاق ، زبان اور تَہذیب کی ہوا تک نہیں لگی۔ منہ میں پَان ڈال کر اور اِدھر اُدھر کے دوچار چُٹکلے مار کر ہرگز صاحبِ دانش نہیں کہلوایا جا سکتا۔ اگر یہ اپنے اوپر سے اہل دانش ہونے کا لِباده اُتار دیں تو، ایسے کِیڑوں کو تو اِنکی گَلی کا کُتا تک بھی نہیں پہچانے گا۔ ایسے کیڑے خداداد صلاحیتوں کے مَالک ہوتے ہیں۔ یہ وہ ہینڈ گرنیڈ ہوتے ہیں جو کھلے پَن کے ساتھ جہاں جاتے ہیں بربادی پھیلا آتے ہیں۔ یہ اپنی دنیا کے کیڑوں میں کافی معتبر ہوتے ہیں اور اپنا ایک الگ ”بِل“ بنا کر رہتے ہیں۔ ہر مخالف سِمت سے آنے والے کو دلیل کے بجاۓ فِضول اور بے بنیاد باتوں سے زیر کرنا چاہتے ہیں۔ غیر مُستحکم توازن کے باوجود اپنی انتہائی ہلکی اور گِری ہوئی بات کو وزنی قرار دے کر اٹھانے کی ضِد کرتے ہیں۔ پیدائش سے لے کر بڑھاپے تک یہ ان کا محبوب مَشغلہ ہوتا ہے۔

ہاں ایک بات تو لکھنا ہی بھول گیا کہ اِن کے سامنے اگر کوئی خوشگوار موڈ میں پھر رہا ہو تو یہ بلاوجہ ”کچیچیاں وٹنے“ لگتے ہیں۔ اِن کو بے شک ”آپ جناب“ کہہ کر بلایا جائے یہ آگے سے ’’ تو“ ہی کہتے ہیں۔ اِن کی طبیعت دیکھ کر یوں لگتاہے جیسے یہ ابھی لڑ پڑیں گے، لیکن ایسی نوبت کبھی نہیں آتی۔ اِن کا تمام تر غیض و غَضب زبانی کلامی ہوتاہے اور اگر اگلا آستینیں چڑھا کر لڑائی پر اُتر آئے تو اِن کا سارا غصہ ڈاؤن لوڈ ہوجاتاہے۔ پہلے میں سمجھتا تھا کہ یہ ہائی بلڈ پریشر کا شِکار ہوتے ہیں، لیکن ایسی کوئی بات نہیں نَارمل کیفیت میں بھی یہ فریضہ بَخوبی سَرانجام دیتے ہیں۔

ان کیڑوں کو اپنی دانشمندی پر بڑا نَاز ہوتا ہے۔ سَامع کو چاہۓ کہ ایسے کیڑے جب بولیں اپنی مِنمِناتی آواز میں تو ان کو مَن و عَن تسلیم کر لیا جاۓ۔ ان کی کچھ دیر کی خاموشی سے ذہنی سکون تو ملے گا ، نہیں  تو ان کی عَجیب و غریب آواز سُن کر خُون ہی کھولتا ہے۔ ایسے کیڑے ایک نمبر کے کاذب ہوتے ہیں، جو اپنی بات سے ایسے مُکر جاتے ہیں جیسے کبھی کہی ہی نہیں  ہو۔ یہ اپنی ناقص تاریخی معلوم کو دوسروں پر تھوپتے ہیں۔ یہ دوسروں کی باتوں میں سے اپنی مطلب کی بات نکال کر نفرت اور عَداوت کا زَہر اُگلتے ہیں۔ ان کا عجیب مِزاج ہوتا ہے، جو ان کے باٶلے پَن کو سمجھے وہ انہیں اچھا نہیں  لگتا اور جس کو ان کی زہریلی گفتگو سے نِیت کا اندازہ ہوجاۓ تو، وہ اِنکو بُرا لگتا ہے۔ اکثر ایسے کِیڑوں کو لوگ کہہ ہی دیتے ہیں کہ اے معتصب کیڑے ” انسان بہت کچھ باتیں جلدی بھول جاتا ہے ان میں سے ایک اس کی اوقات بھی ہے“۔ آخر میں ایسے کیڑوں سے تو میں کہوں گا کہ فرشتہ کوئی نہیں ہوتا سب کے راز ہوتے ہیں۔

براہ مہربانی اس بلاگ کو کسی شخص ہر طنز نہ سمجھا جائے، نہ ہی یہ کوئی غیر سنجیدہ تحریر ہے۔  ہوش و حواس، بوقت مغربین لکھا گیا بلاگ ہے۔

تحریر : خطیب احمد

Friday, October 12, 2018

جناب عائشہ پر شیعہ نکتہ نظر

شیعیت کے خلاف پرچار میں اس نکتے کو بھی ضرور شامل کیا جاتا ہے کہ یہ رسول خدا ص کی ازواج مخصوصا جناب عایشہ کے احترام کے قائل نہیں۔ جبکہ تشیع کے بزرگ علماء کی نظر یہ ہے کہ تمام ازواج رسول خدا ص کا احترام ضرروی ہے۔
علامہ طباطبائی رح مفسر بزرگ جہان اسلام اس بارے میں یوں فرماتے ہیں:
"یہ کہ رسول خدا ص کی ازواج امت کی مائیں ہیں، یہ حکم شرعی ہے اور اس کا معنی یہ ہے کہ جس طرح ماں کا احترام ہر مسلمان پر واجب ہے اور اس سے شادی حرام ہے، اسی طرح رسول خدا ص کی ازواج کا احترام بھی سب پر واجب ہے اور ان سے شادی کرنا حرام ہے۔ کہ جس چیز کی تصریح سورہ احزاب آیت 53 میں  وَلَا أَن تَنكِحُوا أَزْوَاجَهُ مِن بَعْدِهِ أَبَدًا واضح طور پر موجود ہے۔
البتہ رسول خدا ص کی ازواج کو ماں سے تشبیہ کرنے سے مراد ماں سے منسلک سارے آثار نہیں ہیں بلکہ کچھ آثار ہیں۔ کیونکہ ماں کے احترام کے علاوہ وراثت کے قوانین بھی ہیں جیسے ماں اپنی اولاد سے ارث لے سکتی ہے اسی طرح اس کی اولاد اس سے!!
اسی طرح ماں کی طرف دیکھنا جایز ہے۔ اور اس کے علاوہ دوسرے احکام کہ صرف حقیقی ماں سے مخصوص ہیں۔ لیکن رسول خدا ص کی ازواج ان دو حکموں یعنی احترام اور نکاح کا حرام ہونا دوسرے احکام نہیں رکھتیں۔
}1{
آیت اللہ مکارم شیرازی اپنی تفسیر میں یوں لکھتے ہیں کہ؛
یہ سب یعنی رسول خدا ص کی ازواج کی منزلت تمام مومنوں کی ماں کے برابر ہے، البتہ معنوی اور روحانی ماں۔ جس طرح رسول خدا ص امت کے روحانی اور معنوی باپ ہیں۔
}2{
البتہ یہ بات واضح ہے کہ احترام کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اصولی تنقید بھی نہیں کی جاسکتی!! جس طرح رسول خدا ص کے اصحاب میں جلیل القدر افراد موجود تھے کہ جن کی فضیلت میں آیات و روایات بھی موجود ہیں لیکن اس سے یہ مطلب نہیں نکلتا کہ ہم سارے اصحاب کو معصوم کہنے لگیں اور ان کے تمام اعمال کو صحیح سمجھنے لگیں!!
قرآن میں کافی آیات جیسے سورہ برائت، نور اور منافقین میں موجود آیات ان اصحاب میں منافقیقن کی موجودگی کو بیان کررہی ہیں اور ان کی شدید انداز میں مذمت کررہی ہیں۔
دوسری طرف کچھ ایسے افراد بھی ان میں تھے کہ جنہوں نے رسول خدا ص کی رحلت کے بعد مسلمانوں میں جنگ کی آگ بھڑکائی اور اور خلیفہ وقت سے اپنی بیعت کو توڑ دیا کہ جس کے نتیجے میں ہزاروں مسلمانوں کا خون بہا۔
کیا ہم ان تمام افراد کو ہر عیب و گناہ سے پاک سمجھ سکتے ہیں؟!؟!
دوسرے الفاظ میں کس طرح جنگ کے دونوں اطراف کے لوگوں کو صحیح سمجھنے لگیں؟؟ مثلا جمل یا صفین؟!؟ یہ ایک ایسا تضاد ہے کہ جو ہمارے لئے قابل قبول نہیں۔ اور جو افراد "اجتہاد" کو اس مسئلے میں لے کر آتے ہیں کہ ان میں ایک طرف حق تھا اور دوسری طرٖف نے اجتہادی غلطی کی اور چونکہ انہوں نے اجتہادی غلطی کی تو یہ خدا کے نزدیک معزور ہیں بلکہ ثواب کے بھی مستحق ہیں!! ہمارے لئے اس بات کو قبول کرنا مشکل ہے۔
کس طرح اجتہاد کا بہانہ کرکے پیغمبر ص کے جانشین کی بیعت کو توڑا جاسکتا ہے؟!؟ اور پھر جنگ کے شعلے روشن کرکے ہزاروں بے گناہوں کا قتل؟!!؟
اگر یہ سب خونریزی اجتہاد کے ذریعے توجیح کے قابل ہے تو پھر کون سا عمل توجیح کے قابل نہیں رہا؟!!
اس لئے سارے انسان یہاں تک کہ رسول خدا ص کے اصحاب اپنے اعمال کے ذمہ دار ہیں اور اس قرآنی اصل کے مطابق یعنی "انّ اکرمکم عند الله اتقیکم" }تم سب میں مکرم ترین وہ ہے کہ جو سب سے زیادہ متقی ہو۔{ کے مطابق ان کے اعمال کو منصفانہ انداز سے پرکھا جانا چاہئے اور یہ کہنا چاہئے کہ جن اصحاب نے رسول خدا ص کا ان کی زندگی میں مخلصانہ ساتھ دیا اور ان کی وفات کے بعد اسلام کی سربلندی کے لئے کوشش کرتے رہے اور اپنے عہد و پیمان پر پابند رہے، ان کو اچھا کہنا چاہئے اور ان کے احترام کا قائل ہونا چاہئے جبکہ وہ افراد کہ جنہوں نے منافقانہ انداز اختیار رکھا اور قلب رسول خدا ص کو رنجیدہ کرتے رہے اور ان کی رحلت کے بعد اپنا راستہ اسلام کے راستے سے جدا کرکے ایسے کام انجام دیئے کہ جو مسلمانوں کے نقصان کا باعث بنے ان سے درس عبرت لینا چاہئے۔ 3

ام المومنین عایشہ کے بارے میں بھی ہم یہی نظر رکھتے ہیں کہ اس کے ساتھ ساتھ کہ ان کے احترام کے قائل ہیں، اس بات سے بھی صرف نظر نہیں کرسکتے کہ جو روایتیں اور داستانیں ان کے "حق" میں اور امیر المومنین علی علیہ السلام کی "ذم" میں جعل کی گئیں، اس نے تاریخ کا دھارا انتہائی شدت سے متاثر کیا البتہ ان تمام کوششوں کے باوجود بھی حق چھپ نہیں سکا!!
کیسے ممکن ہے کہ ہم ان کو رسول خدا ص کی افضل ترین زوجہ کہیں جب کہ صحیح حدیث کے مطابق کہ جس کو جناب عایشہ نے خود نقل کیا ہے، رسول خدا ص حضرت خدیجہ سلام اللہ علیھا کو سب سے افضل خاتون سمجھتے تھے۔ جس طرح جناب عایشہ خود فرماتی ہیں:
ایک دن رسول خدا ص حضرت خدیجہ سلام اللہ علیھا کو یاد کررہے تھے، تو میں نے ان کی "عیب جوئی" کرتے ہوئے کہا کہ وہ بوڑھی عورت ایسی اور ویسی تھی۔ اور اللہ تعالی نے آپ ص کو ان سے بہتر عطا کی ہیں!! تو رسول خدا ص کو اس بات سے بہت دکھ ہوا اور اتنا غصہ آیا کہ پیشانی کے بال غصے سے لرز رہے تھے، فرمایا:
اللہ تعالی نے ان سے بہتر مجھے عطا نہیں کی۔ وہ مجھ پر اس وقت ایمان لائی کہ جب کوئی اور مجھ پر ایمان نہیں لایا تھا۔ اس نے اس وقت میری تصدیق کی کہ جب سب میری تکذیب کررہے تھے، مجھے اپنے مال و دولت میں شریک کیا کہ جب سب نے مجھے محروم کردیا تھا۔ اللہ تعالی نے اس کے ذریعے سے مجھے اولاد عطا کی، نہ کسی اور کے ذریعے !} 4، 5{

اس لئے جناب خدیجہ سلام اللہ علیھا ازواج رسول اللہ ص میں سب سے افضل ہیں کہ اس روایت میں بھی اس بات کو واضح انداز سے سمجھا جاسکتا ہے۔
«اَفْضَلُ نِساءِ اَهْلِ الْجَنَّهِ خَدِیْجَهُ بِنْتُ خُوَیْلِدَ، وَ فاطِمَهُ بِنْتُ مُحَمَّد، وَ آسِیَهُ بِنْتُ مُزاحِمَ وَ مَرْیَمُ بِنْتُ عِمْرانَ»؛ 6

}1{. تفسير الميزان، جلد16، ص414.
}2{ تفسیرنمونه، ج17، ص204.
{3} آیت الله مکارم شیرازی، اعتقاد ما، ص63.
{4}. یہ حدیث اور اس کے بعد آنے والی حدیث صحیح اور مستفیض ہیں۔ بخاری اور مسلم نے بھی اس حدیث کو نقل کیا ہے۔
{5} جس طرح بخارى نے باب «غیرة النساء»; و وجدهن اس کو اواخر کتاب نکاح، صفحه 175، جزء سوم صحیح میں نقل کیا ہے۔
{6}. اسدالغابه، ج ۵، ص۴۳۷؛ استیعاب، ج۴، ص۱۸۲۱

Muavia introduction

سورة الأحزاب : 6
اگر معاویہ خال المؤمنین تو پہر عبد الرحمن ابن ابی بکر اور عبد اللہ ابن عمر دونوں کو آج تک باصبیوں نے خال المؤمنین نہیں کہا۔ جن کی خدمات اور قدیم السلام ہیں

مزید ہمعصر بریلوی حوالہ جات:

* صدرالافاضل,استادالکل, مفسر قرآن,علامہ سید نعیم الدین مرادآبادی آیت " وازواجہ امھتھم" کے تحت اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں :  اور اس کی ازواج ان کی مائیں ہیں _ تعظیم حرمت میں اور نکاح کے ہمیشہ کے لیے  حرام ہونے میں اور اس کے علاوہ دوسرے احکام میں مثلا وراثت اور پردہ وغیرہ کا وہی حکم ہیے جو اجنبی عورتوں کا اور ان کی بیٹیوں کو مومنیں کی بہنیں اور ان کے بھائیوں اور بہنوں کو مو منین کے ماموں, خالہ نہ کہا جاۓ گا_
( تفسیر خزائن العرفان ص 603_ پ 21)

نعیمی علماء کے دادا استاد کے کلام وتفسیر سے ثابت ہوا کہ ازواج مطہرات کے بھائیوں کو مسلمانوں کاماموں نہ کہاجاۓ گا_ تو ظاہر ہے کہ حضرت معاویہ کوبھی مسلمانوں کا ماموں نہ کہاجاۓ گا _
* مفسرقرآن مفتی فیض احمد اویسی نے تفسیرروح البیان کاترجمہ فیوض الرحمن کےنام سے کیاہیے, اسی آیت کے ماتحت حواشی میں لکھتے ہیں :
اس معنی پر حضرت معاویہ کو " خال المومنین" ( مومن مردوں کا ماموں) کہنا صحیح نہ ہوا, جیساکہ دیوبندیوں نے خصوصا یہ اصلاح گھڑ لی ہیے _ یہ بدعت بھی ہیے کہ پہلے کسی نے ایسا نہیں کیا_
( فیوض الرحمن ص 439 ج 21)
لھذا ثابت ہوا کہ حضرت معاویہ , مومنوں کاہرگز ماموں نہیں۔

معاویہ اور اس کا گروہ صحیح بخاری و مسلم کی مستند روایات کی روشنی میں باغی اور جہنمی ثابت

صحیح  بخاری کی حدیث  نمبر # 7076 کے مطابق
مسلمان کو قتل کرنا کفر ہے۔“
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شَقِيقٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ ""سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقِتَالُهُ كُفْرٌ"".
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس کو قتل کرنا کفر ہے۔“

حضرت عمار یاسرؓ جیسے بلند مرتبہ پانے والے اصل  صحابی کے بارے میں فرمان اجماع صحیح بخاری سے
صحیح بخاری حدیث  # 447
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُخْتَارٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِكْرِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ وَلِابْنِهِ عَلِيٍّ:‏‏‏‏ انْطَلِقَا إِلَى أَبِي سَعِيدٍ فَاسْمَعَا مِنْ حَدِيثِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَانْطَلَقْنَا فَإِذَا هُوَ فِي حَائِطٍ يُصْلِحُهُ فَأَخَذَ رِدَاءَهُ فَاحْتَبَى، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُنَا حَتَّى أَتَى ذِكْرُ بِنَاءِ الْمَسْجِدِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ كُنَّا نَحْمِلُ لَبِنَةً لَبِنَةً، ‏‏‏‏‏‏وَعَمَّارٌ لَبِنَتَيْنِ لَبِنَتَيْنِ فرآه النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَنْفُضُ التُّرَابَ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏وَيَقُولُ:‏‏‏‏ ""وَيْحَ عَمَّارٍ تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ، ‏‏‏‏‏‏يَدْعُوهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ وَيَدْعُونَهُ إِلَى النَّارِ""، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ يَقُولُ عَمَّارٌ:‏‏‏‏ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْفِتَنِ.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں جاؤ اور ان کی احادیث سنو۔ ہم گئے۔ دیکھا کہ ابوسعید رضی اللہ عنہ اپنے باغ کو درست کر رہے تھے۔ ہم کو دیکھ کر آپ نے اپنی چادر سنبھالی اور گوٹ مار کر بیٹھ گئے۔ پھر ہم سے حدیث بیان کرنے لگے۔ جب مسجد نبوی کے بنانے کا ذکر آیا تو آپ نے بتایا کہ ہم تو ( مسجد کے بنانے میں حصہ لیتے وقت ) ایک ایک اینٹ اٹھاتے۔ لیکن عمار دو دو اینٹیں اٹھا رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو ان کے بدن سے مٹی جھاڑنے لگے اور فرمایا، افسوس! عمارؓ کو ایک باغی جماعت قتل کرے گی۔ جسے عمار جنت کی دعوت دیں گے اور وہ جماعت عمارؓ کو جہنم کی دعوت دے رہی ہو گی۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عمار رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ میں فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔

صحیح بخاری حدیث# 2812
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا خَالِدٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِكْرِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَلِعَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ:‏‏‏‏ ائْتِيَا أَبَا سَعِيدٍفَاسْمَعَا مِنْ حَدِيثِهِ فَأَتَيْنَاهُ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ وَأَخُوهُ فِي حَائِطٍ لَهُمَا يَسْقِيَانِهِ فَلَمَّا رَآنَا جَاءَ فَاحْتَبَى وَجَلَسَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ كُنَّا نَنْقُلُ لَبِنَ الْمَسْجِدِ لَبِنَةً لَبِنَةً، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ عَمَّارٌ يَنْقُلُ لَبِنَتَيْنِ لَبِنَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏فمر بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَمَسَحَ عَنْ رَأْسِهِ الْغُبَارَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ ""وَيْحَ عَمَّارٍ تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ عَمَّارٌ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَيَدْعُونَهُ إِلَى النَّارِ"".
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے اور ( اپنے صاحبزادے ) علی بن عبداللہ سے فرمایا تم دونوں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں جاؤ اور ان سے احادیث نبوی سنو۔ چنانچہ ہم حاضر ہوئے ‘ اس وقت ابوسعید رضی اللہ عنہ اپنے ( رضاعی ) بھائی کے ساتھ باغ میں تھے اور باغ کو پانی دے رہے تھے ‘ جب آپ نے ہمیں دیکھا تو ( ہمارے پاس ) تشریف لائے اور ( چادر اوڑھ کر ) گوٹ مار کر بیٹھ گئے ‘ اس کے بعد بیان فرمایا ہم مسجد نبوی کی اینٹیں ( ہجرت نبوی کے بعد تعمیر مسجد کیلئے ) ایک ایک کر کے ڈھو رہے تھے لیکن عمار رضی اللہ عنہ دو دو اینٹیں لا رہے تھے ‘ اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ادھر سے گزرے اور ان کے سر سے غبار کو صاف کیا پھر فرمایا افسوس! عمارؓ کو ایک باغی جماعت مارے گی ‘ یہ تو انہیں اللہ کی ( اطاعت کی ) طرف دعوت دے رہا ہو گا لیکن وہ اسے جہنم کی طرف بلا رہے ہوں گے۔

صحیح مسلم حدیث  # 7320
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَمَّارٍ حِينَ جَعَلَ يَحْفِرُ الْخَنْدَقَ وَجَعَلَ يَمْسَحُ رَأْسَهُ وَيَقُولُ بُؤْسَ ابْنِ سُمَيَّةَ تَقْتُلُكَ فِئَةٌ بَاغِيَةٌ
محمد بن جعفر نے کہا :  ہمیں شعبہ نے ابو مسلمہ سے حدیث بیان کی ،  انھوں نے کہا :  میں نے ابو نضرہ سے سنا ،  وہ حضرت ابو سعید  رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کر رہے تھے انھوں نے کہا :  ایک ایسے شخص نے مجھے بتایا جو مجھ سے بہتر ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے جب آپ نے خندق کھودنے کا آغاز کیاتو عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک بات ارشاد فرمائی ، آپ ان کے سر پر ہاتھ پھیرنے اور فرمانے لگے ۔ سمیؓہ کے بیٹے کی مصیبت !تمھیں ایک باغی گروہ قتل کرے گا ۔  "

اب المستدرك على الصحيحين للحاكم کی روایت جس سے  ثابت ہو چکا ہے کہ معاویہ اور اس کا سارا گروہ باغی اور جہنمی ہو گیا تھا
5660 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثَنَا إِسْحَاقُ، ثَنَا عَطَاءُ بْنُ مُسْلِمٍ الْحَلَبِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ يَقُولُ: قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ: شَهِدْنَا صِفِّينَ فَكُنَّا إِذَا تَوَاعَدْنَا دَخَلَ هَؤُلَاءِ فِي عَسْكَرِ هَؤُلَاءِ، وَهَؤُلَاءِ فِي عَسْكَرِ هَؤُلَاءِ، فَرَأَيْتُ أَرْبَعَةً يَسِيرُونَ: مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، وَأَبُو الْأَعْوَرِ السُّلَمِيُّ، وَعَمْرُو بْنُ الْعَاصِ وَابْنُهُ فَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يَقُولُ لِأَبِيهِ عَمْرٍو: قَدْ قَتَلْنَا هَذَا الرَّجُلَ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ مَا قَالَ: قَالَ: أَيُّ الرَّجُلِ؟ قَالَ: عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ أَمَا تَذْكُرُ يَوْمَ بَنَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ، فَكُنَّا نَحْمِلُ لَبِنَةً لَبِنَةً، وَعَمَّارٌ يَحْمِلُ لَبِنَتَيْنِ لَبِنَتَيْنِ، فَمَرَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْمِلُ لَبِنَتَيْنِ لَبِنَتَيْنِ وَأَنْتَ مِمَّنْ حَضَرَ، قَالَ: «أَمَا إِنَّكَ سَتَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ، وَأَنْتَ أَهْلُ الْجَنَّةِ» فَدَخَلَ عَمْرٌو عَلَى مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ: قَتَلْنَا هَذَا الرَّجُلَ، وَقَدْ قَالَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ، فَقَالَ: اسْكُتْ فَوَاللَّهِ مَا تَزَالُ تَرْحَضُ فِي بَوْلِكَ، أَنَحْنُ قَتَلْنَاهُ إِنَّمَا قَتَلَهُ عَلِيٌّ وَأَصْحَابُهُ جَاءُوا بِهِ حَتَّى أَلْقَوْهُ بَيْنَنَا

5661 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنُ يَحْيَى، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ، ثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَجُلَيْنِ أَتَيَا عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ يَخْتَصِمَانِ فِي دَمِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ وَسَلَبِهِ، فَقَالَ عَمْرٌو: خَلِّيَا عَنْهُ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ أُولِعَتْ قُرَيْشٌ بِعَمَّارٍ، إِنَّ قَاتِلَ عَمَّارٍ وَسَالِبَهُ فِي النَّارِ» وَتَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ وَهُوَ ثِقَةٌ مَأْمُونٌ، عَنْ مُعْتَمِرٍ، عَنْ أَبِيهِ «.» فَإِنْ كَانَ مَحْفُوظًا فَإِنَّهُ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " وَإِنَّمَا رَوَاهُ النَّاسُ، عَنْ مُعْتَمِرٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ
[التعليق - من تلخيص الذهبي]
5661 - على شرط البخاري ومسلم

سوال: مروان بن حکم اور امیر معاویہ کافر کیوں نہیں بنے جبکہ وہ صحابہ حضرت علی ابن ابی طالب، حسن و حسین کو گالیاں دیتے تھے؟

امام الذھبی تاریخ الاسلام، جلد دوم، صفحہ 288 پر یہی بات لکھ رہے ہیں:مروان بن الحکم ہر جمعے کے خطبے کے بعد حضرت علی ابن ابی طالب پر سب(گالی) کیا کرتا تھادیوبند کے امام محمد انور شاہ کشمیری صحیح بخاری کی شرح ‘فیض الباری شرح صحیح بخاری’ میں لکھتے ہیں:ثم إن من السُّنة تقديمَ الصلاةِ على الخُطبة. وإنما قَدَّمها مراونُ على الصلاةِ لأنه كان يَسُبُّ عليًا رضي الله عنهسنت نبوی یہ ہے کہ نماز کو خطبے سے پہلے ادا کیا جائے، لیکن مروان بن الحکم نے خطبے کو نماز پر پہلے جاری کر دیا کیونکہ وہ خطبے میں علی (رض) کو برا بھلا کہتے تھے۔ فیض الباری شرح صحیح بخاری، جلد 1، صفھہ 722، روایت: 954، کتاب العیدین امام الذھبی تاریخ الاسلام، جلد دوم، صفحہ 288 پر یہی بات لکھ رہے ہیں:مروان بن الحکم ہر جمعے کے خطبے کے بعد علی ابن ابی طالب پر سب(گالی) کیا کرتا تھا

اہل ِسنت کی احادیث کی چھ معتبر ترین کتابوں میں سے ایک یعنی سنن ابن ماجہ، جلد اول

حج پر جاتے ہوئے سعد بن ابی وقاص کی ملاقات امیرمعاویہ سے ہوئی اور جب کچھ لوگوں نے علی کا ذکر کیا تو اس پر معاویہ نے علی کی بدگوئی کی۔ اس پر سعد بن ابی وقاص غضب ناک ہو گئے اور کہا کہ تم علی کے متعلق ایسی بات کیوں کہتے ہو۔ میں نے رسول اللہ (ص) کو کہتے سنا ہے کہ جس جس کا میں مولا، اُس اُس کا یہ علی مولا، اور یہ کہ اے علی آپکو مجھ سے وہی نسبت ہے جو کہ ہارون (ع) کو موسی (ع) سے تھی سوائے ایک چیز کہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا، اور میں نے [رسول اللہ ص] سے یہ بھی سنا ہے کہ کل میں علم ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اسکے رسول(ص) سے محبت کرتا ہے۔یہ بالکل صحیح الاسناد روایت ہے اور سلفیوں / وہابیوں کے امام ناصرالدین البانی نے اسے کتاب ‘سلسلہ الاحاديث الصحيحہ’ ج 1 ص 26 میں ذکر کیا ہے اور صحیح قرار دیا ہے۔سلسلہ الاحاديث الصحيحہ ، ج 1 ص 26

بلاذری نے سالم بن ابی جعد سے اور انہوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قول کو نقل کیا:

عن سالم بن أبي الجعد قال، قال رسول الله صلی الله علیه وسلم : معاوية في تابوت مقفل عليه في جهنم.

پیغمبر اسلام ص نے فرمایا: معاویہ جہنم  میں ایک بند تابوت کے اندر ہو گا۔

أنساب الاشراف، ج 5 ص 136

عامر بن سعد بن ابی وقاص نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ معاویہ بن ابو سفیان نے سعد سے کہا حضرت علی علیہ السلام پر سب و شتم کرو ! «سعد» نے حکم کو نہیں مانا معاویہ نے ان سے پوچھا: تجھے کس چیز نے ابو تراب پر سب و شتم سے باز رکھا؟ سعد نے کہا: میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں تین فضیلتیں سنیں ہیں جس کی وجہ سے میں کبھی ان پر سب و شتم نہیں کرسکتا۔ اگر ان تین فضیلتوں میں سے ایک بھی میرے لئے بیان کرتے تو میرے لئے سرخ بالوں والے اونٹ سے زیادہ محبوب تھا۔ 

صحیح مسلم، ج 1 ، ص 1129

و مات الحسن مسموما سمته زوجته بنت الأشعث الكندية دسه إليها معاوية.

حسن مسموم دنیا سے گئے کہ ان کی بیوی نے معاویہ کے حکم ان کو زہر دیا تھا۔

القرطبی الحنفی، أحمد بن محمد بن إبراهيم الأشعري (متوفی550هـ)، التعريف بالأنساب والتنويه بذوي الأحساب، ج1، ص3،

عن الحسن قال: قال رسول الله صلی الله علیه وسلم: إذا رأيتم معاوية على منبري فاقتلوه؛ فتركوا أمره فلم يفلحوا ولم ينجحوا.

حسن بصری نے نقل کیا ہے کہ پیغمبر اکرم (صلي الله عليه وآله) نے فرمایا:

اگر معاویہ کو میرے منبر پر دیکھو تو فورا اسے قتل کردینا۔ لوگوں نے آپ کے حکم پر عمل نہیں کیا اسی لئے نہ فلاح پائی نہ کامیاب نہیں ہوئے۔

انساب الاشراف، ج 5 ص 136

عامر بن سعد بن ابی وقاص نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ معاویہ بن ابو سفیان نے سعد سے کہا حضرت علی علیہ السلام پر سب و شتم کرو ! «سعد» نے حکم کو نہیں مانا معاویہ نے ان سے پوچھا: تجھے کس چیز نے ابو تراب پر سب و شتم سے باز رکھا؟ سعد نے کہا: میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں تین فضیلتیں سنیں ہیں جس کی وجہ سے میں کبھی ان پر سب و شتم نہیں کرسکتا۔ اگر ان تین فضیلتوں میں سے ایک بھی میرے لئے بیان کرتے تو میرے لئے سرخ بالوں والے اونٹ سے زیادہ محبوب تھا۔ 

صحیح مسلم، ج 1 ، ص 1129

*حافظ علی ابن جعد (استاد امام بخاری ) : معاویہ کافر مرا*

علی ابن جعد فرماتے ہیں:
مات واللہ معاویہ علی غیر الاسلام
اللہ کی قسم معاویہ اسلام سے خارج ہوکر مرا.
حوالہ: مسائل احمد ابن حنبل جلد دوم صفحہ 154، روایت   1866
نوٹ :  علی ابن جعد امام بخاری کے استاد تھے اور جنہیں امام اور حافظ کے القاب سے نوزا گیا. (سیر اعلام النبلاء، جلد 10، ص 459-468) 

و مات الحسن مسموما سمته زوجته بنت الأشعث الكندية دسه إليها معاوية.

حسن مسموم دنیا سے گئے کہ ان کی بیوی نے معاویہ کے حکم ان کو زہر دیا تھا۔

القرطبی الحنفی، أحمد بن محمد بن إبراهيم الأشعري (متوفی550هـ)، التعريف بالأنساب والتنويه بذوي الأحساب، ج1، ص3،

بلاذری نے سالم بن ابی جعد سے اور انہوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قول کو نقل کیا:

عن سالم بن أبي الجعد قال، قال رسول الله صلی الله علیه وسلم : معاوية في تابوت مقفل عليه في جهنم.

پیغمبر اسلام ص نے فرمایا: معاویہ جہنم  میں ایک بند تابوت کے اندر ہو گا۔

أنساب الاشراف، ج 5 ص 136

جب معاویہ کو امام حسن(ع) کی شھادت کی خبر ملی تو اس نے اتنی بلند آواز سے تکبیر کہی کہ اس کے سبز محل سے اس کی آواز کو سنا گیا اور شام کے لوگوں نے بھی اس کی پیروی کرتے ہوئے تکبیر کہی۔ معاویہ کی بیوی فاختہ بنت قریظہ نے معاویہ سے کہا کہ تم بہت خوش نظر آ رہے ہو کیا ہوا ہے کہ اس طرح سے تکبیر کہہ رہے ہو ؟ معاویہ نے کہا حسن ابن علی قتل ہو گیا ہے۔ فاختہ نے کہا کہ کیا تم فاطمہ کے بیٹے کے مرنے پر تکبیر کہہ رہے ہو ؟ معاویہ نے کہا خدا کی قسم اس کے مرنے نے میرے دل کو اتنا خوشحال کیا ہے کہ میں خوشی سے تکبیر کہہ رہا ہوں۔
حوالے :
ابن سمعون البغدادي، أبو الحسين محمد بن أحمد بن إسماعيل بن عنبس (متوفی387هـ)، أمالي ابن سمعون، ج1، ص165،

ربيع الأبرار، زمخشري، ج1، ص438، باب الموت و ما يتصل به من ذكر القبر،

الانصاري التلمساني، محمد بن أبي بكر المعروف بالبري (متوفی644هـ) الجوهرة في نسب النبي و أصحابه العشرة، ج1، ص282،

إبن خلكان، ابو العباس شمس الدين أحمد بن محمد بن أبي بكر (متوفی681هـ)، وفيات الأعيان و انباء أبناء الزمان، ج2، ص66، تحقيق احسان عباس، ناشر: دار الثقافة - لبنان.

عامر بن سعد بن ابی وقاص نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ معاویہ بن ابو سفیان نے سعد سے کہا حضرت علی علیہ السلام پر سب و شتم کرو ! «سعد» نے حکم کو نہیں مانا معاویہ نے ان سے پوچھا: تجھے کس چیز نے ابو تراب پر سب و شتم سے باز رکھا؟ سعد نے کہا: میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں تین فضیلتیں سنیں ہیں جس کی وجہ سے میں کبھی ان پر سب و شتم نہیں کرسکتا۔ اگر ان تین فضیلتوں میں سے ایک بھی میرے لئے بیان کرتے تو میرے لئے سرخ بالوں والے اونٹ سے زیادہ محبوب تھا۔ 

صحیح مسلم، ج 1 ، ص 1129


🕌🕋📿🕋🕌
*, معاویہ کی امام حسن مجتبی ع کے خلاف خونخوار سازش ,*

📜 *, اگر چہ معاویہ نے روز اول سے ہی صلح کے تمام شرائط کی خلاف ورزی کرنا شروع کر دی تھی لیکن پھر بھی اسے امام حسن (ع) سے اس بات کا خطرہ لاحق تھا کہ آپ اسے یزید کے لیے اسلامی حاکم کے عنوان سے بیعت نہیں لینے دیں گے اور اس راہ میں ضرور رکاوٹ کھڑی کریں گے۔ اس وجہ سے امیر شام نے امام حسن علیہ السلام کو اپنے راستے سے ہٹانے کی کوشش شروع کر دی۔ معاویہ کی قاتلانہ سازش یہ تھی کہ اس نے یہ طے کر لیا تھا کہ پوشیدہ طریقے سے امام حسن(ع) کو قتل کر دیا جائے اپنے اس ارادے کو پورا کرنے کے لئے اس نے چار منافقوں کا الگ الگ انتخاب کیا ، ہر ایک سے کہا کہ اگر تم نے حسن بن علی کو قتل کر دیا تو میں تمہیں دو لاکھ درہم اور شام کا فوجی افسر بنا دوں گا ۔ اس کے علاوہ اپنی بیٹی سے شادی کردوں گا ۔ ان چار کا نام تھا ۔١۔ عمر و بن حریث۔٢۔ اشعث بن قیس ۔٣۔ حجر بن الحارث اور ۔٤۔ شبث بن ربعی ۔*

📜 *, معاویہ نے جن انعامات کا اعلان کیا تھا انہیں حاصل کرنے کے لئے ان سب نے حامی بھر لی ۔ معاویہ نے ان سب پر جاسوس مقرر کر دیئے جو پوشیدہ طریقے پر ان کی کارکردگی کی رپورٹ معاویہ کو بھیجتے رہتے تھے ۔*

📜 *, امام حسن کو اس سازش کی خبر ہو گئی ۔ اس کے بعد آپ مکمل طور سے نگراں رہے کہ یہ سازش اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے کیونکہ آپ ہر وقت لباس کے اندر زرہ پہنتے تھے یہاں تک کہ اسی زرہ میں آپ نماز بھی پڑھتے تھے ،آخر ایک سازشی نے حالت نماز میں آپ پر تیر چلا دیا ، لیکن اس زرہ کی وجہ سے تیر کا زخم بدن پر نہ لگا ۔*

📚  *, حوالہ: بحار الانوار ،ج٤٤، صفحہ ٣٣ ,*